تحریک انصاف کے اقتدار کا آغاز
23 ستمبر 2018 2018-09-23

اک تھکا دینے والی مسلسل جدو جہد اپنے اختتام کو پہنچی ۔ عمران خان کا موقف سچ ثابت ہوا وہ اپنی ریاست میں بسنے والی آبادی کو یقین دلانے میں کامیاب ہو گیا کہ گزشتہ 22سال سے وہ جو کچھ کہہ رہا تھا وہ سچ کے سوا ء کچھ نہ تھا ۔ تحریک انصاف پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت بن کر منظر نامے پر ابھر آئی۔ صدرِ پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان کے ساتھ ساتھ خیبر پختوانخوا اور پنجاب کے وزراء اعلیٰ نے بھی خلف اٹھا لیے ۔سندھ میں تحریک انصاف اپوزیشن کا کردار ادا کرئے گی اور بلوچستان میں بھی وہ حکومت کا حصہ ہو گی ۔ چاروں گورنرز صدر پاکستان کے نمائندوں کی حیثیت سے صوبوں میں اپنی آئینی کردار ادا کریں گے ۔اس طویل جدو جہد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی اراکین کی یہ سب سے بڑی کامیابی ہے کہ صدر پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان تحریک انصاف کے بانی رکن ہیں باقی سب کدھر گئے یہ بھی کبھی نہ کبھی دریافت ہو جائیں گے ۔ بلدیاتی نظام کی گونج چار سو سنائی دے رہی ہے یہ پہلا مکمل بلدیاتی نظام ہو گا جو پاکستان بننے کے بعد مکمل اختیارات نیچے تک منتقل کرتا ہوا کسی منتخب حکومت کی طرف سے نافذ ہو گا ۔ اس سے پہلے بی ڈی ممبر کا نظام جنرل ایوب خان ٗ کونسلروں کا جنرل ضیاع الحق اور چیئرمینوں کا جنرل پرویز مشرف کی ’’ایجادات ‘‘ تھیں ۔

