مری تعمیر میں مضمر ہے اِک صورت خرابی کی !
24 اگست 2018 2018-08-24

پاکستان تحریک انصاف بالآخر اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہو چکی ہے ۔ اگرچہ حالیہ انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے مخالف سیاسی جماعتوں کے الزامات و تحفظات کی بھی ایک طویل فہرست ہے ۔ لیکن بعض جماعتوں کے دھاندلی کے حوالے سے ان کے تحفظات "وسیع تر قومی مفاد" ، ’’جمہوریت کے استحکام‘‘ اور ان کی مصلحتوں کے سمندر میں گم ہو چکے ہیں۔ جس کا عملی مظاہرہ نو منتخب پارلیمنٹ میں وزیراعظم کے انتخاب کے دوران دیکھنے میں آیا ۔ پاکستان تحریک انصاف کو سادہ اکثریت حاصل کرنے کے لیے بھی ماضی کے بدترین مخالفین کی حمایت لینے پڑی۔ پاکستان کے سیاسی کلچر میں کل کے مخالفین کا آج یکجا ہوجانا کوئی انہونی بات نہیں ہے ۔ تحریک انصاف کی حکومت نشستوں کے اعتبار سے کمزور ترین حکومت ہے جو ایسے اتحادیوں کے الحاق پر مشتمل ہے جن کے ساتھ عمران خان کے سیاسی اختلافات ڈھکے چھپے نہیں ۔ماضی کے سیاسی مخالفین اور آج کے حلیفوں کو عمران خان جن القابات سے نوازتے رہے ہیں وہ ریکارڈ پر موجود ہیں۔لیکن پاکستان کی سیاست میں ایسا ہی ہوتا ہے ۔ خاص کر کہ جب برسرِ اقتدار جماعت عددی لحاظ سے کمزور ہو۔کیونکہ پارلیمنٹ میں قانون سازی کے لئے مطلوبہ عددی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ ہماری پارلیمان کا کردار اس حوالے سے زیادہ قابلِ تحسین نہیں رہا ہے ۔ جن ممالک میں سیاسی شعور بلند ہوتا ہے وہاں سیاس جما عتوں کی تقسیم ان کے منشور اور سیاسی نظریات پر ہوتی ہے ۔ جبکہ پاکستان میں نظریاتی سیاست ستر کی دہائی کے بعد معدوم ہوتی چلی جارہی ہے اور سیاسی نظریات کی جگہ گروہی مفادات نے لے لی ہے ۔ یہی مفاداتی گروہ عوامی تائید کو اپنے مفادات کی بولی لگوانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ نظریاتی سیاست ہی کا فقدان ہے کہ پارلیمنٹ جیسا فورم جہاں قانون سازی اور قومی ایشوز پر اہم گفتگو ہونی چاہیے ، ہماری پارلیمان میں سنجیدہ گفتگو کارجحان کم ہی رہا ہے ۔ پارلیمنٹ میں سنجیدگی کا حال یہ ہے کہ فرزند اقبال جسٹس جاوید اقبال نے ’’افکارِ اقبال تشریحات جاوید‘‘ جیسی سنجیدہ اور بلیغ کتاب پارلیمنٹ کے اجلاسوں کے دوران تحریر کی ۔ بقول ان کے کہ فارغ اور بے فائدہ گفتگو سننے سے بہتر تھا کہ وہ اپنا وقت کسی تعمیری سرگرمی میں صرف کرتے۔

تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ آج اقتدار کی منزل پر اس کا پہنچنا اس کی بائیس سال کی جدوجہد کا ثمر ہے ۔ لیکن تعجب اس بات پر ہے کہ اس بائیس سال کی جدوجہد میں تحریک انصاف ایک بھی ایسا کارکن تیار نہیں کرپائی جسے وہ پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کے لیے نامزد کرسکتی ۔ سردار عثمان بزدار کی صورت میں جو جوہر نایاب انہوں نے پنجاب کی عوام پر مسلط کیا ہے اس کے بارے میں عام رائے یہی ہے کہ وہ ایک کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ ہونگے جس کی ڈور جہانگیر ترین کے ہاتھ میں ہوگی۔اسی طرح چوہدری پرویز الہٰی کا پنجاب اسمبلی کے اسپیکر کے عہدے پر فائز ہونا اور وفاقی کابینہ کی نامزدگی میں بھی افراد کا انتخاب تحریک انصاف کی مصالحت اور سمجھوتوں کے بیان کے لیے کافی ہے ۔

