سندھ کے مسائل: حل کس کے پاس ہے؟
24 اگست 2018 2018-08-24

روزنامہ عبرت لکھتا ہے کہ سید مراد علی شاہ نے دوسری مرتبہ حلف اٹھا کر سندھ کے 29 ویں وزیراعلیٰ کے منصب کا سنبھال لیا ہے۔ 2008 ء کے بعد یہ تیسرا موقع ہے کہ پیپلزپارٹی صوبے میں اقتدار میں آئی ہے۔ حلف اٹھانے کے بعد سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ میں پانی، صحت پینے کے پانی کی فراہمی سمیت لوگوں کی عام ضروریات پوری کرنا ان کی حکومت کی اولین ترجیحات میں سے ہونگی۔ اگرچہ سندھ کی حکمران جماعت کے نوجوان سربراہ بلاول بھٹو اور وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ صوبے کے باسیوں کے معاشی اورسماجی حالات سے اچھی طرح واقف ہیں ، وہ یہ بھی جانتے ہونگے کہ پیپلزپارٹی سے عوام کی ضروریات اور توقعات بھی زیادہ ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو پیپلزپارٹی پہلے سے زیادہ ووٹ نہیں لیتی۔ سندھ کے لوگوں نے مسلسل تیسری بار اس پارٹی کو مینڈیٹ دیا ہے۔ لیکن یہاں کے مسائل اپنی جگہ پر موجود ہیں۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کو مقامی سطح پر مسائل حل کرنے ساتھ ساتھ وفاق سے اپنے حصے کا پانی، این ایف سی ایوارڈ، اور وفاقی ترقیاتی فنڈ حاصل کرنے سمیت بڑے چیلنجز ہیں۔ اس مرتبہ بھی سید مراد علی شاہ نے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد سندھ کے حقوق اور پانی کی غیرمنصفانہ تقسیم کی بات کی ہے جو کہ خوش آئند بات ہے۔
المیہ یہ ہے کہ عوام کے نام پر ووٹ لئے جاتے ہیں لیکن آج تک جن نمائندوں کو منتخب کر کے ایوانوں میں بھیجا گیا ان میں اکثر نے عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے اپنے ذاتی مفادات حاصل کئے یا اقربا پروری کی اور مختلف مراعات حاصل کیں۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ کے شہروں اور دیہی علاقوں خاص طور پر تھر جیسے دوردراز مقامات پر غربت ، بھوک، بدحالی اور بیروزگاری نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔نہ صرف اتنا بلکہ پینے کے صاف پانی، بجلی، گیس، صحت، معیاری تعلیم، سڑکوں اور ڈرینیج کی سہولیات سے محروم ہیں۔ سندھ میں ٹرانسپورٹ کا بھی سستا اور بہتر نظام نظر نہیں آتا۔ نئی سندھ کابینہ کو ان اہم مسائل پر توجہ دینی ہوگی۔
اگر وسائل کی بات کی جائے، کراچی سے لیکر کشمور تک صوبہ تیل، گیس اور کوئلے کے ذخائر سے مالامال ہے۔ حال ہی میں کراچی میں بھی تیل کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔افسوس کہ سندھ کا سینہ چیر کر جو وسائل حاصل کئے جاتے ہیں ان میں سے مقامی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ آج بھی اگر صوبے میں موجود کارخانوں اور فیکٹریوں کا سروے کرایا جائے تو پتہ چلے گا کہ بالائی سطح سے لیکر نچلی سطح تک ملازمتوں میں دوسرے صوبوں کے لوگ ملیں گے۔ ان صنعتوں میں سندھ کے لوگ ہونگے تو بہت ہی کم تعداد میں، اور وہ بھی اینٹیں اٹھاتے ہوئے ملیں گے۔ اس ناانصافی پر سندھ کے حکمرانوں کی پراسرار خاموشی معنی خیز ہے، جیسے وہ بھی اس ناانصافی میں شریک جرم ہوں۔ اس معاشی ناانصافی کو روکنے کے لئے اقدامات کرنے پڑیں گے اور اس امر کو یقینی بنانا پڑے گا کہ جو جہاں کا ہے اسکو وہاں پر ہی روزگار مہیا کیا جائے۔ ایسا کرنے سے سندھ سے معاشی بوجھ کم ہوگا اور سندھ کے لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اس مرتبہ پیپلزپارٹی ایسی حکمت عملی بنائے گی اور ایسے فیصلے کرے گی جس سے سندھ کو خوشحالی ملے گی۔ وفاق میں تحریک انصاف نئے پاکستان کے نعرے پر اقتدار میںآئی ہے۔ لیکن نعرہ تب حقیقت کا روپ لے گا جب عوام سے کئے گئے وعدے ایفا ہوں گے۔ عوام کو حقوق ملیں گے۔
