اورنج لائن ٹرین منصوبہ مکمل نہ ہونے پر چیف جسٹس پاکستان برہم

24 اگست 2018 (18:12)

لاہور:چیف جسٹس پاکستان نے اورنج لائن ٹرین منصوبہ مقررہ وقت پر مکمل نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ اب کسی ٹھیکیدار کو بھاگنے نہیں دیا جائے گا۔

گذشتہ روزسپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے میگا پراجیکٹس کے بارے میں از خود نوٹس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس پاکستان نے افسوس کا اظہار کیا کہ لاہور کے شہریوں نے بہت زیادہ مشکلات اٹھا لی ہیں، یہ منصوبہ ابھی تک مکمل کیوں نہیں ہوا۔

حبیب کنسٹرکشن کے نمائندے نے بتایا کہ منصوبے کا 90 فیصد سے زائد کام مکمل ہوچکا ہے اور باقی کام چینی کمپنی کو کرنا ہے جس میں تین سے چار ماہ لگ سکتے ہیں۔حبیب کنسٹرکشن کے نمائندے نے بتایا کہ آخری دو چیک بانس ہوگئے ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے حیرت کا اظہار کیا کہ ریاست کے چیک کیسے بانس ہوسکتے ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نےچیک بانس ہونے کے معاملے پر سیکرٹری فنانس کو طلب کر لیا۔ چیف جسٹس پاکستان نے واضح کیا کہ انہیں ٹائم فریم چاہیے کہ کب تک لاہور کو اس مشکل سے آزاد کرائیں گے۔ حکومت کے نمائندوں سے بات کریں اور سب کو صاف بتا دیں کہ کچھ بھی ہو جائے یہ پراجیکٹ مکمل ہوگا۔ منصوبے کی تکمیل کے لئے ضمانت لی جائے گی اور اب کسی ٹھیکیدار کو بھاگنے نہیں دیا جائےگا۔

مزیدخبریں