پاکستان جن گھمبیر مسائل کا شکار ہے یہ اقتدار اور وسائل پر قابض طبقات ہی کا فیض ہے ۔ ملک کے اہم ادارے ریلوے ، پی آئی اے، اسٹیل مل ، ریڈیو اور ٹی وی سمیت بے شمار ادارے اس وقت تباہی کا شکار ہیں اور ملک پر غیر ملکی قرضوں کا ایک بڑا بوجھ ہے ۔ سابق گورنر اسٹیٹ بنک ڈاکٹر عشرت حسین جنھیں عمران خان نے وفاقی کابینہ میں مشیر کے طور پر شامل کیا ہے ، اپنے ایک حالیہ مضمون میں لکھتے ہیں کہ معیشت کو سات سے آٹھ فیصد کی سالانہ ترقی پر لانے کے لیے اہم اور سخت فیصلے کرنے ہونگے۔ جیسے کہ پیٹرولیم، یوٹیلیٹیز، بنیادی ضرورت کی اشیاء کی قیمتیں فوری طور پر کم نہ کرنا ۔ تباہ حال سرکاری اداروں سے ملازمین کو فارغ کرنا ۔ تاجروں، جائیداد رکھنے والوں کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لانا ۔ بجلی، گیس پانی کے بلوں میں سے سبسڈی ختم کیا جانا ۔ اسی طرح زرعی اجناس کی قیمتیں عالمی منڈیوں کے ساتھ منسلک کرنا ہے ۔ یہ وہ تمام اقدامات ہیں جن سے غریب عوام براہ راست متاثر ہوگی۔ جس کا اعتراف خود ڈاکٹر صاحب اسی مضمون میں کرتے ہیں۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے ڈائرکٹ ٹیکسز اور زرعی ٹیکس عائد کرنے کی بات کی نہ بلیک اکانومی پر ہاتھ ڈالنے کی بات کی جو ہماری معیشت کا تقریباََ باون فیصد ہے ۔ جس سے فیضیاب ہونے والوں میں تاجر ، صنعت کار، کرپٹ سیاستدان اور غبن کرنے والی واسکٹ پوش اور خاکی بیوروکریسی شامل ہے ۔ ڈاکٹر عشرت حسین صاحب نے جو بھی تجاویز پیش فرمائی ہیں ان کا براہ راست منفی اثر اس غریب عوام پر ہی پڑے گا جو مسائل کے بوجھ تلے پہلے ہی دبی ہوئی ہیں:

مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے

وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے

ابتداء میں جب انگریز ہندوستان آئے تو ان کے پیش نظر یہی تھا کہ وہ ہندوستان کو فتح کرنے کے بعد مغلیہ سلطنت کو آئینی سطح پر قائم رکھیں گے اور اس مقصد کے لیے انہوں نے اس شہزادے کا انتخاب بھی کرلیا گیا تھا جسے وہ انگلستان تعلیم کے لیے لے جانا چاہتے تھے تاکہ آگے چل کر ایک مغلیہ سلطنت کے نام پر ایک آئینی حکومت قائم کی جاسکے۔ لیکن 1857 ء کی جنگ آزادی کے بعد انگریز نے یہ ارادہ ترک کردیا۔ٹوائن بی بھی جب سلطنتوں کے استحکام کی بحث کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ سلطنت کو قائم رکھنے اور استحکام کے لیے ایک بادشاہ ناگزیر ہے ۔

تحریک انصاف کا مصلحتوں اور سمجھوتوں کے ساتھ اقتدار حاصل کرنا اپنی جگہ ہے ۔ لیکن عمران خان میں بھی ذاتی طور پر اپنی بات منوانے کی صلاحیت ضد، خودسری اور ہٹ دھرمی کی انتہائی حد تک موجود ہے ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول مبارک ہے کہ" جس کا حکم نہیں چلتا اس کی حکمت بھی نہیں چلتی"۔ اب یہ عمران خان پر منحصر ہے کہ وہ اجارہ دار طبقات کے لیے اس مغل

شہزادے کا کردار ادا کرتے ہیں یا عوامی مسائل کے حل اور قومی وقار کے لیے ٹوائن بی کے مطابق اجارہ دار طبقات کے سامنے ایک آمر بادشاہ کا کردار ادا کرتے ہوئے عوام کے حقیقی رہنما کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ لیکن انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم سے لے کر وفاقی کابینہ اور پنجاب کے وزیراعلیٰ اور اسپیکر پنجاب اسمبلی کے لیے ان کے انتخاب غالب کے اس مصرع کی یاد دلاتے ہیں:

مری تعمیر میں مضمر ہے اِک صورت خرابی کی !


ای پیپر