نوازشریف کی اچانک شدید علالت اور کیا مولانا کے پیچھے بھارت ہے؟
23 اکتوبر 2019 2019-10-23

اسی سال موسم گرما میں 17 جون کو مصر کی تاریخ کے واحد منتخب صدر محمد مرسی جنہیں ان کے اپنے مقرر کردہ آرمی چیف جنرل السیسی نے فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار سے علیحدہ کر کے جیل میں ڈال دیا تھا… پنجرے میں بند حالت کے اندر عدالتی میں پیشی کے دوران عارضۂ قلب کی وجہ سے لڑکھڑا کر گرے اور جاں جاں آفرین کے سپرد کر دی… تب پاکستان میں مریم نواز شریف نے اعلان کیا کہ وہ اپنے والد اور تین مرتبہ منتخب ہونے والے لیکن برطرف شدہ اور پابند سلاسل میاں نواز شریف کو محمد مرسی نہیں بننے دیں گی…مریم نواز کے دل میں کوئی خوف تھا… اس کے باپ سے بھی طاقتور عناصر کی غیر علانیہ فرمانروائی کے ماحول میں منصفوں کی ایک جنبش قلم سے اقتدار چھین لیا گیا اور بعد میں کرپشن کے الزامات کی جو ابھی تک ثابت نہیں ہوئے پاداش میں جیل میں ڈال دیا گیا… بیماریاں اُن کو لاحق تھیں اور کماحقہٗ علاج کی سہولتیں نہیں مل رہی تھیں… چنانچہ محمد مرسی کی زندگی کا اختتام دیکھ کر مریم نواز بول اُٹھی کہ پاکستان میں بار بار منتخب کیے جانے والے وزیراعظم کو اس راستے کا مسافر نہیں بننے دیا جائے گا… مگر تین روز پہلے 21 اکتوبر بروز سوموار نیب لاہور کے عقوبت خانے میں بند نواز شریف کی طبیعت تیزی کے ساتھ بگڑ گئی… ان کے پلیٹ لیٹس سیل کی جو ایک عام آدمی میں کم از کم ڈیڑھ لاکھ ہونے چاہئیں تعداد اچانک گر کر 16 ہزار کی نچلی سطح تک جا گری…موصوف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے جو ان کی صحت کے بارے میں ہر دم بے چین اور پریشان رہتے ہیں اور لمحہ بہ لمحہ باخبر رہنے کی کوشش کرتے ہیں اس گراوٹ کو بھانپ کر خطرے کی گھنٹیاں بجانا شروع کر دیں… پہلے نیب والے کسی بات کو خاطر میں نہ لائے، پھر میاں شہباز شریف اور کیپٹن صفدر بھی حرکت میں آ گئے… خبر کے میڈیا پر وائرل ہوتے ہی پورے ملک کے اندر انتہائی تشویش کی ایک لہر تھی جو اٹھ کھڑی ہوئی… مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے بڑی تعداد میں نیب کے دفتر کے سامنے جمع ہو کر شدید نعرے بازی کی … تب ان لوگوں کو ہوش آیا نواز شریف صاحب کو ان کے بھائی کی رفاقت میں لاہور کے سروسز ہسپتال میں پہنچایا گیا… فوری ٹیسٹ کے نتائج سامنے آئے تو ڈاکٹر ششدر ہو کر رہ گئے… پلیٹ لیٹس کی تعداد انتہائی نچلی سطح یعنی دو ہزار تھی… خدشہ تھا سابق وزیراعظم کے منہ اور ناک سے خون بہنا شروع ہو جائے گا… یہ وہ عمل تھا جو مریض کی موت پر منتج ہو سکتا ہے… اس مرحلے پر ڈاکٹروں کے بورڈ نے فیصلہ کیا کہ نواز شریف صاحب کو میگا یونٹس لگائے جائیں اور ان کی جان بچانے کی ہنگامی کوشش کی جائے… بیماری کے شدید حملے کو پانچ گھنٹے گزر چکے تھے… ڈاکٹر عدنان