بزدار کو ہٹانا آسان نہیں، میثاق معیشت وقت کی اہم ضرورت!
24 اپریل 2019 2019-04-24

دشمن ہمیں معاشی طور پر کمزور کرنے کیلئے ہر طرف سے وار کررہا ہے۔بھارت آئی ایم ایف سے پاکستان کیلئے بیل آو¿ٹ پیکج رکوانے کیلئے سرگرم ہے ۔ اس کے نزدیک یہ رقم دہشت گردی کیلئے استعمال ہوسکتی ہے ۔ سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے کیلئے چانکیہ کے چیلے آئے روز نئی سازشی تھیوریاں گھڑ کر بین الاقوامی رائے عامہ پاکستان کیخلاف ہموار کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ مودی صاحب اپنی انتخابی مہم کے دوران پاکستان کودھمکیاں دے رہے ہیں ۔مگر ہمیں اس سب سے کیا لینا دینا ہمارا قومی کھیل تو ”سیاسی نورا کشتی“ بن چکا ہے ۔ ہم معاشی طورپر کمزور ہوں یا اخلاقی گراوٹ کاشکار ہوں ہم نے ہر صورت حکومتیں گرانے کیلئے محلاتی سازشیں کرنی ہیں ۔ چکری کا چودھری وزیراعلیٰ بنے یا تونسہ کے بزدار اسی منصب پر فائز رہیںجو بھی حکمران ہو گا اس کوموجودہ معاشی بحران سے نبرد آزما ہونا پڑے گا ۔ بہت شور سنا تھا میثاق جمہوریت کامگرپھربھی ہر کوئی ماضی کی کارستانیوں سے سبق نہ سیکھنے پر بضد ہیں۔ کسی کو سمجھ نہیں آرہی کہ موجودہ حالات میں حکومت گرانا آسان ہے مگر چلانا مشکل ۔ہم نے آنکھوں پر پٹیاں باندھی ہوئی ہیں اور سننا ہم چاہتے نہیں۔ ہم ہر صورت اپنی خواہشات کی تکمیل چاہتے ہیں ۔ کبھی صدارتی نظام کی رٹ تو کبھی اِن ہاو¿س تبدیلی کی صدائیں لگانے والے معلو م نہیں احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں جو وہ نوشتہ دیوار نہیں پڑھ رہے ۔ معیشت کی سانسیں اکھڑی ہوئی ہیں لیکن ہم ایک دوسرے کو گلا پھاڑ پھاڑ کر نیچا دکھانے کی کوشش میں مگن ہیں۔ جیب میں ایک روپیہ نہیں مگر گریبا ن کھول کربدمعاشی کرنے کا نشہ پتہ نہیں کیوں چڑھا ہوا ہے ۔ 97ارب ڈالر کے مقروض ملک میں اقتدارکی کھینچا تانی زور وشورسے جاری ہے ۔اس صورتحال میں انہیں کسی دشمن کی ضرورت نہیں یہ خود ہی اپنا بیڑا غرق کرنے کیلئے کافی ہیں ۔

