کلدیپ نائر بھی چل بسے
24 اگست 2018 2018-08-24

کلدیپ نائر ،ایک کہنہ مشق بزرگ صحافی تھے۔ وہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیاں دوستانہ،پرامن اور برادرانہ تعلقات کے حامی تھے اور ا ن کا شمار بر صغیر کے ان امن پسند شہریوں میں ہوتا ہے جنہوں نے برصغیر میں پاکستان اور ہندوستان میں امن کی آشا کے لئے کام کیا۔افسوس وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے اور امن کی صبح ہونے سے پہلے ہی 94 سال کی عمر میں دلی میں وفات پا گئے۔

ان کے گھرانے کا تعلق سیالکوٹ سے تھا ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی پھر FCCلاہور سے B.Aکرنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی لا کالج سے LLBکی ڈگری حاصل کی۔وہ اکثر اپنی تقریروں اور تحریروں میں لا کالج کے طلبا سے خطاب کے دوران بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ اپنے مکالمہ کا ذکر ضرور کرتے تھے۔

پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات پر نظر رکھنے والے دانشوروں کو یہ بہت معلوم ہے کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ٹریک ٹو کا سلسلہ سب سے پہلے فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیا الحق نے شروع کیا تھا۔جن ہندوستانی صحافیوں نے اس سلسلہ میں پاکستان کا دورہ کیا ان میں کلدیپ نائر بھی شامل تھے۔انہوں نے پاکستان کی اہم شخصیات کے انٹرویوز پر مبنی ایک کتاب بھی چھاپی۔ان کا جنرل ضیا کے دور میں پاکستان میں اکثر آنا جانا تھا۔

’امن کی آشا‘ کا ٹھیکہ سب سے پہلے اسلام آباد سے نکلنے والے اخبار ’دی مسلم‘ کو دیا گیا تھا۔

کلدیپ نائر دنیا کے واحد اور پہلے صحافی تھے جنہوں نے پاکستانی ایٹم بم کے بانی ڈاکٹر قدیر سے ملاقات کی اور ایک طرح کا انٹرویوکیا۔ہوا یہ کہ مسلم کے نوجوان ایڈیٹر (موجودہ سینیٹر) مشاہد حسین سید کی شادی کا موقع تھا۔انہوں نے ڈاکٹر قدیر کو اپنی شادی کا کارڈ دینا تھا۔ کلدیپ نائر دلی سے آئے ہوئے تھے وہ ان کو بھی ساتھ لے گئے۔

اہل علم کہتے ہیں کہ ڈاکٹر قدیر کے گھر کے پاس ’مکھی‘ بھی بغیر اجازت کے نہیں اڑ سکتی۔بہرحال پاکستانی فوج کلدیپ نائر کے ذریعہ دلی کو جو پیغام دینا چاہتی تھی کہ ’ہمارے پاس بھی ایٹم بم ہے‘ وہ پہنچا دیا گیا۔اور کلدیپ نائر نے نہ صرف یہ کام خوش اسلوبی سے انجام دیا بلکہ یہ کہانی مغرب کے ایک اخبار کو بھی مناسب وقت پر بیچ دی۔جس کے بعد دنیا میں ایک ہنگامہ ہوگیا اور پاک امریکہ تعلقات میں کشیدگی آگئی۔پاکستان میں بچارے مشاہد حسین سید کو اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا(غداری کا الزام لگا)۔میں اس سلسلہ میں زیادہ نہیں لکھنا چاہتا کیونکہ کلدیپ نائر نے اپنا نقطہ نظر کئی دفعہ بیان کر دیا ہے مگر چونکہ مشاہد حسین سید صاحب ابھی بہ قید حیات ہیں وہ جب چاہیں گے اس راز سے پردہ اٹھا سکتے ہیں۔

کلدیپ نائر نے گو قانون کی ڈگری حاصل کی تھی مگر بعد میں وہ نہ ہندوستانی سرکار کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی انفارمیشن سروس میں شامل ہو گئے۔انہوں نے ہندوستان کے بہت سارے حکمرانوں کو نزدیک سے دیکھا اور ان کے ساتھ کام کیا۔وہ 1965ء میں تاشقند میں پاک۔ہند مذاکرات کے وقت بھی موجود تھے اور شاستری کی وفات کے بھی عینی شاہد ہیں۔

وہ ہندوستانی وزیر اعظم باجپائی کے ساتھ ’بس ڈپلومیسی‘ میں لاہور بھی آئے۔

وہ ہندوستان کے برطانیہ میں سفیر بھی رہے۔ انہیں راجیہ سبھا کا ممبر بھی نامزد کیا گیا۔ان کو ابو الکلام آزاد پر غصہ تھا لہذا انہوں نے ان کی زندگی کے بہت ہی ذاتی پہلو کے بارے میں بھی لکھا۔

وہ چند دن پہلے تک باقائدگی سے ہفتہ وار کالم لکھتے رہے۔ وہ دلی کی کشمیر پالیسی اور مذہبی اقلیتوں کے ساتھ سلوک کے زبردست ناقد تھے۔انہیں اندرا گاندھی کی ایمرجنسی میں گرفتار بھی کر لیا گیا تھا۔

وہ پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات میں بطور مبصر بھی آتے رہے۔

مجھے ان سے دو دفعہ انٹرویو کرنے کا موقع ملا۔پہلی دفعہ جب وہ ہندوستانی پارلیمنٹیرین وفد کے ساتھ 2003ء میں لاہور رتشریف لائے اور دوسری دفعہ جب میں ان کی دعوت پر پنجابی یونیورسٹی پٹیالہ میں انٹرنیشنل پنجابی کانفرنس میں اسد مفتی کے قیادت میں گیا۔ یہ میری کتاب Sanity/Harnigers of Peace Voices of

میں شامل ہیں۔

وہ بہت ہی ملنسار شفیق اور خوش گفتار انسان تھے۔

افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ برصغیر میں دوستی اور خوشحالی کا ایک بہت بڑا دوست مایوس چلا گیا۔


ای پیپر