File Photo

پختونوں کی محافظ یا نیا قومی خطرہ؟
24 اپریل 2018 (23:20)

”پشتون تحفظ موومنٹ “
جب تک فوج اور قوم اس کے پیچھے کھڑی ہے پاکستان کوکچھ نہیں ہو سکتا:آرمی چیف


حافظ طارق عزیز:گزشتہ دنوں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے راولپنڈی میں فوج کے جنرل ہیڈکوارٹرز میں فوجی اعزازات تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کیا۔ خطاب میں جنرل باجوہ نے جہاں شہدائے وطن کو خراج عقیدت پیش کیا وہیں انہوں نے فکرمند ہونے کے انداز میں کہا کہ ”ابھی آپ دیکھیں کہ کچھ ہی عرصہ ہوا ہے کہ فاٹا میں امن آیا ہے لوگوں نے ایک اور تحریک شروع کردی ہے۔ باہراوراندر سے جوکچھ لوگ پاکستان کی سا لمیت کے در پہ ہیں۔ ہم ان کو بتانا چاہتے ہیں کہ جب تک یہ فوج اوراس کے پیچھے قوم کھڑی ہے پاکستان کوکچھ نہیں ہو سکتا۔“آرمی چیف کا یہ بیان قابل غور اس لیے ہے کہ اُن کا اشارہ ”پشتون تحفظ موومنٹ“ کی طرف تھا۔ حال ہی میں جنم لینے والی اس تحریک کا سیاق و سباق کیا ہے اس حوالے سے تو ہم بعد میں ذکرکریں گے لیکن یہاں یہ امردیکھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان میں امن قائم ہو، یہاں معاشی ترقی، سیاسی استحکام اور باہمی بھائی چارے کا بول بالاہو.... یہ دشمن کوکیسے گوارا ہو سکتا ہے۔ اسی لئے وہ پاکستان کے اندر دھرتی کے دشمنوں اور غداروں میں اضافہ کرنے کی ٹھان لیتا اوراس پر عمل کرنا شروع کردیتا ہے۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ ایسے مذموم مقاصدکے لیے ہمارا سب سے بڑا دشمن بھارت پیش پیش ہے جو پاکستان میں عدم استحکام پیداکرنے کے لئے پانی کی طرح پیسہ بہاتا ہے۔ وہ بھارت جو پاکستان کے دریاﺅں پر قبضہ جماکر یہاں کی لہلاتی زمینوں کو بنجرکرنے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ جو امریکا واسرائیل سے کھربوں ڈالرکا اسلحہ پاکستان کوکمزورکرنے کی شرط پر خریدتا ہے۔ جس کے بدلے میں امریکا و اسرائیل بھی بھارت کی ہاں میں ہاں ملاتے نہیں تھکتے۔ امریکی بل بوتے پر افغانستان میں بھی بھارت27 سفارت خانے قائم کرچکا ہے جہاں سے دن رات پاکستان کوکمزورکرنے کی مہمات لانچ کی جاتی ہیں۔ بھارت کبھی خود لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتا ہے اورکبھی افغانستان کی سر زمین سے پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنواتا ہے۔ وہ بھارت جس نے قیام پاکستان کے دن سے ہی اس کو نقصان پہنچانے کا عہد کر رکھا ہے وہ بھلاکیسے برداشت کر سکتا ہے کہ پاکستان میں امن ہو اور سی پیک جیسے منصوبے پایہ¿ تکمیل کو پہنچ کراس ملک کی خوشحالی کا سبب بنیں۔اس لئے اس کو وزیرستان میں امن کا قیام ایک آنکھ نہیں بھایا اور اس نے پشتون تحفظ موومنٹ جیسی سرگرمیوں کی پشت پناہی کرنا شروع کردی ہے۔ اپنے اس گھناو¿نے مقصدکے حصول کے لئے اس نے پشتون کارڈ کھیلنے کا منصوبہ بنایا ہے۔


