عالمی بساط کا لاغر کھلاڑی
23 ستمبر 2018 2018-09-23

کئی دہائیوں سے امریکہ واحد سُپر طاقت کی حثیت سے دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق چلا رہا ہے اقوامِ متحدہ نے بھی فیصلے کرتے وقت بڑی فوجی قوت اور معیشت ہونے کی وجہ سے واحد سُپر طاقت کی خواہش کوحکم کا درجہ سمجھا ہے جہاں امریکی مفادکو زک پہنچنے کا اندیشہ ہو اقوامِ عالم کے اِدارے نے چشم پوشی کو ترجیح دی ہے لیکن دنیا میں کچھ نئے کھلاڑی طاقت پکڑ رہے ہیں اور واحد عالمی طاقت کی مرضی و منشا کے خلاف چلنے کی کوشش بھی کرتے ہیں گزشتہ عشرے میں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت روس اور چین کو باور کرایا گیا کہ بڑی فوج کی بنا پر وہ اپنا عالمی کردار بڑھائیں یہ پیغام دونوں نے سچ جان لیا اور نئے عالمی کردار کے لیے منصوبہ سازی شروع کر دی چین تو خیر معاشی طاقت ہونے کی بنا پر اقوامِ عالم کے لیے پھر بھی قابلِ قبول ہے بہتر معیشت کی وجہ سے ہی براعظم ایشیا میں کبھی جاپان کو مرکزی حثیت ملی وہی حثیت کچھ عرصہ سے اب چین کو مل گئی ہے جو بڑی فوج کی بجائے مضبوط معیشت کی مرہونِ منت ہے مگر روس کی تباہ حال معیشت اِس قابل نہیں کہ وہ غیر ضروری اخراجات کی متحمل ہوسکے پھر ولادی میر پوٹن کیوں ہر جگہ للکارنے اور مقابلے کا عندیہ دیتے پھرتے ہیں کیا ملک کی معیشت اُن سے پوشیدہ ہے اگر ایسا ہی ہے توایسا سربراہ جسے ملک کے حالات سے کُلی واقفیت نہیں وہ کیسے دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال سکتا ہے؟ چین یا دیگر ممالک کے ساتھ بڑی فوجی مشقیں طاقت کا اظہار نہیں ہو سکتیں بڑی جسامت زہانت کے بغیر کچھ نہیں یہ سمجھنے کے لیے چیونٹی اور ہاتھی بہترین مثال ہیں۔

روس کا خیال ہے کہ وہ سرد جنگ کا ماحول پیداکرنے کی اب بھی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے باربار مختلف عہدوں پر منتخب ہوکر پوٹن کو یقین ہو گیا ہے کہ روس کے ساتھ وہ دنیا میں بھی مقبولیت رکھتے ہیں اِس یقین میں کتنی صداقت ہے سمجھنا کوئی مشکل نہیں سابق جاسوس کی بیٹی کے ساتھ برطانیہ میں ہلاکت پر دنیا نے مشتعل ہو کر جتنا سخت موقف اپنایا اورجس طرح سینکڑوں روسی سفارتکاروں کی بے دخلی ہوئی سے ہی عالمی حالات سے آگاہی رکھنے والے جان گئے تھے کہ روس بڑے رقبہ اور فوج رکھنے کے باوجود زوال پذیر معیشت کی بنا پر غیر اہم ہو چکا ہے

شام کے میدانِ جنگ کو ہی دیکھ لیں اگرروس کو ایرانی افرادی قوت کا ساتھ نہ ہوتو ماسکو کب کا دمشق کو اُس کے حالات پر چھوڑ کر الگ ہوچکا ہوتا حالانکہ طاقت ور ممالک نے کمزور ریاستوں کو نشانہ بناتے وقت کبھی اخلاقی قدروں کو پیشِ نظر نہیں رکھا چیچنیا میں دوافراد کی ہلاکت کا بدلہ ایک لاکھ شہری مار کر لینے کے واقعات سے زمانہ آشنا ہے 1986 میں لیبیا کے شہر ٹریپولی میں جرمن ڈسکو پر ہونے والے حملے میں دو امریکی فوجی ہلاک ہوئے تو واشنگٹن نے لیبیا پر بارود کی بارش کر دی ٹریپولی میں سینکڑوں سویلین اور فوجی ہلاک کر دیے طاقتور کے نزدیک کمزور سے ایسا سلوک جائزہے حیران کن امر یہ ہے کہ طاقتور کے ہاتھ روکنے سے اقوام متحدہ نے بھی ہمیشہ معزوری ظاہر کی ہے مگر وہی طاقتور جب مدمقابل سے ڈرنے لگے تب کمزوری کا پہلو اُجاگر ہوتا ہے۔گزشتہ ہفتے شام کے ساحل پر روس کا ایک جنگی طیارہ ایل 20مار گرایا گیا جس میں سوار پینتیس افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جس پر ماسکو نے سخت لب ولہجہ اختیار کیا اور ملوث کو مزہ چکھانے کا عزم ظاہرکیا اسرائیل اور شام کو بھی دھمکیاں دیں کیونکہ اسرائیل شام میں ایران کی موجودگی کا سخت مخالف ہے اسی لیے شام کی فضا میں ایسی کسی نقل و حرکت جس سے ایرانی مفادات کی نگہبانی ہوتی ہو اُسے گوارہ نہیں جب کہ روس اور ایران اتحادی ہیں یہی کچھ روسی طیارے کے ساتھ ہواجو اسرائیلی فضائیہ سے بچتے ہوئے شام کی فرینڈلی فائرنگ کا نشانہ بن گیا نتیجے میں روس کے پندرہ اہلکار ہلاک ہوگئے لیکن ایک ہفتہ گزرنے سے قبل ہی روس کے دھمکی آمیز بیانات کچھ لو کچھ کی بنیاد پر ختم ہونے کے قریب ہیں روسی صدر پوٹن اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی ٹیلفونک گفتگو میں دونوں فریقوں نے تلخی کا باعث بننے والا واقعہ دفن کرنے پرصاد کر لیا ہے جس سے اِس تاثر کو تقویت ملی کہ روس میں مقابلے کی سکت نہیں رہی اور وہ عالمی بساط کا ایک لاغر کھلاڑی ہے ۔

