سوشل میڈیا اور جدو جہد کشمیر
23 ستمبر 2019 2019-09-23

میرا دوست میاں مخولیہ میرے پاس آیا کہ جناب شیخ آصف صدیق عرف کاکو بھائی چیمبر کے انتخاب میں اُمیدوار ہیں ایک با وقار اور لین دین میں صاف ستھری شخصیت ہیں لہٰذا لاہور چیمبر آف کامرس کے حوالے سے لکھیں اس سے پہلے میاں مخولیہ FBR کے بد دیانت اور منافق افسران اور اہلکاران کی لسٹ لے آیا کہ ان کے بارے میں لکھیں کیونکہ کوئی ’’دانشور‘‘ جانے نہ جانے میاں مخولیہ جانتا ہے کہ میں سپیڈ منی کے بھی خلاف رہا ہوں ورنہ 2008ء سے وقت کی ہر حکومت کے علاوہ جسٹس افتخار اور ثاقب نثار کے محض میڈیا میں موضوع بننے کی خاطر جوڈیشل ایکٹوازم کے خلاف نہ لکھ پاتا بحرحال میں نے کہا میاں جی آپ آدھی چھٹی ساری سمجھیں کشمیر زیادہ حساس ضروری، انسانی، بین الاقوامی اور وطن عزیز کی بقاء کا مسئلہ ہے آج اس پر بات ہو گی لہٰذا ابھی موسیٰ سے مارکس تک کی انسانی تاریخ دھرائی جا سکتی ہے اور نہ ہی ایک کالم میں انسانی معاشرت کے ارتقاء کی کہانی بیان کی جا سکتی ہے ۔ بس اتنا کہا جا سکتا ہے کہ انسان جب انسان کے شکار کرنے کی ٹھان لیتا ہے تو بڑی بے رحمی اور خون خواری کا مظاہرہ کرتا ہے بلکہ درندوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔

انسانی تاریخ میں اقتدار کی رسہ کشی اور حرصِ اقتدار میں ساتھی اور دوست تو کسی کھاتے میں نہیں بھائی نے بھائی باپ نے بیٹے اور بیٹوں نے باپ سے وہ سلوک کیا جو دشمن بھی نہ کر پائے گوکہ دنیا کے علوم میں تاریخ ہی قدرے ناقابل بھروسہ مضمون ہے مگر جو کچھ انسان کے علم میں ہے یہ تاریخ اور سچے مگر غیر جانبدار مورخین کی وجہ سے ورنہ درندوں، جانوروں جنگلی و انسانی معاشرتی تاریخ میں کچھ فرق نہ ہوتا۔ کئی ’’نابغۂ روزگار دانشور‘‘ حضرت بلالؓ کے بارے میں نجی محفل میں ’’علمی زعم‘‘ میں بدمست ہو کر اول فول بکتے سنے گئے (فرمان کے برعکس اُن کے مطابق شراب کے بند کرنے میں نقصان زیادہ اور نفع کم ہے) ۔ یہ تاریخ ہی ہے جس نے رباح کے عظیم بیٹے حضرت بلالؓ کی شان بتائی کہ جس پر فرش تنگ تھا مگر اسلامی انقلاب اور تاریخی جدوجہد کے سبب وہ عرشمان بن کر انسانی تاریخ کے افق پر نظر آنے لگے حتیٰ کہ جب تک دنیا رہے گی اور اذان رہے گی حضرت بلالؓ زندہ رہیں گے۔ وہ بھی اب اپنی تحریروں میں اُن کی شان فروشی کرتے ہیں۔ انسانوں نے ایجادات کیں اور رب العزت کی کائنات کا سفر آگے بڑھایا۔ کوئی دین یا مذہب سائنس کے خلاف نہیں ہے مختلف ادیان و مذاہب کے پیروکاروں کی عجب دکانداری ہے کہ سائنس سے پھڈا ڈالے رکھتے ہیں اور فیضاب بھی ہوتے ہیں بلب، بجلی، فون ، جہاز، کیمرہ، مووی کیمرہ، سائنس ٹیکنالوجی سے لے کر حربی ٹیکنالوجی تک جہاں بھی دیکھیں ناقابل یقین مگر ناقابل تردید ایجادات کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے۔