آج سے چند سال قبل وزیرستان میں ہر آدمی کے پاس کلاشنکوف تھی، چھوٹے چھوٹے گروہوں کی شکل میں طالبان نے اپنی ریاست قائم کر رکھی تھی، ازبک شترِ بے مہارکی طرح افراتفری پھیلانے میں مصروف تھے اور طالبان سے تعلق رکھنے والے تاجک، ترکمانی اور یمنی باشندے ان پشتونوں کی زمینوں پرقبضہ کیے ہوئے تھے۔ صرف زمینوں پرقبضہ ہی نہیں بلکہ روزانہ کی بنیاد درجنوں لوگوں کا خون بھی بہایا جا رہاتھا۔ اس حقیقت سے پوری دنیاآگاہ ہے کہ پاک فوج نے آپریشن”ضرب عضب“کے ذریعے ان طالبان کو پاک سر زمین سے مار بھگایا، وہاں امن قائم کیا، مقامی لوگوں میں موجود خوف کا خاتمہ کیا اور پشتونوں کو ان کی زمینیں واپس دلائیں تاکہ پاکستان اور خصوصاََ پشتون محفوظ رہیں اور ان پرکوئی آنچ نہ آئے۔


” ضرب عضب“ سے پہلے آسانی سے افغانستان سے طالبان پاکستانی علاقوں(خصوصاََ فاٹا ) میں آجاتے، تخریب کاری کرتے، لوگوں کو پاکستان مخالف کارروائیوں کی تربیت دیتے اور چلے جاتے تھے۔ اس لیے وزیرستان جہاں محسود قبائل اور وزیر قبائل آباد ہیں دنیا بھرمیں دہشت گردی کے گڑھ کے طورپرجانا جانے لگا تھا۔ آپریشن ”ضرب عضب“ ہوا پاک فوج نے دشمن قوتوں کو نست و نابودکر دیا.... دشمن کی راہ جب بند ہوئیں تو اس نے پاک دھرتی پر تخریب کاری اور شورش پیدا کرنے کے متبادل طریقے تلاش کرنا شروع کردیے اور پشتونوں کے ہاتھوں وزیر ستان سے پیدا ہونے والی مذکورہ تحریک کو لانچ کر کے ایک نئے خطرے کو جنم دے دیا۔


اس کے لیے پاکستان بھر میںبھارتی خفیہ ایجنسی”را“، افغان خفیہ ایجنسی”این ڈی ایس“، اسرائیل کی خفیہ ایجنسی”موساد“ اورامریکی سی آئی اے بھی پیش پیش ہیںجو اس موومنٹ کو نہ صرف سپانسرکر رہے ہیں بلکہ پاک فوج کے خلاف گھناﺅنی سازشیں بھی کر رہے ہیں۔ حیرانگی کی بات یہ ہے کہ اسے وائس آف امریکا، بی بی سی، ریڈیو ڈویچے، وآئس آف جرمنی،نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ جیسے کئی دیگر بڑے غیر ملکی میڈیا ہاوسز ، انٹرنیشنل پریس، این جی اوز تھنکرز اور بدقسمتی سے پاکستانی میڈیاکے چند ادارے بھی اسے اس قدر پروموٹ کررہے ہیں جیسے ”گریٹ گیم“ کا آغاز ہو رہا ہو! اس نامرادگیم میں بادی النظر میں وہ شخصیات بھی ملوث ہیں جنہیں رول ”ماڈل“ کے طور پر پاکستان بھیجا جاتا ہے، جو تعلیم عام کرنے جیسے نعرے کے ساتھ پاکستان آتی ہے ، لیکن ان کے پوشیدہ عزائم سے کوئی واقف نہیں، وہ بھی شخصیات اس کھیل میں شامل ہیں جو پاکستان کے حساس موضوعات پر ڈاکیومنٹریاں بنا کر ایوارڈ وصول کرتی ہیں، لیکن حیرت ہے انہیں پاکستان میں کوئی مثبت کام بھی نظر نہیں آتا۔ ان کے ساتھ ساتھ اس کھیل میں وہ شخصیات بھی شامل ہیں جنہیں یہاں صحافتی ذمہ داریوں سے اُٹھا کر اعلیٰ عہدوں پر نوازاگیا ہے۔