نومبر2015میں ترک فضائیہ کے ہاتھوں بھی ایک روسی طیارہ مار گرایا گیا جس کی بنا پر روس اور ترکی کے باہمی تعلقات ختم ہوگئے ماسکو نے انقرہ کو سبق سکھانے کی دھمکیاں دیں مگر عملی طور پر برعکس رویہ اپنایا نیٹو ممبر ترکی کی معزرت قبول کرنے میں روس نے جلد بازی دکھائی جس کا اُسے یہ ثمر ملا ہے کہ نیٹو رکن کا روس کی طرف جھکاؤ ہو گیا ہے فتح اللہ گولن کی حوالگی اور گرفتارپادری کی رہائی کا قضیہ انقرہ اور واشنگٹن میں بڑے عناد کی وجہ بن گیا ہے دونوں ممالک ایک دوسرے کو سبق سکھانے کے لیے پابندیاں لگانے پر اُتر آئے ہیں جبکہ طیارے کا نقصان اُٹھانے والا روس ایک طرف بیٹھ کر تماشہ دیکھ رہا ہے شام میں اپنے طیارے کی تباہی کا بھی اُسے کچھ زیادہ ملال نہیں اسی لیے تحقیقات چند شامی اہلکاروں سے پوچھ تاچھ تک محدود ہیں کیونکہ اُسے بخوبی معلوم ہے کہ اگر بڑے زمہ داراسرائیل کو کٹہرے میں لانے کی کوشش کرتا ہے تو اُس کے طویل مدتی مفادات کو زک پہنچنے کا اندیشہ ہے تل ابیب سے بنا کر رکھنے کی وجہ سے مغرب سے ٹیکنالوجی کے حصول اور تعلقات استوار کرنے میں بڑی مدد مل سکتی ہے یہی خیال اُسے عالمی بساط پر لاغر کھاڑی کا کردار قبول کرنے پر اُکساتا ہے ۔

روس کی معیشت کمزور ہے جس کی بحالی کا مشکل ٹاسک ہنوز پوٹن حاصل نہیں کر پارہے رواں برس اپریل میں کئی روسی کمپنیوں پر امریکہ نے پابندیاں لگائیں تو نہ صرف روسی کرنسی کی قدر بری طرح گر گئی بلکہ اسٹاک مارکیٹ میں بھی مندی آگئی اسی لیے روس کسی نئی محاز آرائی سے اجتناب کی کوشش میں ہے اُسے خود بھی اپنی کمزوریوں کا احساس ہے شاید یہی وجہ ہے کہ شام تنازع کا اہم فریق ہو کر بھی ایران و اسرائیل جیسے ممالک سے بیک وقت بنا کر رکھنے کی سعی میں ہے عالمی بساط کے لاغر کھلاڑی کی حقیقت شام میں فروری کے دوران امریکہ کی روس کے خلاف کاروائی میں بے نقاب ہوئی اِس امریکی کاروائی میں لگ بھگ دوصد کے قریب روسی فوجی مارے گئے مگر روس نے کڑاجواب دینے کی د ھمکیوں تک ہی خود کو محدود رکھا ہے بلکہ روسیوں کی کوشش ہوتی ہے کہ بڑھتی اموات کی خبروں سے عام روسی بے خبر رہیں لیکن تلخ سچ یہ ہے کہ عالمی بساط کے لاغر کھلاڑی کی کاوشیں کچھ زیادہ بارآور نہیں ہورہیں زرائع ابلاغ نے کوئی سچ چھپا نہیں رہنے دیا اِس لیے روسیوں کی اکثریت شامی تنازع سے الگ ہونے کو بے قرار ہے جہاں روس اہم فریق ہونے کے باوجود محض سویلین آبادی کو نشانہ بنانے تک محدود ہے اپریل میں امریکا اور اتحادیوں کے فضائی حملوں کے دوران بھی روس نے امریکی میزائل گرانے کی دھمکی دی لیکن لاغر کھلاڑی کی یہ دھمکی بھی محض دھمکی ہی رہی ۔ہوا کچھ بھی نہیں۔ بہتر یہ ہے کہ روس فوج کے ساتھ معیشت کی بحالی پر بھی توجہ دے تاکہ لاغر وجود کو کچھ توانائی ملے اور عالمی بساط پر اہمیت بھی۔۔۔


ای پیپر