کوئی شک
24 اگست 2019 2019-08-24

امن، امن، خدارا امن 14 فروری کو پلوامہ اٹیک کے بعد پاکستان مسلسل بھارت کو کسی بھی جارحیت کے مظاہرے سے اجتناب کرنے کا مشورہ دے رہا تھا۔پولیٹیکل لیڈرشپ میں وزیراعظم پاکستان یا ملٹری لیڈرشپ میں آرمی چیف ہرایک کا بیانیہ یہی تھا کہ دو ایٹمی طاقت رکھنے والے ممالک کے درمیان جنگ کا سوچنا بھی خطرناک ہے لیکن اب سوچ اور حالات مختلف پیرائے پر جارہے ہیںکچھ بھی ہوسکتا ہے۔ اس وقت دو ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے کی آنکھ میں آنکھ ڈالے ہوئے ہیں۔ پاکستان کو فکر ہے دنیا بھی فکر کرے۔ بہترین حق ہمسائیگی دکھانے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے دنیا کے سامنے دو ٹوک موقف رکھ دیا۔کسی لگی لپٹی کے بغیر کہہ دیا کہ پاکستان بھارت سے بات چیت کے لیے جو کچھ کرسکتا تھا اس نے کردیا۔ یعنی اب بال دنیا کے کورٹ میں ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ کیا کرتی ہے۔ انہوں نے واضح کردیا کہ بھارت نے پاکستان کی امن مذاکرات کی پیشکش کو کمزوری سمجھا اور اب بھارت سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں، اور ساتھ ہی بھارت سے مزید مذاکرات کا امکان بھی رد کردیا۔ امریکی جریدے کو دو ٹوک الفاظ میں انٹرویو دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اس وقت نئی دہلی میں جو حکومت ہے وہ جرمنی کی نازیوں جیسی ہے۔ خدشہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی نسل کشی ہونے والی ہے۔ لہٰذا اقوام متحدہ کی امن فوج اور مبصرین مقبوضہ کشمیر بھیجے جائیں۔ وزیراعظم کی جانب سے مقبوضہ وادی میں نسل کشی کے خدشے کا اظہار آج کی بات نہیں بلکہ پاکستان ایک عرصے سے ان خدشات کا اظہار کررہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کاگھناو¿نا کھیل کھیلنے جارہا ہے اور وہ کشمیر کو بوسنیا بنانے جارہا ہے جوپاکستان بننے نہیں دے گا۔ وزیراعظم نے دنیا کے سامنے حجت تمام کرتے ہوئے یہ بھی باور کروادیا کہ اپنے دورہ امریکہ کے دوران انہوں نے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کو خطے کی انتہائی تباہ کن صورتحال سے آگاہ کردیا تھا۔ شایدیہی وجہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک مہینے میں چار مرتبہ مسئلہ کشمیر پر امریکی ثالثی کردار کے لیے اپنے آپ کو پیش کرچکے ہیں۔ وزیراعظم کی دوراندیشی کااندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ امریکہ کی غیر سرکاری تنظیم جینوسائڈ واچ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور کشمیریوں کی نسل کشی سے متعلق الرٹ بھی جاری کردیا ہے۔ 1999 میں ڈاکٹر گریگری سٹینٹن کی جانب سے بنائی گئی یہ تنظیم نسل کشی کی پیش گوئی، روک تھام اور اس پر سزا دینے کے لیے موجود ہے۔ اور اپنی اس رپورٹ میں انہوں نے ان تمام مراحل کا ذکربھی کیا ہے جن کی بنا پر بھارت کے ناپاک عزائم کی جانب واضح نشاندہی کی جاسکتی ہے۔

