افواج پاکستان: ناقابل تسخیر معاشی پاکستان کی محافظ
23 ستمبر 2018 2018-09-23

اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں، بلوچستان اور کراچی میں ہونے والے اکثر دہشت گردانہ اور تخریب کارانہ وارداتوں کے پیچھے دہلی سرکار اور بھارتی فوج کی خفیہ ایجنسی را کا ہاتھ ہے۔ اس امر کا اقرار نریندر مودی ڈھاکہ یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کر چکے ہیں کہ 1970-71ء میں متحدہ پاکستان کے مشرقی حصے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کی سازش بھارت نے تیار کی ، اسی سازش کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے پہلی مرتبہ بھارت کی خفیہ ایجنسی را کا قیام عمل میں لایا گیا اور پھر کلکتہ میں اس کا باقاعدہ مرکزی ہیڈ کوارٹر قائم کیا گیا جہاں مشرقی پاکستان کے برگشتہ اور بر افروختہ علیحدگی پسند ہندو اور مسلم نوجوانوں کو مکتی باہنی، مجیب باہنی اور قادر باہنی کے دہشت گرد گروہوں میں تقسیم کر کے مشرقی پاکستان بھیجا گیا اور یوں وہاں وفاق پاکستان کے خلاف چلنے والی لسانی اور علیحدگی پسند تحریک کو را نے اسلحہ ومالی اعانت فراہم کی تاوقتیکہ کہ 16 دسمبر 1971ء کو سقوط مشرقی پاکستان کا عظیم المیہ رونما ہوا اور قائداعظمؒ کا پاکستان دو لخت ہو گیا۔ حقائق و شواہد اس امر کے گواہ ہیں کہ آج بھی بلوچستان اور کراچی میں جو تنظیمیں اسلحہ کے بل بوتے پر محب وطن شہریوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ رہی ہیں، ان کا کسی نہ کسی عنوان سے بھارتی ایجنسی را سے تعلق ہے۔ آرمی چیف نے درست کہا کہ وہ ملکی مفادات کی قیمت پر دوسروں سے تعاون نہیں کریں گے، مسئلہ کشمیر نئی بندرگاہوں، قدرتی وسائل کے استعمال اور اقتصادی راہداری کے خلاف دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں قمر جاوید باجوہ کی قیادت میں افواج پاکستان قبائلی علاقوں، بلوچستان اور کراچی میں دشمن کے مذموم عزائم کی سرکوبی کے لیے پوری تندہی، حب الوطنی اور جذبۂ ایثار و قربانی کے ساتھ مصروف جہاد ہیں۔ ہندوستان نے پہلے ہی پاکستان کی جغرافیائی شہ رگ مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کر رکھا ہے اور اب وہ مستقبل کے ناقابل تسخیر معاشی پاکستان کی شہ رگ اقتصادی راہداری کے خلاف بھی سازشوں اور ریشہ دوانیوں میں مصروف ہے۔

