کشمیر خاموش قبرستان بن چکا : نیو یارک ٹائمز
24 اگست 2019 (20:01) 2019-08-24

واشنگٹن: بھارت سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے وکیل وریندا گورو نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے لیے لکھی گئی ایک رپورٹ میں کشمیر کو قبرستان کی طرح خاموش قرار دیا۔1500 الفاظ پر مشتمل اپنی رپورٹ میں انہوں نے ویڈیو اور تصاویر کا بھی استعمال کیا جس سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال عیاں ہے۔

عوامی دانشور پرتاپ مہتا نے اکنامسٹ جریدے کو بتایا کہ کشمیر میں بھارت میں ضم کرنے کے عمل کا آغاز وادی کے کشمیری مسلمانوں کو شکوک و شبہات میں ڈالنے سے ہوا۔وفاقی یونین بننے کے بعد کشمیریوں کو بھارتی قانون کا پہلا تجربہ بے تحاشہ حکومتی طاقت کی صورت میں ہوا۔عالمی بینک سے وابستہ ایک کشمیری سلمان سوز نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے نام اپنے خط میں ان کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ وادی کشمیر کو وفاق میں ضم کرنے کا مقصد خوشحالی اور ترقی لانا ہے۔

انہوں نے نریندر مودی کو یاد دلایا کہ ملک میں غربت کی شرح 21.9 فیصد ہونے کے باوجود کشمیر میں غربت کی سطح صرف 8.1 فیصد ہے اور یہ ترقی کرنے والی 5 بہترین ریاستوں میں شامل ہے۔اسی طرح کشمیر میں ہیومن ڈیولپمنٹ اسکور سال 2017 میں 1.679 تھا جو بھارتی کی قومی اوسط 0.639 سے کہیں بہتر ہے۔

اس سلسلے میں بھارتی نیوز ویب سائٹ کارٹز میں شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ 3 ہفتوں کے لاک ڈائون کے باوجود جموں اور کشمیر اب بھی صدمے کی حالت میں ہے۔سری نگر سے کوارٹز سے وابستہ صحافی ریاض وانی نے بتایا کہ عوام کو ایک دم مواصلاتی دور سے پہلے کے زمانے میں پہنچا دیا گیا ہے اور فضا میں ہر سو خوف اور افواہیں موجود ہیں۔


ای پیپر