وزیر خارجہ کی پہلی جامع پریس کانفرنس
24 اگست 2018 2018-08-24

وزیر ِ خارجہ کا حلف لینے کے تھوڑی ہی دیر بعد 20 اگست 2018ء کو دفترِ خارجہ میں پریس کانفرنس دوران فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے نامہ نگار نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے سوال کیا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کنٹرول کرتی ہے اور کیا آپ کس طرح اپنی خارجہ پالیسی پر عمل کرنے میں آزاد ہوں گے؟اس سوال کے جواب میں پہلے شاہ محمود قریشی نے نامہ نگار کا نام پوچھا اور نام معلوم کرنے کے بعد جواب دیتے ہوئے کہا کہ مغرب میں آپ کے پاس پہلے سے طے شدہ خیالات ہوتے ہیں کہ خارجہ پالیسی کہاں مرتب کی جاتی ہے۔شاہ محمود قریشی نے اپنے سامنے رکھے ڈائس پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا ’میں آپ کو واضح کر دوں کہ ملک کی خارجہ پالیسی یہاں بنائی جائے گی۔۔۔یہاں دفتر خارجہ ۔۔۔ اب‘۔نومنتخب وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ’پاکستان کی خارجہ پالیسی دفترِ خارجہ ہی میں بنے گی، تاہم دنیا بھر میں یہ رواج ہے کہ آپ نیشنل سکیورٹی کے اداروں سے 'ان پٹ' لیتے ہیں اور وہ اہم ہوتی ہے‘۔شاہ محمود قریشی نے اس کے ساتھ مزید کہا کہ دنیا بھر میں یہ پریکٹس ہوتی ہے کہ آپ دوسروں سے رائے لیتے ہیں جس میں اپنی قومی سکیورٹی کے اداروں سے بھی رائے لیتے ہیں جو کہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے اور ایک چیز جسے اداروں کی یادداشت کہا جاتا ہے، ہمیں اس یادداشت سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور میں اس میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کروں گا اور میں ان کو انگیج کروں گا پاکستان کی بہتری کے لیے کیونکہ میری پالیسی ’پہلے پاکستان‘ ہے۔شاہ محمود قریشی نے امریکہ کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ ’کیا آپ وہاں سی آئی اے اور پینٹاگون سے رائے نہیں لیتے؟‘۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سوالات سے پہلے خارجہ پالیسی کی ترجیحات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ’ ہماری سوچ کا محور پاکستان کا عام شہری ہے،اس خطے کے بے پناہ چیلینجز ہیں لیکن ہمارا پیش رفت کرنے کا ارادہ ہے۔ کچھ قوتیں کچھ عرصے سے پاکستان کو متواتر تنہائی کا شکار کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور کیوں نہ ہو ملک میں چار سال سے وزیر خارجہ ہی نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خارجہ پالیسی ایک ایسی پالیسی ہے جس پر میری کوشش ہے کہ قومی اتفاق رائے ہو،آج اسی سوچ کو بڑھاتے ہوئے میں اپوزیشن کو دعوت دے رہا ہوں، حنا ربانی کھر، خواجہ محمد آصف اور ایم ایم اے، جس کو مناسب سمجھیں میں ان سے رجوع بھی کروں گا اور دعوت بھی دوں گا، میں ان کے خیالات سے مستفید ہونا چاہتا ہوں‘‘۔انہوں نے نام لیے بغیر کہا کہ’ دو اہم ممالک جن سے ہمارے خارجہ تعلقات اہم ہیں، میں توقع کرتا ہوں کہ مستقبل قریب میں ان سے بات ہو گی، اور آگے بڑھے گی، جہاں اعتماد کی کمی ہے، میں اس پر بھی
بات کروں گا‘‘۔شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ’’ انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی کا وزیراعظم عمران خان کے نام خط آیا ہے اور انہوں نے بات چیت کے آغاز کے لیے کہا ہے ،دوسرا پیغام ہندوستان کی وزیرخارجہ کے لیے ہے، ان سے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ہم نہ صرف دو ہمسائے ہیں ہم دو ایٹمی قوتیں ہیں،ہمارے درمیان دیرنیہ مسائل ہیں، اس سے آپ بھی واقف ہیں اور میں وبھی واقفیت رکھتا ہوں،ہمارے پاس میری رائے میں گفتگو شنید کے علاوہ کوئی اور حل نہیں ہے،ہم کوئی مہم جوئی، کوئی حادثاتی مہم جوئی، جہاں ری ایکشن ٹائم اتنا مختصر ہو، اس کے متحمل ہی نہیں ہو سکتے، مشکلات کو جانتے ہوئے کہ مسئلے پیچیدہ ہیں۔۔۔ جانتے ہوئے کہ ہو سکتا ہے کہ ان کا کوئی فوری اور آسان حل نہیں ہے لیکن ہمیں بات کرنا ہو گی،ہم روٹھ کر ایک دوسرے سے منہ نہیں موڑ سکتے۔۔۔ ’ہم چاہیں یا نہ چاہیں، کشمیر ایک مسئلہ ہے جس کا دونوں ملکوں نے اعتراف کیا ہوا ہے۔۔۔ واجپئی یہاں آئے، انہوں نے پاکستان کی حقیقت کو تسلیم کیا تھا،اسلام آباد ڈیکلریشن ہماری تاریخ کا حصہ ہے، پاکستان اور انڈیا کو مسلسل اور بغیر کسی رکاوٹ کے بات چیت کی ضرورت ہے‘۔سوالات کے جوابات دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ سی پیک کے منصوبے سے آگاہ ہیں اور جلد چینی سفیر سے اس کے حوالے سے حالیہ تفصیلات جاننے کے لیے ملاقات بھی کریں گے۔
وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس کے اگلے روز یعنی عیدالضحیٰ 21اگست کوامریکہ کی جنوبی اور وسط ایشیا امور کی نائب سیکریٹری ایلس ویلز نے واشنگٹن میں فارن پریس سینٹر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ امریکہ پاکستان میں نئی حکومت کے ساتھ مل کر چلنے کا خواہاں ہے، ان کا ملک پاکستان کے نئے وزیراعظم کی جانب سے انڈیا اور افغانستان کے ساتھ امن کی خواہش کا خیرمقدم کرتا ہے۔ انھوں نے پاکستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم نے پہلے بھی پاکستان سے کہا ہے کہ پاکستان میں موجود دہشت گرد پراکسی گروپ کے محفوظ مقامات ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کیا جائے ،افغانستان میں استحکام لانے میں پاکستان کا اہم کردار ہے، ہم نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ طالبان کے خلاف مزید اقدامات کرے اور یا تو ان کو مذاکرات کے لیے تیار کرے یا پھر ان کو افغانستان میں دھکیلے‘۔انھوں نے مزید کہا کہ’’ امریکہ پاکستان کے نئے وزیر اعظم عمران خان کے اس بیان کا خیر مقدم کرتا ہے کہ وہ پاکستان کی دونوں سرحدوں پر امن چاہتے ہیں‘‘۔یاد رہے کہ وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے خارجہ تعلقات کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھا کہ تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر کریں گے کیونکہ پاکستان کو امن کی ضرورت ہے‘۔جنوبی اور وسط ایشیا امور کی نائب سیکریٹری نے یہ بھی کہا کہ’ صدر ٹرمپ کی جنوبی ایشیا کے لیے حکمت عملی میں انڈیا کا افغانستان میں امن کے لیے بہت اہم کردار ہے ،اس حکمت عملی میں سب سے اہم بات یہ ہے انڈیا کو افغانستان میں کردار ادا کرنا چاہیے اور وہ یہ کر سکتا ہے‘۔ یہ امر پیش نظر رہے کہ امریکہ کی جنوبی اور وسط ایشیا امور کی نائب سیکریٹری ایلس ویلز نے واشنگٹن میں فارن پریس سینٹر میں میڈیا سے گفتگو سے ایک روز قبل ہی وزیر خارجہ نے دورہ افغانستان کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا’میں افغانستان کے لوگوں کے لیے ٹھوس پیغام لے کر جانا چاہتا ہوں، ہمارا مستقبل جڑا ہوا ہے، ہم ایک دوسرے کی ضرورت ہیں، ہم نے ماضی کی روش سے ہٹ کر ایک نئے سفر کا آغاز کرنا ہے، اپنا پختہ ادارہ اور سوچ وہاں کی قیادت کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں،ہمیں ایک دوسرے کی مشکلات کو نہ صرف سمجھنا ہے بلکہ ان کا حل تلاش کرنا ہے‘۔
خیال رہے کہ ترجمان محکمہ خارجہ نے 22اگست 2018 کو پاکستانی وزیراعظم عمران خان اور امریکی وزیر ِ خارجہ مائیک پومپیو کی ٹیلیفونک گفتگو کے بعد بتایاتھا کہ’ وزیر ِ خارجہ پومپیو نے عمران خان کو ان کے انتخاب پر مبارکباد دی اور اس گفتگو میں سیکریٹری پومپیو نے پاکستان میں سرگرم دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کے فیصلہ کن اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کیا جو کہ افغانستان میں قیامِ امن کی کوششوں کے لیے اہم نکتہ ہے‘‘۔ادھر پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے اس بیان کو حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا گیا۔پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے ٹوئٹر پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ’پاکستا نی وزیر ِ اعظم عمران خان اور امریکی وزیر ِ خارجہ مائیک پومپیو کی فون پر گفتگو کے بارے میں امریکی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ غلط بیان سے اختلاف کرتا ہے، اس گفتگو میں پاکستان سے کام کرنے والے دہشت گردوں کا کوئی ذکر نہیں ہوا،اسے فوری طور پر درست کیا جائے‘۔ اسی روز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ہیدر نوئرٹ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ 'ان دونوں کے درمیان اچھی گفتگو ہوئی، آپ کو حیرت ہو گی لیکن یہ ایک اچھی کال تھی، پاکستان امریکہ کا اہم شراکت دار ہے، ہم نئی سویلین حکومت کے ساتھ اچھے اور تعمیری تعلقات تشکیل دینا چاہتے ہیں،۔جب ان سے دوبارہ پوچھا گیا کہ کیا فون کال کے دوران پاکستان سے کام کرنے والے دہشت گردوں کے بارے میں بات ہوئی تھی تو ترجمان نے مزید وضاحت سے گریز کرتے ہوئے دہرایا: 'ہم اپنے بیان پر قائم ہیں،گذشتہ روز مائیک پومپیو نے عمران خان کو فون کر کے انھیں انتخابات میں فتح حاصل کرنے اور حکومت کی تشکیل پر مبارک باد دی تھی‘‘۔


ای پیپر