شہباز شریف کیخلاف 4 سلطانی گواہ ،آرگنائزڈ گینگ نے آرگنائزڈ طریقے سے منی لانڈرنگ کی:شہزاد اکبر
23 ستمبر 2020 (16:54) 2020-09-23

آرگنائزڈ گینگ نے آرگنائزڈ طریقے سے منی لانڈرنگ کی: شہزاد اکبر

اسلام آباد : شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ منی لانڈرنگ ریفرنس لاہور کی عدالت میں دائر ہو چکا ہے ،ریفرنس 25 ہزار صفحات اور ڈاکیومنٹ ثبوت پر مشتمل ہے ،ریفرنس میں 16 افراد نامزد ، شریف فیملی کے 4 ارکان بھی شامل ہیں ۔

شہزاد اکبر نے کہا منی لانڈرنگ کیس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کیس لاہور کی عدالت میں دائر ہوچکا ہے ،منی لانڈرنگ کیس میں 4 افراد سلطانی گواہ بن چکے ہیں جنہوں نے شہباز شریف کیخلاف بیان دیا ہے ،10 لوگ وہ ہیں جو مختلف طریقے سے سہولت کاری کرتے رہے ،شہزاداکبر نے کہا 3 کمپنیاں بھی اس نیٹ ورک کا حصہ ہیں ،دوسری کمپنی یونی کاسٹ طاہر نقوی نامی شخص نے بنائی ،کیس میں اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی تفصیلات بھی موجود ہیں ،علی احمد ،نثار گل نے اربوں کی منی لانڈرنگ کی ،نثار گل سی ایم ہائوس میں 10سال ڈائریکٹر رہے ،177جعلی ٹی ٹیز اس ریفرنس کا حصہ ہیں۔

شہزاد اکبرنے اس موقع پر کہا تفصیلی تحقیق پر نیب کو کریڈٹ جاتا ہے،تہمینہ درانی نے جو ولا خریدے وہ بھی ان پیسوں سے خریدے ،آرگنائزڈ گینگ نے آرگنائزڈ طریقے سے منی لانڈرنگ کی ہے، شہزاد اکبر نے کہا جس کو بیت المال میں لگایا گیا اس نے پہلے حمزہ شہباز کو ایک کروڑ روپے تک دئیے ،مشیر داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے 11 ملازمین نے ساڑھے 9 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی۔

  شہزاد اکبر نے کہا کہ شہبازشریف کی امپورٹیڈ لینڈ کروزر کی رقم ٹی ٹی کی رقوم سے ادا کی گئی۔ کمپنی کے ایک شخص نے ایک کروڑ روپیہ حمزہ شہباز کودیا، اسے پنجاب بیت المال کا سربراہ لگایا گیا،مشیر داخلہ نے کہا کہ دوسری کمپنی اس شخص کے نام پر بنائی گئی جو بیس 25 ہزار روپے تنخواہ کا ملازم ہے۔ نثارگل اور علی احمد کے نام استعمال کرکےایک کمپنی بنائی گئی۔ ڈی ایچ اےمیں 2 گھربھی اسی ٹی ٹی سےخریدے گئے۔


ای پیپر