بدلتی رتوں کی سیاست
23 اکتوبر 2019 2019-10-23

وزیر اعظم عمران خان نے نواز شریف کی حکومت کے خلاف الیکشن2013کے انتخاب میںدھاندلی کا جواز بنا کر اسلام آباد کی طرف اگست 2014میں جو آزادی مارچ کیا تھا۔اس میں اہم مطالبہ جو کیا گیا تھا دھاندلی کی بنیاد پروزیر اعظم نواز شریف استعفیٰ دیں۔اس مطالبے کے لیے126 دن کا طویل دھرنا دیا گیا۔اصل ٹارگٹ پارلیمنٹ تھی۔ اس عر صے میں بچوں کی تعلیم متاثرہوئی۔اسلام آباد کے باسیوں کا کاروباربرباد ہوا۔اس دھرنے میں سول نافرمانی اور گو نواز گو

تحریک کو ملک بھر میں پھیلایا گیا۔ دھرنے میں حکومت کو جام کر دیا گیا دھرنے کی وجہ سے چینی صدر نے پاکستان کو جو پیکج دینا تھا وہ دھرنے کی وجہ سے نہ آسکے۔ الزم دھاندلی کا تھا مگر نواز شریف کو اقتدار سے ہٹانا تھا۔ دھرنا جوڈیشل کمشن پر ختم کیا گیا۔ نواز شریف اس کمشن میں سرخرو ٹھہرے۔ الزام ثابت نہ ہوئے سازشیں نہ رکیں۔ نواز شریف نے

2015میں نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ان کے خلاف سازشیں اب بھی جاری ہیں جوڈیشل کمشن میں کپتان کوئی ثبوت نہ دے سکا۔ نواز شریف کے ایک وزیر مشاہداللہ نے ایک جنرل کا نام لے دیا کہ وہ نواز شریف کے خلاف دھرنے کی سازش کے مین کردار تھے اس پاداش میں بے چارے مشاہد اللہ کو وزارت سے ہاتھ دھونا پڑے۔ ڈان لیک کا ایشو آیا اور وہ چھاگیا۔ بے چارے پرویز رشید اس میں گھر بھیجے گئے، پاناما سکینڈل آیا اور اس بار بابا رحمتے نے کام دکھایا۔ان کے فیصلے نواز شریف کی جماعت کے خلاف گرج اور برس رہے تھے۔ نوا ز شریف کو سپریم کورٹ کے ججوں نے اقامہ پر نااہل قرار دے دیا۔ پاکستان کی تاریخ میں عدالت عظمی نے جے آئی ٹی بنا ڈالی جس میں نواز شریف کے خلاف جے آئی ٹی میں سکیورٹی ایجنسیوں کو ڈالا گیا۔

بابا رحمتے نے کہا کہ ایجنسیوں کو چودھری نثار جو اس وقت وزیر داخلہ تھے ان کے کہنے پر ڈالا گیا۔چودھری نثار نے کہا کہ جے آئی ٹی میں عدالت عظمیٰ کے کہنے پر ڈالا گیا۔ احتساب عدالت نے نواز شریف ان کی بیٹی اور داماد کو جیل میں ڈال دیا با با رحمتے عدالت عظمی سے رٹیائر ہو گیا۔ مگر جاتے جاتے ان کے فیصلوں سے الیکشن 2018 میں گہرے زخم کھائے۔ ان کے فیصلوں سے ایک پارٹی کو حکومت میں آنے کا فاہدہ ہوا۔ اس منظر نامے میں اپوزیشن جماعتیں عمران خان کی حکومت اور وزیر اعظم سے استعفے کے مطالبے کے ساتھ مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں اسی ماہ یعنی اکتوبر کی اکتیس تاریخ کو مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں اسلام آباد میں اکٹھی ہو رہی ہیں جو وہاں پہنچ کر اپنے لائحہ عمل اورچارٹر آف ڈیمانڈ پیش کریں گے۔ حکومت نے ہائی پروفائل لوگوں کی مذاکرات کے لئے جو کمیٹی بنائی تھی وہ خالی ہاتھ واپس چلی گئی ہے کیونکہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے جے یو آئی کو چیئرمین سینٹ سے ملاقات سے منع کردیا ہے۔اور اب دونوں جانب سے ڈیڈ لاک ہو گیا ہے۔ مولانا کے مارچ میں عام آدمی جو تبدیلی سرکار سے ناراض ہے وہ شامل ہو گا۔ ایک کروڑ نوکریاں کہاں سے ملیں گی اب تک ایک سال میں کساد بازاری کی وجہ سے لوگوں کے کاروبار شدید بحران کی زد میں ہیں۔