کا کہنا ہے جس وقت انہوں نے سابق وزیراعظم کی حالت بگڑ جانے کے بارے میں متنبہ کیا اور صورت حال کی سنگینی سے نیب والوں کو آگاہ کیا … اگر اسی موقع پر فوری اقدام کر لیا جاتا تو نوبت یہاں تک نہ آ پہنچتی… جس نے نواز شریف کی زندگی کو انتہائی خطرے کی حد تک پہنچا دیا تھا… تو کیا ساڑھے چار مہینے پہلے مریم نواز نے جس خدشے کا اظہار کیا وہ درست ثابت ہو رہا تھا… لیکن اللہ تعالیٰ کو شاید یہ منظور نہیں دوسرے نواز شریف کی اچانک شدید علالت کی خبر میڈیا پر آتے ہی ملک بھر سے جو ردعمل آیا اور عوام کی جانب سے جس گہری تشویش کا اظہار کیا گیا، اس نے حکومت کو مجبور کر دیا کہ فوری طور پر قابل ڈاکٹروں کا بورڈ تشکیل دے اور سابق وزیراعظم کی جان بچانے کے لیے انہیں ہر ممکن طبی سہولت فراہم کی جائے… بدھ کی شام کو جب یہ سطور قلمبند کی جا رہی ہیں پلیٹ لیٹس کی تعداد بڑھ کر 30 ہزار کے قریب ہو گئی ہے… تاہم ابھی اس امر کی تحقیق ہونا باقی ہے وہ کیا وجہ تھی کہ جس کی بنا پر پلیٹ لیٹس ایک دم ڈیڑھ لاکھ سے گر کر 16 ہزار کی تعداد آن گرے اور پھر ہسپتال پہنچتے پہنچتے محض دو ہزار رہ گئے… ابھی خبر آئی ہے واقعہ کے تین دن بعد وزیراعظم عمران خان نے بھی نواز شریف کی صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے لیکن ان کا منصبی فرض یہ ہے اس امر کی بے لاگ تحقیق کرائیں کہ پلیٹ لیٹس کے اچانک اور شدید حد تک نیچے آن گرنے کا اصل سبب کونسا طبی یا کوئی خارجی محرک تھا… حقیقت کیا ہے؟

قومی سیاسی سطح پر اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ حکومت نے سابق صدر آصف علی زرداری صاحب کو بھی جن کی ذیابیطس اور دل کے عارضے کی وجہ سے جیل میں حالت بگڑتی جا رہی تھی ،بلاول بھٹو نے اس پر آواز بھی بلند کی لیکن کوئی شنوائی نہ ہو رہی تھی انہیں جلد از جلد کال کوٹھڑی سے نکال کر اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں پہنچا دیا گیا… اللہ تعالیٰ اُنہیں بھی صحت یاب کرے… یہ ہمارے ملک کے سیاسی قیدی ہیں… کرپشن کے الزامات ہیں… جن میں سے ابھی تک کوئی ثابت نہیں ہوا… مگر قید خانوں میں پھینک دیئے گئے ہیں تا کہ موجودہ عمرانی حکومت جو اپنے آپ کو عوام کی منتخب کردہ بتاتی ہے مگر مخالفین سلیکٹڈ ہونے کا الزام لگاتے ہیں… اس کا پائے چوبیں ان لیڈروں کی سیاسی جدوجہد کی وجہ سے لڑکھڑا نہ جائے… نواز شریف کے بارے میں سب سے حیرت ناک بات یہ ہے کہ وہ پہلے سے جیل میں بند ہیں… حالت قید میں ان پر ایک اور مقدمہ تیار کر کے دوسری گرفتاری ڈالنے کی ایسی کیا ضرورت پیش آئی کہ موصوف کو کوٹ لکھپت جیل سے اٹھا کر تین ساڑھے تین کلو میٹر کے فاصلے پر نیب لاہور کے عقوبت خانے میں ڈال دیا گیا… عذر یہ پیش کیا گیا کہ تفتیش کرنا ہے… کیا تفتیش پہلی جیل کے بند کمرے میں نہیں ہو سکتی تھی… سابق وزیراعظم