سیاسی یا ٹیکنو کریٹ حکومت
24 اپریل 2019 2019-04-24

وزیر اعظم عمران خان اور تحریک انصاف کے دیگر رہنما یہ کوشش کر رہے ہیں کہ وفاقی کابینہ میں گزشتہ جمعرات کو ہونے والے ردو بدل کو معمول کی کارروائی قرار دے کر اس کی سیاسی اہمیت کو کم کرسکیں۔ مگر گزشتہ کئی دنوں سے یہ معاملہ میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے۔ اس ردو بدل نے دو چیزوں کو بہت واضح کر دیا ہے۔ ایک تو یہ کہ تبدیلی اور نیا پاکستان بنانے کے دعویداروں نے اس حوالے سے محض تقریروں اور نعروں پر اکتفاءکیا اور حکومت کرنے کے حوالے سے اپنا کام مکمل نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ محض 8 ماہ کے بعد وزیر اعظم عمران خان کو اپنی ڈریم ٹیم میں بڑی تبدیلی کرنا پڑی۔

دوسرا یہ واضح ہو گیا ہے کہ ٹیکنو کریٹس کی حکومت قائم کرنے کے لیے کسی غیر آئینی اور غیر جمہوری اقدام اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ کچھ لوگ یہ سوال اٹھایا کرتے تھے کہ آئین کی حدود میں رہ کر دو یا تین سال کے لیے ماہرین کی حکومت کیسے قائم ہوگی تو حالیہ تبدیلیوں نے اس سوال کا جواب دے دیا ہے۔ سویلین حکومت بھی قائم ہے۔ پارلیمنٹ بھی موجود ہے۔ آئین بھی اپنی جگہ قائم ہو گئی ہے۔ ہینگ لگی نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا۔

میرا تو ویسے بھی یہ خیال ہے کہ عمومی طور پر سیاسی حکومتوں کی اصل پالیسیاں مثلاً بجٹ بنانا اور قانون سازی میں زیادہ اہم کردار افسر شاہی کا ہوتا ہے۔ بد قسمتی سے سیاسی جماعتیں اپنے رہنماﺅں کی سیاسی اور انتظامی صلاحیتوں کو نکھارنے اور انہیں حکومت کرنے کے لےے تیار کرنے کے لیے ان کی تربیت کا خاص اہتمام نہیں کرتیں۔ عموماً یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ پارٹی کے لیڈر کو سب پتا ہے وہ سب جانتا ہے لہٰذا جیسے ہی حکومت ملے گی تو وہ ہرکولیس کی طرح ہر معاملہ حل کر دے گا۔ سوچنے اورسمجھنے کا جو عمل اور تیاری حکومت میں آنے سے پہلے کی جانی چاہیے ۔ ہمارے ہاں اس عمل کا آغاز حکومت میں آنے کے بعد ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ وہی نکلتا ہے جو اس وقت ہمارے سامنے ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے اس اوپننگ بیٹسمین کو ناقص کارکردگی پر ہٹا دیا ہے جس کے بارے میں وہ بہت پر امید تھے اور بہت زیادہ توقعات وابستہ کیے ہوئے تھے۔ سابق وزیر خزانہ اسد عمر کی شہرت ایک با صلاحیت اور واضح ویژن رکھنے والے معاشی ماہر کی تھی۔ 8 سال تک چیئر مین تحریک انصاف عمران خان اور تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم نے اسد عمر کو ایسے ماہر معیشت کے طور پر پیش کیا جو کہ نہ صرف پاکستان کے معاشی مسائل کا ادراک رکھتا ہے بلکہ ان کے پاس ان مسائل کو حل کرنے کی پالیسیاں اور پروگرام بھی موجود ہیں۔ مگر 8 ماہ بعد جس طریقے سے اسد عمر کو وزارت سے رخصت کیا گیا تو اس سے نہ صرف وزیر اعظم کے انتخاب پر بلکہ اسد عمر کے پورے امیج کو نقصان پہنچا ہے۔ اگر کارکردگی ہی انہیں ہٹانے کی اصل وجہ ہے تو پھر پنجاب اور KPK کی حکومتون اور کابینہ کی کارکردگی کونسی قابل ستائش ہے مگر وزیر اعظم عمران خان پنجاب اور KPK کی حکومتوں کو اس کسوٹی اور معیار پر نہیں پرکھ رہے جسے اسد عمر کو ہٹانے کا جواز بنایا جا رہا ہے۔

