حکمران طبقات‘ سبھی پوتر ؟
23 ستمبر 2019 2019-09-23

ٹی وی چینلوں پر بیٹھے سیاسی جماعتوں کے نمائندے ہوں یا حکومتوں کے ترجمان اپنے اپنے رہنمائوں کے حق میں بلا جھجک بولتے چلے جاتے ہیں۔ ان کے پاس ایسی ایسی دلیلیں ہوتی ہیں کہ بندہ حیران رہ جاتا ہے مگر یہ دلیلیں وقت گزرنے کے ساتھ بدلتی رہت ہیں یعنی ان میں ترامیم واضافے ہوتے رہتے ہیں لہٰذا میزبان جب اس تبدیل شدہ موقفوں کو سکرین پر دکھاتا اور سناتا ہے تو وہ کھسیانے سے ہو کر دائیں بائیں دیکھنا شروع کر دیتے ہیں ان سے پوچھا جاتا ہے کہ جناب موقفوں کو بدلنے کا مقصد کیا ہے جو بات آپ ماضی میں کر رہے تھے وہ آج کیوں نہیں کر رہے ؟

جواباً وہ کہتے ہیں کہ بس جی ‘ صورت حال کا تقاضا ہے۔ تقاضا اصل میں یہ ہوتا ہے کہ کل وہ جناب اقتدار میں ہوتے ہیں تو معاملہ کچھ اور ہوتا ہے آج جب وہ اقتدار میں آتے ہیں اور ذمہ داریاں عائد ہو جاتی ہیں تو انہیں بیانات و خیالات تبدیل کرنا پڑتے ہیں کیونکہ سوالات اٹھتے ہیں ان کی کارکردگی پر‘ ان کے کردار و گفتار پر اور ان کے رویوں پر عرض کرنے کا مقصد کوّا کا لا بھی ہے اور سفید بھی کیونکہ دنیا گول ہے۔ بہتر بہتّر برس بیت چکنے کے بعد سچ سے گریز پائی کا سلسلہ جاری ہے۔ حکمرانوں کا سچ اور ان کے سیاسی مخالفین کا سچ اپنے اپنے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں مگر عوام کا سچ کبھی نہیں بدلتا اور اس سے اتفاق کوئی نہیں کرتا کیونکہ ہر حکمرن اپنے مفاد کو پیش نظر رکھتا ہے اس () خواہشات و احساسات کا احترام لازمی نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ اب تک ملک بھول بھلیاں میں الجھا ہوا ہے اسے منزل مراد کی طرف جانے میں مشکل پیش آ رہی ہے ۔ حیرت مگر یہ ہے کہ ہر حاکم کہتا ہے کہ وہ عوام کو ان کے خوابوں کی تعبیر سے ہمکنار کر کے رہے گا ۔ یہی کہتے کہتے اقتدار کی شام ہو جاتی ہے اور وہ ایک بار پھر ماضی کے دھندلکوں میں گم ہو جاتا ہے ۔ اب جب عمران خان اقتدار میں آئے ہیں تو وہ بھی عوامی امنگوں کی بات کرتے ہیں عوام کو ایک حد تک ان پر یقین بھی ہے کہ وہ ضرور کوئی ایسا قدم اٹھائیں گے جس سے ان کے مستقبل میں روشنی کے جگنو اڑنے لگیں گے مگر ابھی تک اس نظام کے ہاتھوں وہ مجبور ہیں کہ روایتی طرز عمل اپنائیں اس سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے مگر یہ بھی ہوا کہ بعض مسائل سے نجات بھی مل رہی ہے کیونکہ وہ روایتی نظام میں اپنے تئیں کچھ تبدیلیاں بھی لا رہے ہیں جو ان کے ہمراہیوں جن میں بارعب جاگیردار اور دولت مند ہیں کونا گوار گزرا ہے مگر امید واثق ہے کہ ایک نہ ایک روز وہ کچھ کر دکھائیں گے جو عوام چاہتے ہیں شاید اسی لیے وہ قوتیں جنہیں یہ سب منظور نہیں انہیں سیاسی منظر سے ہٹانے کا پروگرام بنا رہی ہیں ؟