1 درجہ بندی: ہندو اور سکھ بمقابلہ کشمیری مسلم شہری2 علامات: مسلمانوں کے ID کارڈ پر مسلم نام، کشمیری زبان، لباس، مساجد3 سلب انسانیت: مسلمان 'دہشت گرد'، 'علیحدگی پسند'، 'مجرم'، 'باغی' کہا جاتا ہے4 تنظیم: بھاری ہتھیاروں سے لیس، لاکھوں کی تعداد میں بھارتی افواج اورپولیس مقبوضہ کشمیر میں غالب ہے5 تقسیم کی سیاست: مودی اور بی جے پی نے مسلم دشمنی کو ہوا دی، سوشل میڈیا پر جھوٹ کو پھیلایا6 ظلم و ستم: کشمیری مسلمان محصور ہیں اور انہیں گرفتار، تشدد، ریپ اورقتل کیا جارہا ہے۔

دوسری جانب جینوسائڈ نے بھارت کی ریاست آسام سے متعلق اپنی رپورٹ میںلکھا کہ آسام میں لاکھوں بنگالی مسلمان شہریت کھونے کا سامنا کررہے ہیں۔آسام میں اس وقت 70 لاکھ سے زائد لوگ جن میں زیادہ تر بنگالی نسل کے مسلمان ہیں انہیں بھارتی شہریت کھونے اور غیر ملکیوں کے لیے خصوصی حراستی مراکز میں قید کا خطرہ ہے۔ ادارے کی جانب سے کہا گیا کہ کئی دہائیوں سے جاری تفریق کی وجہ سے خصوصی طور پر مسلمانوں کو 'شہری' فہرست سے خارج کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں آسام میں بھی فوج اور پولیس طلب کرلی گئی ہے اور حراستی مراکز تیار کیے جارہے ہیں۔ جینوسائڈ واچ کے جاری کردہ الرٹ میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی کا ہندوتوا نظریہ، بھارتی جابرانہ فوجی آمریت، مواصلات کے ذرائع منقطع کرنا، بنیادی انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزی ہے۔ جینوسائڈ واچ نے مطالبہ کیا ہے بھارت کو کشمیرمیں نسل کشی سے روکا جائے اور اقوام متحدہ رکن ممالک اس میں کردار ادا کریں۔ ان کے اعداد و شمار کے مطابق، بھارتی قابض فوجیوں نے 1979 سے 2006 تک 50ہزار کشمیری مارے، جبکہ 2016 سے اب تک 70 ہزار سے زائد کشمیری شہید ہوچکے ہیں۔ جو ہم بول رہے ہیں ہمارے بہت سے دعووں پر عالمی رہنماو¿ں کے بیانات اور رپورٹیں مہر تصدیق ثبت کررہے ہیں۔ باقی اب دنیا کی فکر کا وقت آگیاہے۔ ماضی کے تجربوں کو دیکھتے ہوئے یہ بات ماننی پڑے گی کہ غرض منددیوانہ تو ہوسکتا ہے مگر پاگل نہیں۔ میرا اشارہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کی طرف ہے۔ افغانستان سے بچ نکلنے کے لیے اسے پاکستان سے غرض تو ہے مگرمضبوط تجارتی تعلقات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بھارت کو دبانے کا پاگل پن وہ کبھی نہیں کرے گا۔ وزیراعظم کے مضبوط اور ٹھوس موقف کے بعد اگر اب بھی دنیا خطے میں متوقع خطرات کا احاطہ نہیں کرپائی، ناجانے کیوں مجھے مذمت کے بعد مرمت کا خیال آتا ہے۔ قرآن کی سورة محمد، سورة انفال، سورة توبہ اورسورة نسائ،جہاد کے فضائل اور احکامات کسی غیر مسلم کے لیے نہیں مسلمانوںکے لیے ہیں۔ لیکن اس مرحلے تک پہنچنے کے لیے ابھی مزید کچھ مراحل طے کرناباقی ہیں۔ خزانے میں پیسہ نہیں جذبہ درکار ہے۔ اگر کسی کو غلط فہمی ہے تاریخ اسلام اٹھا کر دیکھ لے۔

کبھی نہ کبھی تو اس نعرے میں شامل اس قرض کا جواب دینا ہے کہ پاکستان سے رشتہ کیا لا الہ الا اللہ۔


ای پیپر