عرب عورت کو شوہر کی زیادہ محبت راس نہ آئی ؟؟؟
24 اگست 2019 2019-08-24

’’مگر فومی … تیرے پیر صاحب تو تجھ سے عمر میں کافی چھوٹے تھے …؟‘‘ میں نے حیرت سے اُسے گھورتے ہوئے پوچھا …؟!!

اُس نے دیوار پر لگی تصویر کو معنی خیز انداز میں گھورنا شروع کیا اِس تصویر میں اِک عور ت نے شیر کو چت کیا ہوا ہے اور وہ شیر زمین پر لیٹا عورت کو معصومیت سے دیکھ رہا تھا …؟!!

اچھا … پیر والی بات بعد میں کرتے ہیں پہلے یہ بتائو … یہ زمین پر لیٹا شیر عورت کو محبت سے دیکھ رہا ہے یا خوف کے باعث مجبوری میں تک رہا ہے …؟ ’’تم بتائو …‘‘ وہ سنجیدگی سے بولی …

میرے خیال میں یہ اُس عورت کے حسن سے متاثر ہوا ہے اور اسی لئے وہ ’’ہار‘‘ بھی مان چکا ہے آجکل کے دل پھینک مردوں کی طرح … ورنہ شیر شیر ہوتا ہے اور نازک اندام عورت جتنی بھی دلیر ہو طاقتور ہو … ’’جھانسی کی رانی‘‘ ہی کیوں نہ ہو وہ شیر کے ساتھ پنجہ آزمائی نہیں کر سکتی۔ امریکہ میں محض عورت کو ہرانے کے لیئے ہیلری کو پسندیدہ امیدوار ہونے کے باوجود صدارت سے دور رکھا گیا … اور امریکہ کی دو سو سالہ تاریخ میںایک بھی عورت کو صدارت نہیں سونپی گئی ورنہ …؟؟!! ویسے بھی دنیا کے سات آٹھ ممالک ایسے ہیں جہاں عورت کو حکمرانی سونپی گئی … ’’ہمیشہ کی طرح مظفر … تمھاری یہ منطق بھی قابل غو رہے … بے خیالی میں تم کبھی کبھی ایسی ’’عقل‘‘ مندی کی باتیںکر جاتے ہو۔ حالانکہ عام گفتگومیں تم … ؟؟!! مجھے پتہ ہے وہ میری باتیں سنتی ہے اُنہیں انجوائے بھی کرتی ہے مگر درپردہ اُس کے ذہن میں کہیں نہ کہیں کوئی سازش یا دو نمبری ضرور چل رہی ہوتی ہے … بظاہر وہ ایسی عورت نہیں لگتی مگر … ہم اِک سازشی زمانے میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔

میں نے مسکرا کر بات پھر شروع کی …؟؟

’’فومی‘‘ عورت کی آزادی کے تم بھی حق میں ہو لیکن تمھاری وہ ’’خواہش‘‘ بھی مجھے ابھی تک یاد ہے۔ تم اکثر مجھے کہتی ہو کہ میرا کسی چینل پر انٹرویو کرا دو … میں عورتوں خاص طور پر نو عمر لڑکیوں کو یہ باور کروانا چاہتی ہوں کہ … ’’ عورت کو مرد سے ایک دو Step نیچے ہی رہنا چاہیے …؟؟‘‘ ویسے یہ قابل توجہ ہی نہیں … میرے اِس Point of view پر میرے پاس دلائل موجود ہیں اور خواہش تو ہے ہی …؟!! ’’جو عورتیںخوامخواہ مرد سے ہر میدان میں برابری کرنے کی خواہش رکھتی ہیں اور کوشش میں لگی رہتی ہیں کہ مرد کو نیچا دکھایا جائے وہ دراصل اِک ناکام شادی شدہ زندگی کی بنیاد رکھ رہی ہوتی ہیں …‘‘ فومی نے میری اِس بات کی کچھ مزید وضاحت کر دی …؟(اور وہ جو آج اخبارات میںخبر چھپی ہے کہ اِک عرب عورت نے عدالت میں جا کر طلاق کا دعوعی دائر کر دیا کہ اُس کا شوہر اُسے ضرورت سے زیادہ محبت کرتا ہے اور بہت خیال بھی رکھتا ہے۔اِس مصدقہ خبر سے پاکستان کے بہت سے شوہر اداس بھی ہوئے ہیں ... یہ ایک الگ موضوع ہے؟)

ہاں تو تم کہ رہی تھیں … ’’مجھے اپنے پیر صاحب سے محبت تھی …؟‘‘ وہ پھر کسی گہری سوچ میں گم ہو گئی … اور سرگوشی کے سے انداز میںآہستہ سے بولی … ’’مظفر … مجھے اب بھی اپنے پیر صاحب سے شدید محبت ہے …‘‘!! (’’ محبت بار بار تو نہیں ہوتی‘‘ اس نے بے خیالی میں کہ دیا اور میری ہنسی نکل گئی) …

’’ویسے وہ ہے اِسی قابل کے اُس سے محبت کی جائے … وہ لاہور کی کسی یونیورسٹی سے انجینئرنگ کر رہا تھا … ہو گئی مکمل ڈگری …‘‘؟؟

ہاں ہاں … پچھلے مہینے کا نووکیشن میں اُسے ڈگری ملی تھی … ایک مہمان ساتھ لے جانے کی اجازت تھی وہ مجھے ساتھ لے کر گیا تھا وہ اُس دن بھی بہت پیارا لگ رہا تھا … ’’اور تم‘‘ میں نے حسب عادت لقمہ دے دیا…؟