اس بھرپور گیم میں ڈھکے چھپے الفاظ میں پاک فوج کو اس کا موردِ الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔اس گیم میں پاک فوج کو ملوث کرنے کا مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کے کریڈٹ کو داغ دار کرنا ہے، حالانکہ ابھی حال ہی میں ملکی سکیورٹی اداروں نے جنوبی وزیرستان میں چھاپہ مارکارروائی کرکے ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو پکڑا تو حیرانگی اس وقت ہوئی جب ان (ٹی ٹی پی )کے ساتھ امریکی سی آئی اے اہلکار اور”را“ کے اہلکار بھی پکڑے گئے ۔ جو سادہ لوح اور محب وطن پختون عوام کو ریاست پاکستان کے خلاف گمراہ کرتے، پیسوں کا لالچ دیتے اور انہیں ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں میں استعمال کرتے رہے ۔ اب جب کہ ”پشتون تحفظ موومنٹ “کو لانچ کر دیا گیا ہے اور اس کے لیے خطیر رقم بھی غیر ملک سے اپنوں کے ذریعے فراہم کردی گئی ہے، بلکہ ایک قومی اخبار کے سینئر رپورٹرکی ایک رپورٹ کے مطابق ”حال ہی میں موومنٹ کے لئے بیرون ملک سے ایک ملین ڈالر بھجوائے جانے کا سراغ لگایا گیا ہے۔ غیر قانونی ذرائع سے بھاری رقوم کی ترسیل کا عنصر ہی شکوک کو ہوا دینے کے لئے کافی ہے۔ اب تک کی چھان بین کے مطابق مذکورہ رقم سمیت بعض دیگر رقوم کی فراہمی میں ان معروف قوم پرست رہنماﺅں اور ایک دینی شخصیت کو بھی استعمال کیا گیا ہے جنہیں ایسے امور سر نجام دینے کا تجربہ ہے۔ ایک مد میں رقم کابل اور دوسری مد میں رقم لندن سے بھجوائی گئی۔ ایک اور ذریعہ کے مطابق ” پشتون تحفظ موومنٹ“کا قائد منظور پشتین نیک نیتی سے قبائلی پشتونوں کو درپیش مسائل منظر عام پر لانے کے لئے اٹھا تھا۔ اس کے عام سے رہن سہن میں اب تک کوئی فرق نہیں پڑا لیکن جیسا ماضی میں ہوتا آیا ہے ،نادیدہ ہاتھوں نے ، اس تحریک کا رخ موڑ دیا ہے۔ یہ تحریک اب اس نہج پر چل پڑی ہے جہاں ممکن ہے منظور پاشتیں خود کو بے بس سمجھے۔ تحریک کے ابتدائی مطالبات منظور ہونے کی پیش رفت کے بعد اصولاً اس تحریک کو مزید آگے بڑھانے کی ضرورت نہیں تھی۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ نئے ایشو پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ “


ریاستی دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیلنے والے یہ لوگ اپنے آپ کو پُر امن کہتے ہیں جنہیں یہ بھی خطرہ ہے کہ ان کے حقیقی عزائم کہیں آشکار نہ ہو جائیں اس لیے فی الوقت یہ عوام کی ہمدردیاں سمیٹنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اس تمام پس منظر میں دیکھا جائے تو ہر ذی شعور اور حب الوطن پاکستانی شہر ی کے ذہن میں چند سوالات ضرور ابھرتے ہیں۔ وہ یہ کہ:
....کیا انہیں یہ بھی یاد نہیں کہ وزیر ستان سے ہی پورے ملک میں دھماکے کروائے جاتے تھے، یہیں سے پورے پاکستان میں ٹی ٹی پی کو مضبوط کیا جا رہا تھا۔ جب ان کو یہاں سے نکالا گیا تو انہوں نے مخصوص لوگوں کو ساتھ ملایا اور اُن پشتون کو ساتھ ملانے کا تہیہ کیا جو پاکستان میں پُرامن زندگی گزار رہے ہیں؟ ....کیا انہیں یہ بھی یاد نہیں کہ ایک وہ بھی وقت تھا جب یہ لوگ طالبان کے ہاتھوں مارکھا کر لاشیں چننے لگے تھے۔ گھروں سے جنازے نکلنے لگے تھے اور مسجد اور حجرے خودکش دھماکوں کی نذر ہوگئے تھے۔ ایک سازش کے تحت سکولوں کو تباہ کیا جانے لگا تھا، سکولوں میں طلباءکی جگہ طالبان نے پناہ لے رکھی تھی۔ ....کیا انہیں یہ بھی یاد نہیں کہ نقیب اللہ محسود کے قتل پر پورا پاکستان سراپا احتجاج بن گیا تھا۔ کیا انہیں یہ بھی یاد نہیں کہ پاکستان کے 30 فیصدکاروبار میں پشتون شراکت دار ہیں۔کیا کراچی،کیا لاہور،کیا اسلام آباد، کیا پشاور، کیا کوئٹہ ، کیا فیصلہ آباد، گوجرانوالہ الغرض پورے پاکستان میں کیا پشتون پُرامن طریقے سے کاروبار نہیں کر رہے؟ ....کیا کوئی یہ بتا سکتا ہے کہ پاکستان کے کس علاقے میں پشتون کوکاروبار نہیں کرنے دیا جارہا، یا نوکری نہیں کرنے دی جارہی، یا کہیں یونیورسٹیوں میں داخلہ نہیں مل رہا؟


