نیا چیلنج
24 اپریل 2019 2019-04-24

وزیر اعظم عمران خان کا دورہ انتہائی اہم موقع پر ہوا۔ پاکستان میں ایرانی صوبہ سیستان کے ساتھ متصل صوبہ بلوچستان ہے۔ جو پاکستان کا بہ لحاظ رقبہ سب سے بڑا صوبہ ہے۔ بلوچستان ایک طرف سے افغانستان کے پشتو اور دری بولنے والے علاقوں کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ دوسری جانب طویل ساحلی پٹی ہے اور زمینی سرحد کے ذریعے ایران کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ ایران اور پاکستان دونوں ہی طویل عرصے سے دہشت گردی کا شکار ہیں۔ دونوں ممالک میں بظاہر بہتر تعلقات ہیں۔،لیکن کوئی ایسی برادرانہ گرم جوشی بھی نہیں۔،بس گزارا ہے۔ گو سطح آب تو کوئی تلاطم نہیں لیکن دونوں ممالک کو ایک دوسرے متعدد شکایات بھی ہیں۔ ایران پاکستان سے اپنے سفارتی تعلقات کو سعودی عرب کے ساتھ تنازعے کے پس منظر میں دیکھتا ہے۔ جبکہ پاکستان کو شکایت ہے کہ ایران کا جھکاو¿ ہندوستان کی جانب رہتا ہے۔ پاکستان بہرحال ہمیشہ ایران کے معاملہ میں ایثار کا مظاہرہ کیا ہے۔ زبانی جمع خرچ میٹھی فارسی بولنے والے ایرانی بھی مقدور بھر کرتے ہیں۔ لیکن جب ایرانی انقلاب دیگر مسلم ملکوں کو ایکسپورٹ کرنے کی پالیسی غالب آتی ہے سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ ایران کی سخت گیر پالیسیوں نے اس کو بین الاقوامی طور پر تین عشروں سے بین الاقوامی تنہائی میں ڈالا ہوا ہے۔ امریکہ اور سعودی عرب کے اتحادیوں کے ساتھ سفارتی کشمکش جاری رہتی ہے۔ ایران امریکہ تعلقات نارمل تو کبھی بھی نہیں ہوئے البتہ درجہ حرارات میں کمی بیشی رہتی ہے۔لیکن ان دنوں کشیدگی پھر عروج پر ہے۔امریکا نے ماہ مئی سے ایران سے تیل خریدنے والے ممالک کو دیا گیا عارضی استثنا ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ جس کے نتیجے میں کشیدگی ایک مرتبہ پھر عروج پر پہنچ گئی ہے۔،جن ملکوں کو یہ استثنی حاصل ہے ان میں چین، بھارت، جنوبی کوریا، تائیوان، ترکی، اٹلی اور یونان شامل ہیں۔ استثنا کے خاتمے کا اعلان ہوتے

ہی آبنائے ہومز میں کشیدگی عروج کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ایران نے ان پابندیوں کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ان پابندیوں کو اہمیت نہیں دیتا۔ چین اور ترکی نے ان پابندیوں کو مسترد کیا ہے۔ چین کے وزیر خارجہ کہتے ہیں کہ بیجنگ اور تہران کے مابین تجارت قوانین کے مطابق ہے۔ ترکی نے تو بہت واضح بیان دیا ہے کہ وہ امریکی پابندیوں کو نہیں مانتا۔جبکہ سعودی عرب نے ان پابندیوں کے نتیجہ میں تیل کی مارکیٹ میں پیدا شدہ خلا کو پر کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ایران کے دیرینہ دشمن اسرائیل نے صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کو ویلکم کہا ہے کہ گویا دوست دشمن ایک مرتبہ پھر الگ الگ صفوں میں کھڑے ہو گئے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ خلیج فارس، بحیرہ عرب اور آبنائے ہرمز جو تیل کی تجارت کی اہم ترین گزر گاہ ہے۔میں جنگ کے شعلے بھڑکتے نظر آرہے ہیں۔امریکی منصوبہ یہ ہے کہ ایران کی تیل کی تجارت زیرو پر لا کر اقتصادی دباو ڈالا جائے۔امریکی الزام ہے کہ ایران نے نہ تو اپنا ایٹمی پروگرام رول بیک کیا ہے اور نہ وہ مشرق وسطی میں مسلح گروہوں کی معاونت سے پیچھے ہٹا۔امریکی وزیر خارجہ مائک پومیو کا کہنا کے کہ ہمارا مقصد ایران کو فنڈز سے محروم کرنا ہے تاکہ وہ ایک نارمل ملک کے طور پر خطے میں رہے۔ اس کی پالیسیوں کی وجہ سے مشرق وسطی عدم استحکام کا شکار ہے۔امریکہ کی جانب سے اس اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ کا رجحان پیدا ہوا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کے دورہ ایران سے پہلے اوڑمارہ میں دہشت گردی کا واقعہ ہوا۔ اس سے چند روز پہلے کوئٹہ کی فروٹ منڈی میں ہزارہ کمیونٹی کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ وہ ماحول ہے جس میں وزیر اعظم عمران خان کا پہلا دورہ ایران ہوا۔ اس دورہ کے نتیجہ میں پاکستان اور ایران میں قربتیں پیدا ہوئی ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ کہ طے ہوگیا کہ دونوں ممالک اپنی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہونے دینگے۔ دہشت گردی کے مشترکہ دشمن سے نمٹنے کیلئے جائنٹ بارڈر پٹرولنگ پر اتفاق ہوگیا۔ یہ بھی طے ہوگیا کہ پاک ایران بارڈر پر بھی باڑ لگائی جائے گی۔ علاوہ ازیں پاک ایران سرحد پر امیگریشن کا جدید نظام نصب کیا جائے گا۔ایران نے پاکستان کو تیل، گیس دینے، بجلی کی برآمد بڑھانے اور گوادر چاہ بہار کو آپس میں منسلک کرنے کی پیشکش کی ہے۔ ان تمام پیشکشوں سے فائدہ اٹھا لیا گیا تو دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کی نئی راہیں کھل جایئنگی۔ لیکن اصل چیلنج کچھ اور ہے۔ پاکستان کیلئے چیلنج ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں توازن کیسے پیدا کرنا ہے۔ اور ایران کیلئے چیلنج ہے کہ بھارت اور پاکستان کے ساتھ بیک وقت اچھے تعلقات کو کیسے برقرار رکھنا ہے۔ یہی اصل چیلنج ہے کہ نئی امریکی پابندیوں کے پس منظر میں پاک ایران تعلقات کس سمت میں آگے بڑھتے ہیں۔


ای پیپر