ہماری نسل جس نے گرامو فون اور چھت پر ہاتھ کے پنکھے بڑی ایجاد سمجھے، دیکھتے ہی دیکھتے آج اس دور میں چلے آئے کہ ایک پل کی خبر دوسرے پل ہی نہیں بلکہ لائیو ہی دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ملتی ہے ہمارے اکابرین بڑی مثال دیا کرتے ہیں کہ خلیفۂ وقت سے سوال کرنے والے بھی موجود تھے آج سوشل میڈیا کی مدد سے خلیفۂ وقت کی وہ درگت بنتی ہے کہ کوئی گرفت میں لانا بھی چاہے تو ممکن نہیں ہے یہ سب کرشمہ سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ہے۔ Mark zucker Berg (Face Book) … (Google ) Larry Pag and Sergey Brin …Jack Dorsey ، Noah Glass، Biz Stone، Evan Williams (Twitter)… Robert E. Kahn، Vint Cerf (Internet) … Jan Koum، Brian Acton (Whatsapp) اور دیگر نے ٹی وی ، مووی کیمرہ کے موجدین کے کام کو آگے بڑھاتے ہوئے متذکرہ بالا سوشل میڈیا کی موجودہ مختلف صورتوں کے موجدین نے سوشل میڈیا کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا آج کوئی خبر روکنے سے رک نہیں پاتی۔ ورنہ کسی کو نمک کی بنیادوں کے گھر میں قید کر کے برسات میں مکان کے زمین بوس ہونے سے ہلاک کر دیا، کسی پر بھوکے جانور چھوڑ دیے، کسی کو پتھر کی گرم سیلوں پر لٹایا گیا ۔ آزادی مانگنے والے جتنے انسان اتنی ہی ظلم کی داستانیں،سب لکھی ہوئی تاریخ ہے مگر آج تاریخ ویڈیو کی صورت میں ساتھ ساتھ مرتب ہوئے جا رہی ہے۔ عصرِ حاضر میں موجودہ حکمرانوں کے سرخیل کہتے نہیں تھکتے کہ کشمیر ہم نے 50 سال بعد دنیا کا مسئلہ بنا دیا سب بکواس ہے کسی نے نہیں بنایا یہ کشمیریوں کی اپنی لازوال اور بے مثال جدو جہد اور ان پر حالیہ دوسرے مہینے میں داخل ہونے والے غیر انسانی غیر آئینی غیر اخلاقی سلوک اور وہ بھی ریاست کی پوری قوت کے ساتھ ظلم توڑا گیا کہ سوشل میڈیا میں کشمیر اتنا بڑا ایشو بنا کہ دنیا کی بے شرم قوموں کو بھی شرم آ گئی اور بھیڑیے مودی کی مذمت اور مخالفت کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کیونکہ دکھی کشمیریوں کے روح و بدن کا کرب و درد اب اُن کی آنکھوں سے ٹپکتا ہوا دیکھا جانے لگا۔

یہ کریڈٹ Mark zucker Berg (Face Book) … (Google ) Larry Pag and Sergey Brin …Jack Dorsey ، Noah Glass، Biz Stone، Evan Williams (Twitter)… Robert E. Kahn، Vint Cerf (Internet) … Jan Koum، Brian Acton (Whatsapp) و دیگران کو جاتا ہے جو سوشل میڈیا کے بانیاں مالکان ہیں کشمیریوں کی لازوال جدوجہد اور بے مثال قربانیوں کو جاتا ہے جس کو سیاسی دکاندار اپنی تقریروں میں پولیٹکل سکورنگ کے لیے استعمال کرنے جا رہے ہیں۔

کشمیریوں اور دنیا کے مظلوم طبقات کو چلتے لمحے فیس بک، ٹویٹر، گوگل جیسی ایجادات کے بانیان اور مالکان جنہوں نے معجزاتی کرشمہ سازی کو بھر پور آگے بڑھایا اور ظالم کو بے نقاب کیا پوری دنیا کی تاریخ اور عصر حاضر انسان کی مٹھی میں دے دیا پوری دنیا کا نقشہ اور نالج ایک مٹھی میں آ گیا جو ہوتا ہے سب پوری دنیا کے سامنے ہے۔ سیاستکاروں، مذہب کاروں کے بیانات اور دعوئوں کے تضادات سب سامنے ہیں ورنہ یہی آسمان زمین سورج چاند ستارے تھے یہی موسم تھے انارکلی بنیادوں میں چنی جائے۔ کوئی زہر کا پیالہ پیئے یا پھانسی کے وقت سے پہلے سولی چڑھا دیا جائے کسی کو خبر نہیں حتیٰ کہ خانوادہ ٔرسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ظلم و بربریت اور درندگی کا نشانہ کچھ ایسے انداز سے بنایا جائے کہ چودہ صدیاں بھی ظلم بیان کرنے سے قاصر رہیں میں سلیوٹ پیش کرتا ہوں سوشل میڈیا کے ان محسنین کو جنہوں نے ظلم اور ظالم کو ننگا کیا یہ الگ بات ہے کہ طاقتور قومیں درندگی کی اس سطح سے بھی نیچے گر چکی ہیں کہ اخلاقیات ان کے سامنے بے معانی اور مظلومین ان کے لیے جنس کی صورت اختیار کر گئے۔

المختصر کہ کشمیر کی جدوجہد ہمارے حکمرانوں نہیں کشمیریوں کی قربانیوں کے بعد سوشل میڈیا کے ہاتھوں کامیابیوں سے ہمکنار ہونے کے درپے ہے۔ٹرمپ کی حمایت کچھ کام نہ آئے گی۔ یہ بازی جان کی بازی ہے۔ مودی باقی بھارت کی فکر کرے۔


ای پیپر