نواز شریف اورمریم نواز کی رہائی اور مستقبل کی سیاست
23 ستمبر 2018 2018-09-23

اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی ڈویژنل بنچ نے نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو احتساب عدالت سے ملنے والی سزاؤں کو معطل کر کے انہیں ضمانت پر رہا کر دیا۔ جونہی یہ حکم سامنے آیا تو فوری طور پر سوشل میڈیا پر معزز جج صاحبان کے خلاف پروپیگنڈہ شروع ہو گیا۔ ان پر رکیک ذاتی حملوں کا آغاز ہو گیا۔ اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگوں اور خود ساختہ دانشوروں کی طرف سے یہ مطالبات سامنے آنے لگے کہ جیلوں میں قید سب ڈاکوؤں ، چوروں اور قاتلوں کو رہا کر دیجئے۔ سب لوگوں کو کھل کر لوٹ مار اور کرپشن کی اجازت دے دیں۔ اس فیصلے پر ہونے والے ردعمل نے یہ واضح کر دیا کہ ہم بری طرح سے منقسم ہیں ہم قانونی اور آئینی معاملات کو بھی اپنے سیاسی مفادات اور مخصوص سوچ کے تحت دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر کھلے ذہن اور سوچ کے تحت قانونی پہلوؤں پر بھرپور بحث ہوتی مگر اس کے برعکس معزز جج صاحبان کے خلاف زہریلا اور بے ہودہ پروپیگنڈہ شروع ہو گیا۔ اس حوالے سے سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جو لوگ احتساب عدالت کے فیصلے کو قانون اور انصاف کی فتح قرار دے رہے تھے اور ملک میں طاقت واروں کے خلاف احتساب کا دھنڈرا پیٹ رہے تھے وہ سبھی لوگ اس فیصلے کو ڈیل یا کسی مفاہمت کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ جو لوگ ہر وقت عدلیہ کی آزادی اور اس کے تقدس کے راگ الاپتے ہیں وہ خود کو عدلیہ کا محافظ قرار دیتے ہیں مگر حیرت انگیز طور پر اس فیصلے پر وہ خود عدلیہ کا مذاق اڑا رہے ہیں اور عدلیہ کو بے توقیر کر رہے ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ ان سب لوگوں کا انصاف اور قانون کا پیمانہ یہ ہے کہ جب فیصلہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے آئے تو یہ انصاف اور قانون کی فتح ہوتی ہے اور جب عدالتیں ان کو ریلیف دے دیں تو یہ کسی ڈیل یا مفاہمت کا نتیجہ ہوتا ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ جس قسم کا ردعمل سپریم کورٹ اور احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف مسلم لیگ (ن) کی طرف سے سامنے آیا تھا اور سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی برپا ہو گیا تھا اسی طرح کی صورت حال مسلم لیگ (ن) کے مخالفین کی طرف سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد پیدا کی گئی ہے۔ اس ملک میں سیاسی ، سماجی ، معاشی اور قانونی مسائل ، سوالات اور معاملات پر تنقیدی ، تخلیقی اور سنجیدہ بحث و مباحثے کے دروازے بہت حد تک پہلے ہی بند ہو چکے ہیں اور رہی سہی کسر بھی غیر سنجیدہ بحث ، الزامات اور بے ہودہ گفتگو کے ذریعے پوری کی جا رہی ہے۔ ہم بحیثیت مجموعی سماج ایک مخصوص ذہنی بیماری میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ اس کے زیر اثر ہم محبت اور نفرت کی انتہاؤں کو چھو رہے ہیں۔

ہم جس سیاسی، مذہبی اور ریاستی شخصیت سے محبت کرتے ہیں تو اسے ولی اور نہ جانے کس مرتبے پر فائز کرنے کے لئے رہتے ہیں اور اس کے خلاف بات کرنے والے کو غدار ، جاہل اور نہ نجانے کیا ثابت کرنے پر تلے رہتے ہیں اور جب کسی سے نفرت کرتے ہیں تو اس کی اچھائیوں کو بھی برائیوں میں تبدیل کر دیتے ہیں اور پھر ایسا اسے ایسا ولن بنا دیتے ہیں جو کہ تمام تر برائیوں اور غلطیوں کا منبع ہوتا ہے۔میں متعدد بار اپنے کالموں میں عرض کر چکا ہوں کہ میں میاں نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کی سیاست کا ناقد ہوں مگر جیسے ہی آپ تحریک انصاف کی سیاست اور پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں تو آپ پٹواری اور دیگر القابات سے نوازے جاتے ہیں۔ سنجیدہ مکالمے اور بحث و مباحثے کا گلہ گھونٹا جا رہا ہے۔ یہ دانش اور آزادی فکر کی کیسی آبیاری ہے کہ اہل دانش سے یہ توقع کی جائے کہ وہ اپنی سمجھ بوجھ اور دانش سے استفادہ کرنے اور اپنی آزادنہ رائے قائم کرنے کی بجائے کسی مخصوص گرو ، جماعت یا ادارے کی دانش اور سوچ کو پروان چڑھائیں۔ وہ اپنے سامنے ہونے والے واقعات اور سیاسی و سماجی عمل کو اپنی سوچ ، فکر اور دانش کی بجائے کسی اور کی نظر او نقطہ نظر سے دیکھیں اور بیان کریں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے سے مشکلات کے شکار شریف خاندان کو ریلیف ملا ہے۔پاناما لیکس سے شروع ہونے والی طویل قانونی و عدالتی جنگ میں انہیں پے در پے شکستوں اور پسپائی کا سامنا کرنا پڑا۔ شریف خاندان کو اس صورت حال تک پہنچانے میں جہاں دوسروں کی مہربانیاں شامل ہیں وہیں پر اپنی غلطیاں ، خامیاں اور کمزوریاں بھی شامل ہیں۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ اگر نیب کے پاس ایون نیلڈ فیلٹس کی ملکیت کے ثبوت نہیں ہیں تو یہی صورت حال شریف خاندان کی بھی ہے۔ ان کے پاس بھی کئی سوالات کے تسلی بخش جوابات نہیں ہیں۔