جیسا کہ مولانا فضل الرحمن آنے والے دنوں میں اسلام آباد پر چڑھائی کا ارادہ رکھتے ہیں ان کا خیال ہے کہ انتخابات میں عمران خان نے انہیں دھاندلی کے ذریعے ہرایا وگرنہ وہ تو جیت رہے تھے اور اگر جیت جاتے تو پورے ایوان کو اپنے ساتھ لے کر چل سکتے تھے مگر ان کے ساتھ دھوکا ہوا یوں انہیں باضابطہ گفتگو سے دور کر دیا گیا۔ ان کے نزدیک ہو سکتا ہے وہ کامیاب ہونے پر حکومت سازی میں بھی کامیاب ہو جاتے لہٰذا سرکاری عہدہ لینے میں بھی ان کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ہوتی مگر اس عمران خان نے اچھا نہیں کیا۔ انہیں ہر عہدے اور ہر آسائش سے محروم کر دیا۔ لہٰذا وہ یہ سب کیسے برداشت کر سکتے ہیں اسلام آباد جا کر اس حکومت کا خاتمہ ہر صورت کریں گے ؟ اگر ان کا خیال یہ ہے کہ واقعی عمران خان نے انہیں ہرایا تو درست نہیں عمران خان اس وقت اقتدار میں نہیں آئے تھے نگران حکومت کی نگرانی میں عام انتخابات ہوئے لہٰذا ذمہ دار بھی وہی ہے لہٰذا اس کے خلاف جلسہ و جلوس ہونا چاہیے مگر عمران خان کو کیوں مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے بہتر کارکردگی نہیں دکھائی تو ان کا کوئی قصور نہیں اس نظام میں ایسے ہی چلے گا مگر وہ ارادہ رکھتے ہیں کہ اس بوسیدہ و مضمحل نظام حیات کو بدل دیا جائے جسے ان دیکھی روایتی قوتیں تبدیل نہیں ہونے دینا چاہتیں کیونکہ ان کے مفادات اسی نظام سے جڑے ہوئے ہیں اور وہ مزے لوٹ رہی ہیں۔ اب جب ان کی چینی اسی روپے فروخت ہو اور گنا ایک سو اسی روپے فی من تو وہ کیوں چاہیں گی کہ یہ منظر سیاسی ، سماجی اور معاشی بدلے لہٰذا عمران خان کو بُرامت کہیے ان طاقتوں سے ’’ مکالمہ کیجئے جو انہیں روکتی ہیں یا روک سکتی ہیں۔ میرا اشارہ اس سرمایے کی طرف ہے جو ان کے مد مقابل کو جتوا کرانہیں ایوان سے بہت دور کر دیتا ہے۔بہر حال دیکھتے ہیں کہ آئندہ کیا ہونے جا رہا ہے مگر پی پی پی نے ان کے احتجاج میں شمولیت سے معذرت کر لی ہے۔ اسی طرح نواز شریف کی جماعت بھی گو مگو کی کیفیت میں ہے۔ شہباز شریف مگر نہیں چاہتے کہ مولانا کے احتجاج میں شریک ہوا جائے۔

چلیئے کچھ دنوں میں واضح ہو جائے گا کہ کون اسلام آباد جاتا ہے یا نہیں ابھی تو قیاس آرائی ہی کی جا سکتی ہے مگر

یہ طے ہے کہ حکومت نہیں جا رہی اسے دبائو میں لانا مقصود ہے تاکہ مزید کوئی سخت اقدامات کرنے سے گریز کرے جس سے سیاسی جماعتوں کے اپنی بقاء کا مسئلہ پیدا ہو جائے بس یہیں تک سیاسی سرگرمیاں جاری رہنے کا امکان ہے یعنی سڑک رولا۔ رہی بات عوامی مفاد کی تو حزب مخالف میں کوئی ایک بھی جماعت نہیں حزب اقتدار میں بھی نہیں سوائے عمران خان کے کہ وہ عوامی مفادیا مفادات کو ترجیح دے لہٰذا ایک شور شرابا ہے جو ادھر بھی ہے۔

اور اُدھر بھی کہ بھاگم بھاگ سبھی آ جا رہے ہیں کوئی باہر جا رہا ہے اور کوئی ملک کے اندر بھاگا پھر رہاہے۔ حیرانی دیکھیے سبھی ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ بھی کر رہے ہیں اور سبھی خود کو پوتر بھی قرار دے رہے ہیں۔ سوال مگر یہ ہے کہ پھر کون ملزم ہے اور کون مجرم۔ لگتا ہے عوام ہی ملزم ہیں اور مجرم بھی۔ جو روٹی مانگتے ہیں، کپڑا مانگتے ہیں اور مکان مانگتے ہیں۔ انہیں ایسا نہیں کہنا چاہیے۔ صبر شکر کریں۔ غذا جتنی مل رہی ہے وہ کافی ہے تعلیم جتنی چاہیے اور دوا بھی وہ میسر ہے۔ بجلی، گیس اور پانی جتنا چاہیے انہیں مہیا کیا جا رہا ہے لہٰذا شور نہ مچائیں آرام سے بیٹھیں اس سے بھی جائیں گے وہ کیا کر لیں گے اگر حکومت یا حکومتیں ان میں کمی کر دیتی ہیں۔ ویسے بھی حالات ایسے ہیں کہ موجودہ حکومت کو کسی قسم کا کوئی طعنہ نہیں دینا چاہیے کہ وہ تو نظام کی تبدیلی کا وعدہ کر کے آئی تھی مگر اس سے پھر گئی۔ وہ ضرور اس نظام کو بدلے گی ذرا چینی اور فروخت ہو جائے تھوڑا کاروبار مملکت مزید آگے بڑھ لے یا یوں کہہ لیجے اگلے برس تبدیلی کی ہوائیں چلیں گی ابھی تو ’’مارچوں‘‘ کے خطرے سے نمٹ لینے کی حکمت عملی سے متعلق سوچ بچار ہو رہی ہے اس حوالے سے ساری توانائیاں صرف کی جا رہی ہیں اس سے فرصت ملے گی تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اصولی طور سے دو برس پورے ہو لینے دو نواز شریف اپنے دو اقتدار میں ٹھیک کہتے تھے کہ ایک برس میں تو کچھ نہیں ہو سکتا کم از کم تین برس میں حکومتی کارکردگی کو جانچا جاتا ہے لہٰذا ابھی ’’مارچ‘‘ قبل از وقت ہے؟

حرف آخر یہ کہ حکومت اس وقت کئی محاذوں پر لڑ رہی ہے۔ عمران خان کے لیے یہ دن بڑے ہی حساس ہیں۔ بھوک، ننگ اور افلاس کے علاوہ جغرافیائی بکھیڑے ان کی نیند حرام کیے ہوئے ہیں مگر وہ بہترین انداز میں ان کے سامنے کھڑے ہیں۔ امید ہے وہ گھبرا کر سر نہیں جھکائیں گے!


ای پیپر