کی جماعت کے سرکردہ لوگ کہتے ہیں حکومت اس طرح ان کے ساتھ ہر قسم کا رابطہ منقطع کر کے رکھ دینا چاہتی ہے کیونکہ اس کا خیال ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے آزادی مارچ کے نام پر جو تہلکہ مچا رکھا ہے اور ملک بھر کے تاجر شٹر بند ہڑتال کی دھمکیاں دے رہے ہیں، اس کے پیچھے نواز شریف کا مزاحمتی اور سیاسی ذہن کام کر رہا ہے… اگر اس بات میں تھوڑی سی بھی سچائی پائی جاتی ہے تو حیرت ہوتی ہے کہ ایک شخص جو صرف نظر آنے والی حکومت نہیں پاکستانی اقتدار کے اصل مالکوں کا بھی معتوب ہے… وہ نحیف و نزار حالت میں جیل کے اندر بیٹھا احتجاجی سیاست کو کیسے توانا رکھے ہوئے ہے… اس کی جماعت میں بھی پھوٹ ڈالنے کی ہر کوشش ناکام ہو گئی ہے… ملکی سیاست پر اس قیدی کی گرفت مضبوط ہے… حکومت کو اس کی بنا پر چین نہیں مل رہا… مقتدر قوتوں کی سمجھ میں نہیں آ رہا اسے کیسے بے اثر بنا کر رکھ دیں… تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ نواز شریف کی اصل طاقت آج بھی پاکستانی عوام کے اندر پائی جانے والی اس کی مقبولیت ہے جس کو تمام تر مخالفانہ پروپیگنڈے اور غیر ثابت شدہ الزامات کی پاداش میں دی جانے والی سزاؤں کے باوجود ختم نہیں کیا جا سکا… خبریں تو یہاں تک ہیں اور جن کے مصدقہ ہونے میں کوئی شبہ نہیں رہا کہ ہمارے اعلیٰ علییّن کی جانب سے جیل میں جا کر اسے کہا گیا ہے آپ اور آپ کی بیٹی دونوں کو رہا کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ ملک سے باہر چلے جائیں اور چار پانچ سال تک پاکستان واپس نہ آنے کا وعدہ کریں… جسے اس مرد جری نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ میرا جتنا بگاڑ سکتے تھے تم نے کر لیا، مزید بھی کوئی شوق ہے تو پورا کر لو ، میں اپنے عوام کو چھوڑ کر نہیں جاؤں گا، ڈٹا رہوں گا… اس حد تک پامردی کا مظاہرہ کرنے والے پختہ ارادے کے مالک سیاستدان کے ساتھ ہماری حکومت اور مقتدر حلقے روایتی استبدادی ہتھکنڈوں پر مشتمل وہی سلوک کر سکتے تھے جو اس وقت ہر ایک کو نظر آ رہا ہے…

جہاں تک مولانا فضل الرحمن کے لانگ مارچ کا تعلق ہے اگرچہ حکومت نے اپنے آپ کو اسلام آباد میں ہر جگہ رکاوٹیں کھڑی کر کے قلعہ بند کر لیا ہے اور بقول شخصے لاک ڈاؤن پر خود ہی عمل کر دکھایا ہے لیکن تازہ ترین خبروں کے مطابق وہ لانگ مارچ کی اپنے الفاظ میں مشروط اجازت دینے پر بھی مجبور ہو گئی ہے… پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں اس سے پہلے بھی کئی تحریکیں اُٹھیں، لانگ مارچ ہوئے… 2014ء میں عمران خان نے طاہر القادری کے ساتھ مل کر 126 دن کا دھرنا دیا… بعد میں تحریک لبیک والوں نے بھی کوئی کسر نہ اُٹھا رکھی… عمران خان بہادر اور خادم حسین رضوی صاحب کے دھرنوں کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے انہیں غیر