پچھلی حکومت کا جائزہ اور نئی حکومت سے امیدیں
24 اگست 2018 2018-08-24

خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف نے ایک دفعہ پھر کامیابی حاصل کی ۔صوبے کی عوام نے پاکستان تحریک انصاف اور خاص طور پرعمران خان پر اعتماد کر کے نئے پاکستان کی زمہ داری سونپ دی۔عمران خان کے الیکشن میں نعرے یعنی کرپشن سے پاک پاکستان،قانون سب کے لیے برابر،ایک اسلامی فلاحی ریاست یہ وہ دعوے ہیں جن پر عوام نے اعتماد کیا۔در اصل یہ دعوے ہی ایسے ہیں صوبے کی عوام کے ساتھ پاکستان کی عوام کی بھی یہی ڈیمانڈ ہے ۔کیونکہ کرپشن ملک پاکستان کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔یعنی ایک ایساجرم ہے جس کے اثرات پاکستان کی غریب عوام کو بھگتنے پڑتے ہیں۔ لیکن جوخطرناک بات ہے وہ یہ کہ جب غلط کو ٹھیک مان کر اس پر کھڑا ہوا جائے۔ آج اداروں میں کم و پیش یہی صورت حال ہے ۔پاکستان کے اداروں میں بد عنوانی کو جرم سمجھا ہی نہیں جاتابلکہ یہ کہنا درست ہو گا کہ اس جرم کو اب رواج کا درجہ دیا جا رہا ہے کونکہ پاکستانی عوام کے ذہنوں کے مظابق سرکاری اداروں میں اور کسی طریقہ سے کام کو

