حکیم، ڈاکٹر اور سرجن
24 اپریل 2019 2019-04-24

ارتقاءمیں ہی بقا ہے، دوام ہے۔ اچانک رات کی تاریکی چھاتی ہے نہ دن کا اجالا روشن ہوتا ہے۔ شام اور صبح کے دھندلکے ارتقائی مراحل ہیں۔ بچہ سب سے پہلے رونا، پھر ہنسنا مسکرانا آخر میں بولنا سیکھتا ہے۔ پہلے گھٹنوں کے بل گھسٹتا ہے پھر چلتا ہے۔ بیج سے نکلتے ہی پودا شجر نہیں بن جاتا۔ ہر نوع کے ارتقائی مراحل ہوتے ہیں۔ اس سے ہٹ کر جو ہوتا ہے، وہ دھوکا اور سراب ہوتا ہے۔

اسد عمر ناکام ہوا یا ناکام کردیا گیا، یہ طے ہے، عمران خان کا دائیاں بازو کٹ چکا۔ یہ محض بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی کا معاملہ نہیں، ٹیم میں نئے کھلاڑی شامل کئے گئے ہیں، بظاہر لگ رہا ہے چیف سلیکٹر نے کپتان سے زیادہ مشاورت کرنے کی زحمت نہیں کی۔ کیا کپتان نئے اوپنرز اور اسٹرائیک باو¿لرز کو ساتھ لے کر چل پائے گا؟

وزارت داخلہ کے نئے کمان دار کا لب و لہجہ مستقبل قریب میں ایک نہیں کئی سخت فیصلوں کا عندیہ دے رہا ہے، نئے سرجن صاحب کچھ ایسی سرجریز تجویز کر رہے ہیں، جو عموماً ایک ناتواں جمہوری حکومت سہار نہیں پاتی۔ عوام میں تیزی سے غیر مقبول ہوتی حکومت اتنے سخت فیصلوں کے ردعمل سے نمٹ پائے گی، فی الحال تو اس کا امکان نظر نہیں آ رہا، معجزہ ہو جائے تو کچھ کہا نہیں جا سکتا۔

معجزہ کیسے ہوگا؟ ایک ہی صورت ہے، عوام کو معاشی ریلیف دیا جائے وہ بھی فوری۔ اسد عمر کی پالیسیوں اور معاشی امراض کے طریقہ کار کی مثال ایسے ہی ہے جیسے حکمت میں کسی دائمی مرض کا باقاعدہ علاج شروع کرنے سے پہلے حکیم جلاب آور مشروب کے ذریعے مریض کا معدہ صاف کرتے ہیں۔ بندہ کئی روز تک تو چلنے پھرنے کے بھی قابل نہیں رہتا، اس کے بعد علاج شروع ہوتا ہے اور دھیرے دھیرے مریض بھلا چنگا ہو جاتا ہے، مرض جڑ سے ختم کر دیا جاتا ہے۔ لیکن ایسے ہی ایک مریض نے سیانے حکیم سے علاج شروع کرایا، مرض بہت پرانا اور پورے جسم میں پھیل چکا تھا۔ حکیم نے اسے مہینے بھر کے جلاب آور دے کر مہینے بعد آنے کا کہا۔ مہینے بھر میں مریض معدہ صاف کراتے

کراتے سوکھ کر تیلا بن گیا، گرتے پڑتے حکیم کے پاس پہنچا، آگے مرحوم کے سوئم کا ختم چل رہا تھا۔ یوٹرن کے فلسفہ سننے کے بعد قوم ایسے حکیم سے علاج کیلئے کیسے تیار ہوسکتی تھی؟ اب جبکہ حکیم پہلی ڈوز دے کر پرلوک سدھار چکا، ڈاکٹری طریقہ علاج کتنا کارگر ثابت ہوگا، اس بارے بھی ایک روایت موجود ہے۔ ایک گاو¿ں میں کسی کی شادی تھی، مہمانوں کے کھانے کا حساب کتاب ہورہا تھا، نائی نے منہ زبانی حساب لگا کر بتا دیا۔ وہیں ایک پڑھا لکھا ماہر معاشیات بھی موجود تھا، اس نے کاغذ پینسل پکڑی اور مہمانوں کی تعداد کو فی کس نصف کلوگرام کھانے پر ضرب تقسیم جمع تفریق کرکے کل رقم کا ٹھیک ٹھیک تخمینہ بتا دیا، جو نائی کی بتائی گئی رقم سے نصف تھا۔ پڑھے لکھے باو¿ نے میزبانوں کا اچھا خاصا خرچہ کم کردیا۔ نائی تکتا رہ گیا، باو¿ کے فارمولے کے تحت کھانا تیار ہو گیا۔ لیکن عینی شاہدین بتاتے ہیں، باراتیوں کی پہلی کھیپ بھگتانے سے پہلے سارا کھانا ختم ہو چکا تھا، بے چارے میزبانوں نے ہوٹلوں سے دگنے دام پر کھانا خریدا وہ بھی کم پڑا تو گاو¿ں کے گھر گھر سے جو ملا مہمانوں کے سامنے پیش کردیا۔ آخر میں معلوم پڑا، شرمندگی کے دام نکال کر نائی سے دگنا خرچہ ہو چکا۔

