نام میں بہت کچھ رکھا ہے !
24 اگست 2019 2019-08-24

میں نے اپنے گزشتہ کالم میں امریکہ کی ریاست نیوواشنگٹن کے خوبصورت شہر Seattleمیں مقیم اپنے عزیز ترین دوست بلکہ بھائی گوجرانوالہ کے خالد نذیر کا ذکر کیا تھا۔ مجھے یادآیا ایک بار گوجرانوالہ ہی سے تعلق رکھنے والے دلدار بھٹی مرحوم سے کسی نے پوچھا ”آپ کو بھائی اور دوست میں سے کون سا رشتہ زیادہ اچھالگتا ہے ؟“....وہ بولے ”بھائی تو بنا بنایا مِل جاتا ہے جبکہ ”دوست“ انسان اپنی مرضی سے بناتا ہے “ .... میں ایک بار اپنی بیگم کے ساتھ ایک معروف شاعر کے گھر گیا، ایک انتہائی کالی بدصورت لڑکی نے ہمارا استقبال کیا، وہ ہمیں ڈرائنگ روم میں بٹھا کر اندر شاعر صاحب کو ہماری آمد کی اطلاع کرنے چلی گئی۔ میں اور میری بیگم اندازے لگارہے تھے کہ یہ لڑکی اُن شاعر صاحب کی بیٹی ہے یا بہو ہے ؟ ۔ میں نے بیگم سے کہا” بیٹی ہی ہوگی بہو تو بندہ دیکھ کر لاتا ہے “ ....ویسے کچھ دوست بھی بنے بنائے مل جاتے ہیں، اصل میں قدرت اُنہیں پیدا ہی بطور ایک دوست کے کرتی ہے ۔ وہ فطری طورپر کسی کے دشمن ہوہی نہیں سکتے۔ خالد نذیر بھی ایسے ہی ایک دوست ہیں، میرے ایک قریبی عزیز ذوالفقار علی بٹ کسی سے میرا تعارف کرواتے ہوئے اکثر فرماتے ہیں ” یہ توفیق بٹ ہیں، یہ جس کے دوست ہیں اسے کسی اور دوست کی ضرورت نہیں، اور جس کے دشمن ہیں اُسے کسی اور دشمن کی بھی ضرورت نہیں“.... میں خود دشمنیاں نہیں پالتا مجھ سے حسد کرنے والوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے ، شاید اِسی کے نتیجے میں اللہ میری ترقی کے راستے کھولتا جارہا ہے ، حسد کرنے والے اصل میں اپنا ہی نقصان کررہے ہوتے ہیں، حسد عادت نہیں بیماری ہے ، اِس بیماری میں ایک بار جو مبتلا ہو جاتا ہے ، اس سے ساری زندگی جان نہیں چھوٹتی۔ اِسی طرح میں اکثر ”غصے“ کے بارے میں کہتا ہوں ”غصہ اصل میں کسی اور کی غلطی کی خود کو سزا دینے کا نام ہے “ ....ایک زمانہ تھا میں اِس مقولے کا بڑا قائل تھا کہ ”جو دشمنی نہیں نبھا سکتا وہ دوستی بھی نہیں نبھا سکتا“ ....اب کبھی کبھی میں سوچتا ہوں دشمنی نبھانا اصل میں وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے ۔ دشمن سے بدلہ لینے کا سب سے احسن طریقہ یہ ہے انسان محنت کرے، اور ترقی کرے، دشمن اچھے ہوتے ہیں، یہ میرے جیسے بے شمار انسانوں کی ترقی کا باعث بنتے ہیں، ویسے بھی جس کا کوئی دشمن نہیں ہوتا اُسے ”منافق “ سمجھا جاتا ہے ۔ سو جس طرح ”داغ تو اچھے ہوتے ہیں “اُسی طرح دُشمن بھی اچھے ہوتے ہیں، بس یہ ہے دُشمن کو منافق نہیں ہونا چاہیے، ویسے آج کل دوست زیادہ ”منافق“ ہیں، ایک بڑا زبردست شعر ہے ،” مرے سینے پہ کیا واردشمن نے میرے ....میری پُشت میں میرے یار کا خنجر اُترا“ .... میں خالد نذیر کی بات کررہا تھا، اُن کا نام پچھلے کالم میں ”خالد عزیز“ لکھا گیا، اب پتہ نہیں یہ میری غلطی ہے یا پروف کی غلطی ہے ، پر جس طرح ”ڈگری ڈگری ہوتی ہے “ اُسی طرح غلطی غلطی ہوتی ہے ، چاہے کسی کی بھی ہو، لوگ کہتے ہیں نام میں کیا رکھا ہے ؟ میرے خیال میں نام میں بہت کچھ رکھا ہے ، بے شمار لوگوں کے نام اُن کی شخصیت کا عکس ہوتے ہیں، البتہ کچھ نام ٹیکنیکلی غلط ہوتے ہیں، جیسے ”معصوم بٹ“ کتنا غلط نام ہے ؟ کوئی بٹ ہو اور معصوم ہو.... یہ نام نہیں معجزہ ہی ہوسکتا ہے .... اسی طرح ”شیخ سخی“....،کوئی شیخ ہو اور سخی ہو؟ یہ بھی نام نہیں معجزہ ہی ہوسکتا ہے ۔ ایک شیخ صاحب کے بیٹے کے حادثے میں دونوں پاﺅں کٹ گئے، وہ روئے چلے جارہے تھے، کسی نے سمجھایا شیخ صاحب شکر کریں جان بچ گئی، وہ بولے ” میں اِس بات پر نہیں رو رہا، میں اِس بات پر رورہا ہوں ابھی کل ہی میں نے اپنے اِس بیٹے کے لیے موزے خریدے تھے جو اِس کے پاﺅں کٹنے کی وجہ سے اب بے کار ہوگئے ہیں“۔ ایک اور نام بھی پچھلے کالم میں مجھ سے غلط لکھا گیا، وہ امریکہ میں پاکستانی سفارتخانے کے ایک انتہائی قابل افسر شعیب سرور ہیں، اُنہیں میں نے غلطی سے شعیب منصور لکھ دیا، میں نام غلط لکھے جانے پر اپنے ان دونوں دوستوں سے معذرت خواہ ہوں، نام صحیح ہونے چاہئیں اور نام لئے بھی صحیح جانے چاہئیں، مجھے ایک واقعہ یاد آرہا ہے ، چند روزقبل میں نے ایک دوست