اس وقت سب سے دلچسپ صورت حال یہ حال ہے کہ نیا پاکستان بنانے کے لیے اب عملا ً پرانے

پاکستان کے آزمودہ اور تجربہ کار لوگوں کی خدمات حاصل کر لی گئی ہیں۔ نئے وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ پہلے جنرل ( ر) مشرف کی کابینہ کے وزیر تھے۔ انہی کی سربراہی میں پاکستان میں نج کاری کے سب سے متنازع معاہدے ہوئے۔ جس کی اہم مثال پی ٹی سی ایل کی نج کاری ہے۔ جس کے بقایا جات اب تک اتصالات نے ادا نہیں کیے مگر اس کے با وجود وہ PTCL کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔ جس دن بھی اس ملک میں نج کاری کے پورے عمل کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات ہوئیں تو پھر پتا چلے گا کہ چاری اور ڈالر کسے کہتے ہیں اور وہ کیا گیدڑ سنگھی ہے کہ جس کے تحت چند خاندان محض ایک دہائی میں کروڑوں سے اربوں روپے کے مالک بنتے ہیں ۔ جنرل ( ر) مشرف کے دور میں ڈاکٹر حفیظ شیخ نج کاری کے وزیر تھے۔ وہ اس کے بعد پیپلز پارٹی کے وزیر خزانہ بنے۔ ڈاکٹر حفیظ شیخ روایتی سرمایہ دارانہ پالیسیوں پر یقین رکھنے والے ماہر معیشت ہیں۔ وہ آزاد منڈی اور نیو لبرل ازم کے حامی ہیں اور انہی پالیسیوں کو جاری رکھیں گے۔ اگر تو وزیر اعظم عمران خان یہ سمجھتے ہیں کہ محض اسد عمر کو ہٹانے سے اور ڈاکٹر حفیظ شیخ کو لانے سے پاکستانی معیشت کے مسائل حل ہو جائیں گے اور موجودہ معاشی گراﺅٹ اور بحران ختم ہو جائے گا تو وہ درست نہیں سوچ رہے۔ اگر عمران خان کو پاکستان کے غریب اور محنت کش عوام سے واقعی ہمدردی اور محبت ہے تو بس ایک کام کریں وہ ان تمام معاشی پالیسیوں کو تبدیل کر دیں جو کہ غربت، بے روزگاری اور اشرافیہ کی معیشت پر قابض ہونے کی بڑی وجہ ہیں۔ مگر ایسا نہیں ہو گا۔ کیونکہ ان کی حکومت بھی اشرافیہ کی حکوتم کا ہی تسلسل ہے۔ عمران خان کے وزیر اعظم بننے سے اور حکومت پر تحریک انصاف کے نام کی تختی لگنے سے تو تبدیلی برپا نہیں ہو گی۔ پرانا معاشی، سیاسی اور انتظامی ڈھانچہ پوری آب و تاب سے موجود ہے۔ اس پر توہلکی سی ضرب بھی نہیں لگی۔

