’’ اپنی بھوک کو ہمیشہ چھپا کے رکھنا چاہئے ۔۔۔؟‘‘
23 ستمبر 2018 2018-09-23

’’امی جان آج آلو گوشت پکا لیں ۔۔۔ ‘‘

سعدی نے مشورہ دیا تو شمع باجی نے اپنے دونوں گال پھلا کے اُسے دکھائے اور ہنستے ہوئیں بولیں ۔۔۔ ’’سعدی Basically تم خود آلو لگتے ہو شکل سے جبھی تو تمہیں آلو گوشت جیسی ڈش پسند ہے ۔۔۔؟‘‘ ’’ویسے تمہیں پتہ ہے امریکہ میں آلو سے 500 ڈشیز تیار ہوتی ہیں؟‘‘ ۔۔۔

سعدی بھاگ کھڑا ہوا ۔۔۔ ’’امی یہ بد تمیزی ہے میں کہاں سے آلو لگتا ہوں ۔۔۔‘‘ وہ شیشے کے سامنے کھڑا خود کو بار بار مختلف انداز سے دیکھ رہا تھا اور غصے میں بول رہا تھا۔۔۔

’’نہیں تو ۔۔۔ میرا بیٹا تو اچھا بھلا بھالو ہے ۔۔۔‘‘

’’ہائیں ۔۔۔ امی آپ بھی ۔۔۔‘‘ آلو اور بھالو میں بھلا کیا فرق ہے سبزی نہ سہی جانور ہی سہی ۔۔۔؟‘‘

شمع باجی اُٹھ کھڑی ہوئیں ۔۔۔ اُنہوں نے سعدی کا منہ دونوں ہاتھوں سے پکڑا، ادھر اُدھر گھمایا اور ایک جگہ روک کے بولیں ۔۔۔ ’’یہ دیکھو یہاں سے دیکھو اب آلو لگ رہے ہو ناں ۔۔۔ بس ذرا تمہارا رنگ سفید ہے اس لیے سردیوں کے آلو جیسے لگ رہے ہو ۔۔۔‘‘

سعدی نے اپنا سر شمع باجی سے چھڑایا اور دور جا کر بیٹھ گیا ’’امی پھر آپ ناں ۔۔۔ چنے کی دال ہی پکا لیں جو آپ کو بہت پسند ہے اور سستی بھی ۔۔۔؟‘‘ ارجو نے مشورہ دیا ۔۔۔ ’’ہم تو بھائی اچار سے روٹی کھا لیں گے‘‘ ۔۔۔؟ لائبہ نے سنجیدگی سے کہا ۔۔۔ ’’یہ دال پتہ نہیں کہاں سے تختہ زمین پر نمودار ہوئی تھی ۔۔۔ یہاں تو لگتا ہے سب کو ہماری پسند سے نفرت ہے‘‘ ۔۔۔؟

’’ہمیں تمہاری پسند سے نفرت نہیں ۔۔۔ ہمیں خود بھی پسند ہے لیکن وہ ’’گدھا‘‘ لوگ جو بیچ میں آ گھسے ہیں ۔۔۔ ہم اُن کا کیا کریں ۔۔۔! ارے ہاں شمع مجھے یاد آیا میں نے کچھ دن ہوئے اخبار میں پڑھا تھا کہ ’’مٹن‘‘ کے نام پر ہمیں ’’گدھا‘‘ کئی ٹن کے حساب سے کھلایا جا چکا ہے ۔۔۔‘‘

’’امی یہ نہ ہو لائبہ ۔۔۔ تھوڑی بڑی ہو کے ڈھینچوں ڈھینچوں کی آوازیں نکالنا شروع کر دے ۔۔۔ یا ۔۔۔ سعدی دولتیاں مارنا شروع کر دے ۔۔۔!‘‘

سعدی جو ناراض ہو کے دور کھڑا تھا بھاگ کے آ گیا ۔۔۔ ’’اوہ شمع باجی ۔۔۔ اللہ قسم اگر ایسا ہوا تو سب سے پہلی دولتی میں آپ پر آزماؤں گا‘‘ ۔۔۔ ’’پھر تمہارا نام بھی ہم گدھا بھائی رکھ دیں گے ۔۔۔؟‘‘ شمع باجی نے ہنستے ہوئے کہا۔

’’ادھر بھوک لگنے لگی ہے آپ کی کھانے پینے کی باتیں سن کے اُدھر آپ لوگ ابھی تک فیصلہ نہیں کر پائے ۔۔۔ شمع باجی ذرا اپنا موبائل دینا ۔۔۔ میں ’’زبیدہ آپا‘‘ کو فون کر کے مشورہ کر لیتا ہوں کہ آج ہمیں کیا پکانا چاہئے ۔۔۔؟ اور موسم کی تبدیلی کے اعتبار سے ہمیں آج کیا کھانا بہتر رہے گا‘‘ ۔۔۔؟ ارجو نے موبائل فون چھینتے ہوئے کہا ۔۔۔

’’بکواسی ۔۔۔ کمینے میری گیم خراب کر دی ۔۔۔ میں کہاں سے کہاں جا چکی تھی ۔۔۔ ’’لُڈو کے سانپ‘‘ جیسا رول پلے کر دیا ہے تم نے‘‘ ۔۔۔

شمع باجی ناراض ہو گئیں۔

’’امی ۔۔۔ چونکہ سب کے موڈ آف ہوتے چلے جا رہے ہیں اس لیے آپ ’’سستا برگر‘‘ والوں کو فون کریں اُن کی آجکل ایک نئی DEAL چل رہی ہے ’’چار کے پیسوں میں چھ برگر۔۔۔‘‘ سعدی نے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے محبت سے کہا۔

