24 اپریل 2019 2019-04-24

عمران خان آپ نے مشیروں سے ہی اپنی وزارتیں چلانی ہیں تو کم ازکم ہرشعبے کے بہترین افراد کو ساتھ رکھیں جن کا ماضی ”بے داغ“ ہو۔ لگتا ہے کہ آپ تو اخبار بھی نہ پڑھتے ہوں گے سو آپ تک آواز جانہیں سکتی۔ لکھنے والے ”علامتی انداز“ میں طنزکرنے لگے ہیں کہ آپ نے محکمہ اطلاعات میں فردوس اعوان کو لگادیاہے، ان کا کیا تجربہ ہے؟ انہوں نے شاید ہی کبھی کوئی مکمل اخبار بھی پڑھا ہو۔ لوگ ”پھبتیاں“ کس رہے ہیں، جگتیں لگارہے ہیں ، ہمیں تو یہ بھی توقع ہے کہ محترمہ ان طنزیہ کالموں کو بھی ”دادتحسین“ سمجھ رہی ہوں گی۔ فردوس اعوان کو ان کے شعبے کے مطابق کوئی وزارت ملتی تو ہمیں اس پہ کوئی اعتراض نہ تھا، خیر ہمارے اعتراض سے کیا ہوسکتا ہے۔ اس سے تو اچھا تھا آپ اخبار نویسوں میں سے کوئی سینئر اور تجربہ کار شخصیت منتخب کرلیتے۔ یہ اطلاعات کا محکمہ تو حکومت کی آنکھیں اور کان ہوتے ہیں اگر حکومت سننے اور دیکھنے سے محروم ہوجائے تو یہی حال ہوتا ہے جو ان دنوں آپ کی حکومت کا ہے۔ قصور آپ کا نہیں ہے وقت سے پہلے بڑھکیں لگانے سے ”کرپٹ مافیا“ چوکنا ہوکر آپ کے خلاف آغازہی سے متحد ہوچکا ہے۔ اوپر سے خالی خزانے کے سبب آپ نے بہت سے اداروں اور شعبوں کی ”منتھلیاں“ بند کردی ہیں اب ہرطرف ”ناکامیوں“ کے راگ الاپے جارہے ہیں مزے کی بات یہ ہے کہ آپ تک یہ آوازیں بہت دیر بعد پہنچتی ہیں ۔ پولیو مہم کا آغاز ہوتے ہی ذرا سی غفلت سازش سے ایک ہنگامہ بپا ہے۔ آپ جب تک ایکشن لیں گے، میڈیا کا شور آسمان کو چُھورہا ہوگا۔ آپ کی ٹیم کے اپنے لوگ ”حرص وہوس“ میں ”نکونک“ ڈوبے ہوئے ہیں وہ آپ کی عوام دوست پالیسیوں کو کیا کریں؟ وہ تو روایتی انداز میں حکومت کرنے آئے ہیں۔ اگر آپ کی ٹیم میں نیچے تک آپ سادرددل رکھنے والا کوئی ہوتا تو غفلت سازش کے مرتکب افراد کو الٹا لٹکا دیتا ۔ یہ دورفی الفور انصاف کرنے کا تقاضاکرتا ہے کہ اوپرتحریک انصاف کی حکومت مگراپنی آنکھیں اور کان نہ ہوں اور ہاتھ ”کرپشن“ سے فارغ نہ ہوں تو کون ”انصاف“ کرے گا۔ آپ تو خارجی معاملات میں الجھے ہوئے ہیں۔ داخلی معاملات میں آپ کے قریبی ساتھیوں کو گلہ ہے کہ آپ نے وزارت کا وعدہ وفا نہ کیا۔ اب گورنر پنجاب چودھری سرور فرمارہے ہیں کہ”اگر سارے کام جہانگیر ترین نے کرنے ہیں تو ہم ”آلو چنے“ بیچنے آئے ہیں، کیا یہ آواز بھی آپ تک پہنچی؟

