جو اپنے لہو سے مہکائی،جاگیر کا سودا مت کرنا
24 اگست 2019 2019-08-24

اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِاہتمام یوم آزادی کی مناسبت اورکشمیرکی کشیدہ صورتحال کے حوالے سے ایک سیمیناراورمشاعرے کا انعقاد کیا گیا،جس میں شرکت کی دعوت ملی توانکارنہ کرسکی کیونکہ یہ ایک ایسا فورم ہے جس کے ذریعے ادیب شاعر اور دانشور انتہائی اہم نوعیت کے مسئلے پر اپنی سوچ پوری دنیا تک پہنچا سکتے ہیں۔ تقریب کی صدارت ڈاکٹر سعادت سعید نے کی جبکہ اس محفل کے مہمان خصوصی سابق آڈیٹر جنرل پاکستان اور گراں قدر شاعر کرامت بخاری تھے۔ ڈاکٹر سعادت سعید نے اس موقع پرسیمینار سے خطاب کرتے ہوئے برصغیر اور پاک بھارت تاریخ کے کئی اہم پہلو اجاگرکیے جن سے ہماری نئی نسل بے بہرہ ہے۔اگر یہ سب باتیں ان کو معلوم ہوجائیں تو شائد ان کو اندازہ ہوسکے کہ ہندو بنیا صدیوں سے مسلمانوں کی نسل کشی اور مذموم سازشیں کرتا آرہا ہے اور اس مقصد کے لیے کبھی انگریزوں کبھی سکھوں اور پھرمسلمانوں کو ہی اپنا آلہ کار بناتا رہا ہے۔

ڈاکٹر سعادت سعید نے انتہائی جذباتی انداز میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک مسلمانوں کا یقین جہاد پرتھا دنیا کی کوئی طاقت انہیں مغلوب نہیں کرسکی لیکن پھر بیسویں صدی میں اس کو ختم کروانے والا ایک فرقہ آگیا اور جہاد کو حرام قرار دے دیا گیا۔ اس کے بعد سے مسلمان پستی کا شکار ہیں۔ کشمیر کی صورت حال پربات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہاں حالات کشیدہ ہیں،کئی روز سے کرفیو ہے۔ لوگ مر رہے ہیں، محصور ہیں ان کا پانی بند ہے بچوں کا دودھ بند ہے گھروں میں گھس گھس کر مارا جا رہا ہے، اب اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں سے کوئی امید رکھنا خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔ اب ان نہتے کشمیریوں کو بچانے کو وقت آگیا ہے کیونکہ کشمیر پر حملہ دراصل پاکستان پر حملہ ہے کیونکہ انہیں پاکستان سے محبت کی سزا مل رہی ہے وہ ہماری شہ رگ ہے وہ قیام پاکستان سے ہمارا حصہ بننا چاہتے ہیں ان کے شہدا آج بھی پاکستانی جھنڈوں میں دفن ہوتے ہیں۔ہمیں مغرب کی سازش کو سمجھنا چاہیے۔ اب امریکہ نے مدد کرنی ہے نہ چین اوربرطانیہ نے۔ وہ توکہتے ہیں بات چیت کرو لیکن اس عرصے میں کشمیری عوام کی نسل کشی ہوتی رہی تو معاملہ ہاتھ سے نکل جائے گا،انہوں نے حکومت اور فوج سے کہا کہ تمام ادیبوں کا مطالبہ ہے کہ وہ لوگ جو اپنے کشمیری بھائیوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں ان کو تو مدد کرنے دیں کیونکہ اس وقت سکھ برادری بھی ہمارے

ساتھ ہے اور پانی پت تک پورا پنجاب ہمارا حق ہے جس کا دعوٰی کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ یہ صرف بہانے ہیں کہ ہم کیسے مقابلہ کریں ہماری معیشت کمزور ہے لیکن جنگیں معیشتوں سے نہیں جذبوں سے لڑی جاتی ہیں جب آپ کے پاس پورا پنجاب آجائے گا تو معیشت خود ٹھیک ہو جائیگی۔ مسلمانوں نے کبھی جھکنا نہیں سیکھا مگر اسے جھکا دیا گیا ہے۔ مسلمانوں کو اپنے مسائل میں اتنا الجھادیا گیا ہے وہ سوچیں ہی نہ کہ اپنے علاقے بھی واپس لینے ہیں۔انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان کی کسی حکومت نیآج تک یہ دعویٰ نہیں کیا کہ پورا پنجاب ہمارا ہے قرارداد پاکستان پڑھ لیں صاف لکھا ہیکہ اکثریتی صوبے پاکستان کاحصہ بنیں گے مگر ہندووں نے سازش کرکے پنجاب کے تین حصے ہماچل پردیش،ہریانہ اور پنجاب کردئیے۔اس وقت صورتحال ہمارے حق میں ہے کیونکہ سکھ خالصتان تحریک عروج پر ہے۔کشمیری آزادی مانگ رہے ہیں اورہم ہندوستان کے اندراٹھائیس کڑورمظلوم مسلمانوں کی آزادی مانگ رہے ہیں۔اب ہمارا دعویٰ پورا پنجاب ہے۔ اللہ کرے کہ کشمیری کے حوصلے سلامت رہیں ہندو کو نولاکھ فوج لگانی پڑی ہے اگر ہم ان کا ساتھ دیں گے اور پانی پت تک کا دعویٰ کریں تو ہندوکو اپنی پڑجائے گی۔ آخر ایسا کون لوگ نہیں ہونے سے رہے یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اپنی زمینیں پیاری ہیں جو جہاد سے عاری ہیں اور اسی لیے مسملمان مر رہے ہیں۔پاکستان کے غیورعوام فوج کی پشت پر ہیں اور اب وقت آگیا ہے کہ عملی قدم اٹھالیا جائے۔

