اے پی سی کی دھمکیاں!
23 ستمبر 2020 2020-09-24

گزشتہ کالم میں نے اے پی سی کے ان مطالبات پر لکھا تھا ”وزیراعظم فوری طورپر استعفیٰ دیں، ملک میں نئے انتخابات کروائے جائیں اور انتخابی اصلاحات وغیرہ کی جائیں“۔ مطالبات کے علاوہ کچھ دھمکیاں بھی اے پی سی نے سیاسی واصلی حکمرانوں کو دیں، اے پی سی میں شریک سیاستدانوں نے موجودہ سیاسی و اصلی حکمرانوں کو دس یوم کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ”دس یوم میں ہمارے مطالبات تسلیم نہ کئے گئے ہم حکومت کے خلاف بھرپور تحریک چلائیں گے“ .... حکومت کے خلاف تحریکیں چلتی رہتی ہیں، حکومت بھی چلتی رہتی ہے، حکومت کو اِن تحریکوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا، بلکہ حکومت خود چاہتی ہے اُن کے خلاف چھوٹی موٹی کمزورتحریکیں چلتی رہیں، جن کی ناکامی کے بعد وہ اپنی حکومت کے مضبوط ہونے کا تاثر قائم کرسکیں، ہمارے ہاں کسی بھی حکومت کے خلاف کوئی تحریک صرف اُس صورت میں کامیاب ہوسکتی ہے جب اِس ملک کی ”اصلی قوتیں“ پس پردہ کسی تحریک کی سرپرستی کررہی ہوں، جس قسم کی گفتگو کچھ اداروں کے خلاف اے پی سی میں کی گئی، جس قسم کا انداز اختیار کیا گیا، جس طرح ان اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا، وہ جائز ہے یا ناجائز ؟ یہ الگ بحث ہے، لیکن اگر یہ سب کسی خاص پلاننگ کا حصہ نہیں یا ان دھمکیوں اور تنقید کو کچھ بیرونی قوتوں کی سرپرستی حاصل نہیں تو پھر موجودہ سیاسی واصل حکمرانوں کے خلاف چلائی جانے والی تحریک کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں، البتہ یہ ضرور ہوسکتا ہے اِس تحریک کی آڑ میں اِس ملک کی اصلی قوتیں وزیراعظم بلکہ اپنے ہی وزیراعظم سے کچھ مطالبات منوانے کے لیے اپنے ہی صنم یا اپنے ہی ہاتھوں سے تراشے خراشے ہوئے بُت پر بعض اوقات دباﺅ ڈالنے کے لیے براہ راست سامنے نہیں آتیں، اِس مقصد کے لیے وہ ہمیشہ سیاستدانوں کو ہی استعمال کرتی ہیں، وزیراعظم عمران خان بھی استعمال ہوچکے ہیں، بلکہ یہ کہا جائے غیر مناسب نہ ہوگا استعمال ہونے کی جتنی ہمت اُن کے پاس تھی شاید ہی اور کسی کے پاس ہوگی، کوئی سیاستدان مسلسل اتنے برسوں تک استعمال نہیں ہوا جتنے برسوں تک وزیراعظم عمران خان ہوئے یہ اُنہی کا حوصلہ ہے۔ اُن کی چوبیس سالوں کی مسلسل سیاسی جدوجہد کے بعد اُنہیں اقتدار کے قابل سمجھا گیا، بلکہ کمزور اقتدار کے قابل سمجھا گیا، .... بے چارے طاہرالقادری کو کچھ خاص کاروباری مقاصد کے لیے بار بار کینیڈا جانا پڑ جاتا ہے ورنہ قسطوں میں استعمال ہونے کے بجائے پاکستان میں رہ کر وہ بھی مسلسل استعمال ہوتے رہتے ہوسکتا ہے اِس وقت وہ نائب وزیراعظم ہوتے، پاکستان کے آئین میں ”نائب وزیراعظم“ کا عہدہ نہیں ہوتا، یہ عہدہ پہلی بار زرداری دور میں متعارف کروایا گیا تھا۔ میرے خیال میں وزیراعظم کا عہدہ اِس ملک میں ہونا ہی نہیں چاہیے، نائب وزیراعظم کا عہدہ ہی ہونا چاہیے، بے اختیار وزیراعظم ہونے سے تھوڑے بہت اختیارات والا نائب وزیراعظم ہونا ”جمہوری نظام“ کے لیے ممکن ہے زیادہ بہتر ثابت ہو،.... اے پی سی میں موجود تقریباً تمام سیاستدان اِس ملک کی اصلی قوتوں کے آلہ کار بنے رہے۔ یہ بات مانتا کوئی نہیں ہے، کیونکہ سیاستدان سچ بولنا شروع کردیں اُنہیں سیاستدان کون کہے گا؟ ، البتہ شیخ رشید کھلے عام اِس کا اعتراف کرتے ہیں، شاید اِ سی سچ کے انعام کے طورپر تقریباً ہرآنے والی حکومت کا کسی نہ کسی صورت میں وہ حصہ یا ”کچھا“ بن جاتے ہیں، وہ وزیراعظم بھی بن سکتے ہیں، اِس ملک میں ہروہ شخص وزیراعظم بن سکتا ہے جو وزیراعظم بننے کی اہلیت نہ رکھتا ہو، کسی کو وزیراعظم بنانے کے لیے صرف یہی دیکھا جاتا ہے وہ کہیں کچھ کرنے کی اہلیت تو نہیں رکھتا؟۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں بظاہر بھولے بھالے دکھائی دینے والے وزیراعلیٰ بُزدار مسلسل نااہلیوں کا مظاہرہ کہیں وزیراعظم بننے کے لیے تو نہیں کررہے؟، اپنی نااہلی کو وزیراعظم بننے کے لیے وہ اپنے ”تجربے“ کے طورپر بتاسکتے ہیں، وزیراعظم بنانے والی ”فیکٹری “ کے مالکان سے وہ کہہ سکتے ہیں ”بے شمار نااہلوں کو بطور وزیراعظم ملازمت پر آپ رکھ سکتے ہیں تو مجھے کیوں نہیں رکھ سکتے؟“ ہم کسی سے کم ہیں کیا ؟۔ ہمیں بھی ”خدمت “ کا موقع دیں“ ،.... بہرحال میں اے پی سی میں شریک سیاستدانوں کی اُن دھمکیوں کا ذکر کررہا تھا جو اِس ملک کی سیاسی واصلی قوتوں کو کچھ دبے دبے اور کچھ کُھلے کُھلے الفاظ میں اُنہوں نے دیں۔ اکتوبر میں تحریک چلانے کا اعلان بھی کیا، اکتوبر آنے میں آٹھ دس روز ہی باقی رہ گئے ہیں، موجودہ حکمرانوں کے ساتھ یہ بڑی زیادتی ہے کہ کسی تحریک سے نمٹنے کی تیاری کے لیے اُنہیں صرف آٹھ دس روز دیئے جائیں، ایسی تحریک سے نمٹنے کے لیے جن سول و پولیس افسروں سے اُنہوں نے کام لینا ہے اُن بے چاروں میں اتنی سکت ہی نہیں اپوزیشن کی کسی بڑی تحریک سے آسانی سے وہ نمٹ سکیں، وہ بے چارے آج کل صرف ایک ہی کام کرتے ہیں، سارا سارا دن انتظار کرتے ہیں کب اُن کی ٹرانسفر کے آرڈرزآجائیں، اور اپنا وہ صندوق جو اپنی تازہ ٹرانسفر پر اُنہوں ابھی کھولا ہی نہیں اُسے اُٹھا کر کسی اگلے ”اسٹیشن “ پر روانہ ہو جائیں، .... اپوزیشنی سیاستدانوں کو چاہیے موجودہ حکمرانوں کو تحریک سے نمٹنے کی تیاری یا پلاننگ کے لیے کم ازکم تین چار ماہ کا عرصہ اُنہیں مل جائے تو اپوزیشن کی تحریک سے نمٹنے کے لیے سب سے آسان طریقہ یہ ہے اِس عرصے میں اے پی سی میں شریک تمام سیاستدانوں پر کوئی نہ کوئی کیس ڈال کر اُنہیں ”سپردنیب“ کردیا جائے، نہ رہے گا بانس نہ بجے گی وہ بانسری جو ان دنوں ”نیرو“ مسلسل بجا بجا کر ایک ہی راگ الاپتا ہے ”یہ سب چور ڈاکو ہیں جو اپنے اپنے مفادات میں اکٹھے ہوئے ہیں“.... یہ ”راگ“ عوام کے دلوں کو دوبرسوں تک مسلسل بھاتا رہا، اب یہ راگ سُن سُن کر عوام بیزار ہوچکے ہیں، اب اہلیت دکھانی پڑے گی ورنہ اپوزیشن کی اکتوبر میں شروع ہونے والی تحریک کامیاب نہ بھی ہوئی اُس کے بعد شروع ہونے والی کوئی نہ کوئی تحریک کامیاب ہو جائے گی، اور ممکن ہے اندرونی وبیرونی بیساکھیوں کے بغیر ہی ہو جائے، .... جہاں تک چوروں اور ڈاکوﺅں کے اپنے اپنے مفادات میں اکٹھے ہونے کا تعلق ہے تو وہ صرف اپوزیشن میں ہی اکٹھے نہیں ہیں، کچھ کچھ حکومت میں بھی اکٹھے ہیں، .... کئی بار عرض کرچکا ہوں اور گزشتہ دوبرسوں میں تو خاص طورپر یہ ثابت بھی ہوگیا ہے اُنیس بیس کے فرق سے بلکہ اب یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا ”پونے بیس اور بیس“ کے فرق سے سب سیاستدان ایک ہی فطرت کے مالک ہیں، کل جو باتیں خان صاحب بطور اپوزیشن رہنما اُس دور کے حکمرانوں کے بارے میں کررہے تھے آج وہی باتیں اپوزیشن وزیراعظم خان صاحب کے بارے میں کررہی ہے، البتہ وزیراعظم خان کو ایک ”خصوصیت “ ضرور حاصل ہے، پوری اپوزیشن یک زبان ہوکر بھی یہ کہنے کی جرا¿ت یا حوصلہ نہیں کرپا رہی ”وزیراعظم ذاتی طورپر بے ایمان ہے“۔ اپوزیشن کو شاید پتہ ہے یہ جھوٹ اُنہوں نے بولا بھی کوئی اُس پر فی الحال یقین نہیں کرے گا۔ !!


ای پیپر