’’ویسے جب تک مجھے پتہ نہیں تھا کہ وہ U.E.T میں ڈگری کلاسز میں ہے۔ میں اُسے سائیں سمجھتا تھا …؟!‘‘ جیسے اسے اپنے ارد گرد کی خبر نہ ہو … کیسے گزارے گا یہ اپنی زندگی میں اکثر سوچتا تھا …‘‘؟؟ اُس کی ہنسی نکل گئی… ’’بُری بات‘‘ وہ ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوئے بولی … ویسے ہم دونوں گھنٹوںتمہارے بارے میں باتیں کرتے رہتے ہیں اُس کی خواہش ہے کہ آپ کے ساتھ کچھ دن گزارے کسی طویل ویران دنیا کے سفر پر بھی جائے لیکن ’’حسین و جمیل‘‘ مرد کے ساتھ ساتھ وہ اِک ’’مالدار پارٹی‘‘ بھی تو ہے ناں … ؟!! ’’موٹی سامی‘‘ کہہ لیں تو زیادہ بہتر ہو گا … (اِس دوران میری نظریںاُس کے چہرے پڑیں اور ’’آنکھوں آنکھوں میں‘‘ میری اِس بات پر فومی سنجیدہ ہوگئی … یا شاید گھبرا گئی …؟؟

’’ اے تاج بی بی … کدھر مر گئی اے … کیا کہہ کر گئی تھی … بی بی جی تازہ کڑک چائے لاتی ہوں …؟!!‘‘ اِس حرامی تاج بی بی کو میں نے اب فارغ ہی کر دینا ہے‘‘ … وہ گرجی … یہ فومی کا انداز تھا جب بھی اُسے کوئی بات بُری لگتی یا اسے پسند نہ آتی … یا پھر وہ کنی کترانا چاہتی تو … کمال مہارت سے بات بدل دیتی یا … کوئی ایمر یجنسی ڈال دیتی … یا پھر بدتمیزی پر اُتر آتی … بھارتی ڈراموں کی ’’کھرانٹ‘‘ قسم کی بڑی بوڑھیوں کی طرح … جو اپنے بیٹے یا بیٹی کو ہی قتل کروا ڈالتی ہیں یا فیملی کے خلاف بھی سازش کرتے ہوئے سر دھڑ کی بازی لگا دیتی ہیں اور ہماری پاکستانی عورتیں ’’میری طرح‘‘ نہایت سنجیدہ انداز میں ایسے ڈراموں کو سارے کام چھوڑ کے توجہ سے پوری طرح دل سےIntrest لیتے ہوئے دیکھتی ہیں اور دل پر ایسے ڈراموں کا اثر بھی لیتی ہیں …؟؟ پرانے انڈین گانوں کی طرح جو نو عمر لڑکے لڑکیوں کی کئی بار خودکشی کا باعث بنے … میں نے اپنی نو عمری میں خاص طور پر دیکھا کہ چالاک عورتیں رات کو زیادہ Active ہوتی ہیں۔ اُن کے اندر کا شیطان شام کے بعد پوری طرح سے بیدار ہو جاتا ہے … قسمت والے ہی بچ پاتے ہیں ایسے موقع پر …؟!

شیخ زید ہسپتال کے پاس اِک رات ڈیڑھ بجے دو لڑکیاں بڑی سی نئی گاڑی میںا ٹھکھیلیاں کر رہی تھیں اِک چھوٹی سی گاڑی والا لڑکا اُن کے ہتھے چڑھ گیا۔ نو عمر حسین جمیل ڈرائیور لڑکی نے اُس بے چارے کی گاڑی میں بار بار اپنی گاڑی ٹکرائی … اُس بیچارے کی مت مار دی … باآلاخر بیچارے نے گاڑی سائیڈ پر لگائی اور اتر کر درختوں کی طرف بھاگ نکلا … اُس بیچارے نے سوچا ہوگا یہ لڑکیاں نہیں چڑیلیں ہیں جو رات کو لڑکی کے روپ میں مٹر گشت پر نکلی ہیں …؟؟!!

’’فومی اِک بات تو بتائو … ؟؟ یہ چڑیلیںیہ ڈائن جو ہوتی ہیں یہ عورت کا ہی روپ کیوں دھار لیتی ہیں۔ کیا ان چڑیلوںاور ڈائنوں کے ہاں مردانہ ’’فورس‘‘ نہیں ہوتی …؟؟ ویسے آج کی نئی نسل اِن چڑیلوں اور ایسی ہی مخلوقات سے بالکل بھی تو نہیں ڈرتیں۔ کسی خوف کا شکار نہیں ہوتیں … جبکہ ہماری جوانی کے دور میں چڑیل کا ذکر آتے ہی لڑکیاں کانپنے لگتی تھیں اور ممی ڈیڈی قسم کے لڑکے گھبرا جاتے تھے … میرے اس سوال کو اُس نے اَن سنا کر دیا … وہ جیسے ابھی تک پیر صاحب کے بارے میں دیئے گئے بیان پر ہی غور کر رہی تھی اُسی دوران … شور سا مچا …

’’ہو ہائے‘‘ کیا ہوا …؟؟!!!

’’آنکھیں کھول کے کام کیا کرو … جو بھی ملتا ہے اِک دم ’’جاہل‘‘ … گنوار … بد نیت لوگوں سے میرا پالا پڑ گیا ہے۔ سارے جاہل فلسفی میرے ہاں اکٹھے ہو کر آگئے ہیں …؟‘‘

وہ ادھر اُدھر تیز تیز قدموں سے چل پھر رہی تھی اور بولتی چلی جا رہی تھی…

تاج بی بی … جلدی کے چکر میںچائے کی ٹرالی لے کر ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی۔ تو ٹھوکر لگنے سے وہ خود بھی گری اور ٹرالی میں موجود چائے بھی … برتن الگ سے چکنا چور ہو گئے !!؟؟؟


ای پیپر