سیاسی بیان بازی کے کھیل میں حالت اتنی خراب ہوچکی ہے کہ دوست ملک چین کو پاکستان کے معاشی معاملات پر بھارت کو جواب دینا پڑا ہے ۔ قرض ہم نے لیناہے ،دنیا کو صفائیاں چین دے رہا ہے کہ اس نے پاکستان کو چھ ارب ڈالر بغیرسودکے دئیے ۔ مودی پاکستان کو معاشی طور پر کمزور کرنے کا بھرے جلسوں میں کریڈٹ لے رہا ہے ۔ چین پھر بھی اسے سی پیک کا حصہ بننے کی آفر کررہا ہے۔ بھارت ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کاحصہ نہ بننے کی مسلسل ضد پر اڑا ہوا ہے ۔ایف اے ٹی ایف کی تلوار الگ سے سرپر لٹکی ہوئی ہے جولائی تک کی تو مہلت مل گئی ہے مگر اس کے بعد کیا ہوگا ۔ حالات جوں کے توں رہے تو یہ بات خارج ازامکان نہیں کہ پاکستان کو نومبرتک گرے سے بلیک لسٹ میں ڈال دیا جائے ۔اب خبر یہ ہے کہ شائد آئی ایم ایف سے معاہدہ تاخیر کا شکار ہوجائے ۔ دنیا کو پاک چین دوستی کھٹکتی ہے ۔ آئی ایم ایف معاہدے سے قبل پاکستان اور چین کے درمیان ہونے والے تمام معاہدوں کی تفصیلات جاننا چاہتا ہے ۔کون نہیں جانتا بین الاقوامی مالیاتی ادارے پر کس کا اثرورسوخ ہے ۔کیوں قرض کی شرائط کو مشکل سے مشکل تر بنایا جارہا ہے ۔کس کے کہنے پریا کس مجبوری کے تحت راتوں رات وزیرخزانہ کو بدل دیا جاتا ہے ۔چین امریکا تجارتی جنگ کا خمیازہ پاکستان کو کیوںبھگتنا پڑرہا ہے ۔ ایک ایسی صورتحال میں جب افغان جنگ اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہے خطے میں امن لوٹ رہا ہے ۔ ایسے میں پرامن پاکستان دنیا کو کیوں قابل قبول نہیں؟ کون بھارت کو چین کے مقابلے میں کھڑا کرنے کی سرتوڑ کوشش کررہا ہے ۔ کون افغانستان میں بھارت کیلئے لابنگ کررہا ہے ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھاہم ان سب سوالوں کا جواب جان کران سے نمٹنے کی حکمت عملی مرتب کررہے ہوتے۔معاشی بحران سے نمٹنے کیلئے سیاسی اختلافات کو بھلا کروقتی طور پر ایک” میثاق معیشت “ کر لیتے ۔ جب معیشت کی سانسیں بحال ہوتیں تو سیاسی جنگ بھی ایک دوسرے سے لڑ لیتے۔ مگرہم سے زیادہ عقلمند بھلا کون ہوگا ہم نے معاشی بحران کو حل کرنے کے بجائے ایک نیا ”کٹا“ کھول لیا ہے ۔ اب ہمارا مسئلہ معاشی نہیں خالصتاً سیاسی ہے ۔ اگلے مالی سال کے بجٹ سے پہلے کابینہ میں اکھاڑ پچھاڑ کرکے ایسی بحث کو جنم دے دیا گیا ہے کہ ا ب ملک کا سب سے بڑا مسئلہ” بزدار یا نثار“ بن کررہ گیا ہے ۔ اس فضول بحث نے ایسی بے یقینی کی فضاءکو جنم دیا جس میں زمینی حقائق کے برعکس افواہوں کا بازارگرم ہے ۔ نثا ر کس طرح وزیراعلیٰ بن سکتے ہیں، کیا وہ تحریک انصاف یا مسلم لیگ ن میں شامل ہورہے ہیں ، کیا نثار نے نواز کو منا لیا ہے ؟کیا نثار مریم کو پارٹی کی سربراہ مان چکے ہیں ؟ کیا مسلم لیگ ن کے پاس حکومت بنانے کیلئے اسمبلی میں مطلوبہ نمبرز ہیں؟ کیانثار تحریک انصاف کی جانب سے وزیراعلیٰ بننے جارہے ہیں؟ کیا 2018ءکے انتخابات کے نتائج نہ ماننے والے نثار نے آٹھ ماہ بعد ان کو من وعن تسلیم کرلیا ہے ؟ اگر ان تمام سوالوںکو جواب ہاں میں ہے تو پھر تو نثار شائد وزیر اعلیٰ بن سکتے ہیں ۔ اگر ان میں سے ایک بھی سوال کا جواب نفی میں ہے تو بھی وہ وزرات اعلیٰ کی مسند پر براجمان نہیں ہوسکتے ۔ اب ا س بحث کو پولیٹیکل انجینئرنگ کے زاویے سے بھی دیکھ لیں ۔ پنجاب اسمبلی کے اس وقت کل ارکان 369ہیں، تحریک انصاف کے 181، مسلم لیگ ن کے 166، مسلم لیگ ق کے 10، پیپلزپارٹی کے 7،پاکستان راہ حق پارٹی کا ایک اور چار ارکان آزاد ہیں۔ اب اگر تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن سے فاروڈ بلاک بنائے جائیں یا پھرمسلم لیگ ق اور پیپلزپارٹی ،مسلم لیگ ن سے مل جائیں تو کوئی صورت نکلتی ہیںلیکن اس الائنس کے بننے سے پہلے ہی چودھری شجاعت نے اس منصوبے پر مٹی ڈال دی ہے ۔فی الوقت ق ،ن سے ملنے کیلئے کسی صورت تیار نہیں۔ جہاں تک بزدار کوہٹانے کی خبریں ہیں تو یہاں بھی تبدیلی کافی مشکل نظرآتی ہے ۔ مسلم لیگ ق بزدار کے حق میں کھڑی نظر آتی ہے ۔ صوبائی پارلیمانی پارٹی نے بھی بزدار کے حق میں ووٹ دے دیا ہے ۔ بز دار جو خود دیکھنے میں ایک کمزور وزیراعلیٰ لگتے ہیں ان کے ہاتھ میں بھی 16ایم پی ایز ہیں جو کسی تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ اگر وسیم اکرم پلس کو ٹیم سے باہر نکالنا پڑا تو کپتان کو باہمی مشاورت سے یہ فیصلہ لینا پڑے گا ورنہ کمزور آکڑے آڑے آجائیں گے۔ اب اگر زمینی حقائق کے برعکس اسمبلی می کوئی مصنوعی تبدیلی لائی جاتی ہے تو وہ بزور بندو ق ہی ممکن ہے۔ یہ سوال بھی بڑا اہم ہوگا کہ بزدار کی جگہ جو آئے گا کیا وہ معاشی بحران سے نمٹ پائے گا اس بات کی کیا گارنٹی ہے ۔ مندرجہ بالا حقائق جاننے کے بعد ہمیں اس لاحاصل بحث کویہیں ختم کرنا ہوگا ،اس وقت ملک کا مسئلہ بزداریا نثار نہیں اور نہ ہی پارلیمانی یا صدارتی نظام ۔ موجوہ حالات میں معاشی بحران ہی ملک کا سب سے بڑامسئلہ ہے اور اس بحران سے نکلنے کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کومیثاق معیشت “کرنا ہوگا۔ جب معیشت سنبھل جائے تو سیاست جیسے چاہیں کریں۔


ای پیپر