File Photo

تیسری عالمی جنگ یا مسلم مخالف محاذ؟
24 اپریل 2018 (23:28) 2018-04-24

امتیاز کاظم:سرونسٹن چرچل، جوزف سٹالن اور روزویلٹ، بالترتیب برطانیہ، روس اور امریکہ کے صدور جب 1945ءمیں کریمیا کے شہر ”یالٹا“ میں سربراہی کانفرنس میں ملے تو روس اپنے مخصوص نقطہ¿ نظر اور دباﺅ سے مغربی سامراجیوں سے دُنیا کی معاشی اثرورسوخ کی منڈی میں اپنا حصہ وصول کرنے میں کامیاب ہوگیا۔

بالشویک انقلاب 1917ءکے حامی ولاڈیمیر لینن سے قدرے مختلف نقطہ¿ نظر رکھنے والے جوزف سٹالن اُس وقت متحدہ روس یعنی سوویت یونین کی بڑی معیشت رکھتے تھے، ایک منصوبہ اور ایک نظریہ کام کررہا تھا لیکن اب 2018ءکا روس مختلف نظر آتا ہے جو کہ بکھرا ہوا اور چھوٹی معیشت والا ملک بن چکا ہے کیونکہ اب اس کی معیشت کینیڈا اور جنوبی کوریا سے بھی چھوٹی ہے۔ صنعت اور معیشت کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ جس وقت ہماری یہ دُنیا بائی پول (امریکہ اور روس) سے گزر رہی تھی اُس وقت روس صنعتی اور معاشی اعتبار سے دوسری بڑی طاقت تھا، اب بکھرے ہوئے روس کی وسط ایشیائی ریاستوں کا جھکاﺅ روس کی بجائے چین کی طرف زیادہ ہے مثلاً اُزبکستان سے نکلنے والی گیس کا چین سب سے بڑا خریدار ہے۔ روس کے پاس بھی گیس ہے اور روس کا معیشت کا دارومدار 80 فیصد سے زائد تیل اور گیس پر ہے بلکہ زیادہ تیل پر ہے جب کہ تیل کی عالمی قیمتیں اب شاید اس دور میں واپس نہ جاسکیں جہاں روس اور سعودیہ جیسے ملک تیل پر مکمل انحصار کرسکیں۔ تیل کی قیمتیں کم کرنے میں امریکہ سمیت مغربی ممالک نے اہم کردار ادا کیا ہے یعنی تیل پر انحصار کا معاشی جھٹکا سرد جنگ کا ایک پہلو ہے، آیئے! اب دوسرے فیکٹرکا جائزہ لیتے ہیں۔


گزشتہ دنوں 25 مغربی اتحادی ممالک نے ڈیڑھ سو سے زائد روسی سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دے کر سفارت کاری کو بڑے تصادم کی راہ پر ڈال دیا ۔ ظاہری طور پر وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ روسی جاسوسی ”سرگئی سکریپال“ اور اس کی بیٹی پر نسلوں کو مفلوج کرنے والی گیس سے کیمیائی حملہ کیا گیا ہے اور اس کا الزام مغربی ممالک نے روس پر لگایا ہے، میں وضاحت کرتا چلوں کہ دراصل سرگئی روسی خفیہ ایجنسی ”ایف ایس بی“ کا ایجنٹ تھا جو یورپ میں تعینات تھا لیکن دسمبر 2004ءمیں اسے گرفتار کرلیا گیا۔ الزام یہ لگا کہ سرگئی یورپ میں روس کے ایجنٹوں کی مخبری کرتا تھا اور معلومات مغربی ایجنسیوں کو فراہم کرتا تھا۔ سرگئی کوگرفتارکرکے تیرہ سال قید کی سزا سنائی گئی لیکن چھ سال بعد ہی یعنی 2010ءمیں مغربی ممالک اور روس کے درمیان جاسوسوں کے تبادلے کے معاہدے کے نتیجے میں سرگئی کو برطانیہ جانے دیا گیا جہاں وہ اپنی بیٹی کے ساتھ برطانیہ کے ایک نواحی قصبے ”سالس بری/ سالزبری“ میں رہائش پذیر تھا ۔ ڈیڑھ سو سے زائد روسی سفارتکاروں کی بے دخلی پر روس کا شدید احتجاج سامنے آیا اور اُس نے بھی مغربی ممالک کے متعدد سفارتکار بے دخل کردیئے یوں عالمی سطح پر تناﺅ سے بھرپور وہ وقت آن پہنچا ہے جہاں اندر ہی اندر ایک دوسرے کو چٹکیاں کاٹی جاتی ہیں اور تناﺅکی اس بھٹی میں گرماگرم بیانات اور اشتعال انگیز بیانات کا ایندھن ڈال کر اسے بھڑکایا جاتا ہے، اب سردجنگ کی وجہ بننے والے تیسرے فیکٹرکا جائزہ لیتے ہیں۔


