پیپلز پارٹی اور مغلیہ سلطنت کے زوال کے اسباب
24 اپریل 2019 2019-04-24

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بھٹو ازم کی اصطلاح مرحوم ذوالفقار علی بھٹو سے منسوب اور ماخوذ ہے۔ بھٹو ازم در حقیقت کیا تھا اس کا صحیح مفہوم تو شاید آج کی پیپلز پارٹی کو بھی پتہ نہ ہو کیونکہ مرحوم بھٹو کے بعد اس پارٹی نے سمجھوتوں کی ایسی ایسی داستانیں رقم کی ہیں کہ عقل حیرن ہو جاتی ہے۔ بھٹو ازم مختصراً عوامی قیادت اور عوامی مقبولیت اور عوامی حکمرانی کی بات تھی جو پایہ تکمیل تک نہ پہنچ پائی مگر تاریخ میں اس کے قدموں کے نشانات باقی رہ گئے۔

پھر تاریخ نے اپنے ارتقا کے سفر میں ایک بار پھر پہلو بدلا اور بھٹو کے دو دہائی کے بعد عمران خان نے Gross Roots سطح سے پاکستان تحریک انصاف کو منظم کرنا شروع کیا عمران خان کو بھٹو کا درجہ حاصل کرنے میں 22 سال لگ گئے مگر اس نے ہمت نہیں ہاری۔ ملک میں جاری دو پارٹی نظام میں ایک تیسری پارٹی کو ایستادہ کرنا آسان نہیں تھا کیونکہ سیاست میں بُت پرستی کے حالات تھے جہاں نظریات سے زیادہ شخصیات کی اہمیت تھی جس نے سیاست میں ایک پورا نظامِ وراثت رائج کر رکھا تھا ۔ بہر حال تاریخ کا عمل ابھی جاری ہے ۔ عمران خان کے سیاسی باب کے بعد جب پاکستان کی تاریخ لکھی جائے گی تو یقینا اس میں ان کا کردار بھٹو سے آگے جا چکا ہو گا۔ آپ عمران خان سے ہزار ہا اختلافات کی اس بطور ایک قوت انکار نہیں کر سکتے یہ حقیقت سے انکار کے مترادف ہو گا۔

اس تمہید کا مقصد پاکستان پیپلز پارٹی کے اس مسلسل اور متواتر پراپیگنڈے پر تبصرہ کرنا ہے جو انہوں نے آج کل عمران خان اور ان کی حکومت کے بارے میں جعلی طریقے سے شروع کر رکھا ہے جس کا لب لباب یہ ہے کہ عمران خان کی کابینہ کے 10 وزراءایسے ہیں جو پیپلز پارٹی سے لیے گئے ہیں۔ پاکستان میں سیاسی پارٹی بدلنے کی روایت بڑی پرانی ہے عوام سیاسی وفاداری بدلنے والے کو پھر بھی منتخب کر لیتے ہیں جس کی وجہ سے اس روایت کا خاتمہ ایک معاشرتی سوال ہے۔ جہاں تک پیپلز پارٹی کے ان سابقہ سیاستدانوں کا تعلق ہے جو آج تحریک انصاف میں ہیں تو پیپلز پارٹی انہین اخلاقی یا اصولی طور پر کیوں اور کیسے own کر رہی ہے۔ جبکہ یہ لوگ پیپلز پارٹی کو اپنی مرضی سے لات مار کر

گئے ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جسے پارٹی نے نکالا ہو۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھٹو ازم کے یہ دلدادہ لوگ آخر بھٹو کی پارٹی کو چھوڑ کر کیوں تحریک انصاف میں شامل ہوئے۔ اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ پارٹی بھٹو کے م¿وقف سے ہٹ چکی تھی اور سمجھوتہ ایکسپریس بنی ہوئی تھی ہر بات پر سمجھوتہ ہر ادارے کے ساتھ سمجھوتہ تاکہ جو چاہے ہو جائے وہ اپنی مدت مکمل کر سکیں۔ بائیں بازو کا جھنڈا لہرانے والی یہ وہ واحد پارٹی ہے جس نے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو ایک سال کی توسیع نہیں بلکہ پورے ایک Tenure کی توسیع دی جو تین سال تھی جنرل مشرف کے ساتھ بدنام زمانہ NRO کیا جو ادھر تم ادھر ہم سے بھی زیادہ شرمناک تھا۔ آج اگر پیپلز پارٹی قومی سطح پر سکڑتے سکڑتے سندھ تک محدود ہوئی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ پارٹی ورکرز جس بھٹو ازم یا عوامی مقبولیت یا عوامی امنگوں کے سحر میں گرفتار تھے وہ اب انہیں عمران خان کی شکل میں تحریک انصاف میں نظر آتا ہے جس کی وجہ سے وہ سب جوق در جوق تحریک انصاف میں شامل ہوتے گئے۔ پیپلز پارٹی کے لیے یہ فخر کی نہین عبرت کی بات ہے کہ ان کے 10 لوگ آج عمران کی کابینہ کے ممبر ہیں۔ یہ تو پارٹی کے لیے شرمناک ہے کہ ان کے اتنے اہم لوگ انہیں چھوڑ کے جا چکے ہیں۔

