سعودی عرب کا قومی دن اوروزیر اعظم کا دورہ
23 ستمبر 2018 2018-09-23

سعودی عرب کا قومی دن ہر سال 23ستمبر کو منایا جاتا ہے اور یہی وہ دن ہے جب مملکت سعودی عرب کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ یہ وہ عظیم خطہ ہے کہ جہاں مسلمانوں کے دو حرم (مسجدالحرام اور مسجد نبوی) ہیں۔حرمین شریفین کی وجہ سے ہی برادر اسلامی ملک کو پوری دنیا میں نمایاں مقام حاصل ہے۔مکہ مکرمہ کی عظمت و رفعت کی تاریخ اسی دن سے شرو ع ہوجاتی ہے جب پروردگار عالم نے فرشتوں کو عرش کے بالکل نیچے بیت اللہ کی تعمیر کا حکم دیا تھا۔پھر یہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قدم مبارک پڑے اور دونوں باپ بیٹے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کو اللہ رب العزت نے اپنے گھر کی تعمیر کا شرف بخشا۔شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن السعود نے 1932ء میں عرب دنیا کے سب سے بڑے 78 ہزار مربع میل پر پھیلی ہوئی اس مملکت کی بنیاد رکھی۔انہوں نے تقریبا بیس برسوں تک اس کی ترقی کے لئے شب و روز محنت کی۔ مارچ 1938ء میں تیل کے ذخائر دریافت ہونے کے بعد وہاں زبر دست معاشی انقلاب برپا ہو ا۔شاہ عبدالعزیز کے بعدان کے بیٹوں شاہ سعود ،شاہ فیصل،شاہ خالد، شاہ فہد اورشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے سعودی عرب اور امت مسلمہ کے لئے تاریخ ساز کردار ادا کیا ۔ اب خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اپنے آباؤ اجداد کی روشن تاریخ پر گامزن ہوکر حرمین شریفین کی پاسبانی ، مسلمانوں کی فلاح و بہبود اور عالم اسلام کی قیادت کا فریضہ بحسن و خوبی انجام دے رہے ہیں۔شاہ سعود بن محمد سے لیکر شاہ سلمان بن عبدالعزیز تک اس عظیم خاندان نے سعودی عرب کو ایک مکمل فلاحی اسلامی مملکت بنانے میں نہ صرف عظیم قربانیاں دی ہیں بلکہ ایک طویل جدوجہد کے ذریعے اسلامی معاشرہ قائم کر دیا ہے۔ ایک دوسرے کا احترام ،جان ومال کا تخفظ اور امن و امان کی شاندار مثال مملکت سعودی عرب میں دیکھی جاسکتی ہے۔یہ وہ ملک ہے جو اسلامی عقائد اور دینی اقدار کے تحفظ کیلئے فعال کردار اداکررہا ہے۔پاکستان اور سعودی عرب کے شروع سے برادرانہ تعلقات قائم ہیں۔ سعودی حکمرانوں کی پاکستان سے والہانہ محبت اور چاہت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ وہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر قرار دیتے ہیں اور انہوں نے اپنے عمل سے ثابت کیاہے کہ وہ ہر مشکل وقت میں وطن عزیز پاکستان کے ساتھ ہیں۔ سعودی عرب کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ قدرتی وسائل سے مالا مال کر رکھا ہے۔ جب کبھی زلزلہ ، سیلاب یا تھرپارکر جیسے علاقوں میں قحط سالی کی صورتحال پیدا ہوئی سعودی عرب اسی وقت وطن عزیز پاکستان کے مصیبت زدہ عوام کا سہارا بنا ہے۔1965ء کی پاک بھارت جنگ ہو، روس کے افغانستان پر حملہ کے وقت افغان پناہ گزینوں کی امداد کا مسئلہ ہو، آزاد کشمیر و سرحد میں آنے والا خوفناک زلزلہ یا 2010ء اور 2011ء میں آنے والے خوفناک سیلاب ہوں سعودی عرب کبھی پیچھے نہیں رہا۔مسئلہ کشمیر پر برادر اسلامی ملک نے ہمیشہ پاکستانی موقف کی حمایت کی۔ پاکستان کے ایٹمی دھماکے کرنے پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی بات کی گئی تو اس نازک اور مشکل وقت میں یہ سعودی عرب ہی تھا جس نے پاکستانی حکمرانوں کا حوصلہ بڑھا یااور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ اس طرح اگر یہ کہاجائے کہ پاکستان کے ایٹمی دھماکوں میں مملکت سعودی عرب کا بھی اہم کردار ہے تو یہ بات غلط نہ ہو گی۔ غرضیکہ دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات ہر آزمائش پر پورا اترے ہیں۔