افسر کو فون پر بتایا ” فلاں شخص میرا فسٹ کزن ہے ، وہ آپ سے ملے گا، اُس کا کام اگر جائز ہو کردینا ،....اصل میں وہ شخص میرا کچھ نہیں لگتا تھا، بس ایسے ہی راہ چلتے مجھے مِل گیا اور اپنا مسئلہ چھیڑ بیٹھا، میں نے اُسے اپنا فسٹ کزن اِس لیے قرار دیا میرا دوست افسر اُس کے کام کو ذرا اہمیت دے، ....اب ہوا یوں وہ شخص اگلے روز اس افسر کے دفتر گیا، اور جو چٹ اندر بھجوائی اُس پر اپنے نام کے ساتھ لکھ دیا ”معرفت عتیق بٹ“ .... افسر نے اُسے اندر بلایا اور پوچھا ” یہ عتیق بٹ کون ہے ؟۔ وہ بولا ”سر یہ وہی ہیں جنہوں نے کل میرے لیے آپ کو فون کیا تھا یہ اخبار میں ”مضمون “ وغیرہ لکھتے ہیں“....افسر نے پوچھا ” اچھا یہ بتاﺅ وہ تمہارے کیا لگتے ہیں؟ کہنے لگا ” وہ اصل میں ہمارے گھر کے سامنے ایک بیکری ہے اُس کے مالک نے مجھے بتایا تھا عتیق بٹ صاحب کی بڑی واقفیت ہے وہ تمہارا کام کروا سکتے ہیں“ ،.... افسر نے اُس سے کہا ” اچھا تم تھوڑی دیر کے لیے باہر بیٹھو“ .... پھر اُس نے مجھے فون کیا اور پوچھا ” کل جس شخص کے لیے تم نے فون کیا تھا وہ تمہارا کیا لگتا ہے ؟“ ، میں نے عرض کیا ”کل آپ کو بتایا تو تھا میرا فسٹ کزن ہے “ .... اِس پر وہ کہنے لگا ”وہ اچھا تمہارا فسٹ کزن ہے اسے تو تمہارا نام تک نہیں آتا“ وہ تو تمہیں عتیق بٹ کے نام سے جانتا ہے “ ،....مجھے اُس کی بات سن کر بڑی شرمندگی ہوئی جسے چھپانے کے لیے میں نے ایک اور جھوٹ بول دیا کہ ”اصل میں میرے خاندان میں مجھے عتیق بٹ کے نام سے پکارا جاتا ہے “ .... کچھ علاقوں کے نام بھی بڑے غلط ہوتے ہیں، جیسے بلوچستان کا ایک علاقہ ”لورالائی“.... دلدار بھٹی نے ایک سٹیج شو میں انور مقصود کو ”نورمقصود“ کہہ کر سٹیج پر بلایا انور مقصود نے سٹیج پر آکر گلہ کیا کہ میرا نام انور مقصود ہے آپ نے مجھے ”نور مقصود“ کہہ کر کیوں بلایا ؟“....دلدار بولا ” انور بھائی ....انور کا مطلب بھی روشنی ہوتا ہے اور نورکا مطلب بھی روشنی ہوتا ہے ، سو میں نے اگر آپ کے نام کا ”الف“ اُڑادیا تو اِس سے کوئی فرق نہیں پڑا“ .... انور مقصود بولے ” اچھا پھر ٹھیک ہے اب میرے بعد تم نے جس فنکار کو بلانا ہے اُس کے نام کا ”الف اُڑاکر دیکھاﺅ“ .... کیسے کیسے لوگ تھے جن سے دھرتی خالی ہو گئی، ہماری زندگیوں سے قہقہے ختم ہوتے جارہے ہیں، کم ظرف ، بدفطرت اور منافق لوگوں نے ایسا ماحول پیدا کردیا ہے اب ہرطرف سسکیاں ہی سسکیاں، آہیں ہی آہیں، آنسو ہی آنسو دیکھائی اور سنائی دیتے ہیں، اور یہی ہم ایک دوسرے میں بانٹ بھی رہے ہیں !!


ای پیپر