یہ درست ہے کہ شریف خاندان کو عارضی ریلیف مل گیا ہے جس کی ان کو اشد ضرورت تھی۔ میاں نواز شریف اور مریم نواز کی رہائی سے ان لوگوں کو یقیناًمایوسی ہو گی جو کہ مسلم لیگ (ن) کے ٹوٹ کر بکھرنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ ٹی وی سکرینوں پر روزانہ نمودار ہونے والے جفادری تجزیہ نگاروں نے تو مسلم لیگ (ن) کے خاتمے کا اعلان بھی کر دیا تھا۔ ان کی رہائی سے مسلم لیگ (ن) کے ورکروں میں یقیناًحوصلہ اور ہمت بڑھے گی اور جو مایوسی جنم لے رہی تھی اس کا خاتمہ ہو گا۔

مریم نواز اگر اس مقدمے سے مکمل طور پر بری ہو گئیں تو ان کے لئے سیاست کے دروازے کھل جائیں گے اور وہ مسلم لیگ (ن) کے مقبول چہرے کے طور پر سیاست کے میدان میں موجود ہوں گی۔ مگر میاں نواز شریف کے لئے ابھی بہت سارے امتحان باقی ہیں۔ ان کے خلاف دو ریفرنس زیر سماعت ہیں جن میں اگر ان کو سزا ہو گئی تو وہ واپس جیل پہنچ جائیں گے۔ اس لئے ان کے سامنے ابھی طویل قانونی و عدالتی جنگ باقی ہے جس میں سے انہیں گزرنا ہو گا۔

اگلے عرصے میں مسلم لیگ (ن) اور میاں نواز شریف کی طرز سیاست یہ واضح کر دے گی کہ وہ اپنے پرانے بیانیے پر چلیں گے یا پھر مفاہمت اور مصالحت کی سیاست کو آگے بڑھائیں گے۔ نواز شریف اور مریم نواز کی جارحانہ سیاست تحریک انصاف کے لئے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ اگر نواز شریف جلد دوسرے ریفرنس میں جیل نہ گئے اور انہیں چند ماہ جیل سے باہر گزارنے کا موقع مل گیا تو مسلم لیگ (ن) بلدیاتی انتخابات میں بہتر نتائج دے پائے گی۔ تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت کا اصل امتحان تو بلدیاتی اور انتخابات میں ہو گا۔ جہاں دونوں کے درمیاں زبردست مقابلہ متوقع ہے۔

اس وقت جاری عدالتی و قانونی معاملات کا جو بھی نتیجہ نکلے مگر وقتی طور پر نواز شریف کی رہائی سے مسلم لیگ (ن) کی سیاست کو فائدہ پہنچے گا۔ اور تحریک انصاف پر سیاسی دباؤ بڑھے گا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد اگر نواز شریف دوبارہ جیل بھی چلے جاتے ہیں تو اس سے اتنا سیاسی نقصان نہیں ہو گا جتنا پہلی بار جیل جانے سے پہنچا۔ اب وہ زیادہ بہتر طریقے سے مظلوم بن سکیں گے۔ جب تک سب کے احتساب کا بلا امتیاز عمل شروع نہیں ہو گا اور مخصوص افراد کو نشانہ بنایا جاتا رہے گا اس وقت تک منتخب احتساب کا نشانہ بننے والے اس سے سیاسی فائدہ اٹھاتے رہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ احتساب کو سیاسی نعرے کی بجائے عملی طور پر سب کے احتساب کے کھلے اور آزادانہ عمل میں تبدیل کیا جائے تا کہ احتساب کے عمل پر انگلیاں نہ اٹھیں۔ غیر جانبدارانہ اورشفاف احتساب کے بغیر یہ عمل کبھی بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے گا۔

ہماری احتساب کی تاریخ اور روایات درخشاں نہیں ہیں۔ اسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے مگر ہم اپنی غلط روایات اور تاریخ سے چمٹے ہوئے ہیں بلکہ اس کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں۔ ہم سب دوسرے کا احتساب چاہتے ہیں اور اپنے لئے استثناء اور رعایتیں مانگتے ہیں۔ ہم دوسروں کو کڑے احتساب سے گزارنا چاہتے ہیں مگر خود کو یہ رعایت اور نرمی کا مستحق سمجھتے ہیں۔ اس سوچ کو بھی بدلنے کی ضرورت ہے۔ احتساب کے عمل کو اتنا شفاف آزادانہ بنانے کی ضرورت ہے کہ کسی کو بھی اس پر انگلی اٹھانے کا موقع نہ ملے۔


ای پیپر