ہالینڈ: اشتعال انگیز گستاخانہ خاکوں کی اشاعت
24 اگست 2018 2018-08-24

ہا لینڈ میں حکومتی سرپرستی میں گستاخانہ خاکوں کا قابل مذمت عمل جاری ہے اور اس کے خلاف عالم اسلام کے ہر ملک اور ہر شہر میں احتجاجی مظاہرے بھی ہو رہے ہیں۔ پاکستان کی نومنتخب حکومت نے بھی ہالینڈ کے سفارتکار کو طلب کر شدید احتجاج کیا ہے ۔ لیکن اس ضمن میں سب سے بھرپور اور لائق تحسین کردار رجب طیب اردوان کی حکومت نے ادا کیا ہے۔ ترکی نے ہالینڈ کے سفیر کو ملک بدر کر دیا ہے۔ عالم اسلام کے علماء اور دانشور عالم اسلام کے شہریوں سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ ہالینڈ کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں تا کہ اس کی اقتصادیات کو دھچکا پہنچے۔ ہالینڈ میں مسلمانوں کے خلاف تعصب کوئی نئی بات نہیں۔ قدرت اللہ شہاب نے اپنی سوانح عمری شہاب نامہ میں لکھا ہے کہ ہالینڈ کی کمیونٹیز میں جب کسی بچے کی پیدائش ہوتی ہے تو اس کا نام ایک فارم پر رجسٹر کیا جاتا ہے جس میں مذہب کا خانہ بھی ہوتا ہے۔ اکثر شہری مذہب کا خانہ چھوڑ دیتے ہیں کہ بچہ جب بالغ ہو گا تو اپنی مرضی سے جو مذہب چاہے گا اختیار کر لے گا۔ قدرت اللہ شہاب نے لکھا ہے کہ میں نے ایسے فارم بھی دیکھے جس میں والدین نے واضح الفاظ میں مذہب کے خانے میں یہ لکھا ہے کہ ہمارا یہ بچہ سوائے اسلام کے ہر مذہب قبول کر سکتا ہے۔
گزشتہ کئی برسوں سے مختلف یورپی ممالک کے میڈیا کی جانب سے آپؐ کی ذات کی توہین کسی جہالت یا شرارت کی بنا پر نہیں کی جا رہی بلکہ یہ ایک طے شدہ، منظم اور مر بوط طویل عالمگیر جنگ کا نقطہ آغاز ہے اور محسوس ہوتا ہے کہ آزادئ اظہار کے نام پر ’’تہذیبوں کے تصادم‘‘ کے پر چارک عالم اسلام کے خلاف ’’تیسری عالمگیر جنگ‘‘ کا آغاز کر چکے ہیں۔سلمان رشدی، تسلیمہ نسرین اور ٹیری جونز ایسے افراد کو امریکہ و مغرب کی حکومتوں نے خصوصی تحفظ فراہم کر کے عملاً یہ ثابت کیا کہ وہ شاتمانِ رسالت مآبؐ کے محافظ ہیں۔ سلمان رشدی کو تو باقاعدہ سر کا خطاب بھی دیا گیا۔ یہ اظہار رائے کی کیسی آزادی ہے کہ مغرب اور امریکہ میں یہودیوں کے ہولوکاسٹ کے حوالے سے تو ایک لفظ بھی نہیں لکھا جا سکتا لیکن ایک ارب 80 کروڑ سے زائد مسلمانوں کے ہادی و رہنما نبی اکرم ؐ کی توہین کو ایک معمول بنا لیا گیا ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ اسلام دشمن استعماری قوتوں نے اسلام بانی اسلام ؐ اور عالم اسلام کے خلاف باقاعدہ میڈیا وار شروع کر رکھی ہے۔ توہین آمیز خاکوں کی مسلسل اشاعت ظاہر کرتی ہے کہ یورپ 21 ویں صدی میں بھی پہلے میلینیم کی صلیبی جنگوں کے دور کے چنگل سے نجات حاصل نہیں کرسکا۔لائق نفریں خاکوں کی اشاعت سے عالمی استعماری طاقت اور اُس کے حواری مغربی ممالک کی اسلام دشمنی غیر جانبدار ، امن پسند ، صلح جو اور بین الادیان و بین المذاہب مکالمے پر یقین رکھنے والی عالمی برادری پر واضح ہو چکی ہے۔ یہ ایک مسلمہ صداقت ہے کہ ہر مسلم شہری کو بلا امتیاز اس امر کا کامل ادراک و احساس ہے کہ حب رسالت مآبؐ کے بغیر اُن کا وجود ایک بے جان لاشے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔
واضح رہے کہ مارچ 2008 ء میں ڈنمارک کے اخبارات میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف عالم اسلام میں بھرپور احتجاج کیا گیا۔ اس کے باوجود ایک طے شدہ مذموم حکمت عملی کے تحت توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کا سلسلہ ناروے، فرانس اور جرمنی کے اخبارات تک پھیل گیا۔
اس کا ردعمل ٹھیک 7برس بعد پیرس میں دیکھنے میں آیا اور بدھ 18 جنوری 2015 ء کو پیرس میں گستاخانہ خاکے شائع کرنے والے مزاحیہ ہفت روزہ جریدے ’’چارلی ایبڈو‘‘ کے دفتر میں نقاب پوش مسلح افراد کی فائرنگ سے میگزین کے چیف ایڈیٹر، 4کارٹونسٹ، 10صحافی اور 2 پولیس اہلکاروں سمیت 12افراد ہلاک اور 20زخمی ہو گئے تھے۔ حملہ آور کلاشنکوفوں اور راکٹ لانچروں سے مسلح تھے۔ جریدے کے دفتر پر حملہ اس وقت ہوا جب عملہ ہفتہ وار ادارتی میٹنگ کر رہا تھا۔ 2011ء
