میں شرط ہار گیا
23 ستمبر 2018 2018-09-23

ایک طرف تو الیکشن 2018ء کی آمد آمد کا شور تھا، دوسری جانب میاں نواز شریف، مریم بی بی اور کیپٹن صفدر کے جیل میں جانے کی باتیں ہورہی تھیں۔ ا ن سب کی گرفتاری لندن فلیٹس میں گھپلوں کے الزامات کے تحت عمل میں آرہی تھی۔ مگر ما کھے چودھری کا موقف ہم سے مختلف بلکہ نرالا تھا۔ چودھری ماکھے کا موقف تھا کہ ان سب کی گرفتاری صرف میاں نواز شریف اور مریم نواز کو انتخابات کے عمل سے دور رکھ کر مسلم لیگ (ن) کو کمزور کرنے کی بناء پر تھی۔ جبکہ ہم سب کا مشترکہ موقف تھا کہ پاکستان کی عدلیہ اب اپنے فیصلوں میں آزاد ہوچکی ہے۔ جس انداز میں میاں نواز شریف فیملی پہ مقدمہ چلایا جارہا تھا اس کا اگلا قدم ان کی گرفتاری کی صورت ہی میں نظر آرہا تھا۔ مگر چودھری ماکھے کی منطق عجیب تھی۔ تاہم اسے اپنے کہے پہ مکمل یقین تھا۔لہٰذا اس نے ہمیں پھر شرط کی پیشکش کردی۔ بتاتا چلوں کہ شرطیں لگانا چودھری ماکھے کا محبوب مشغلہ تھا۔ وہ عجیب عجیب معاملات پہ شرطیں لگایا کرتا۔ ہماری دردِ سری یہ تھی کہ وہ جیت بھی تو جایا کرتا۔ خیراب اس تازہ معاملے پر اس نے پانچ ہزار روپے شرط کی پیشکش کردی۔ اپنے تئیں میں تاڑ چکا تھا کہ اس مرتبہ چودھری ماکھا ہارا ہی ہارا۔ یعنی صیاد خود اپنے دام میں پھنسنے کو تیار بیٹھا تھا ۔ لہٰذا میں نے پچھلی ہاری ہوئی شرطوں کی کچھ وصولی کے لیے ڈبل رقم یعنی دس ہزار ر وپے کی شرط لگانے کی پیشکش کردی۔ چودھری ماکھے نے اسے خوش دلی سے قبول کرلیا۔ چودھری ماکھے کا موقف تھا کہ انتخابات کے بعد کچھ عرصہ بعد کوئی مناسب موقع دیکھ کر میاں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو رہا کردیا جائے گا۔ جبکہ ہمیں دیوار پہ لکھا نظر آرہا تھا کہ ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔ ہاتھ ملالیے گئے اور شرط طے ہوگئی۔ ماہ رواں کے شروع میں ہم نے چودھری ماکھے کو شرط کا یاد دلایا۔ جواب میں چودھری ماکھے نے ہمیں یاد دلایا کہ اکتوبر سے پہلے پہلے رہائی کی بات ہے لہٰذا تھوڑا انتظار کرنا ہوگا۔ اب یہ بات 19 ستمبر دن تین بجے سے کچھ پہلے کی ہے کہ چودھری ماکھا ہماری منڈ لی میں آن وارد ہوا۔ تین بجے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ آنا تھا۔ ہم خوش ہوگئے کہ چودھری ماکھا اب ہتھے چڑھنے کو ہے۔ عنقریب اس سے دس ہزاور روپے وصول کرکے دعوت شیراز اڑائی جائے گی۔ تین بجنے کو تھے۔ اس سے پہلے چودھری ماکھے کو ہماری منڈلی کی جانب آتے دیکھ کر اسے خود اپنے دام میں پھنسنے کا نظارہ کرتے ہوئے ہما را ایک سا تھی یہ شعر پڑھ رہا تھا :

