نریندر مودی اور شدھی اور سنگٹھن کی تحریکوں کا احیاء
23 ستمبر 2018 2018-09-23

مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد بھارتی جنگی جنون میں اضافہ ہوچکا ہے اور وہ پاکستان مخالف جارحانہ اور توسیع پسندانہ عزائم کا بھی کھلم کھلا اظہار کر رہا ہے۔ امریکیوں کو یہ تاثر زائل کرنا ہو گا کہ خطے میں صورت حال کو وہ کسی بھی عنوان سے عدم توازن کا شکار نہیں ہونے دے گا۔یہاں اس امر کا ذکر بے جا نہ ہو گا کہ امریکی حکام 2007ء سے تادم تحریر اعتراف کرتے اور یقین دلاتے چلے آرہے ہیں کہ ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں فرنٹ لائن سٹیٹ کا کردار ادا کر رہا ہے،پاکستان انسدادِ دہشت گردی کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے اور ہم اس حوالے سے پاکستان کی ہر قسم کی کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گے‘‘۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ مذاکرات کے بعد امریکی صدر اوباما نے2015ء دلی کے حیدر آباد ہاؤس میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’ امریکا اور بھارت 2عظیم جمہوریتیں ہیں، بھارت سے بہتر تعلقات امریکی خارجہ پالیسی میں سرفہرست ہیں،عالمی امن کے قیام میں بھارت کا اہم کردار ہے،بھارت کے ساتھ مضبوط تعلقات بہت ضروری ہیں، بھارت کے ساتھ دفاع اور تجارت سمیت کئی شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا چاہتے ہیں،سول جوہری معاہدے کے اطلاق کی راہ میں ٹھوس پیش رفت ہوئی ہے اور ان دو اختلافات پر سمجھوتہ ہوا ہے جن کی وجہ سے یہ معاہدہ اٹکا ہوا تھا‘۔وزیر اعظم نریندر مودی کا کہنا تھا کہ’ تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے، اب اس معاہدے کی بنیاد پر کمرشل تعاون کی راہ ہموار ہوگئی ہے اور امریکہ کے ساتھ جو سمجھوتہ ہوا ہے وہ موجودہ بھارتی قانون اور ہندوستانی کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے دائرے میں ہے‘۔ بعد ازاں صدر اوباما نے سلامتی کونسل میں بھارت کی مستقل رکنیت کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ’ افغانستان میں امریکہ کا جنگی مشن ختم ہو چکا ہے ، امریکہ اور بھارت افغانستان کے قابل اعتماد پارٹنر رہیں گے‘۔ بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ’ امریکہ اور بھارت کی دوستی فطری گلوبل پارٹنر شپ ہے ، یہ پارٹنرشپ دونوں ملکوں اور دنیا کے امن، استحکام اور خوشحالی کے لئے ضروری ہے، ہمارے تعلقات تبدیلی کے دور سے گزر رہے ہیں، دونوں ملکوں کے درمیان ہاٹ لائن قائم کرنے پر بھی اتفاق ہوا، ہم جدید دفاعی ٹیکنالوجی میں بھی تعاون کی راہیں تلاش کریں گے‘۔ امریکہ نے بھارت کے بارے میں جو رویہ اپنایا ہوا ہے وہ پاکستان کے لئے خاصا تکلیف دہ ہے۔ جان کیری نے بھارتی دورے میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی تعریف کی اور ان کو ویژنری لیڈر قرار دیا۔ امریکہ نے اسی نریندر مودی کو گجرات کے 2 ہزار مسلمانوں کا قاتل قرار دے رکھا تھا اور اس کے وزیراعظم بننے سے پہلے اس کو ویزا دینے سے انکار کردیا گیا تھا۔کون نہیں جانتا کہ پاکستان ہر دور میں امریکیوں سے تعاون کرتا رہا ہے ۔ اس کا صلہ پاکستان کو کیا ملا؟۔۔۔سرد جنگ کے زمانہ میں افغانستان میں امریکی جنگ کا صلہ پاکستان کو کلاشنکوف اور ہیروئن کلچر تو 9/11 کے بعد دہشت گردی کے خلاف مبینہ بین الاقوامی جنگ میں جب پاکستان دوبارہ امریکہ کی فرنٹ لائن سٹیٹ بنا تو اس مرتبہ اسے امریکہ نوازی کا انعام خود کش بمبار وں کی خوفناک شکل میں ملا۔ نتیجتاًہولناک دہشت گردی پاکستان میں درآئی۔ مزید برآں پاکستان کی داخلی معیشت کو 110ارب ڈالر کا نقصان پہنچا۔اس پر طرہ یہ کہ امریکی ڈرونز نے اس دوران پاکستان کی فضائی حدود کی تقریباً 400بار خلاف ورزی کرکے اس کی قومی سلامتی اور اقتدار اعلیٰ کو پامال کیا۔