پرائیویٹ سیکٹر میں 2020 تک دو ملین لوگ ملازمتوں سے فارغ ہو جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ اچانک مولانا کا آزادی مارچ کہاں سے آگیا۔ ایک مہنگائی اور دوسرا انتخاب میں دھاندلی کا جس کی وجہ سے مارچ کا فیصلہ ہوا ہے۔ یہ معاملہ مولانا فضل الرحمان مارچ 2019 میں شروع کرنے والے تھے مگر نواز شریف اورآصف زرداری اس تحرک کی بجائے عمران خان کو چھ ماہ وقت دینے کے حق میں تھے دونوں کو یقین تھا کہ عمران خان ڈلیور نہیں کر سکیں گے۔ موجودہ حکومت کا ایک معاملہ درست سمت پر نہیں چل رہا۔ اب مشیر خزانہ نے کہا ہے کہ معشت کے بارے میں آئی ایم ایف نے تعریف کے جو بول بولے ہیں اس سے سرکار خوش ہے مگر یہ بھی حقیت ہے۔ مولانا کا ستارہ اس وقت عروج پر ہے حکومت ایک طرف مولانا کی ٹی وی کوریج سے روکے ہوئے ہے اور دھرنوں کی خبریں پابندی کی زد میں ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے انسانی اور صحافتی حقوق کی عالمی تنظیموں کو خطوط تحریر کئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ’’پیمرا‘‘ نے ہمارے آزادی مارچ کی نشریاتی کوریج پر پابندی عائد کر دی ہے ۔ہم 2018 کے انتخابات میں ہونیوالی دھاندلی کے خلاف مسلسل آواز اٹھا رہے ہیں جس کی پاداش میں یہ پابندی عائد کی گئی ہے ۔مولانا کی خوش بختی یہ بھی ہے کہ جماعت اسلامی بھی جو الگ سے حکومت کے خلاف مہم چلارہی ہے اس نے بھی مولانا کو مثبت اشارہ دیا ہے سلیم صافی سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ، ہم چاہتے ہیں حکومت کا خاتمہ بالخیر ہو، لوگوں کی رائے، ووٹ اور مرضی کے مطابق حکومت قائم ہونی چاہئے۔ ڈپیٹی سپیکر نے کہا ہے مولانا کی جماعت نے دھاندلی کا ایشو کبھی نہیں اٹھایا مگر ایسا ہے تو ڈپٹی سپیکر کی عمر ایوب کی ایک تحریک پر سیلیکڈڈ کی رولنگ موجود ہے۔ جس میں عمران خان کے بارے میں یہ کہا تھا کہ وہ منتخب وزیر اعظم ہیں۔ الزام تو یہی ہے کہ 25 جولائی 2018 کی سہانی رات جو جھرلو پھیرا گیا اپوزیشن یہی کہتی آرہی ہے کہ اس کی بنیاد پر انتخابات دوبارہ کرائے جائیں‘ دھاندلی پر مسلم لیگ ن اور جے یو آئی کے بعد سب سے مضبوط آواز متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی تھی اس وقت اس کے سینئر ڈپٹی کنو نیئر عامر خان نے کہا تھا کہ جدید سائنسی طر یقے سے دھاندلی کرکے ایم کیو ایم کا مینڈیٹ چھینا گیا ہے،ہمیں خلائی اور زمینی مخلوق نے مل کرہرایا ہے، الیکشن میں اصل انجینئر نگ کاکا م شام 6بجے کے بعد ہو ا، تبدیلی کی لہر پنجاب سے چلی گھو ٹکی پر ختم ہو گئی! پھر کر اچی،حیدر آباد میں لہر چلی، پی پی پی کو 65کی جگہ 75سیٹس دی گئیں جو ہماری سمجھ سے بالاتر ہے، جن حلقوں میں ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی وہاں دوبارہ گنتی کی جائے،۔