’’جاہل ۔۔۔ گنوار ۔۔۔ دوپہر میں کون برگر کھاتا ہے ۔۔۔ یہ تو شام کے بعد بندہ وہاں جا کر کھائے اور اُن کی مفت ملنے والی کیچ اپ بھی کلو دو کلو کے حساب سے ضائع کرئے‘‘ ۔۔۔ شمع باجی نے ٹوکا۔

تو وہ پھر سے ناراض ہو گیا اور دور جا بیٹھا۔۔۔ بحث مباحثے میں دو بج گئے ۔۔۔ فیصلہ نہ ہو پایا۔ مگر بھوک تو سب کو لگ رہی تھی ۔۔۔

’’ٹھک ٹھک ٹھک ۔۔۔‘‘ کوئی باہر زور زور سے دورازہ پیٹ رہا تھا ۔۔۔ ’’سعدی دیکھنا ۔۔۔ باہر کون ہے‘‘ ۔۔۔؟ امی نے کہا ۔۔۔ ’’امی میں تو ناراض ہوں سب سے بے عزتی بھی کرواؤں اور سارے کام بھی میں کروں ۔۔۔‘‘

’’ٹھک ٹھک ٹھک ‘‘ ۔۔۔ ’’ٹھک ٹھک ٹھک ‘‘ ۔۔۔ ’’یہاں تو کسی کا کام کرنے کو دل نہیں چاہتا ۔۔۔ امی آپ نے کیا جاہلوں سے مشاورت شروع کر دی ہے ۔۔۔ جیسے اسمبلی کا اجلاس ہو اور سب اپنی اپنی ہانک رہے ہوں ۔۔۔ یہ پکا لو ۔۔۔ آپ اپنی مرضی کریں ۔۔۔ اور سیدھا چنے کی دال پکائیں ۔۔۔ ’’لمبا پانی‘‘ اور ’’زیادہ مرچیں‘‘ ڈال کے ۔۔۔ یہ سب انگلیاں چاٹتے پھریں گے اور مسئلہ بھی حل ہو جائے گا ۔۔۔‘‘

شمع باجی نے اپنا مشورہ دیتے ہوئے کہا ’’حکم صادر‘‘ کر دیا اور تیز تیز قدم اُٹھاتی باہر کی طرف چل پڑیں۔

دو منٹ بعد آئیں تو ایک بڑی سی فل بھری پلیٹ ’’بریانی‘‘ کی اُن کے ہاتھوں میں تھی ۔۔۔ دھواں نکل رہا تھا اور خوشبو ماحول کو مہکا رہی تھی ۔۔۔ جیسے ہولے سے بہار آ جائے ۔۔۔ سب للچائی ہوئی نظروں سے کبھی شمع باجی اور کبھی اُن کے ہاتھوں میں تھامی ’’بریانی‘‘ کی پلیٹ کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔ ’’امی وہ جو پرانی حویلی والے ہیں ناں رمضان سنیارا انکل اُن کی دادی اماں کا سالانہ ختم تھا ۔۔۔ یہ بریانی اُن کے گھر سے آئی ہے’’ شمع باجی نے کہا ۔۔۔ پلیٹ فل آف ۔۔۔

’’بریانی‘‘ ۔۔۔ نہایت احترام (ہولے سے) سے ٹیبل پر رکھی اور مسکراتے ہوئے ’’بریانی کی پلیٹ‘‘ پر سجی بکرے کی نہایت خوبصورت دھواں دھار بوٹیوں کو محبت سے گھورنے لگیں۔۔۔ چمچ اُن کے ہاتھ میں تھا ۔۔۔ مایوسی کے نہایت چمکدار بادل سب بچوں پر چھائے ہوئے تھے ۔۔۔ سخت دھوپ اور سب بچوں کی گھر پر موجودگی کے باوجود گھر پر ’’ہو‘‘ کا عالم طاری تھا۔ شمع باجی کا جس چیز پر قبضہ ہو جائے اُس کو آسانی سے چھڑنا کب ممکن ہے ۔۔۔

جب شمع باجی نے ماحول پر اس قدر سنجیدگی دیکھی اور سب کے چہروں پر ’’پریشانی‘‘ نمودار ہوئی تو اُنہوں نے چمچ خالی پلیٹ میں رکھ دیا اور چھ اور چمچ باورچی خانے سے لے آئیں ۔۔۔

’’ارے عدنان کے بچے ۔۔۔ لگتا ہے تم ’’بریانی کی پلیٹ‘‘ دیکھ کر رونے لگو گے ۔۔۔؟ اُٹھ اور سب کو بلا لے ۔۔۔ کیونکہ رمضان انکل کی ملازمہ ایک پلیٹ اور لینے گئی ہے ۔۔۔ اُس نے بتایا تھا کہ انکل نے خاص طور پر ہمارے ہاں بریانی کی دو پلیٹیں بجھوانے کا کہا تھا ۔۔۔‘‘

سب بچے مسکراتے ہوئے بڑی ٹیبل کے گرد جمع ہو گئے ’’ٹھک ٹھک ٹھک‘‘ دروازے پر پھر سے دستک ہوئی ۔۔۔ سب بچے دروازے کی طرف بھاگنے لگے ۔۔۔

’’جاہل بچو ۔۔۔ ادھر ہی رُکو ۔۔۔ میں جاتی ہوں ۔۔۔ کیونکہ اپنی بھوک ہمیشہ چھپا کے رکھنی چاہیے؟‘‘ ۔۔۔

سب بچے ہنسنے لگے اور شمع باجی ’’بریانی کی دوسری پلیٹ‘‘ لینے چلی گئیں ۔۔۔!!!


ای پیپر