چینی اوبور (OBOR) ”One Belt One Road“ کے آغاز کو تقریباً 4 سال ہوچکے ہیں اور روس کے کریمیا پر کنٹرول کو بھی 4 سال ہوچکے ہیں۔ چین اور روس کا تعاون بھی دُنیا بڑی عمیق نظروں سے دیکھ رہی ہے جہاں پاکستان کا کردار بھی ڈھکاچھپا نہیں ہے۔ یوکرائن کے علاوہ 2008ءمیں جارجیا میں روس نے عسکری مداخلت کی۔ 2014ءمیں کریمیا اور مشرقی یوکرائن پر قبضہ، ایران کی مکمل حمایت، شام میں عسکری مداخلت اور بشارالاسد کی بھرپور حمایت اور مدد روس کی اندرونی سوچ کو عیاں کرتا ہوا یہ تمام منظرنامہ روس کو ایک دفعہ پھر عالمی کردار کی طرف لے جا رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک بھی اب اپنی سوچ بدلتے نظر آتے ہیں۔ سعودیہ کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو اپنے حصص چین، روس کو فروخت کرتی نظر آتی ہے۔ سعودیہ روس سے ہتھیار خرید رہا ہے جب کہ روس کا سستا ترین عسکری پیکیج شام میں روسی اڈا امریکیوں اور یورپی اتحادیوں کو زچ کےے ہوئے ہے جس پر ٹرمپ اب جارحانہ پالیسی اپناتے ہوئے اپنی فوج کو ریڈالرٹ کر رہا ہے۔ جب کہ دوسری طرف روس بھی جارحانہ پالیسی پرگامزن ہے۔ سردجنگ نظر نہیں آتی لیکن ہو رہی ہوتی ہے۔ اس سرد جنگ کا ایک پہلو افغان جنگ اور افغان وار لارڈز سے تعاون بھی ہے۔ آیئے اس رُخ سے بھی جائزہ لیتے ہیں۔ نائٹ ویژن گوگلز یعنی اندھیرے میں دیکھنے کے قابل بنانے والی عینکیں اب طالبان کے ہاتھ لگ چکی ہیں جن کو پہن کر وہ افغان سکیورٹی فورسز پر حملے کررہے ہیں اور کامیاب حملے کررہے ہیں۔ یہ مہنگی ترین گوگلز کہاں سے آئیں، جدید ہتھیاروں اور جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی اتحادیوں کو پریشان کرنے کے لےے کافی ہیں۔ ان کے بارے میں شک کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ یہ ہتھیار روس فراہم کر رہا ہے یا پھر بلیک مارکیٹ سے خریدے جا رہے ہیں لیکن یہ بہت مہنگی ہیں جب کہ تیسرا شک یہ ہے کہ یہ اتحادیوں کی چوری کی گئی ہیں۔ ان آلات کی مدد سے طالبان اندھیرے میں چھپ کر ہیلی کاپٹرز کے گھومتے ہوئے پَروں کو نشانہ بنا کر تباہ کردیتے ہیں۔ امریکی فوجیوں کی رائفلوں پر نصب انفراریڈریزکو دیکھ کر صحیح نشانہ لگا کر اُن کی موت کا سامان کر رہے ہیں۔ ایسی عسکری امدادکی فراہمی دراصل سرد جنگ لڑنے کے مترادف ہوتی ہے۔ اسی طرح کی جنگ امریکہ نے روسی قبضے پر افغانستان میں روس پر مسلط کی تھی۔ پوست کی کاشت اور منشیات کی امریکی سی آئی اے کی نگرانی میں نقل وحمل بھی سرد جنگ کا ایک انداز ہے اور وارلارڈز کو نقد رقم کی فراہمی بھی اسی ضمن میں آتی ہے۔ سرد جنگ میں ایک کردار سعودی عرب بھی ادا کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ ایک جھلک اس کی بھی دیکھ لیتے ہیں۔