ڈاکٹر حفیظ شیخ ایک پڑھے لکھے ماہر معاشیات ہیں، 19 برس قبل مشرف دور کے پہلے سال میں پہلی بار سندھ کے وزیر خزانہ مقرر ہوئے، تین برس بعد 2003ءمیں انہیں وفاقی وزیر برائے نجکاری بنا دیا گیا۔ اسی برس مسلم لیگ ق کی ٹکٹ پر سینیٹر بھی منتخب ہوئے۔ 2006ءمیں مشرف کے دور حکومت سے ایک ڈیڑھ برس قبل پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرکے سندھ سے سینیٹر منتخب ہوگئے۔ کوئی ساڑھے تین برس بعد 2010ءمیں انہیں وفاقی وزیر خزانہ کا قلمدان سونپ دیا گیا، جو انہوں نے تقریباً تین برس سنبھالے رکھا اور پی پی دور حکومت ختم ہونے سے چند ماہ پہلے فروری2013ءمیں عہدے سے مستعفی ہوگئے۔ تین برس بعد 2016ءمیں ان کی سینیٹ کی رکنیت ختم ہوگئی۔ اس کے ٹھیک تین برس بعد اب وہ وفاقی مشیر خزانہ ہیں، جلد ہی سینٹر منتخب ہو کر باقاعدہ وزیر خزانہ بھی بن جائیں گے۔ ملک کے نئے خزانچی کے ٹریک ریکارڈ میں تین برسوں کو بہت اہمیت حاصل ہے جس کے پیش نظر قیاس کیا جا سکتا ہے، انہوں نے جو کارنامہ ہائے سر انجام دینا ہے وہ تین برسوں کے دوران ہی دیں گے۔ کرنے کو ان تین برسوں میں بہت کچھ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ان کے قریبی ذرائع کے مطابق وہ کردار میں جتنے پریکٹیکل ہیں، معاشیات میں اتنے ہی تھیوریٹیکل ہیں۔ زمینی حقائق سے زیادہ مصدقہ فارمولوں اور طے شدہ اصولوں کو مدنظر رکھتے ہیں۔ ویسے تو اس وقت قوم بھی ایلوپیتھک طریقے سے جلد از جلد چلنے پھرنے کے قابل ہونا چاہتی ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے اسٹیرائیڈز کے مضر اثرات بہت بھیانک ہوتے ہیں۔ ایسے وقت میں جب ایک حکیم معدہ صفائی کے نام پر تگڑا قسم کا جلاب آور دے کر خود چل بسا، ایلوپیتھک ادویہ کے سائیڈ افیکٹ کا خطرہ خارج از امکان کیسے ہوسکتا ہے۔

حالات خراب ہیں، سنبھلنے کے راستے مسدود نہیں ہیں، روشندانوں سے تازہ ہوا کے جھونکے آنا بالکل بند نہیں ہوئے۔ ہاں اس نہج سے ملکی معیشت کو سنبھالنا کسی بھی ارسطو کیلئے آسان ہدف نہیں، اک آگ کا دریا ہے اور تیر کر جانا ہے۔ نئے خزانچی کے ساتھ عمران خان کو اسد عمر کی طرح کی انڈر اسٹینڈنگ بنانے میں وقت لگے گا، ابتدائی فیصلے حفیظ شیخ کو اپنے تئیں کرنا ہونگے، اور وہی نئی معاشی پالیسی کی سمت طے کریں گے۔

عوام کے پاس حکومت کا ساتھ دینے کے علاوہ چارہ نہیں، قوم باریاں لینے والوں کو نئی باری دینے سے پہلے تبدیلی سرکار کی انتہا دیکھنا چاہتی ہے۔ سمندر میں تیل کی دریافت یا چاغی میں سونے کی کانوں کے سنہری خوابوں سے کام نہیں چلے گا۔ ایسی افسانوی باتوں سے خوشحالی کے خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتے۔ ناتواں ہاتھ ایسے خزانوں کو سنبھال نہیں پاتے۔ براعظم افریقہ کے قحط زدہ ممالک ایسے خزانوں سے بھرے پڑے ہیں۔ خوشحالی کی دائمی تبدیلی ارتقائی مراحل طے کرنے کا نام ہے۔ رات کی تاریکی چھٹنے کا انتظار کرنا ہوگا، صبح کے اجالے میں منزل کی جانب قدم قدم چلنا ہوگا۔


ای پیپر