امریکی انتظامیہ اپنے جوہری اتحادی اور گلوبل پارٹنر بھارت کو خطے کا تھانیدار بنانے کی منصوبہ بندی کر چکی ہے۔ یہ سب کچھ وہ حفظ ماتقدم کے طور پر کر رہی ہے۔ امریکی اور بھارتی حکومتوں کو اس امر کا کامل ادراک ہے کہ خطے میں چین کی تیزرفتار اقتصادی ترقی کے باعث ہمسایہ ممالک کا مثبت رجحان چین کی طرف ہے اور خطے کی عالمی اقتصادی طاقت کی حیثیت سے وہ تنہا عالمی طاقت کے عزائم کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ مودی اور اوباما نے بار بار اپنے بیان میں یہ تاثر دیا کہ دونوں ممالک فطری اتحادی ہیں۔ یہ ایک زمینی حقیقت ہے کہ امریکہ اور بھارت میں کئی اقدار مشترک ہیں۔ اس کے باوجود اہل بھارت کو معلوم ہونا چاہئے کہ بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ امریکی مفادات میں تبدیلی آ جاتی ہے آج اس کی نگاہ میں بھارت کو اہمیت حاصل ہے تو کل اس میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ پاکستان کو اس کا تلخ تجربہ ہو چکا ہے۔ امریکہ دنیا کی سپر پاور کی حیثیت سے تمام دنیا کے کمزور ممالک کو اپنا تابع مہمل بنانے کو اپنا استحقاق جانتا ہے اور اسی طرح بھارت بھی کمزور ہمسایہ ممالک برما، سکم، نیپال، بھوٹان ، سری لنکا اور بنگلہ دیش کو دباؤ میں رکھنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ امریکی بھی اپنے مفادات کے لئے پیشگی حملے کی ڈاکٹرائن کو استعمال کرنے کے لئے عذر ہائے لنگ کی تلاش میں رہتے ہیں جبکہ بھارت نے بھی ممبئی حملوں کے بعد پیشگی حملوں کی ڈاکٹرائن کے تحت پاکستان کے خلاف سرجیکل سٹرائیکس کا اعلان کیا تھا۔ امریکہ اور بھارت دونوں کا اتحاد اس امر کا واضح اشارہ ہے کہ وہ چین کے خطے میں بڑھتے ہوئے اثرات کو محدود کرنے کے لئے چین کے گرد گھیرا تنگ کرنا چاہتا ہے۔ جیسا کہ اس نے سابق سوویت یونین کو شکست دینی کی خاطر پاکستان کو خوب خوب اہمیت دی تھی اور بھارت اس پر بہت واویلا مچاتا تھا کہ اسے نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدوں ایف ایم سی ٹی، این پی ٹی اور سی ٹی بی ٹی پر دستخط نہ کرنے والے ملک کو جوہری ہتھیار سازی کے شعبے میں کھلی چھٹی دینے کے مضمرات اور نتائج و عواقب پر بھی نگاہ رکھے۔یہاں اس امر کا ذکر بے جا نہ ہوگا کہ ستمبر2013ء کو امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیا تھا کہ ’ امریکا نے جاسوسی کے لیے پاکستان میں دنیا کا مہنگا ترین اور وسیع جاسوسی نظام قائم کیا ،نئے سیل بنائے اوراس کے ایٹمی پروگرام کی نگرانی بڑھادی۔ امریکاکوپاکستان کی جوہری تنصیبات کی سکیورٹی پر شدید تحفظات ہیں اوراسے خدشہ ہے کہ پاکستان میں موجود شدت پسند کیمیائی ہتھیار بنالیں گے‘۔ حالانکہ بھارت میں خود مختاری کی تحریکیں ارنچل پردیش، آسام، بوڈالینڈ، کھپلنگ میگھا لیا، میزو رام، ناگا لینڈ، تیرہ پورہ، بندیل کھنڈ، گورکھا لینڈ، جھاڑ کھنڈ وغیرہ میں برسوں سے جاری ہیں۔ کیا ان تحریکوں کے بانی اور کارکنان بھارت کے ایٹمی اثاثوں کیلئے کسی خطرے کا موجب نہیں بن سکتے ہیں؟ کیا یہ بھارت کے ’’طالبان‘‘ نہیں ہیں پھر بھارت کے ایٹمی اثاثوں کو بربادی اور تہس نہس ہونے سے بچانے کیلئے امریکی خفیہ پلاننگ کیوں نہیں کر رہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ بھارت عسکریت پسندوں اور انتہا پسند ہندو دہشت گردوں کی جنت ہے۔یہی وجہ ہے کہ بھارت یاترا کے بعد صدر اوباما کو یہ بیان دینا پڑا کہ بھارت ترقی کے لیے مذہبی روا داری اپنائے تو امریکہ اس کا بہترین پارٹنر بن سکتا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ایک ہندو انتہا پسند دہشت گرد جماعت کے سربراہ بھی ہیں۔ اُن کے ہاتھ گجرات کے ہزاروں مسلمانوں کے خون سے تر ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مذہبی روا داری پر یقین رکھنے والا کوئی بھی حقیقی جمہوریت دوست ملک ہندو انتہا پسندی اور دہشت گردی کے گڑھ بھارت کو کبھی اپنا قابل اعتماد دوست تصور نہیں کرسکتا۔

