کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے؟
23 ستمبر 2018 2018-09-23

جگر مرادآبادی نے کہا تھا

اس نے اپنا بنا کے چھوڑ دیا

کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے

نواز شریف تین بار وزیر اعظم رہے لیکن اتنے عرصہ میں کسی کو اپنا نہ بنا سکے بد قسمتی سے کہ جن کو اپنا بنایا وہ اصلا نسلا غیروں کے تھے ان ہی کے بھیجے ہوئے تھے بیورو کریسی بھی اپنی نہ بن سکی کبھی کسی کی ہوئی بھی نہیں بظاہر صاحب اقتدار کی بباطن کسی کی نہیں جو آیا اس کی خاطر مدارت جو گیا اس کو لات لیکن لوگ حتی المقدور اس جنس سے بنا کر رکھتے ہیں نواز شریف یہ بھی نہ کرسکے تین بر کے وزیر اعظم اس راز کو نہ سمجھ سکے اب سمجھ آگئی ہوگی کہ جو یار پکڑے گئے بشیتر یار مار ثابت ہوئے وعدہ معاف گواہ بننے کو تیار عمر بھر کے دوست دم کے دم میں دشمن ن لیگ کا ٹکٹ تک لینا گوارا نہ کیا جس لیلیٰ اقتدار کی زلفوں کے اسیرے ہوئے وہ ہاتھ جھٹک کر دوسروں ی ہوگئی حریف بھی وہ جو کٹر دشمن ڈیل نہ ڈھیل کے قائل ایسے ہی کیا ڈیل ہوگی کون ڈھیل دے گا اللہ ہی ہاتھ پکڑے وہی دستگیر اپنے بندوں کامحافظ عمر 68 سال جیل میں 68 دن گزار کر ضمانت پر رہا ہوئے جیل کا ایک ایک دن ایک ایک سال کا لگا رہائی عارضی ہے سزا کالعدم نہیں ہوئی معطل ہوئی ہے الزام بھی موجود بس چند دنوں کے لیے مجرم سے ملزم بن گئے ماتھے پر لگے نقطہ نے جگہ بدل لی فاضل جسٹس نے بارہا پوچھا کہ مریم بی بی کو سزا کیوں دی گئی نیب پراسیکیوٹر مطمئن نہ کرسکے۔ کسی نے کہا جلسوں میں دھواں دھار تقریریں لے ڈوبیں لوگوں نے کہنا شروع کردیا تھا کہ کلثوم نواز کے انتقال کے بعد مریم نواز ہی اپنے والد کی جانشیں ہوں گی کسی کا بیٹا کسی کی بیٹی بیٹی بھی بیٹوں جیسی حریفوں نے رپٹ لکھوا دی، جرم بے گناہی میں دھرلی گئیں یاروں نے ضمانت کے بعد کان میں کہا ’’ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں، امتحان بھی کس قدر سخت آئے ہیں عمر نہ قوت برداشت اس پر بھی پر عزم، حوصلہ برقرار جھکنے کو تیار نہیں اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں احتساب عدالت کے فیصلے کی معطلی اس وقت تک رہے گی جب تک اسلام آباد ہائیکورٹ ان کی اپیلوں پر فیصلہ کرتی اور جب تک سپریم کورٹ اس معطلی کو نیب کی اپیل پر ریورس نہیں کردیتی فیصلہ کچھ بھی ہو اللہ کرے بہتر ہو تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ کی تمام کارروائی سے نیب کا پول کھل گیا جے آئی ٹی کی دھجیاں اڑ گئیں لیکن سپریم کورٹ میں جانے سے پہلے اس سوال کا جواب سوچنا ہوگا کہ لندن فلیٹس نواز شریف کے نہیں تو کس کے ہیں؟ میاں شریف مرحوم نے سودا کیا تھا یا ان کے انتقال کے بعد ان کے پوتوں نے ڈیل کی، نواز شریف کو منی ٹریل تو دینا ہوگی کہ میں تو سعودی عرب میں تھا بیٹوں نے ڈیل کی بیٹوں کے فلیٹ ہیں لندن جاتا ہوں تو ہوٹل کے بجائے فلیٹوں میں رات گزارتا لیتا ہوں مالک نہیں مسافر ہوں ثابت کردیں تو سمجھیں جان چھوٹ گئیں ثابت ہوتا رہے گا لیکن عارضی رہائی ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے نواز شریف اہلیہ کے انتقال سے اب تک صدمہ میں ہیں ظاہر ہے 48 سالہ رفاقت کو بھلایا نہیں جاسکتا، ایک ہی شادی، زندگی