کہاں تک سنو گے....
24 اپریل 2018

اقتدار کا اپنا ایک نظام ہے، ایک نشہ ہے، ابن انشاء نے کہیں لکھا تھا کہ پہلے پہل آسمان پر صرف فرشتے رہا کرتے تھے پھر ہمہ شما بھی جانے لگے جو خود نہ جاتا اس کا دماغ چلا جاتا، صاحب اقتدار لوگ ایسے ہی ہوا کرتے ہیں!
یہاں صاحب اقتدار سے مراد صاحب اختیار ہے اور صاحب اختیار صرف ”سیاہ ست دان“ ہی نہیں ہوا کرتا بلکہ افسر شاہی بھی صاحب اختیار ہونے کے نشے میں دھت رہا کرتی ہے، ہمارے بعض ”معصوم“ قسم کے تجزیہ کار سیاستدانوںکی ”پاکی داماں کی حقیقت“ بیان کرتے کرتے اکثر ایک دلیل دیا کرتے ہیں کہ سیاستدانوں کو چوری کرنے کے راستے معلوم نہیں ہوتے یہ افسر شاہی ہی ہے جو انہیں کرپشن، اختیارات سے تجاوز اور مال بنانے کے نئے نئے طریقے سے روشناس کراتی ہے، پنجابی کی ایک کہاوت ہے کہ ”کانیاں آلے تیلواں آلیاں نوں لبھ لیندے نیں“
اردو میں اگر سمجھانے کی کوشش کروں تو یوں سمجھ لیں جس بچے کو بری صحبت سے بچانے کے لیے آپ اس کا سکول یا کالج تبدیل کرتے ہیں وہ نئی جگہ جاتے ہی دو چار دن میں اپنی قماش کے مطابق صحبت پھر تلاش کر ہی لیتا ہے، جنس باہم جنس پرواز والا معاملہ سمجھ لیجیے۔طبعاً کرپٹ سیاستدان ہی کرپٹ افسر کے ساتھ فٹ ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ پرسنل سٹاف افسر ، متعلقہ سیکرٹری وغیرہ اپنی مرضی سے کیوں لائے جاتے ہیں؟
خبر یہ ہے کہ پنجاب کی افسر شاہی پر نیب کے پاس بہت مواد موجود ہے اور اگلے ماہ کی 15 تاریخ تک صرف لاہور کے 35 میں سے 12 کے لگ بھگ افسروں کی ایک فہرست پر گرفتاریاں عمل میں لائی جا سکتی ہیں۔
اس فہرست میں ایک ایسے ”دانا پولیس افسر“ کا نام بھی شامل ہے جس نے خود اپنے نام پر 41 پلاٹس منتقل کر رکھے ہیں، پتہ نہیں ڈاکٹر صاحب کو فرنٹ مین نہیں ملا، یا ان کو اعتبار کسی پر نہیں تھا، پر سانوں کی، جنہاں کھادیاں گاجراں........ہو سکتا ہے کہ لاہور کے قبضہ گروپ اور پولیس افسران کے کسی گینگ سے اس کا تعلق نہ ہو اور واقعی موصوف کے پاس کوئی منی ٹریل موجود ہو!
اللہ کرے یہ بھی جھوٹ ہو کہ ایک سرکاری گیس کمپنی کے سربراہ اور سیکرٹری کی آپس میں رشتہ داری ہو، یہ بھی خبر کسی دشمن نے اڑائی ہو کہ باہر سے گیس درآمد کرنے کا جواز مہیا کرنے کے لیے 5 سال تک کئی گیس کے منصوبوں پر کام جان بوجھ کر نہ ہونے دیا گیا ہو، میرے منہ میں خاک اگر میں بتاﺅں کہ پہلے ہم نے کھاد کے زیادہ ہونے کا ڈرامہ کیا اور کھاد متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے احتجاج کے باوجود باہر بیچ دی اور تین ماہ بعد کھاد کی قلت کا بہانہ بنا کر پھر خریدنے کی سمری تیار پڑی ہے اور آپ کو مزا آ جائے اگر میں یہ کہوں کہ فی الحال یہ کھاد اس سیزن میں خریدے بغیر بھی گزارا ہو سکتا ہے!
خبردار اگر کوئی اس میں سے کمیشن کی بو سونگھنے کی کوشش کرے۔
آج کل وزارت اطلاعات کے ایک ”انتہائی ایماندار افسر“ کو او ایس ڈی بنانے پر جو سینہ کوبی کی جا رہی ہے اگر اس کے پیچھے چھپے ماہانہ کروڑوں روپے کے نظام میں ملوث کرداروں کے نام بتا دوں تو خود ایک اخبار کے مالک کو چکر آ جائیں کہ اس کے ایک ملازم کی ماہانہ آمدن اس کے تصور سے کہیں زیادہ ہے حالانکہ مالک کے تصور میں بھی اس کی اچھی خاصی آمدن ہے لیکن اصل رقم چکرا دینے والی ہے، خاطر جمع رکھیے یہ معاملہ یہاں ختم نہیں ہوا، ابھی تو ابتدائے عشق ہے!
نگران وزیراعظم کے ساتھ نگران وزراءاور کئی افسران کی پوسٹنگ پر جو بات چیت جاری ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ”میثاق جمہوریت“ کے مردے میں ابھی بہت جان باقی ہے لیکن ”تقدیر“ سے لڑنے کی ترکیب کس کو آتی ہے؟ اس کا نام بتاﺅ تو جانوں
اصل معاملہ یہی ہے کہ اقتدار اور اختیار کی پٹی آنکھوں پر بندھ جائے تو ہر طرف ہرا ہرا نظر آتا ہے اور انسانی فطرت کے مطابق اپنی ذات کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا گویا دنیاوی اقتدارپر اپنی موجودگی کے دوران انہیں یوں لگتا ہے کہ جیسے وہ کبھی جانے والے نہیں اور سلسلہ یونہی چلتا رہے گا لیکن جب قانون فطرت حرکت میں آ کر انہیں ہٹا دیتا ہے تو لگتا ہے کہ وہ کبھی تھے ہی نہیں
حبیب جالب نے کہا تھا
تم سے پہلے جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا
اس کو بھی اپنے خدا ہونے پر اتنا ہی یقیں تھا
کوئی ٹھہرا ہو جو لوگوں کے مقابل تو بتاﺅ
وہ کہاں ہیں کہ جنہیں ناز بہت اپنے تئیں تھا
رہے نام اللہ کا!


ای پیپر