کہاں تم چلے گئے؟!
24 اپریل 2018

نعمان تم اکثرمجھ سے کہتے تھے”بھائی جان آپ موت پر بڑا اچھا کالم لکھتے ہیں “ ....میں کہتا ” ہاں ....مگر میری موت پر شاید کوئی اچھا کالم لکھنے والا نہیں ہوگا“ ....آج تمہاری موت پر کالم لکھتے ہوئے یوں محسوس ہورہا ہے میں اپنی موت پر ہی لکھ رہا ہوں ۔....تمہاری موت پر ایک آنسو تمہارے ابو جان کی آنکھوں سے بہتے ہوئے میں نے نہیں دیکھا۔ اتنا صبر والا انسان اپنی زندگی میں پہلی بار میں دیکھ رہا تھا۔ میں جب تمہارے گھر کی طرف جارہا تھا میرا خیال تھا تمہارے ابو میرے گلے سے لپٹ کر دھاڑیں مارمار کر روئیں گے۔ میں جب اُن کے گلے سے لپٹا وہ نہیں روئے میں دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔ وہ مجھے حوصلہ دے رہے تھے، مجھے منیر نیازی کا شعر یاد آگیا۔ ”جانتا ہوں ایک ایسے شخص کو میں بھی منیر....غم سے پتھر ہوگیا لیکن کبھی رویا نہیں “ ....ایسے صابرین کے لیے مجھے یقین ہے روز محشر اللہ حساب کتاب کو جائز نہیں سمجھے گا۔ اُنہیں سیدھا جنت میں بھیج دے گا، جہاں دنیا میں اُن کی بچھڑی ہوئی اولادوں کو ایک بار پھر اُن سے ملوادیا جائے گا۔ تمہاری امی تمہاری میت کے پاس بالکل خاموش گُم سُم بیٹھی تھیں، جیسے سوچوں کی گہری کھائی میں اُنہیں کسی نے پھینک دیا ہو۔ اُن کی آنکھیں بھی خشک تھیں ، یوں محسوس ہورہا تھا جیسے ”وقت رخصت“ تم اُنہیں وصیت کر گئے ہو کہ میری موت پر آنسو نہیں بہانے، مگر جب تمہارا جنازہ اُٹھا صبر اورضبط کے سارے پیمانے لبریز ہوگئے ۔ ”ضبط لازم ہے مگر دُکھ ہے قیامت کا فراز ....ظالم اب کے بھی نہ روئے گا تو مر جائے گا “ ۔عصر کی اذان ہورہی تھی، عین اُسی وقت تمہارا جنازہ اُٹھایا گیا ۔ تمہاری امی نے جاتی ہوئی میت آواز دے کر ایک بار پھر روک لی۔ ایک بار پھر پیار سے تمہارے چہرے پر ہاتھ پھیرا ۔ تمہارا ماتھا چوما ۔ جیسے وہ اکثر سکول جاتے ہوئے تمہارا ماتھا چُومتی تھیں۔ جیسے وہ اکثر تم جب دفتر جانے لگتے تھے تمہارا منہ چُومتی تھیں۔ جیسے وہ اکثر تم جب دفتر سے واپس آتے تھے تمہارے سرپر پیار سے ہاتھ پھیرتی تھیں۔ آخری بار تمہارے سرپر ہاتھ پھیرنے کے بعد اپنے ہاتھ اُنہوں نے اپنی آنکھوں پر رکھ لیے۔ وہ شاید تمہیں آخری بار جاتے ہوئے دیکھنے کی سکت سے محروم ہوچکی تھیں۔ تمہاری سب سے چھوٹی بچی عنایہ جس کی عمر ڈیڑھ برس ہے بار بار تمہاری میت کے پاس آکر کھڑی ہوجاتی تھی، وہ بار بار اپنی توتلی زبان میں کچھ کہنے کی کوشش کررہی تھی، وہ یقیناً یہی کہہ رہی ہوگی اُٹھیں بابا عروہ، حسن، سعد اور زینب کو سکول چھوڑ کر آئیں۔ اُٹھیں بابا آپ کے آفس جانے کا وقت ہوگیا ہے۔ اُٹھیں بابا مجھے کھلونے لے کر دیں۔ اُٹھیں بابا میں نے برگر کھانا ہے۔ اُٹھیں بابا حسن مجھے تنگ کررہا ہے اُسے ذرا پھینٹی لگائیں۔ ....اُسے کیا خبر تھی تم اب کبھی نہیں اُٹھو گے ۔ اُسے کیا خبر تھی وہ باپ کی شفقت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محروم ہوچکی ہے، تمہارے بھائی سلمان اور فرحان تمہارے بچوں کو شاید باپ جتنا پیار ہی دیں مگر اپنا باپ اپنا ہی ہوتا ہے۔ تمہاری موت کے بعد تمہاری فیملی کے لیے تمہارے چچا احسن اقبال چودھری کے جذبے بھی قابلِ قدر ہیں۔ مگر باپ کا پیار کوئی نہیں دے سکتا۔ تمہاری بیوی کو اب تمہارے بچوں کا باپ بھی بننا ہے۔ اُس بے چاری پر بڑی بھاری ذمہ داریاں آن پڑی ہیں۔ تم اب اپنے اللہ کے پاس ہو، اپنے اللہ سے کہنا ” اُسے اب اتنی ہمت اتنی طاقت عطا فرما دے وہ میرے بچوں کی تربیت اچھی کرسکے۔ اُنہیں اچھی طرح پال پوس سکے۔ اور زمانے کی اُن سازشوں کا مقابلہ کرسکے جو اِس غلیظ اور گھٹیا معاشرے میں ایک بیوہ کے لیے بعض اوقات ناممکن ہوجاتا ہے، .... تم نے ایک ڈاکٹر سے شادی شاید اِس لیے کی تھی وہ گھر کے افراد کی چھوٹی موٹی بیماریوں کا علاج کرسکے، جیسے کسی کو نزلہ، زکام کھانسی وغیرہ ہو جاتی ہے اور گھر میں کوئی ڈاکٹر ہو اُسے باہر علاج کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ۔....مگر موت ایسی ”بیماری“ ہے جس کا کوئی علاج نہیں۔ تمہاری ڈاکٹر بیوی نے تمہاری چار روزہ بیماری کے دوران اللہ جانے میڈیکل کی کتنی کتابیں کھنگالی ہوں گی؟ اللہ جانے اپنے کتنے سینئرزسے رابطہ کیا ہوگا؟ موت کا علاج بھلا کہاں مِلتا ہے ؟۔.... تمہیں یاد ہے چند روز پہلے ہم ایک ڈنر پر اکٹھے جارہے تھے۔ تم نے اپنی گاڑی میں ایک غزل مجھے سنائی تھی۔ یہ شاید جگجیت سنگھ کی تھی۔ چِٹھی نہ کوئی سندیس ،....جانے وہ کون سا دیس.... جہاں تم چلے گئے “....یہ غزل سنتے ہوئے میرا دل بڑا اُداس ہوگیا تھا، میں نے تم سے کہا کوئی اور گیت لگادو۔ تم نے کہا ”بھائی جان ” یہ غزل“ مجھے بڑی پسند ہے آپ میری خاطر سُن لیں“ .... مجھے کیا خبر تھی چند روز بعد یہ غزل تم سے میرااِک سوال بن جائے گی۔”چِٹھی نہ کوئی سندیس ....جانے وہ کون سا دیس .... جہاں تم چلے گئے“؟؟ تم اکثر مجھ سے کہتے تھے ”بھائی جان آپ بڑے پاپولر ہیں، میں جس کسی سے آپ کا پوچھتا ہوں وہ آپ کو جانتا ہوتا ہے “.... تمہارے جنازے پر انکشاف ہوا میری مقبولیت تمہاری مقبولیت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تھی ۔ اتنے لوگ تمہارے جنازے میں شریک ہوئے یوں محسوس ہورہا تھا پوری دنیا اُمڈ آئی ہے۔ میری بیٹی صالحہ اور بیگم نے بتایا تمہاری ”کولیگز“ دھاڑیں مار مار کر رورہی تھیں۔ وہ کہہ رہی تھیں ایک بہت ہی محنت اورمحبت کرنے والا انسان دنیا سے چلے گیا ہے۔ وہ کہہ رہی تھیں ”بہت زیادہ آفس ورک کرکے بعض اوقات ہم میں سے کوئی تھک جاتا وہ ہمارا کام بھی کردیا کرتا تھا۔ کہتا تھا ”ٹینشن نہیں لینی“.... وہ انتھک تھا“۔ پوری کوکا کولا فیکٹری تمہارے جنازے میں شریک تھی۔ یہاں تک کہ کنٹری ہیڈ(گورا) بھی موجود تھا۔ وہ تمہاری صلاحیتوں اور محنتوں کا اس قدر معترف تھا مجھے تم پر رشک آرہا تھا۔ گورے عموماً پاکستانیوں کی محنت اور نیت کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے۔ مگر تم نے گوروں کو بھی گرویدہ بنایا ہوا تھا۔ یارتم کیا چیز تھے اور کہاں چلے گئے ہو؟ ۔ جیسے کوئی خوبصورت تتلی آنکھ سے اوجھل ہوجائے، جیسے کوئی جگنو تھوڑی دیر چمکنے کے بعد اندھیروں میں گم ہوجائے۔ میں نے کئی گوروں کو تمہاری نماز جنازہ ادا کرتے ہوئے دیکھا۔ ایک لمحے کے لیے میرا جی چاہا اُنہیں کھینچ کر صف سے باہر نکال دوں۔ اُن سے کہوں ” ایک مسلمان کی نماز جنازہ ادا کرنے والے آپ کون ہوتے ہیں؟“....پھر میں نے سوچا ” اللہ ہی جانے کون بشر ہے“ .... ممکن ہے میری نماز جنازہ رد کردی جائے اور اُن گوروں کی قبول کرلی جائے جو اپنے مذہب سے بالاتر ہوکر بھیگی آنکھوں کے ساتھ اپنے ایک کولیگ کی نماز جنازہ اس قدر عقیدت اور احترام کے ساتھ ادا کررہے ہیں جیسے وہ مجھ سے بڑھ کر اور مجھ سے بہتر ”مسلمان“ ہوں، .... سلمان مجھے بتارہا تھا چند روز پہلے تم نے اُس سے کہا ”اگلے مہینے میں تمہیں نئے ماڈل کی ہنڈاکار لے کر دوں گا، تم نے بھائی جان توفیق بٹ کے ساتھ اِدھر اُدھر آنا جانا ہوتا ہے، میں چاہتاہوں تمہارے پاس اُن کے شایان شان گاڑی ہو“.... تمہیں پتہ تھا میں فقیر آدمی ہوں، گاڑیوں شاڑیوں کا مجھے کوئی شوق نہیں، مگر تمہاری محبت انمول تھی۔ میری تم سے آخری ملاقات تمہارے چھوٹے بھائی فرحان کی شادی پر ہوئی تھی، کھانے کے بعد میں جب گاڑی میں بیٹھ کر رخصت ہونے لگا تم نے سگریٹ سلگا لیا، میں نے تم سے کہا ”سگریٹ چھوڑ دو“ .... تم نے دنیا چھوڑ دی۔ یہ بڑی غلط بات ہے۔ واپس آجاﺅ یار۔ تم اگر واپس آجاﺅ میں تمہیں بڑازبردست گفٹ دوں گا.... سگریٹ کی ایک ڈبی اور تم سے یہ بھی نہیں پوچھوں گا ”چِٹھی نہ کوئی سندیس ....جانے وہ کون سا دیس ....جہاں تم چلے گئے“.... کہاں تم چلے گئے؟؟؟ (یہ کالم پینتیس سالہ نوجوان اپنے عزیز نعمان طارق چودھری کی گزشتہ روز مختصر ترین علالت کے بعد انتقال کے حوالے سے لکھا گیا ہے )


ای پیپر