تقریب کے مہمان خصوصی کرامت بخاری نے بھی اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ستر سال سے صرف جذباتی گفتگو ہورہی ہے لیکن سوائے مذمتی قراردادوں کے اور کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا اس کے باعث آج نوبت یہاں تک آگئی۔قائد اعظم نے کہا تھا کہ یہ ایک بہترین لیگل کیس ہے لیکن افسوس ہمارے پاس اس بہترین لیگل کیس کا کوئی ڈاکومنٹ نہیں ہے نہ ہی ہم انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں گئے۔ ہمارا پڑوسی ایک ایسا سیکولر ملک ہے جہاں گائے کی حفاظت کا تو قانون ہے مگر انسانوں کی نسل کشی کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں ہندو آباد کیے جارہے ہیں، زمینیں دی جا رہی ہیں ٹیکس معاف کیے جارہے ہیں تمام سہولیات دی جا رہی ہیں وہ مسلم آبادی ختم کرنے جا رہے ہیں۔ کچھ اورعرصہ اگر یونہی انتظار کرتے کرتے گزر گیا تو ہندو مسلم برابر ہوجائیں گے اور پھر کچھ نہیں بچے گا۔ اگر ہم پانی پت تک پنجاب کا دعوی کرلیتے تو آج ہندو کو اتنی جرات نہ ہوتی۔انہوں نے کہا ہم اپنی ایمبیسیز کے ذریعے اس مسئلے کو عالمی سطح پراجاگر کرسکتے ہیں۔جبکہ سوشل میڈیا اور میڈیا بھی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں تاکہ بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا بھر کر سامنے بے نقاب ہوسکے۔ آخر میں انہوں نے ایک دل سوز کلام پیش کیا جو سب کے دلوں کی آواز ہے۔

یہ جو اپنی وادی کشمیر ہے

جنت ارضی کی اک تصویر ہے

صبح نو کی دل نشیں سرخی ہے یہ

ظلمتوں میں باعث تنویر ہے

موسم گل کی نمائیندہ تھی جو

آج وہ مغموم ہے دل گیر ہے

کفر کا غلبہ یہاں ممکن نہیں

خون مسلم میں بڑی تاثیر ہے

جذبہ شوق شہادت ہے جواں

ہر زباں پر نعرہ تکبیر ہے

یہ ہمارے عہد کی تاریخ میں

خون سے لکھی ہوئی تحریر ہے

چھین لوں گا ایک دن اغیار سے

یہ میرے اسلاف کی جاگیر ہے

اس تقریب کے شرکا کے خیالات اورجذبات سے دل کو حقیقی سکون ہوا کہ ہمارے ادیب کتنے درد مند ہیں اور پاکستان اور کشمیر کی خاطر اپنا تن من دھن سب دائو پر لگانے کو تیار ہیں۔اس موقع پر میں نے جو کلام سنایا وہ کچھ یوں ہے۔

جو اپنے لہو سے مہکائی… جاگیر کا سودا مت کرنا

مٹ جائے گا سب نام و نشاں کشمیر کا سودا مت کرنا

مائوں بہنوں کی یہ عصمت اب آن لگی ہے دائو پر

ہر بچہ بوڑھا درد کی ہے تصویر کا سودا مت کرنا

جس جس نے بیٹے کھوئے ہیں آزادی کی ان راہوں میں

تم خود سے جڑے ان خوابوں کی تعبیر کا سودا مت کرنا

چلو زہر بنا دو امرت کو اور سبق سکھا دو بھارت کو

واپس لے لو اپنی شہ رگ،تکبیر کا سودا مت کرنا

کئی سالوں سے اندھیاروں میں گزری ہیں جن کی راتیں

ملنے کو ہے آزادی اب،تنویر کا سودا مت کرنا

حق کے رستے میں تیری گر جاں چلی جائے عنبر

اصول پہ سمجھوتہ نہ ہو،ضمیر کا سودا مت کرنا


ای پیپر