آپ پانچ سال کی بات کرتے ہیں ۔ آپ کو تو سال بھر میں ”ناکام “ کرنے کی ”سبیلیں “ عوام پر ظاہر ہورہی ہیں۔ آپ نے تو کئی اداروں کے سربراہ تک تبدیل نہیں کیے۔ بیوروکریسی بھی بُرا کررہی ہے مگر آپ کرکیا رہے ہیں ؟؟یہ عام آدمی کے سولات ہیں۔ جس کا جینا دوبھر ہوچکا ہے۔ چودھری فواد کا متبادل فردوس عاشق اعوان کیسے ہوسکتی ہیں؟۔ محترمہ کو خواتین کی وزارت میں ذمہ داری ملنی چاہیے تھی، وہ بلاشبہ پی ٹی آئی کی ایک دبنگ رہنما ہیں مگر اتنا زیادہ بوجھ ان پر ڈال کر +خودفردوس صاحبہ پر ستم سے کم نہیں۔ حفیظ شیخ بھی اسد عمر کا نعم البدل نہیں۔ آپ کے فیصلوں سے کوئی اچھا نتیجہ نہیں نکلنے والا۔ اپنے اندر سے آپ اپنے بے لوث محبت کرنے والے کارکن تلاش کریں جو عمران کو کامیاب دیکھنے کی آرزو رکھتے ہیں۔ کچھ اور نہیں تو دوچار مراد سعید ہی تلاش کرلیں۔ چُوری کھانے والے مجنوں تو آپ کے اردگرد بہت ہیں۔ ہم تو یہ کہیں گے اپنے عزیزوں میں سے حفیظ اللہ جیسے دوست اور بھائی کو ساتھ رکھیں ۔ اناﺅں کو بالائے طاق رکھ کے اس قوم کا کچھ سوچیں۔ حفیظ اللہ کم ازکم آپ کو کوئی غلط مشورہ نہیں دیں گے۔ یہ وزارت اطلاعات کی مشاورت تو حفیظ اللہ خاں نیازی سے کرلیتے ممکن ہے کوئی بہتر فیصلہ سامنے آتا۔ کرپشن کے عادی مجرم سخت اور فوری سزا کے بغیر درست نہیں ہوں گے ۔ جہاں جہاں کوئی کرپٹ نظر آئے اسے فوری سزا دی جائے بلکہ دوسروں کے لے عبرت کا نشان بنادیا جائے۔ چند کرپٹ اور سازشی عناصر کو عبرت بنانے سے بہت سے لوگ خود ہی ٹھیک ہو جائیں گے۔ فی الوقت اوپر سے نیچے تک ”عام آدمی“ بھی اپنی اپنی توفیق کے مطابق کرپشن میں مبتلا ہے۔ کتنے ہی لوگ پکڑے جارہے ہیں مگر سزا ابھی تک کسی کو نہیں ملی۔ بہت سے مافیا کے ڈان تو رہا ہورہے ہیں۔ اپنی صفوں کے ڈاکو چوروں پر بھی نگاہ رکھیں۔ آپ کے بھی بہت سے ساتھی روایتی حکومت کرنے آئے ہیں یعنی ”مال بناﺅ سکیم“ ہی ان کا ”اول آخر“ ارادہ ہے، آپ مال نہ بنائیں مگر یہ جنہوں نے آپ کے لیے اتنا خرچا کیا ہے اور آپ کا ”چرچا“ کیا ہے اب یہ کیسے مال بنائے بغیر رہ سکتے ہیں؟ آپ ہیں کہ پرانے ”شکاریوں“ کو آزمانے میں لگے ہیں، اپنی ٹیم میں نیچے سے کارکنوں کو اوپرلائیں ان پر ذمہ داری ڈالیں جو آپ کے نظری¿ے سے بھی محبت کرتے ہیں۔ ورنہ ملکوکا مشہور گانا گنگناتے پھرو گے۔