البتہ پیپلز پارٹی کے دس وزراءوالے دعوے میں ایک بات جھوٹ ہے ان 10 میں وہ حفیظ شیخ کو بھی اپنی سابقہ ملکیت ظاہر کرتے ہیں جو کہ درست نہیں وزیر خزانہ حفیظ شیخ پیپلز پارٹی کے دور میں بھی بطور ٹیکنو کریٹ شامل ہوئے تھے وہ کبھی پیپلز پارٹی کا حصہ نہیں رہے اب بھی ان کی بطور مشیر خزانہ نامزدگی ٹیکنو کریٹ کے طور پر ہوئی ہے۔ ان کی عمر بھر کی وابستگی بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ ہے جس میں ایشیئن ترقیاتی بینک (ADB ) اور ورلڈ بینک شامل ہیں اس طرح IMF کے ساتھ بھی ان کا گہرا تعلق ہے۔

اس بات کا ایک دوسرا اہم پہلو بھی ہے کہ اگر پیپلز پارٹی کے 10 وزراءعمران خان کابینہ میں شامل ہیں تو یہ نقطہ سمجھنا چاہیے کہ وہ وزیر اعظم کے تابع ہیں اور پارٹی ایجنڈا سے باہر جا کر نہیں کھیل سکتے۔ کابینہ میں ہونے والی حالیہ تبدیلیوں میں سب نے دیکھا ہے کہ عمران خان اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرتے اسد عمر کو ملک میں مہنگائی کی وجہ سے فارغ کرتے وقت وزیر اعظم نے ان کی ماضی کی خدمات کو قطعی طور پر بالائے طاق رکھ دیا جس کا مقصد وسیع تر عوامی مفاد کی تکمیل ہے۔ اسی طرح حفیظ شیخ کو لانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کے عالمی اداروں سے ذاتی تعلقات ہیں تاکہ حفیظ شیخ IMF سے ڈیل کرتے وقت ان سے ایسی نرم شرائط پر انہیں قائل کر سکیں جس سے پاکستان Turn Around کی پوزیشن میں آجائے اور یہ پروگرام IMF کا آخری پروگرام ثابت ہو۔ حتمی بات یہ ہے کہ حفیظ شیخ کی کارکردگی کی ذمہ داری بھی وزیر اعظم پر عائد سمجھی جائے گی ۔ کابینہ ویسے بھی اجتماعی ذمہ داری کے اصول پر چلتی ہے جس میں ایک وزیر کی غلطی پوری کابینہ کو اس کی کی ذمہ داری لینی پڑتی ہے کیونکہ یہ حکومت کی غلطی سمجھی جائے گی۔

جیسے جیسے آصف زرداری اور فریال تالپور کا نیب میں بد عنوانی کے مقدمات میں گھیرا تنگ ہو رہا ہے اور نئی تحقیقات سامنے آتی جا رہی ہیں پیپلز پارٹی کی بے چینی اور مشکلات میں اضافے کا لیول بڑھتا جا رہا ہے۔ آصف زردار کی پوری کوشش ہے کہ اگر وہ جیل چلے بھی جائیں تو پارٹی متاثر نہ ہو وہ جانشینی پہلے ہی اپنے بیٹے بلاول زرداری کے حوالے کر چکے ہیں۔ مگر پارک لین کیس میں چونکہ بلاول 25 فیصد کا پارٹنر اور ڈائریکٹر بھی ہے اس لیے اس کیس میں جرم ثابت ہونے پر بلاول کی مشکلات میں ہوشربا اضافہ ہو جائے گا ۔ بلاول کے اندر قیادت کی وہ صلاحیت پیدا نہیں ہو سکی جو بے نظیر بھٹو میں ہوتی تھی اچھا لیڈر بننے کے لیے محض شعلہ بیانی کافی نہیں ہوتی۔

پیپلز پارٹی کے لیے لمحہ فکریہ یہ ہے کہ چوہدری اعتزاز احسن جیسے لوگ گوشہ نشینی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں صرف اس لیے کہ وہ پارٹی قیادت سے اختلاف کا اظہار کر دیتے ہیں۔ پیپلز پارٹی جس بھٹو ازم کو اپنی وراثت سمجھتی تھی وہ اب ان کے پاس نہیں رہا۔ وقت آگے بڑھ گیا ہے۔ جس جگہ آج سے 50 سال پہلے ذوالفقار علی بھٹو کھڑا تھا وہ مقام آج عمران خان کے پاس ہے۔ اس کی وجہ وہی ہے جو تاریخ میں مغلیہ سلطنت کے زوال کے اسباب کے باب میں رقم ہے کہ کمزور اور نا اہل جانشین سلطنت کو نہ سنبھال سکے۔


ای پیپر