سمجھنے میں غلطی
23 ستمبر 2018 2018-09-23

وقت پر عقل کا استعمال کرنا دماغ کا دسواں حصہ کہلاتا ہے۔جو وقت کی اہمیت کو جانچ لیتا ہے وہ کامیاب ہو جاتاہے اور جو اس کی قدر نہیں کرتا وہ ناکام ہو جاتا ہے۔اسی طرح جب بھی کوئی ملک وجود میں آتا ہے اگر وہ شروع میں وقت پر درست فیصلے کرتا ہے تووہ ترقی یافتہ ملک بن جاتاہے ۔اگر ہم چائنہ کو دیکھیں تو اس بات کا واضح ثبوت ملتا ہے اس نے عین وقت پر درست فیصلے کئے ہیں جس کی وجہ سے وہ دنیا کاترقی یافتہ ملک بن گیا ہے اور اس نے موجودہ دور میں معیشت میں تمام ملکوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے حتیٰ کہ امریکہ جو دنیا کا معاشی طور پر بہت مضبوط ملک ہے وہ بھی چائنہ سے پیچھے رہ گیا ہے۔جوکہ چائنہ کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔

جب ہم پاکستان اور بھارت کی بات کرتے ہیں تو یہ حقیقت ہمیں حیران کر دیتی ہے ان کی ابتدا ہی سے اتنے غلط فیصلے ہوئے ہیں کہ ہر وقت ان دونو ں ملکوں کے درمیان جنگ کا خطرہ رہتا ہے۔وہ کو ن سی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے یہ حالات پیدا ہوئے ہیں۔انگریز نے برصغیر پر تقریبا سو سال حکومت کی ہے۔ جب انگریز نے بر صغیر کو چھوڑا تو اس نے خطہ کی تقسیم اس طرح کی کہ یہ ہمیشہ مشکلوں میں پھنسے رہے۔تقسیم کے وقت ہندو اور انگریز کا گٹھ جوڑ ایک بہت بڑی سازش تھی۔ انگریزوں او ر ہندوؤں کے ملاپ سے بہت سے مسلم اکثریتی علاقے ہندوستان کو مل گئے۔جس سے ہندو بہت خوش ہوئے ۔

ریڈ کلف ایورڈ نے ناانصانی کرتے ہوئے گورداسپور، پٹھان کوٹ ،بٹالہ اور دیگر مسلم اکثریتی علاقے ہندوستان کے حوالے کر دیے۔ اس فیصلے سے بھارت کو جموں و کشمیر پر قبضہ کرنے کے لئے راستہ مل گیااور بعد میں ہندوستان نے جموں و کشمیر پر قبضہ کر لیا۔اس چیز کو ہندوستان ایک بڑ ی فتح سمجھتا تھا جو کہ اصل میں اس کی ایک بڑی ناکامی تھی۔یہ انگریز کی ایک چال تھی تاکہ اس خطہ میں مستقل امن قائم نہ ہو سکے۔ جس کی وجہ سے بعد میں دونوں ملکوں کے درمیان جنگیں بھی ہو ئیں۔دونوں ملکوں کی معیشت کو بہت نقصان پہنچا اور آج تک مسئلہ کشمیر حل نہ ہوسکا۔یہ بھارت کی غلط فہمی ہے کہ وہ ناجائز طریقے سے انگریزوں کے ساتھ مل کرمسلم اکثریتی علاقے حاصل کرنے کے بعد امن سے رہ سکیں گے ۔ اب ہندوستان کو جان لینا چاہئے کہ حقیقی امن کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے بعد ہی ہو سکتا ہے۔

اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کو شروع ہی سے مشکلات میں دھکیل دیا گیااور پاکستان کے ساتھ نا انصافی کی گئی۔بر صغیر کی تقسیم کے بعد لارڈ ماؤنٹ بیٹن مشتر کہ طور پر دونوں ملکوں کا گورنرجنرل بننا چاہتا تھا۔ پاکستان نے اس کی بات ماننے سے انکار کر دیا جبکہ بھارت نے اس کی تجویز مان لی۔اس بات کا اس کو بہت رنج تھا اور وہ پاکستان کا دشمن بن گیا۔اس نے مسلم لیگ کی مخالفت کے باوجود ڈیفنس کونسل کو توڑ دیا کیونکہ اس کی موجودگی میں امید کی جاسکتی تھی کہ پاکستان کو اس کے حصے کا اسلحہ اور جنگی سامان مل جائے گا۔

لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ہندوستان کو کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کرنے میں پوری پوری مدد دی ۔کشمیر کے علاوہ بر صغیر کی اور بھی کئی ریاستیں پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتی تھی لیکن ماؤنٹ بیٹن نے ان کو پاکستان کے ساتھ ملنے نہ دیا اور ہندوستان کے ساتھ شامل ہونے پر مجبور کر دیا۔اس کی پوری کو شش تھی کہ پاکستان کو شروع ہی سے ایسے مسائل میں دھکیل دیا جائے تاکہ وہ ان سے نکل نہ سکے۔

لارڈ ماؤنٹ بیٹن کا اصل مقصد بھارت کو کشمیر تک رسائی دینا تھا اور یہی مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہو سکا ۔ بھارتی فوج جموں و کشمیر پرقبضہ برقرار رکھنے کے لئے کشمیر کی عوام پر بہت ظلم کر رہی ہے لیکن بھارت اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا۔بھارت کی عوام کی ایک بہت بڑی تعداد غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی بسر کر رہی ہے ۔ بھارت کی عوام کو اب جان لینا چاہئے کہ بھارت کی حکومت کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کرنے کے لئے اپنے ملک کے بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ خرچ کرتی ہے ۔ اب وقت آ گیا ہے کہ بھارت کی عوام اپنی حکومت سے مطالبہ کرے کہ وہ جموں و کشمیر پر قبضہ چھوڑ دے اور وہ رقم جو جموں و کشمیر میں اپنی فوج پر خر چ کرتی ہے ۔ بھارت کی حکومت وہ رقم اپنے غریب عوام پر خرچ کرے تاکہ ان کے ملک میں غربت میں کمی آئے۔

مسئلہ کشمیر پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگوں کا باعث بنا ۔ ہندوستان نے رات کی تاریکی میں ستمبر 1965میں پاکستان پر حملہ کر دیا اور مختلف محاذ کھول ڈالے یہ جنگ 23ستمبر 1965تک جاری رہی ۔ اس جنگ میں ہندوستان کو شکست اٹھانا پڑی ۔ بھارت اس مسئلہ کو اقوام متحدہ میں لے گیااور سلامتی کونسل نے ایک قرار داد پاس کی۔ جس میں فائر بند ی کی درخواست کی۔ پاکستان نے عالمی امن کی خاطر اس کو تسلیم کیا اور اس پر عمل کیا۔اس کے بعد 1971میں دونو ں ملکوں کے درمیاں جنگ ہوئی ۔جنگ کے خاتمہ پر پاکستان اور ہندوستان کے لیڈروں کی شملہ میں ملاقات ہوئی اور معاہدہ شملہ طے پایا جس میں ایک بار پھر کہا گیا کہ دونوں ممالک اپنے مسائل باہم گفت و شنید کے ذریعے طے کریں گے۔اس کے باوجود کچھ نہ ہو سکا ۔

اب بھارت کا خیال ہے کہ وہ طاقت کی زور پر پاکستان کو دبا لے گا یہ اس کی سمجھنے میں غلطی ہے ۔پاکستان بھی ایک ایٹمی ملک ہے اگر دونوں ممالک کے درمیاں جنگ ہوئی تودونوں کی تباہی ہو گی۔لیکن اس صورت میں بھارت کی زیادہ تباہی ہو گی۔پاکستان تو ہمیشہ ہی سے امن کی بات کرتا ہے اب ہندوستان کو بھی چاہئے کہ بات چیت کے ذریعے تمام متنازعہ مسائل حل کرے اور ٹھو س اقدامات کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو حل کرے۔ تا کہ دونوں ممالک امن اور خوشحالی کی راہ پر چل سکیں ۔


ای پیپر