خدارا اپنے ملک پر مر مٹیئے مگر دشمنان پاکستان کے ہاتھوں میں کھلونا نہ بنیں.... آج وزیر ستان میں موجود بارودی سرنگوں اور چیک پوسٹوں کی تکلیف کسی اورکونہیں بلکہ انہی دشمن قوتوں کو ہے جو پہلے کی طرح آسانی سے پاکستان میں اپنے قدم جمانا چاہتی ہیں۔جب کہ اب پاک فوج ان کے ناپاک عزائم سے پوری طرح باخبر ہے۔ پاک فوج یہ بھی جانتی ہے کہ ملک دشمنوں نے اس بار پاکستان کے خلاف زہر اُگلنے کے لیے منظور پشتین کو چنا ہے جو سادہ اور عام زبان میں لوگوں کے سامنے اپنا سینہ چیرکر ایک ہی لکھی لکھائی تقریر دہراتا ہے۔ جسے سن کر ایسا لگتا ہے کہ خدانخواستہ پاکستان سے بڑا پشتونوں کا کوئی دشمن نہیں۔


بعض عناصر کو تکلیف یہ ہے کہ اب پاک فوج کی وجہ سے دشمن ملک سے آنے والے ڈالر بند ہوگئے ہیں۔ اس لیے وہ بھارتی ایماءپر پاک فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف بیانات دے رہے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال بی بی سی پر چلنے والا اس تحریک روح رواں منظور پشتین کا وہ انٹرویو موجود ہے جسے خاصا پروموٹ بھی کیا جا رہا ہے۔ جس میں اُس نے پاک فوج کے خلاف باتیںبھی کی ہیں؟ کیا ایسے شخص کا تعلق پاکستان سے ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں!


بڑے افسوس کے ساتھ یہ بات کہنا پڑ رہی ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ نے پشتون سماج کے اندر بڑے پیمانے پر جہادی اور انتہا پسند مدرسوں اور تنظیمی نیٹ ورک پر مشتمل جہادی آئیڈیالوجی کے حامل مراکز اور ان کے بڑے بڑے ناموں کو ساتھ ملانا شروع کردیا ہے۔ اس لیے ان کے جلسے جلوسوں میں جہادی ریڈیکل گروپ نمایا نظرآتا ہے۔ خیرجو بھی ان جلسے جلوسوں میں شامل ہو، یہ سب کا جمہوری حق ہے، مگر یہ خیال ضرور کرنا چاہیے کہ کیا اس حق کا کہیں ہم غلط استعمال تو نہیں کر رہے ؟ یا کہیں اسے ملک دشمنی کے لیے تو استعمال نہیں کیا جا رہا؟ اگر ہمیں یہ شعورآجائے کہ نقیب اللہ محسود کے قتل کے نتیجے میں دیے جانے والے اسلام آباد دھرنے میں اس قدر اخراجات یہ غریب قبائلی کیسے اُٹھا سکتے ہیں؟ یا ان کو فنڈ کون فراہم کررہا ہے اور یہ بھی شعور آجائے کہ ملک دشمن قوتیں کس طرح پاکستان کے غیر مستحکم کر رہی ہیں اور ہم ان کا حصہ بننے کے بجائے مقابلہ کریں گے تو یقینا پاکستان آگے بڑھے گا اور دشمن منہ کے بل زمین پر ہوگا!


ای پیپر