میں بھی اس جریدے کے دفاتر پر آتش گیر مواد پھینکا گیا تھا۔ اُن دنوں بھی اس نے یہی گستاخانہ حرکت دہرائی تھی۔ یہ جریدہ مقدمات کے باوجود گستاخانہ حرکت جاری رکھے ہوئے تھا۔ اس میگزین نے 2012ء میں بھی گستاخانہ خاکے چھاپے تھے۔ پولیس کے مطابق حملہ آوروں کا کہنا تھا کہ ’ہم نے گستاخی کا بدلہ لے لیا ہے‘۔ دوسری جانب ڈنمارک کے میڈیا گروپ جے پی پولیٹیکنز کے اخبار جیلنڈز پوسٹن کے حفاظتی انتظامات بھی سخت کردیئے گئے۔ اس اخبار نے بھی گستاخانہ خاکے شائع کئے تھے۔ فرانس کے اس دور کے صدر نے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کی مذمت کرنے کے بجائے صدر فرانسو اولانند نے جائے وقوعہ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عجیب بات کہی۔ اس کا کہنا تھا کہ ’ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ غیرمعمولی طرز عمل ہے، ہمیں اس وجہ سے دھمکایا گیا ہے کیونکہ ہمارا ملک آزادی پسندوں کا ملک ہے‘۔
یاد رہے کہ 2005ء میں بھی فرانس میں نسلی منافرت پر مبنی فسادات کئی روز جاری رہے اور انتہا پسند مقامی آبادی نے مسلم تارکین وطن کو نشانہ بناتے ہوئے ان کی سیکڑوں گاڑیوں اور دکانوں کو نذر آتش کیا۔ زیادہ تر حملے پیرس کے مضافات میں ان قصبوں میں کئے گئے جہاں مسلم تارکین وطن کی بڑی تعداد آباد ہے۔ فرانس یورپی یونین کا ایک اہم رکن ملک ہے اور یہاں کئی عشروں سے الجزائر، مراکش، تیونس، موریطانیہ اور کئی دیگر عرب ممالک کے تارکین وطن آباد ہیں۔ فرانس میں پارلیمنٹ کی جانب سے حجاب پر پابندی کے فیصلے کے خلاف عالم اسلام کے اکثر ممالک کے شہری صدائے احتجاج بلند کرتے رہے ہیں۔یوں تو مغربی ممالک روا داری، برداشت اور بنیادی انسانی حقوق کی بحالی اور فروغ کے بزعم خویش دعویدار بنے پھرتے ہیں لیکن حقائق و حالات ان کے اس دعوے کی تردید اور نفی کرتے ہیں۔ مغرب میں مسلمانوں کی تعداد پانچ کروڑ سے زائد ہے ، صرف فرانس میں ان کی تعداد61 لاکھ 30ہزار ہے۔ دنیا بھر کو روا داری ، برداشت اور بین المذاہب ہم آہنگی کا درس دینے والے مغربی معاشروں میں تنگ نظری کی انتہا کا عالم یہ ہے کہ محض رنگ و نسل اور عقیدہ و مذہب کے اختلاف کو جواز بنا کر مسلم شہریوں کو ہراساں کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جاتا ۔ اہل مغرب کا دعویٰ ہے کہ وہ نسل پرستی کے سب سے بڑے مخالف ہیں لیکن 9/11اور 7/7کے بعد حالات نے عالمی برادری کے سامنے تصویر کا انتہائی بھیانک رخ پیش کیا۔ مغرب کی اسلامی عقائد اور تعلیمات کو دہشت گردی کے ساتھ منسلک کرنے کی پالیسی اور کوششیں ضرر رساں ثابت ہوئی ہیں۔ ایک سابق جرمن سفارت کار مراد ہو فمین نے جو حلقہ بگوش اسلام ہوئے، اپنے ایک مضمون میں اسلام مخالف مغربی ذہنیت کو یوں بے نقاب کیاکہ ’اہل مغرب کو اسلام کے علاوہ ہر چیز گوارا ہے ،جب ان کا کسی مسلمان شخص کے ساتھ واسطہ پڑتا ہے تو ان کی رواداری اور بے پایاں وسیع القلبی رخصت ہو جاتی ہے، غیر مسلموں کے وہی عادات و اطوار جو خوش دلی سے قبول کر لیے جاتے ہیں مسلمانوں کے لیے باعث ننگ و عار بن جاتے ہیں اور انہیں ’ کٹر ،متعصب، غیر مہذب، غیر آئینی اور پسماندہ قرار دیا جاتا ہے‘۔ہم سمجھتے ہیں کہ مغربی ممالک آزادئ اظہار کے نام پر ایک ارب 60 کروڑ مسلمانوں کی دلآزاری کو اپنا شیوہ و شعار بنانے کی منفی روش کو ترک کر دیں۔ توہین رسالت مآبؐ کا جرم کسی بھی طور قابل معافی نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام مسلم ممالک اقوام متحدہ کے ذریعے تمام مذاہب، اُن کی مقدس ہستیوں کے احترام کا باقاعدہ قانون منظور کروائیں اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے ملک کی رکنیت معطل کر کے اُس پر عالمی پابندیاں نافذ کرنے کا مطالبہ کریں تا کہ کوئی شخصیت ، ادارہ یا ملک اس طرح کی حرکت نہ کر سکے۔


ای پیپر