یہ ممکن ہے کہ آئی ایم ایف سے اربوں ڈالر ملنے کے بعد معاشی صورت حال تھوڑی بہتر ہو جائے۔ معاشی عدم استحکام قدرے کم ہو جائے۔ کرنٹ اکاﺅنٹ کا بحران وقتی طور پر ٹل جائے۔ کچھ معاشی اعشاریے بھی بہتر ہو جائیں۔ مگر معاشی پالیسیوں اور ڈھانچے میں کوئی تبدیلی برپا نہیں ہو گی ۔ قرض لے کر ملک چلانے کی پالیسی جاری رہے گی ۔ بنیادی اصلاحات متعارف نہیں کروائی جائیں گی ۔ تحریک انصاف والے اس بات پر خوش ہوتے رہیں گے کہ عمران خان وزیر اعظم ہیں اور ملک پر ان کی جماعت کی حکومت ہے مگر اصل میں حکومت اب ماہرین کے ہاتھ میں ہے۔ یہ انقلابی ماہرین نہیں ہیں جو کہ نیا پاکستان بنائیں گے بلکہ یہ تو پرانے پاکستان کے تجربہ کار ماہرین ہیں جو کہ پرانے نظام کو مضبوط کریں گے ۔ معاشی بحران کا تمام تر بوجھ عوام پر منتقل کریں گے ۔ پرانا نظام اپنی جگہ پر موجود ہے اور ہمیں خوش فہمی ہے کہ نیا پاکستان بن رہا ہے۔

کسی بھی طبقاتی سماج میں ماہرین کی غالب اکثریت حکمران طبقات کے مفادات کے لیے کام کرتی ہے۔ ان پر حاوی سوچ اور خیالات بھی حکمران طبقات کے ہی ہوتے ہیں۔ سرمایہ داری نظام اور نو آبادیاتی معاشی ، سماجی اور انتظامی ڈھانچے کو حتمی اور دائمی سچائی سمجھنے والے ماہرین کس طرح موجودہ استحصالی اور جابرانہ نظام کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ یہ ماہرین اپنی تمام تر نیک نیتی ، صلاحیتوں ، علم اور قابلیت کے با وجود اس نظام کے قیدی ہیں۔ بہت کم اعلیٰ سطح کے ماہرین ایسے ہوتے ہیں جو اس قید سے آزاد ہو پاتے ہیں اور جو اس قید سے آزاد ہو جاتے ہیں وہ اس نظام کے لیے قابل قبول نہیں رہتے۔ وہ متبادل پالیسیوں، نظام اور نظریات کی بات کرتے ہیں۔ اس ملک کے عوام نے ماضی میں بھی ان ماہرین کی حکومتیں اور وزارتیں دیکھ رکھی ہیں اور ان کے نتائج سے بھی اچھی طرح آگاہ ہیں۔ ان کی کارکردگی پر تاریخ اپنا فیصلہ سنا چکی ہے۔ مگر اس کے با وجود اگر انہی تجربات کو دہرایا جانا ہے تو نتائج بھی پھر پہلے والے ہی ہوں گے۔

اس ردو بدل سے اتنا تو ضرور ہوا ہے کہ جو لوگ یہ جاہلانہ باتیں کرتے تھے کہ ہم میں جدت اور تخلیق کی صلاحیت نہیں ہیں انہیں اب یقین آ جانا چاہیے کہ ہم میں جدت کی بے پناہ صلاحتیں ہیں۔ ذرا غور فرمائیں کہ کس طرح بغیر آئین کو چھیڑے پالیمنٹ کو تحلیل کیے بغیر اور کسی بھی غیر جمہوری اور غیر آئینی اقدام اٹھائے بغیر ملک میں ماہرین کی حکومت قائم ہو گئی ہے۔ خزانہ سے لے کر داخلہ تک قانون سے لے کر خارجہ تک تمام وزارتیں آزمودہ ، تجربہ کار اور محب وطن ماہرین کے ہاتھوں میں ہیں۔ اگر اب بھی ہماری قسمت تبدیل نہیں ہوتی تو اس میں ماہرین کا کیا قصور ۔ پھر تو ہماری ہی قسمت خراب ہے۔


ای پیپر