یہ امر پاکستانی شہریوں کے لیے موجب طمانیت ہے کہ افواج پاکستان وطن عزیز کی سرزمین کے ایک ایک چپے اور ہر اہم تنصیب کی حفاظت کے لیے چار چول چوکس ہے۔ افواج پاکستان کی یہ مستعدی، فعالیت اور تحرک ریاست پاکستان کے شہریوں کا سرمایہ افتخار ہے۔ افواج پاکستان نے ہر اہم اور حساس موقع پر وطن عزیز کی جغرافیائی و نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کے لیے معرکۃ الآرا کارنامے انجام دیے اور کبھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔ ارباب خبر و نظر جانتے ہیں کہ بدقسمتی سے پاکستان کا ہمسایہ بھارت ہے۔ بھارت امریکہ کا جوہری اتحادی ہونے کے باوجود بدترین قسم کے احساس کمتری میں مبتلا ہے۔ حالانکہ 2006ء سے اس کا تعارف دنیا میں سب سے زیادہ اسلحہ خریدنے والے جنگی جنونی ملک کا ہے۔ اس کا سالانہ جنگی بجٹ 47 ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔ اس کے باوجود اسے اپنے تمام پڑوسی ممالک سے ہمہ وقت خطرہ رہتا ہے اور اس کی ملٹری ڈاکٹرائن یہ ہے کہ تمام پڑوسی ممالک کو گیڈر بھبکیوں کے ذریعے خائف کیا جائے۔ بھار ت 21 ویں صدی کے شروع ہی سے پاکستان پر لشکر کشی کے مذموم عزائم بنا رہا ہے۔ مذموم عزائم کے اس پیکیج کو اس نے ’’کولڈ سٹارٹ سٹرٹیجی‘‘ کا نام دے رکھا ہے۔ اس سٹرٹیجی کے تحت اس کی خواہش ہے کہ وہ اتنا طاقت ور ہو جائے کہ پاکستان پر ہلہ بول کر صرف 72 گھنٹے میں اسے اپنا مفتوح ملک بنا لے لیکن پاکستان کے اٹامک ڈی ٹیرنٹ کے سامنے اس کی ہر سٹرٹیجی ، حربہ اور پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کے بعد سے بری طرح ناکام ہے۔ پاکستان 1985ء جنرل ضیائالحق شہید کے دور میں عملاًً ایٹمی قوت بن چکا تھا لیکن اس کا اظہار پوکھران دھماکوں کے بعد بعد افواج پاکستان اور محسن پاکستان کی قیادت میں ان کی قابل فخر ٹیم نے 1998ء میں کیا۔ بھارت پاکستان کے صرف اٹامک ڈی ٹیرنٹ سے خائف و لرزہ براندام تھا لیکن پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کے منظر عام پر آنے اور پاکستان کے اس عزم صمیم کے وہ ہر قیمت پر گوادر ڈیپ سی پورٹ بنا کر رہے گا، نے بھارت کے جنگی جنونی حکمرانوں کے ہر خواب کو پریشاں کر کے رکھ دیا ہے۔ اب اس کے حکمرانوں کی نیندیں مستقبل میں پاکستان کے خطے میں اکنامک ڈی ٹیرنٹ بننے کی ناقابل تردید زمینی حقیقت نے اڑا دی ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کے بعد 13دسمبر 2001ء وہ دن تھا جب بھارتی پارلیمنٹ پر دہلی سرکار نے سیلف پلانٹڈ حملہ کیا جس کے نتیجے میں 7 افراد مارے گئے۔ دہلی سرکار نے اس کا تمام تر الزام پاکستان کی خفیہ عسکری تنظیم آئی ایس آئی پر عائد کیا اور بدلہ لینے کا اعلان بھی کر دیا۔ جنوری 2002ء میں بھارتی افواج نے پاکستان کی سرحدوں پر ہجوم کر دیا لیکن پاک فوج کے تحرک نے اس کے آپریشن پراکرم کو ناکام بنا کر رکھ دیا۔ بھارتی حکام کو اس امر کا ادراک و احساس ہو گیا کہ عسکری محاذ پر وہ پاکستان کا بال بیکا نہیں کر سکتے۔ بارِ دِگر انہوں نے نومبر 2008ء میں ممبئی حملوں کو جواز بنا کر واشگاف الفاظ میں سرجیکل سٹرائیکس اور پاکستان پر بش کی پیشگی حملے کی ڈاکٹرائن کا تجربہ کرنے کا بلند بانگ دعویٰ کیا لیکن10برس گزرنے کے باوجود وہ اپنے ناپاک ارادوں میں ناکام ہے اور سدا ناکام رہے گا لیکن جب سے پاکستان نے چین کے ساتھ اقتصادی راہداری کے منصوبے کو عمل کا روپ دینے کے لیے معاہدے پر دستخط کیے ، بھارتی حکمرانوں نے اسے اپنے لیے ایک بڑا خطرہ تصور کیا۔ بھارتی جنگی جنونی حکمرانوں کی مضروب، مسموم اور مفلوج ذہنیت کا عالم یہ ہے کہ جب دنیا کی اقتصادی اور معاشی سپر پاور چین کے صدر شی چن پنگ دہلی پہنچے تو زعفرانی انقلاب، ہندوتوا، رام راج اور اکھنڈ بھارت کے قیام کے دعویدار بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے باقاعدہ چینی صدر سے شکایت کی کہ انہوں نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی راہداری کے منصوبے پر دستخط کیوں کیے؟ یہ ایک انتہائی بچگانہ حرکت تھی۔ بھارت 2006ء سے امریکہ کا جوہری اتحادی ملک ہے لیکن پاکستان کی جانب سے کبھی اس سلسلے میں امریکیوں پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا۔ افواج پاکستان کی موجودہ قیادت پاکستانی عوام کے مفادات، جذبات اور محسوسات کی نزاکت کو بخوبی جانتی ہے۔


ای پیپر