کیوں وہ صیاد کسی صید پہ تو سن ڈالے

صید جب خود ہی چلے آتے ہوں گردن ڈالے

کچھ ہی دیر میں تین بج گئے اور فیصلہ آگیا۔ مگر یہ کیا؟ میاں نواز شریف، مریم بی بی اور کیپٹن صفدر کی ضمانت پر رہائی ہوگئی۔ اب چودھری ماکھے نے آؤ دیکھا نہ تاؤ جھٹ دس ہزار روپے کا مطالبہ کردیا۔ ہم نے لاکھ چودھری ماکھے کو فیصلے کے یوں آنے کی وجوہات بیان کیں۔ مگر چودھری ماکھا کہہ رہا تھا کہ بات وجوہات کی ہوئی ہی نہیں تھی۔ یہاں تک کہ کسی سخت سے سخت وجہ کی بھی نہیں۔ اوپر سے یہ کہ ہم جو وجوہات بیان کررہے ہیں وہ ویسے ہی نہایت کمزور ہیں۔ یعنی صرف لیپاپوتی کے سوا کچھ نہیں۔ بات چودھری ماکھے کی سولہ آنے درست تھی۔ واقعی شرط لگاتے وقت اس نے کہہ دیا تھا کہ وجہ کی بات نہ کرنا۔ بات باٹم لائن کی ہوگی آیا وہ رہا ہوں گے یا نہیں؟ ہمارے پاس کوئی چارہ نہ تھا۔ چودھری ماکھا شرط جیت چکا تھا۔ نہ صرف چودھری ماکھے نے ہم سے دس ہزار روپے اسی وقت وصول کیے بلکہ ہمیں لمبا لیکچر دے کر آئندہ محتاط رہنے کا کہا۔ چودھری ماکھے کا ایک مخصوص فقرہ ہے کہ یہاں سب ایسا ہی ہے اور ایسا ہی رہے گا۔ کوئی لاکھ دعوے کردے کہ ہم آگئے ہیں، اب سب ٹھیک ہوجائے گا، کچھ ٹھیک نہیں ہوگا۔ ادارے آج کا کام کل پہ ڈالتے رہیں گے۔ عدلیہ اسی رفتار سے سفر جاری رکھے گی۔ بیک لاگ میں رکھے ہوئے لاکھوں کی تعداد میں مقدمے گھٹیں گے نہیں، الٹا اور بڑھیں گے۔ بڑوں کے مقدموں کے فیصلے شائد پھر ہوجائیں۔ عوام الناس عدالتوں میں یوں ہی دھکے کھاتے کھاتے مرجائیں گے۔ معدنیات کے نئے نئے ذخائر کے دریافت ہونے کی خوشخبریاں سنائی جاتی رہیں گی۔ مگر ملک میں ان کی کمی مزید سے مزید بڑھتی جائے گی۔ اگر ایسا نہ ہو تو مہنگائی نہ بڑ ھنے سے رک جائے۔ چودھری ماکھے کے ساتھ ایک مسئلہ اور ہے، وہ یہ کہ وہ ووٹ کبھی نہیں ڈالتا۔ جب میں اس سے کہتا ہوں کہ تمہیں کسی پارٹی کو تو ووٹ ڈال کر ملک کی جمہوریت کو آگے بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ جواب میں چودھری ماکھا عجیب استدلال پیش کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہاں میں ووٹ ضرور ڈالوں گا مگر اس وقت جب ووٹ کی

پرچی پر ایک خانہ یہ بھی بنادیا جائے کہ میں ان امیدواروں میں سے کسی کو بھی ووٹ نہیں دینا چاہتا۔ میں جب اس سے پوچھتا ہوں کہ ایسا کرنے سے اسے کیا ملے گا؟ تو وہ کہتا ہے کہ یوں اس کی آواز اوپر ارباب اختیار تک چلی جائے گی کہ ان امیدواروں میں سے ایک بھی اسمبلی میں پہنچنے کے لائق نہیں۔ تب میں نے چودھری ماکھے سے پوچھا کہ چودھری تمہیں یہ کیسے پتا تھا کہ ان کی ضمانت پہ رہائی ہوجائے گی۔ جواب میں چودھری نے ایک بھرپور قہقہہ لگایا اور کہا کہ یہ تو دیوار پہ لکھا تھا۔ جب کہ تم لوگ دیوار کے اس لکھے کو الٹا پڑھ رہے تھے۔ پھر چودھری ماکھے نے ہمیں سمجھاتے ہوئے پوچھا کہ بتاؤ اصغر خان کیس کا کیا بنا؟ جواب میں ہم ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ پھر چودھری نے منہاج القرآن ماڈل ٹاؤن لاہور کے چودہ مقتولین کے کیس کا پوچھا کہ اس کا کیا بنا؟ ہمارے پاس اس کا بھی کوئی جواب نہ تھا۔ پھر اس نے پرویز مشرف کو دبئی سے واپس لانے کا پوچھا؟ ہمارا جواب ندارد تھا۔ پھر چودھری نے کہا چلو سب چھوڑ دو۔ یہ بتاؤ اسحق ڈار کو واپس لانے کے سلسلے میں عملی کارروائی کیا ہورہی ہے۔ جواب میں ہم پھر چپ تھے۔ اس کے بعد چودھری ماکھا کہنے لگا کہ یہ سب تلخ حقیقتیں ہمارے اداروں کے مزاج کو طے کرتے ہیں۔ یعنی یہ بتارہے ہیں کہ یہاں کچھ بھی بدلنے والا نہیں۔ میں ہار چکا تھا۔ چودھری ایک بار پھر ہمیں سمجھانے لگا۔ وہ کہہ ر ہا تھا کہ کسی کو پکڑنا، چھوڑنا تبدیلی نہیں ہے۔ تبدیلی یہ ہے کہ ملک کی لوٹ کر بیرونِ ملک میں پہنچی ہوئی دولت کو واپس لایا جا ئے۔ تب میں نے اس سے کہا کہ بیرونِ ملک پاکستانیوں کی 2700 جائیدادوں کا سراغ لگالیا گیا ہے۔ چودھری ماکھے نے انتہائی اطمینان سے پوچھا کہ یہ بتاؤ کہ کیا لوٹا ہوا ایک ڈالر بھی اب تک واپس لایا جاسکا ہے؟ آصف علی زرداری کے بارے میں آپ کہتے ہیں کہ سوئٹزرلینڈ کی حکومت تعاون نہیں کررہی۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا اس کے علاوہ اس کی دولت لانے کا کوئی اور طریقہ نہیں؟ سیدھا طریقہ جو معمولی عقل رکھنے والا شخص بھی جانتا ہے وہ یہ ہے کہ آصف علی زرداری کو پکڑ کر مجبور کیا جائے کہ وہ باہر سے اپنا ایک ایک پیسہ واپس لائے۔ مگر وہ ایسا نہیں کریں گے۔ ’کیوں نہیں کریں گے؟ ‘ میں نے پوچھا۔ ’چھوڑو اس بات کو۔ یہ بڑی لمبی کہانی ہے۔ لیکن میں کہتا ہوں وہ ایسا نہیں کریں گے۔ ورنہ کیا تم شرط لگاتے ہو؟‘۔ یہ کہہ کر چودھری نے میری جانب ہاتھ بڑھایا لیکن میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔


ای پیپر