تکمیل تک پہنچانے کا کوئی تصور ہی نہیں ۔اس کے بعد قانون سب کے لیے برابر کا نعرہ تھا۔معاشرے میں عدل اور توازن کو برقرار کھنے کے لیے قانون کی حکمرانی بہت ضروری ہے کیونکہ کرپشن کا خاتمہ تب ہی ممکن ہو سکتا ہے جب قانون کی حکمرانی قائم ہو۔ اور قانون کی حکمرانی سے ادارے مضبوط ہوتے ہیں ۔ہم اگر 2013کے الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی اور ان کی کارکردگی پر بات کر یں۔ تو ہمیں کھلے دل سے قبول کرنا پڑے گاکہ جہاں بہت سارے اداروں پر قانوں سازی ہوئی ہے وہاں کچھ اداروں کے موجودہ قوانین پر عمل درآمد بھی کیا گیا۔جیساکہ پولیس کا ادارہ ۔پولیس کے ادارے کے معیار کو بہتر کیا گیا اور سب سے بڑھ کر چیک اینڈ بیلنس بھی رکھا گیااس کے بعد محکمہ تعلیم سے متعلق بھی قوانین میں ترامیم کی گئی اساتذہ کے چیک اینڈ بیلنس کا نظام بھی وضح کیا گیایہ بات بھی حقیقت پر مبنی ہے کہ Ghostسکولوں کا بھی خاتمہ کیا گیا۔لیکن سب سے بڑا مسئلہ جو درپیش ہواوہ کالجز اور ہوینورسٹیوں میں (BoG)یعنی بودڑ آف گورنرکا قیام تھابورڈ آف گورنر کا قیام کا مقصد تعلیمی اداروں کو با اختیار بنانا تھااس حد تک تو یہ بات ٹھیک ہے مگر اس بورڈ کے مطابق 75فیصد فنڈ صاحب حیثیت لوگوں اور طالب علموں سے اکٹھا کرناتھااور باقی 25فیصد حکومت نے مہیا کرنا تھے جس پر احتجاج بھی ہوئے اورحکومت کو سخت مزاحمت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ جس کی وجہ ابھی تک اس پر عمل درآمد نہیں ہوا ۔ صحت کے محکمہ کے قوانین میں بھی ترامیم کی گئی۔صوبائی حکومت نے (MTI) میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیویٹ ریفارمزبل 2016پاس کیاجس کامقصد لوگوں کو صحت کے بارے میں انصاف مہیا کرنا تھا۔ اور اس بل میں بھی (BoG)بنا یا گیااس کا مقصد بھی ہسپتالوں کو با اختیار بنانا تھاBasic Health Centre سے لے کر DHQتک علاج کو یقینی بنانا تھا۔لیکن محکمہ صحت کے حوالے سے ہسپتالوں میں ادویات اور آلات کو چیک کرنے کا شدید فقدان رہا۔اس کے علاوہ TEVTAمیں ترامیم بل منظور کیا گیالیکن ان ترمیم پر زرا برابر بھی عمل درآمد نہیں کیا گیا۔حلال فوڈ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیاجس کا مقصد لائیوسٹاک کو فروغ اور صحت مند اشیا کی فراہمی تھا لیکن بد قسمتی سے یہ قیام تک ہی محدود رہ گیا۔اس کے بعدصوبائی حکومت نے مزدوروں کی اجرت بینکوں کے زریعے ادا کرناکا قانون پیش کیا۔مگر یہ صرف کاغذوں تک محدود رہا۔صوبائی حکومت نے ایک احتساب کمیشن کا قائم کیا۔ضیا ء اللہ آفریدی، ستارہ ایاز، ایم پی اے گل صاحب خان کے والد نور درازکا احتساب بھی کیاگیا مگر جب پرویز خٹک اور اسد قیصر پر الزامات لگے تو اس کمیشن کو ختم کیا گیااس طرح یہ کمیشن بھی متنازعہ بن گیا۔صوبائی حکومت نے انڈسٹری کی بحالی اور سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے میں غفلت دیکھائی۔اس کی بنیادی وجہ پرویز خٹک اور اس کی نالائق حکومت ہے ۔اس لیے سی پیک میں بھی صوبے کے لئے کچھ خاص مراعات حاصل نہ کرسکے اور نہ ہی صوبے میں صنعت اور زراعت کے لیے کوئی خاص اقدامات کر سکے ۔سب سے بڑھ کر جنوبی اضلاع کو مکمل طور پر نظر انداز کیاگیا۔وزیر اعلی نے جنوبی اضلاع کو مکمل طور پر احساس محرومیوں میں دھکیل دیا۔ جس کی وجہ سے صوبائی ڈیولپمنٹ فنڈمیں صرف چار اضلاع نوشہرہ، مردان، صوابی، چارسدہ کو نوازہ گیا 65فیصد فنڈ کا استعمال ان ہی اضلاع میں کیا گیااورباقی 25فیصد فنڈ کا استعمال دوسرے تمام اضلاع میں کیا گیا۔اس حکومت کی بڑی کامیابی اگر سمجھی جائے تودہشت گردی کی کمی ہے جس کا کریڈٹ ناصر خان دورانی اور دیگر سیکورٹی اداروں کو جاتا ہے کیونکہ ناصر خان دورانی کی قیادت میں دہشت گردی میں

67فیصد کمی واقع ہوئی۔ جس کی وجہ سے سیاحت میں بہتری آئی ہے ۔ بلین سونامی ٹری بھی میگا پروجیکٹ تھا ۔یہ پاکستان تحریک انصاف کی پچھلی حکومت کی کاردکردگی کا کچھ جائزہ تھا اب صوبہ خیبر پختونخوا کی عوام نے عمران خان پر ایک مرتبہ پھر اعتماد کیا یعنی یہ کہنا بجا طور پر درست ہو گا کہ خیبرپختونخوا کی عوام نے صوبائی حکومت کے بجائے عمران خان کی شخصیت پر اعتماد کیا۔ محمود خان نئے وزیر اعلی منتخب ہوئے۔ پچھلی حکومت کے پاس تعداد پوری نہیں تھے۔لیکن اس دفعہ یہ بہانہ بھی ختم ہوا۔اس لیے خیبر پختونخوا کی عوام یہ توقع کرتی ہے کہ محمود خان وزیر اعلی جنوبی اضلاع کے احساس محرومیوں کا ازالہ کرنے کے ساتھ ساتھ صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کے کیے گئے وعدوں کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔جس میں غربت کاخاتمہ،امن امان کی بحالی،کرپشن کا خاتمہ،اداروں کی مضبوطی،عام آدمی کو انصاف مہیا کرنا اور تعلیمی معیار کو بہتر کرنا شامل ہے۔


ای پیپر