پنجاب کے وزیر بلدیات و ہیومن ڈویلمپنٹ سینئر وزیر جنا ب عبدا لعلیم خان ہیں اوربلدیاتی نظام کے حوالے سے انہوں نے دن رات کام کیا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عبد العلیم خان ایک زیرک اور باکمال کرشماتی شخصیت ہیں اور وہ اپنے فیضِ نظر سے کوئی بھی بڑا سیاسی معرکہ سر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ بلدیاتی نظام کا مطلب اختیار اور طاقت عوامی دروازے تک پہنچانا ہوتا ہے ۔ قانون سازوں کی یہ ذمہ داری نہیں ہوتی کہ وہ سٹرکیں ٗ گلیاں ٗ گٹر اور لائٹس کا بندو بست کرتے رہیں ۔ ماضی میں یہی ہوتا رہا ہے کہ ایم ۔این ۔اینز اور ایم ۔ پی ۔ ایز نے فنڈز اپنے دائر ہ قدرت میں رکھ کر بلدیاتی نظام کو مفلوج کیے رکھا اورعام آدمی اُن بے رحم سیاستدانوں کے رحم و کرم پر ہو تا تھا جن تک رسائی تو دور کی بات تھی چہ جائیکہ اُن کے گریبان تک ہاتھ جا سکتا ۔ یہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ممبران ہمیشہ پانچ سال غائب رہنے کے بعد الیکشن سے پہلے گلی محلوں میں کھڑے ہو کر ترقیاتی کام کرواتے نظر آتے تھے اور بے چارے عوام جن کیلئے یہ سب کچھ اونٹ کے منہ میں زیر ے سے بھی کم ہوتا تھا صبر شکر کرلیتے تھے ۔ اس بار چیئر مینوں سے لے کر کونسلروں تک تعلیم کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے ورنہ میں ایسے چیئرمینوں اور کونسلروں کو بھی جانتا ہوں جو لوگوں کے کام میں اس لیے بھی تاخیر کردیتے تھے کہ اُن کے پاس درخواست لکھنے والا کوئی نہیں ہوتا تھا ۔ عبد العلیم خان اور اُس کی ٹیم نے انتہائی دیانتداری سے اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے اور وہ دن دور نہیں جب پنجاب کے عوام کو اُن کا نمائندہ اپنے گھر کے دروازے پر مکمل اختیارات کے ساتھ ملے گا ۔عبد العلیم خان اس وقت میرے نزدیک پنجاب کا ڈیفیکٹو چیف منسٹر ہے اور وہی پنجاب کا سارا نظام چلا رہا ہے ورنہ میرے ایک وزیر نے توایک گاڑی واسا اوردوسری ایل ڈی اے سے وصول کر لی ہے اور ایل ڈی اے کے ساتھ جھگڑا کھڑا کیے ہوئے ہے کہ ایل ڈی اے میں اُسے باقاعدہ کمرہ دیا جائے جہاں اُس کا بھائی بیٹھ کر پراپرٹی کا کام کرسکے ۔ یہ حقیقت ہے کہ تحریک انصاف صرف عمران خان کا نام ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کی بنیادوں میں بہت سے شہیدوں کا خون ٗ کارکنوں کے والدین کے چھوڑے ہوئے جنازے ٗ بہنوں ٗ بیٹیوں ٗ بھانجیوں اور بھتیجیوں کے نکاخوں کے وقت عدمِ شمولیت کے علاوہ بچوں کی سالگروں اور بیوی کے جنم دن کی قربانیاں بھی دفن ہیں ۔ تحریک انصاف کے کارکنان جب باہر سے ذلیل و خوار ہو کر آتے تھے تو گھروالوں کا رویہ بھی اُن کے ساتھ کوئی آبرومندآنہ نہیں ہوتا تھا اور یہ بات چیئرمین تحریک انصاف خود جانتے ہیں اور اس کا ذکر وہ اپنی تقریر میں کر چکے ہیں ۔ اب یہی گھر والے تحریک انصاف کے اقتدار کے بعد جب اپنے ’’ مجاہدین ‘‘ کو گھروں سے باہر جاتے نہیں دیکھتے یا پھر لوگوں کے رابطہ کرنے پر گھروالوں سے کہلوا دیتے ہیں کہ ’’ وہ گھر نہیں ‘‘ تو خاندان کے لوگ بھی عجیب کشمکش کا شکار ہو رہے ہیں کہ یہ کیسے ورکر ہیں کہ جن کی حکومت آئی ہے اور یہ باہر نکل کر لوگوں کی مدد کرنے کے بجائے گھروں میں گھس کر بیٹھے ہیں ۔ اب انہیں کیا بتایا جائے کہ گھر سے باہر بغیر اختیار اور طاقت کے نکلنا سوائے بے آبرو ہونے کے اور کچھ نہیں ہے۔ مجھے یقین ہے کہ عنقریب چیئرمین تحریک انصاف پارٹی کارکنوں کے حوالے سے بھی کوئی پالیسی متعارف کروائیں گے کہ دنیا کی کو سیاسی تنظیم اپنے سیاسی کارکنوں کے بغیر نہیں چل سکتی ۔اس سلسلے بلدیاتی انتخابات سے پہلے اگر انٹر پارٹی الیکشن کروا لیا جائے تو چیئرمین کا یہ خواب تو پورا ہو جائے گا کہ ’’میں پاور میں آ کر پارٹی بناؤں گا ‘‘ سو اس وقت تجربے کا بہترین وقت ہے کیونکہ اگر بلدیاتی انتخابات سے پہلے تنظیم موجود نہ ہوئی تو پھر بلدیاتی الیکشن میں امیدواروں کو لاوارثوں کی طرح الیکشن لڑنا پڑے گا اور میں سمجھتا ہوں کہ ایسا کرنا سیاسی خود کشی کے مترادف ہو گا ۔ عبد العلیم خان بلاشبہ چیئرمین تحریک انصاف کے بعد تحریک انصاف کی سب سے با اثر اور طاقتور شخصیت ہے ۔انہوں نے ہمیشہ مجھے اپنا بھائی کہا ہے اور میں نے بھی اُن سے سیاسی رشتہ تعلق بنانے کے بجائے اس رشتے کو فوقیت دی اور جب تک زندہ ہو دیتا رہوں گا ۔ آج عبد العلیم خان کی حمایت کی وجہ سے منسٹر بننے والے دوسرے تحریک انصاف کے لوگ ہمیں غیر سمجھتے ہیں اورہم انہیں اجنبی لیکن عبد العلیم خان واحد شخصیت ہے جس کے ساتھ کارکنوں کا رشتہ آج بھی انتہائی مضبوط ہے ۔ وہ کارکنوں کی عزت کرتا ہے اور کارکن بھی دل و جان سے اُس پر جان نچھاور کرتے ہیں ۔ اس کی وجہ اُس کا رویہ ہے ورنہ دیناوی مال و دولت تو اور بھی بہت سے لوگوں کے پاس ہے لیکن دوستانہ مسکراہٹ صرف اللہ رب العزت نے عبد العلیم خان کے چہرے پر رکھی ہے ۔جس پر ہمیشہ اپنائیت کا احساس بکھر رہا ہوتا ہے اوریہ سب کیلئے ہے ۔ وہ اپنے بدترین مخالفین کے ساتھ بھی انتہائی مسکراتے چہرے سے ملتا ہے حالانکہ وہ اُن لوگوں کے خیالات اپنے بارے میں بخوبی جانتا ہے۔ سیاست میں یہ وصف بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے ۔

تحریک انصاف کے سو دن انتہائی برق رفتاری سے گزر رہے ہیں لیکن پنجاب کی حد تک تو میں بہت واقف ہوں کہ عبد العلیم خان کی قیادت میں کام بھی براق کی رفتار سے ہو رہا ہے ۔ سو مجھے امید ہے کہ بہت سے کام جو صرف ایگزیکٹو آرڈز سے درست ہو سکتے ہیں وہ ریلیف تو پبلک کو فوری مل جائے گا لیکن جن کاموں کیلئے وقت درکار ہے اُن کا آغازہو چکا ہو گا اورعوام کو اُن منصوبوں پرکام ہوتا دکھائی دینا شروع ہو جائے گا جن کا وعدہ چیئرمین تحریک انصاف نے اپنے انتخابی منشور میں کیا تھا اور اس کیلئے شب و روز کا م جاری ہے ۔ سوشل میڈیا اور میڈیا کے زریعے حکومت کے خلاف پھیلائی جانے والی جھوٹی خبروں کا سد باب فوری کرنا ہو گا کہ آج سوشل میڈیا بہت بڑی طاقت ہے اور غلط خبر بہت دور تک سفرکرتی ہے اور جب تک اُس کی تردید آتی ہے بہت نقصان ہو چکا ہوتا ہے ۔ یقیناًمیں کسی کے حق اظہار کا مخالف نہیں ہو ں لیکن تحریک انصاف کا ترجمان ہونے کے ناطے میں کسی کو اپنی سیاسی تنظیم بارے منفی پروپیگنڈا کی اجازت بھی نہیں دوں گا کہ یہ میرے آزادی اظہار کا قتل ہے ۔میں پنجاب کے سینئر وزیر جناب عبد العلیم خان سے یہ درخواست ضرور کرؤں گا کہ اس سلسلہ میں کو ئی راست اقدام فوری اٹھایا جائے ۔


ای پیپر