بھر ساتھ نبھانے کے عہد و پیمان، میاں بیوی نے اپنا اپنا عہد نبھایا، موت نے ہاتھ جھٹک دیا تکلیف تو ہوگی صدمہ سے باہر نکلیں اس وقت تک پھر اندر نہ ہوں تو ارد گرد کے سیاسی حالات پر سوچیں 18، 19 دن بعد قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ضمنی انتخابات ہوں گے عام انتخابات کے دوران تو انتخابی مہم نہ چلا سکے اب موقع مل گیا ایک دو جلسوں سے خطاب کرلیا تو بہتر نتائج مل سکتے ہیں حالات اچھے نہیں ضمنی انتخابات میں شاید نشہ ہرن ہوسکے کہا گیا حکومت نے اپنے ابتدائی 30 دنوں میں 16 قلابازیاں کھائیں ہر دوسرے دن قلا بازی کای جمناسٹک کا کھیل ہو رہا ہے ؟ احسن اقبال نے تو کہ دیا کہ 30 دن30 لطیفے حکومت میںآ تے ہی تیور بدل گئے بقول مولا بخش چانڈیو ایک ماہ میں ہی عوام کی چیخیں نکلوا دیں منی بجٹ میں 178 ارب کی کٹوتی، درآمدی اشیا کا صرف نام جن اشیا کی قیمتیں بڑھیں وہ عام لوگوں کے روز مرہ استعمال کی اشیا شمار ہوتی ہیں، جوتے، (چین، کوریا اور دیگر ممالک کے جوتوں سے مارکیٹں بھری پڑی ہیں) فرنیچر، کاغذ، شیشہ، پھل، پھول، مچھلی سب پر10 فیصد ٹیکس، پنیر بھی مہنگا، جنہوں نے ضمنی الیکشن میں ووٹ دینے ہیں ان میں اکثریت مہنگائی سے متاثر ہو کر بد دل ہوگی، حمایت کا نشہ اتر چکا ہوگا ٹیکس چوروں کو پکڑنے کی بجائے کلرکوں پر بھی ٹیکس لگا دیا گیا چار لاکھ سالانہ تو کلرکوں کی تنخواہ بھی بن جاتی ہے ، سارے ٹیکس دیں گے آٹو اور لینڈ مافیا مزے کرے گی، رضوان رضی کے بقول عوام کو تبدیلی کی پہلی چسکی مبارک، ٹیکس ناگریز لیکن نچلے متوسط طبقے کو کچل کر غریب طبقہ میں شامل کرنے کی کوششیں کیوں؟ غریبوں کو کم از کم متوسط طبقے تک لانے کے اقدامات کیوں نہیں، تبدیلی آگئی، لوگوں نے نعرے کو مذاق بنا لیا کہا کہ منی بجٹ نہیں مہنگائی بجٹ ہے ، حکومت مشکل فیصلے ضرور کرے لیکن عوام کو تو مشکل مین نہ ڈالے، سادگی کا وعدہ اخراجات میں بے پناہ بچت کے دعوے، گورنر ہاؤس کئی ایکڑز میں پھیلے ہیں ہر شہر کے بیچوں بیچ کیا صرف عوام کے لیے کھول دینے سے خوشحالی آجائے گی، بڑے گھرانوں کے لڑکے لڑکیاں گورنر ہاؤس کی سیر کریں گے اور سیلفیاں بنائیں گے ،گاڑیاں اونے پونے نیلام ، کیا 6 بھینسیں بیچنے سے قومی خزانہ بھر جائے گا ،کہا تھا 3 ماہ تک بیرونی دورے نہیں کریں گے جانا پڑا اکیلے نہیں گئے وزرا ساتھ تھے، چارٹر طیارے میں گئے، دراصل پانچ سال تک کنٹینر سے نیچے نہیں اترے تھے، اترے تو حالات کی گرمی سے پاؤں میں چھالے پڑنے لگے سارے وزیر دوسروں سے ادھار لیے ہوئے یا پھر نئے نویلے، پانچ سال دل و جان کے قریب رہے اس لیے وزیر بنا دیے گئے گویا پرائمری امتحان میں بیٹھے نہیں ایم اے کی ڈگری مل گئی، غالب نے کہا تھا ’’خدا کی دین کا موسیٰ سے پوچھیے احوال ،کہ آگ لینے کو جائیں پیغمبری مل جائے‘‘ اپنے شیخ صاحب اس شعر کے مخاطب ہیں کنٹینر پر کھڑے ہو کر آگ لگانے چلے تھے وزارت ریلوے مل گئی، میانوالی ایکسپریس چلانا ترجیح قرار پایا، نمک حلالی فرض، اسی ایکسپریس پر سوار ہو کر تو اقتدار میں آئے ’’ وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا تھی‘‘ اسے چھوڑیے، درجنوں معاملات سنبھالنے ہیں کتنوں کو سنبھالیں گے 100 دنوں میں پتا چلے گا۔


ای پیپر