رُل تے گئے آں پر چَس بڑی آئی ہے

یعنی برباد تو ہوئے ہیں مگر لطف بہت آیا ہے۔

”رُل تے گئے آں پر چَس بڑی آئی اے“

عمران خان آپ نے مشیروں سے ہی اپنی وزارتیں چلانی ہیں تو کم ازکم ہرشعبے کے بہترین افراد کو ساتھ رکھیں جن کا ماضی ”بے داغ“ ہو۔ لگتا ہے کہ آپ تو اخبار بھی نہ پڑھتے ہوں گے سو آپ تک آواز جانہیں سکتی۔ لکھنے والے ”علامتی انداز“ میں طنزکرنے لگے ہیں کہ آپ نے محکمہ اطلاعات میں فردوس اعوان کو لگادیاہے، ان کا کیا تجربہ ہے؟ انہوں نے شاید ہی کبھی کوئی مکمل اخبار بھی پڑھا ہو۔ لوگ ”پھبتیاں“ کس رہے ہیں، جگتیں لگارہے ہیں ، ہمیں تو یہ بھی توقع ہے کہ محترمہ ان طنزیہ کالموں کو بھی ”دادتحسین“ سمجھ رہی ہوں گی۔ فردوس اعوان کو ان کے شعبے کے مطابق کوئی وزارت ملتی تو ہمیں اس پہ کوئی اعتراض نہ تھا، خیر ہمارے اعتراض سے کیا ہوسکتا ہے۔ اس سے تو اچھا تھا آپ اخبار نویسوں میں سے کوئی سینئر اور تجربہ کار شخصیت منتخب کرلیتے۔ یہ اطلاعات کا محکمہ تو حکومت کی آنکھیں اور کان ہوتے ہیں اگر حکومت سننے اور دیکھنے سے محروم ہوجائے تو یہی حال ہوتا ہے جو ان دنوں آپ کی حکومت کا ہے۔ قصور آپ کا نہیں ہے وقت سے پہلے بڑھکیں لگانے سے ”کرپٹ مافیا“ چوکنا ہوکر آپ کے خلاف آغازہی سے متحد ہوچکا ہے۔ اوپر سے خالی خزانے کے سبب آپ نے بہت سے اداروں اور شعبوں کی ”منتھلیاں“ بند کردی ہیں اب ہرطرف ”ناکامیوں“ کے راگ الاپے جارہے ہیں مزے کی بات یہ ہے کہ آپ تک یہ آوازیں بہت دیر بعد پہنچتی ہیں ۔ پولیو مہم کا آغاز ہوتے ہی ذرا سی غفلت سازش سے ایک ہنگامہ بپا ہے۔ آپ جب تک ایکشن لیں گے، میڈیا کا شور آسمان کو چُھورہا ہوگا۔ آپ کی ٹیم کے اپنے لوگ ”حرص وہوس“ میں ”نکونک“ ڈوبے ہوئے ہیں وہ آپ کی عوام دوست پالیسیوں کو کیا کریں؟ وہ تو روایتی انداز میں حکومت کرنے آئے ہیں۔ اگر آپ کی ٹیم میں نیچے تک آپ سادرددل رکھنے والا کوئی ہوتا تو غفلت سازش کے مرتکب افراد کو الٹا لٹکا دیتا ۔ یہ دورفی الفور انصاف کرنے کا تقاضاکرتا ہے کہ اوپرتحریک انصاف کی حکومت مگراپنی آنکھیں اور کان نہ ہوں اور ہاتھ ”کرپشن“ سے فارغ نہ ہوں تو کون ”انصاف“ کرے گا۔ آپ تو خارجی معاملات میں الجھے ہوئے ہیں۔ داخلی معاملات میں آپ کے قریبی ساتھیوں کو گلہ ہے کہ آپ نے وزارت کا وعدہ وفا نہ کیا۔ اب گورنر پنجاب چودھری سرور فرمارہے ہیں کہ”اگر سارے کام جہانگیر ترین نے کرنے ہیں تو ہم ”آلو چنے“ بیچنے آئے ہیں، کیا یہ آواز بھی آپ تک پہنچی؟