اس وقت بھی جب پاکستان مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔بیرونی قرضے اداکرنے کیلئے خطیر رقم اور اپنی معیشت بہتر بنانے کیلئے بڑے سرمایے کی ضرورت ہے سعودی عرب نے وزیر اعظم عمران خان کے حالیہ دورہ کے دوران وطن عزیز پاکستان میں 10ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ اگلے ماہ اکتوبر میں سعودی حکام کا اعلیٰ سطحی وفد پاکستان آئے گااور جلد سی پیک کے منصوبوں پر کام شروع کیا جائے گا۔ اگرچہ کچھ عرصہ قبل سعودی عرب کی جانب سے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہارکیا گیا تھا تاہم اب پاکستان نے برادر اسلامی ملک کو باضابطہ طور پر اس میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔وزیر اعظم عمران خان کا حالیہ دورہ سعودی عرب بہت کامیاب رہا ہے۔ ان کے سرزمین حرمین الشریفین پہنچنے پر جس طرح جدہ کی سڑکوں کو پاکستانی پرچموں سے مزین کیا گیا ماضی میں ایسے شاندار استقبال کی مثال ملنا بہت مشکل ہے۔ وزیر اعظم نے خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ولی عہد محمد بن سلمان اور دیگراعلیٰ سول اور فوجی حکام سے ملاقاتیں کیں۔اس دوران برادر اسلامی ملک نے گوادر میں آئل سٹی بنانے اور سی پیک کے دیگر منصوبہ جات پر وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب میں سٹریٹیجک نوعیت کے ان تعلقات سے دونوں ملکوں کی دوستی مزید مضبوط ہو گی ۔ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے دورہ سعودی عرب کو بین الاقوامی میڈیا میں زبردست کوریج دی گئی ہے اور سی پیک میں برادر اسلامی ملک کی شمولیت سے بھارت کی طرح دیگر کئی ایسی قوتیں پریشان ہیں جو پاکستان کو کسی طور مضبوط و مستحکم ہوتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتیں۔ وزیر اطلاعات فوادچودھری نے دورہ سعودی عرب سے واپسی پر پریس کانفرنس کی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ سعودی عرب سی پیک میں تیسرا پارٹنر ہو گا اورو ہ اقتصادی راہداری منصوبوں میں بڑی سرمایہ کاری کرے گا ۔ اپنی پریس کانفرنس میں انہوں نے سعودی حکومت اورعوام کے شاندار استقبال کا بھی تذکرہ کیا اور اس پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے حالیہ دورہ کے دوران ایک عرب ٹی وی کو انٹرویو بھی دیا اور واضح طور پر کہا کہ وہ حوثی باغیوں کی طرف سے کئے جانے والے حملوں کے خلاف سعودی عرب کے ساتھ ہیں اور مملکت کے دفاع کیلئے بھرپور تعاون کریں گے۔ پاک سعودی تجارتی تعلقات مضبوط ہوتے ہیں تو ملک میں سرمایہ کاری آئے گی اور ملکی معیشت مضبوط ہو گی۔پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دوستانہ تعلقات میں اس وقت جو گرمجوشی دیکھنے میں آرہی ہے اس میں پاکستان میں تعینات سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کا بھی کردار نمایاں ہے۔تحریک انصاف کے انتخابات جیتنے کے بعد کسی ملک کے وہ پہلے سفیر تھے جنہوں نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی ۔ بعدازاں بھی وہ وزیر اعظم عمران خان ،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور دیگر اعلیٰ حکام سے مسلسل ملاقاتیں کرتے رہے ہیں۔اسلام آباد میں تعینات موجودہ سفیر پاکستان میں ملٹری اتاشی بھی رہ چکے ہیں اس لئے وہ یہاں کے حالات اور معاملات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ سفارتی حلقوں میں وہ اچھی شہرت رکھتے ہیں اور ایک کامیاب سفارت کار ہیں۔ گزشتہ روز دنیا بھر میں سعودی یوم الوطنی منایا گیا ہے اور رواں ہفتہ اس سلسلہ میں تقریبات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ہم سعودی عرب کے قومی دن کے موقع پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں اور اپنی اس نیک خواہش کا اظہا رکرتے ہیں کہ برادر اسلامی ملک سعودی عرب یونہی امت مسلمہ کی قیادت و رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیتا رہے اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے دینی مرکز کو ہر قسم کی سازشوں سے محفوظ رکھے۔ آمین۔


ای پیپر