واشنگٹن پوسٹ کو شہزادہ محمد بن سلمان سوال جواب نُما انٹرویو میں اظہار خیال کر رہے ہیں کہ ”سردجنگ کے دنوں میں مغرب کے کہنے پر سعودی عرب نے تبلیغ اسلام کی مہم تیزکردی تاکہ مسلم دُنیا میں سوویت یونین کے پھیلتے ہوئے اثرات کا ازالہ کیا جا سکے اور اس مقصد کے لےے مدرسے اور مسجدیں تعمیرکی گئیں، اُن کی فنڈنگ کی گئی اور ایک سخت گیر تعبیردین کو فروغ دیا گیا جس کے لےے ”وہابی ازم“ کی اصطلاح کو استعمال کیا گیا“۔ اب شہزادہ سلمان اپنے ویژن 2030ءکے پروگرام کے تحت اس ٹرم سے اجتناب کرتے ہوئے خود کو ”موڈریٹ اسلام .... ماڈرن اسلام“ کا نمائندہ ظاہرکر رہے ہیں یعنی مغرب اور امریکہ نے اسلام کو بھی بطورسرد جنگ کے ہتھیارکے طور پر استعمال کیا حالانکہ حقیقی مسلمان اور اسلامی حقیقی روح سے قتل وغارت گری کا کوئی تعلق نہیں اور اسلام قطعاً کسی مذہب یا فرقے کی دل آزادی نہیں چاہتا، یہ رواداری کا مذہب ہے اور ”مہذب مذہب ہے“۔ اس کا امریکی سرمایہ داری یا روسی اشتراکیت کے نظام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ یونی پول یا ڈائی پول سے بھی ہٹ کر ہے اور واحدانیت کا درس دیتا ہے لہٰذا سرد جنگ کی کسی سازش کا حصہ حقیقی اسلام نہیں بن سکتا لیکن شہزادہ سلمان کے اس اقرار نے جس میں سعودی اور اسلامی تحریکوں کی قربت کا اظہار ہے،کے بعد روس اور دُنیا کے لےے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے جب کہ ایسا ہی لیبل شیعہ.... سُنی تحریکوں پر بھی لگایا جاتا ہے مثلاً پاکستان اور مشرق وسطیٰ کی اسلامی اور اشتراکی تحریکیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے رہیں۔ ماضی میں معرکے جمال عبدالناصر روس کی اشتراکیت کے قریب رہے جب کہ اخوان المسلمین اور جمال ایک دوسرے سے متصادم رہے۔

شام کے حافظ الاسد اور بشارالاسد آج بھی روس اور ایران سے قریب ہیں اور اخوان المسلمین کے خلاف جب کہ صدام بھی اشتراکی مانے گئے، یوں حافظ، بشار اور صدام بعث پارٹی سے تعلق رکھنے والے اشتراکی روسی کہلائے یعنی سابقہ سرد جنگ اسلامی نظریاتی جنگ بمقابلہ اشتراکیت سمجھ میں آتی ہے جس میں سرمایہ دارانہ نظام یا امریکہ نظر نہیں آتا لیکن اس نے سرد جنگ کے دور میں اپنے مفادات کے لےے اسلام کو استعمال کیا جب کہ آج پھر ہمیں وہی گروہی اور مذہبی رنگ میں رنگی ہوئی سیاست کو دیکھنے کا موقع مل رہا ہے جس میں روس پھر سے سرگرم کردار ادا کرنے کے لےے پَر تول رہا ہے جب کہ چین دُنیاکو معاشی میدان میں مات دینے کے لےے تیار بیٹھا ہے تو دوسری طرف امریکہ کا عالمی اثرورسوخ دن بدن کم ہوتا جا رہا ہے۔ یورپ ویسے ہی جمودکا شکار ہے۔

امریکہ چین سے معاشی طور پرخفا نظر آتا ہے تو دوسری طرف امریکہ کو شمالی کوریا کی دھمکیاں اور ٹرمپ کی ایران کو ایٹمی ڈیل ختم کرنے کی دھمکی۔ جنوبی ایشیا میں بھارت کو اہم کردار ادا کرنے کے لےے تیارکرنا افغان ایشو کو کسی حل کی طرف نہ لے جانا روس کا نئے نئے ایٹمی ہتھیاروں کا تجربہ شام پر بعض اتحادیوں کی مخالفت کے باوجود ٹرمپ کا حملے کا احمقانہ فیصلہ جب کہ روسی اڈا وہاں پہلے ہی موجود ہے، کیا ایسے میں روس، چین، شمالی کوریا، ایران، افغانستان اور کسی حد تک پاکستان اور بعض اتحادیوں کی مخالفت اور امریکہ کا کم ہوتا عالمی اثرورسوخ کہیں دُنیا کو سردجنگ سے نکال کر تیسری عالمی جنگ کی طرف تو نہیں دھکیل رہا؟


ای پیپر