آپ پانچ سال کی بات کرتے ہیں ۔ آپ کو تو سال بھر میں ”ناکام “ کرنے کی ”سبیلیں “ عوام پر ظاہر ہورہی ہیں۔ آپ نے تو کئی اداروں کے سربراہ تک تبدیل نہیں کیے۔ بیوروکریسی بھی بُرا کررہی ہے مگر آپ کرکیا رہے ہیں ؟؟یہ عام آدمی کے سولات ہیں۔ جس کا جینا دوبھر ہوچکا ہے۔ چودھری فواد کا متبادل فردوس عاشق اعوان کیسے ہوسکتی ہیں؟۔ محترمہ کو خواتین کی وزارت میں ذمہ داری ملنی چاہیے تھی، وہ بلاشبہ پی ٹی آئی کی ایک دبنگ رہنما ہیں مگر اتنا زیادہ بوجھ ان پر ڈال کر +خودفردوس صاحبہ پر ستم سے کم نہیں۔ حفیظ شیخ بھی اسد عمر کا نعم البدل نہیں۔ آپ کے فیصلوں سے کوئی اچھا نتیجہ نہیں نکلنے والا۔ اپنے اندر سے آپ اپنے بے لوث محبت کرنے والے کارکن تلاش کریں جو عمران کو کامیاب دیکھنے کی آرزو رکھتے ہیں۔ کچھ اور نہیں تو دوچار مراد سعید ہی تلاش کرلیں۔ چُوری کھانے والے مجنوں تو آپ کے اردگرد بہت ہیں۔ ہم تو یہ کہیں گے اپنے عزیزوں میں سے حفیظ اللہ جیسے دوست اور بھائی کو ساتھ رکھیں ۔ اناﺅں کو بالائے طاق رکھ کے اس قوم کا کچھ سوچیں۔ حفیظ اللہ کم ازکم آپ کو کوئی غلط مشورہ نہیں دیں گے۔ یہ وزارت اطلاعات کی مشاورت تو حفیظ اللہ خاں نیازی سے کرلیتے ممکن ہے کوئی بہتر فیصلہ سامنے آتا۔ کرپشن کے عادی مجرم سخت اور فوری سزا کے بغیر درست نہیں ہوں گے ۔ جہاں جہاں کوئی کرپٹ نظر آئے اسے فوری سزا دی جائے بلکہ دوسروں کے لے عبرت کا نشان بنادیا جائے۔ چند کرپٹ اور سازشی عناصر کو عبرت بنانے سے بہت سے لوگ خود ہی ٹھیک ہو جائیں گے۔ فی الوقت اوپر سے نیچے تک ”عام آدمی“ بھی اپنی اپنی توفیق کے مطابق کرپشن میں مبتلا ہے۔ کتنے ہی لوگ پکڑے جارہے ہیں مگر سزا ابھی تک کسی کو نہیں ملی۔ بہت سے مافیا کے ڈان تو رہا ہورہے ہیں۔ اپنی صفوں کے ڈاکو چوروں پر بھی نگاہ رکھیں۔ آپ کے بھی بہت سے ساتھی روایتی حکومت کرنے آئے ہیں یعنی ”مال بناﺅ سکیم“ ہی ان کا ”اول آخر“ ارادہ ہے، آپ مال نہ بنائیں مگر یہ جنہوں نے آپ کے لیے اتنا خرچا کیا ہے اور آپ کا ”چرچا“ کیا ہے اب یہ کیسے مال بنائے بغیر رہ سکتے ہیں؟ آپ ہیں کہ پرانے ”شکاریوں“ کو آزمانے میں لگے ہیں، اپنی ٹیم میں نیچے سے کارکنوں کو اوپرلائیں ان پر ذمہ داری ڈالیں جو آپ کے نظری¿ے سے بھی محبت کرتے ہیں۔ ورنہ ملکوکا مشہور گانا گنگناتے پھرو گے۔

رُل تے گئے آں پر چَس بڑی آئی ہے

یعنی برباد تو ہوئے ہیں مگر لطف بہت آیا ہے۔


ای پیپر