مرئی قوتوں کی سر پرستی حاصل تھی… لیکن ان تمام تحریکوں اور دھرنوں نے اپنے اپنے وقت کی حکومتوں کے ایوانوں میں برپا ہونے سے پہلے ہی اتنا لرزہ نہیں پیدا کیا تھا جو مولانا فضل الرحمن اور ان کا ساتھ دینے والی بڑی اپوزیشن جماعتوں کے عزم و ارادے نے کر دکھایا ہے… اس لانگ مارچ نے علانیہ تاریخ سے ایک مہینہ پہلے سے ملک بھر اور خاص طور پر دارالحکومت کے اند روہ ہلچل پیدا کرد ی ہے ہر کوئی پوچھتا ہے مولوی صاحب کے پیچھے کون سی طاقت ہے یا ان کی بند مٹھی میں کیا ہے اور یہ کہ اتنا بڑا احتجاجی مظاہرہ اگر ظہور پا گیا تو نتائج کیا ہوں گے… کیا عمران خان کی حکومت 15 لاکھ نہیں چار پانچ لاکھ عوام کی یلغار کی بھی متحمل ہو پائے گی اور انسانوں کے سمندر کے سامنے ٹھہر سکے گی اور کیا مولانا اور ان کی ساتھی اپوزیشن کے ماتحت جس میں نواز شریف جیسے مرد آہن کی مسلم لیگ اور آصف علی زرداری جیسے زیرک سیاست دان کی پیپلزپارٹی بھی شامل ہیں … اس کے نتائج کی متحمل ہو پائیں گی… مطالبے ان کے صرف دو ہیں … وزیراعظم استعفیٰ دے دیں اور از سر نو شفاف اور آزادانہ انتخابات کرائے جائیں… اگر وزیراعظم کے استعفے کا تحریک انصاف والوں کے نزدیک ناممکن ہو بھی جاتا ہے تو پاکستانی تاریخ کے بار بار تجربات کو سامنے رکھ کر ایسے شفاف اور آزادانہ انتخابات کا انعقاد جس کے نتائج کو ساری جماعتیں صدق دل کے ساتھ تسلیم کریں ، آسان کام نہیں ہے… کیا اپوزیشن کی جماعتوں نے اس حقیقی چیلنج سے عہدہ بر آ ہونے کی تیاری کر لی ہے… اس کے لیے ضروری اور فوری انتخابی اصطلاحات کے ساتھ سیاسی جماعتوں کا آپس میں اتحاد اور مشترکہ اہداف کے حصول تک ٹھوس اور پائیدار حکمت عملی پر مشتمل لائحہ عمل تیار کرنا اشد ضروری ہے… معلوم نہیں کہ تمام تر جوش اور جذبے کے با وصف اس پر بھی غور کیا جا رہا ہے یا نہیں… اختتامی سطور لکھ رہا ہوں اور تازہ خبر یہ کہ وزیراعظم نے سینئر صحافیوں کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا مولانا فضل الرحمن کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہو سکتا ہے… مراد ان کی بھارت سے تھی… سبحان اللہ ہمارے وزیراعظم کے پاس پاکستان کی انتہا درجے کی مستعد اور دشمن کے عزائم کے بارے میں لمحے لمحے کی خبر رکھنے والی ایجنسیوں کی فراہم کردہ اطلاعات ہوں گی… وزیراعظم ٹھوس اور ناقابل تردید شواہد کے ساتھ قوم کو اس بارے میں اعتماد میں لیں… تاکہ لوگ لانگ مارچ نکلنے سے پہلے ہی اس سے متنفر ہو جائیں … اگر ایسا نہیں ہوتا اور یہ تاثر قوی ہو گیا کہ روایتی قسم کا الزام ہے تو جناب وزیراعظم کی ساکھ متاثر ہو گی… آخر ایوب خاں نے بھی محترمہ فاطمہ جناح پر بھارت کی ایجنٹ ہونے کا بہتان لگا دیا تھا… کہاں ہے آج ایوب اور فاطمہ جناح کی عظمت لوگوں کے دلوں میں پہلے سے بھی کتنی راسخ ہو گئی۔


ای پیپر