روزنامہ کاوش لکھتا ہے کہ سندھ کی آٹھ رکنی کابینہ نے حلف اٹھالیا ہے جبکہ دو مشیر بھی مقرر کئے گئے ہیں۔ عید کے بعد دس مزید وزراء، تین مشیر اور آٹھ خصوصی معاون لئے جائیں گے۔ اخبار لکھتا ہے کہ سندھ کابینہ میں شمولیت کے معاملے پر پارٹی کے اندر اختلافات سامنے آئے۔ بعض رہنما ناراض ہوگئے۔ پارٹی قیادت پر مختلف بااثر افراد کے دباؤ کی وجہ سے کابینہ کے اراکین کے ناموں کا اعلان وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کے بجائے بلاول بھٹو زرداری نے کیا۔ سید خورشید احمد شاہ اور منظور وسان اپنے دامادوں اور نثار کھوڑو اپنی بیٹی اور اعجاز جکھرانی اپنے چچازاد کے لئے وزارت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ سندھ حکومت نے نئی بھرتیوں کے لئے مختلف محکموں میں خالی اسامیوں کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ صوبائی حکومت نے ایک لاکھ ملازمتیں دینے کے لئے ہوم ورک شروع کر دیا ہے۔ سیکرٹریز کمیٹی کے نام سے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے ۔ ابھی تک جمع کی گئی معلومات کے مطابق محکمہ داخلہ میں 42 ہزار، محکمہ تعلیم میں 26ہزار، محکمہ محنت میں 1665، لائیو اسٹاک میں 1975، پاپولیشن میں 1100 سمیت مختلف محکموں میں اسامیاں خالی ہیں۔ دوسری جانب یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ محکمہ تعلیم کے آئی ٹی شعبہ میں ویب ایڈمن آفیسر نے لین دین کر کے بھرتیوں اور تبادلوں کے جعلی نوٹیفکیشن جاری کئے ہیں اور ویب سائیٹ پر اپلوڈ کئے۔ یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ ویب ایڈمن کئی ماہ سے اساتذہ کی بحالی، تنخواہیں بند کرنے اور کھولنے کے جعلی نوٹیفیکشن اپلوڈ کرتے رہے۔ معاملے کی تحقیقات کے لئے ڈپٹی سیکریٹری کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
روز نامہ سندھ ایکسپریس نئے پاکستان میں سندھ کے لئے کیا ہے کے عنوان سے کالم میں لکھتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے انداز گفتگو اور تقاریر کے مواد سے لگتا ہے کہ وہ اپنے پرانے موقف پر ہی قائم ہیں۔ ہم ان سے سوال کرنا چاہیں گے کہ جس پرانے پاکستان کو وہ نیا بنا رہے ہیں اس میں سندھ کے کتنے کھلاڑی شامل ہیں؟ کیا عمران خان بھی مشرف کی طرح یہی سمجھتے ہیں کہ سندھیوں میں صلاحیت نہیں؟ عمران خان کو اپنی ٹیم کو اس حوالے سے بھی دیکھنا چاہئے۔ ویسے منطقی امر یہ ہے کہ افراد کے بجائے کام کو دیکھا جائے۔ ہم جب کسی دکان سے خریداری کرتے ہیں تو دکاندار کو نہیں بلکہ چیز کو دیکھتے ہیں۔ بالکل اسی طرح سندھ کے لوگوں کو بھی نتائج پر نظر رکھنی چاہئے۔ لیکن دنیا صرف نتائج پر نہیں چلتی۔ نتائج کے ساتھ ساتھ طریقہ کار اور فیصلہ سازی ہو، فیصلوں پر عمل درآمد میں شمولیت و شرکت بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ نئے پاکستان کے مشن میں سندھ کے لوگوں کو بھی کوئی رول دینا چاہئے۔ عمران خان سندھ مین آکر پیپلزپارٹی کو للکارتا، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ کیونکہ پاکستان میں اقتدار کا فیصلہ پنجاب کو ہی کرنا ہے۔ لہٰذا عمران خان جان بوجھ کر سندھ نہیں آئے۔ ان کے سندھ نہ آنے اور ان کی پارٹی سندھ میں مضبوط نہ ہونے کی وجہ سے کراچی کے علاوہ سندھ میں کسی مقام پر تحریک انصاف حالیہ انتخابات میں نمایاں کارکردگی نہیں دکھا سکی۔ اب پیپلزپارٹی سندھ کے حوالے کیوں ہے؟ اس کا بہتر جواب عمران خان ہی دے سکتے ہیں۔


ای پیپر