عمران خان کی بڑی اتحادی جماعت ناراض
24 اپریل 2019 (22:17) 2019-04-24

اسلام آباد:حکومتی اتحادی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل )کے سربراہ سردار اخترجان مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان میں پہلے بزرگوں اور نوجوانوں کو اٹھایا جاتا تھا اب بچوں اور عورتوں کو بھی اٹھایا جا رہا ہے، اورماڑہ واقعہ کے بعد جن کو دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ان کی عمریں محض 4سے6سال تک ہیں،ایسے اقدامات سے نفرتیں بڑھیں گی.

اورماڑہ واقعہ ایران بارڈر سے 450 کلو میٹر دور ہوا، کیا دہشت گرد 60 روپے فی کلو میٹر والے ہیلی کاپٹر پر فرارہوگئے، حکومت کیساتھ طے پانے والے 6 نکات میں سے ایک پر بھی عمل نہیں ہوا،6نکات پر عملدرآمد کروانے کیلئے مجوزہ کمیٹی قائم نہیں کی جا سکی۔وہ بدھ کو قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کر رہے تھے۔اختر مینگل نے کہا کہ بلوچستان میں کچھ قدرتی آفات ‘ کچھ دہشت گردی اور ریاستی آفات آتی ہیں‘ بلوچستان ان مسائل کا شکار رہا ہے‘ ہزارہ کمیونٹی کا قتل معمول بن چکا ہے،انہیں ایک چار دیواری میں بند رکھا گیا ہے ،وہ مارکیٹوں اور اپنی عبادت گاہوں میں بغیر سیکیورٹی کے نہیں جا سکتے، یہی حال تمام فرقوں سے تعلق رکھنے والوں کا ہے۔ بلوچستان میں عبادت گاہیں تک محفوظ نہیں رہیں، بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال خراب تر ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اورماڑہ واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، اورماڑہ واقعہ پر وزیر خزانہ کے بیان پر حیرانگی ہوئی ہے،وہ سینئر سیاستدان ہیں انہیں جغرافیائی ہم آگاہی ہونا چاہیے تھی۔ جس جگہ سیکیورٹی اہلکاروں کو بسوں سے اتار کر قتل کیا گیا وہ جگہ ایران بارڈر سے 450 کلو میٹر دور ہے،وہاں سے ایران بارڈر تک ایک ہی شاہراہ ہے جو تین شہروں سے گزرتی ہے،جہاں بارڈر تک پچاس سے زائد چیک پوسٹیں ہیں۔ کیا دہشت گرد 60 روپے فی کلو میٹر والے ہیلی کاپٹر پر تو فرار نہیں ہوئے۔ ہمارے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات خراب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماڑو واقعہ کے بعدجن خطرناک دہشت گردوں کو پکڑا گیا ان کی عمریں 4سے 6سال تک ہیں۔اس موقع پر اختر مینگل نے گرفتار بچوں کی تصاویر ایوان میں دکھائیں اور کہا کہ کسی کی ماﺅں ،بہنوں اور بچوں کو اٹھا کر لیجانے سے نفرتیں بڑھیں گی۔ یہ روایت 20 سال سے چل رہی ہیں‘ موجودہ حکومت کی نہیں۔پہلے بزرگوں اور نوجوانوں کو اٹھایا جاتا تھا اب بچوں اور عورتوں کو اٹھایا جا رہا ہے۔اختر مینگل نے کہا کہ بلوچستان میں ایدھی سینٹر میں22لاشیں لائی گئیں جن کی بغیر شناخت کے تدفین کر دی گئی ،کیا صوبائی اور وفاقی حکومت کی ذمہ داری نہیں تھی کہ ان کی شناخت کرتی؟۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے 6 نکات پر ابھی تک عمل نہیں ہوا۔ معاہدے پر دستخط ہوئے تھے‘ میں نے جس قلم سے دستخط کئے وہ میرے پاس ہے۔ ایک نکتہ پر بھی عمل نہیں ہوا،یہاں تک کہ 6نکات پر عملدرآمد کروانے کیلئے مجوزہ کمیٹی قائم نہیں کی جا سکی۔ زبردستی لاپتہ کئے جانے والے بچوں کے حوالے سے بل لانے کا کہا گیا تھا وہ بھی نہیں لایا گیا۔


ای پیپر