امریکی صدور نے جوہری معاملات کے حوالے سے بھارت کو فری ہینڈ دے رکھا ہے اور جملہ پابندیوں کو ہٹانے کا بھی اعلان کیا ہے۔ ایسے میں حکومت پاکستان اور عسکری اسٹیبلشمنٹ کو یہ حقیقت تسلیم کر لینا چاہئے کہ پاکستان امریکی مفادات کی جنگ میں بھلے سے اس کی فرنٹ لائن سٹیٹ، نان نیٹو اتحادی بن کر اس کے اہداف و عزائم کی تکمیل میں کتنی ہی مدد کیوں نہ فراہم کریں۔۔۔ وہ امریکیوں کو 400 سے زائد بار پاکستان کی فضائی حدود کی پامالی کی اجازت کیوں نہ دیں، امریکی وقت آنے پر اپنا وزن پاکستان کے فطری حریف بھارت ہی کے پلڑے میں ڈالیں گے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ امریکی حکام دہشت گردی کے حوالے سے جب پاکستان کو موردِ تنقید بناتے ہیں تو وہ بھارتی حکمرانوں کے لب و لہجہ ہی میں پاکستان کی کردار کشی کرتے ہیں۔

مودی حکومت پاکستان کے ساتھ سخت عناد کے جذبات رکھتی ہے جس کے اظہار میں اس نے کبھی کوئی کمی نہیں رہنے دی۔۔ نریندر مودی کے برسر اقتدار آتے ہی امریکی حکام نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ بھارت میں زعفرانی انقلاب کو خوش آمدید کہتے ہیں اور اِسے عملی جامہ پہنتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ زعفرانی رنگ کٹر بنیاد پرست اور انتہا پسند جن سنگھ پریوار کی سیاسی جماعتوں کا مذہبی انتہا پسندی کا ایک حوالہ ہے۔ گویا امریکی حکام نے نریندر مودی کے گجرات کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے مسلمانوں کے بے دریغ قتل عام کے جرم کو اُن کے برسر اقتدار آتے ہی معاف کر دیا۔ہر کوئی جانتا ہے کہ سیکولر بھارت کے نعرے کی آڑ میں نریندر مودی اور اُس کی ہمنوا سیاسی جماعتیں بھارت میں21 ویں صدی کے دوسرے عشرے کی انتہا پسندانہ شدھی اور سنگٹھن کی تحریکوں کا احیاء کر رہے ہیں اور بھارت میں ہندو دہشت گردی کی علامت عسکری گروہوں کی باقاعدہ پشت پناہی کی جا رہی ہے۔


ای پیپر