25 جولائی 2018ء کے عام انتخابات کے حوالے سے جو سوال انتہائی پریشان کن تھاکہ وہ کیا بات تھی جس نے لاکھوں پریزائیڈنگ افسران (پی اوز) کو پولنگ ختم ہونے کے بعد 12 گھنٹے گزر جانے کے باوجود ریٹرننگ افسران (آراوز) کے آفس پہنچنے سے روکا۔ 27 جولائی 2018 کو آل پارٹیز کانفرنس نے عام انتخابات کے نتائج کو مسترد کر دیا اور کہا تھا کہ تمام جماعتوں نے اسمبلیوں کی رکنیت کا حلف نہ اٹھانے پر اتفاق کیا تاہم مسلم لیگ ن اپنی جماعت سے مشاورت کے بعد اس بارے میں فیصلہ کرے گی۔ انتخابات کے نتائج کے خلاف اور دوبارہ الیکشن کیلئے ملک گیر تحریک چلائی جائے گی یہ اعلان مولانا فضل الرحمن نے آل پارٹیز کانفرنس کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا تھا یہ آج کی بات نہیں ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے اس وقت یہ بھی کہا تھا کہ ہم انتخابات میں دھاندلی کے خلاف اسمبلیوں کاحلف نہیں اٹھائیں گے، ہم دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں اس کیلئے تحریک چلائیں گے،احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے۔ ہم جمہوریت کی بقا چاہتے ہیں۔ جمہوریت کیلئے ہماری قربانیاںہیں جمہوریت کو کسی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں یرغمال نہیں ہونے دیں گے۔ ہم جمہوریت کی آزادی کی جنگ لڑیں گے۔ مولانا سے ملتی جلتی بات بابا رحمتے جو اس زمانے میںچیف جسٹس آف پاکستان جسٹس تھے کی تھی ان کا کہنا تھا کہ پتا نہیں الیکشن کمیشن کیسے چل رہا ہے، انتخابات کے روز میں نے چیف الیکشن کمشنر کو تین بار فون کیا،جواب نہیں ملا ، میرے خیال سے شاید وہ اس دن سو رہے تھے، آر ٹی ایس بیٹھ گیا،الیکشن اچھا خاصا چل رہا تھا الیکشن کمیشن نے مہربانی کر دی اہم بات تو یہ تھی کہ نتائج کے حصول کیلئے پہلی مرتبہ استعمال ہونے والے رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم (آر ٹی ایس) کی ناکامی کی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔ پی ٹی آئی کے سینیٹر اعظم سواتی نے آر ٹی ایس کی ناکامی سے متعلق توجہ دلائو نوٹس سینیٹ سیکرٹریٹ میں جمع کرا دیا۔ اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ آر ٹی ایس کی ناکامی کی وجوہات اور اس کی ناکامی سے انتخابی نتائج کو نقصان پہنچنے کے حوالے سے تحقیقات ہونی چاہیے تھی الیکشن 2018میں ایک اور تنازعہ نے جنم لے لیا، 79 فیصد امیدواروں کو دوبارہ گنتی کا قانونی حق حاصل نہیں ہو سکا جبکہ صرف 21 فیصد امیدواروں کو دوبارہ گنتی کا حق دیا گیا، قانون کے مطابق اگر جیت کا مارجن پانچ فیصد سے کم ہو تو یہ امیدوار کا قانونی حق ہے کہ وہ دوبارہ گنتی کی درخواست دے سکتا ہے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے 248 حلقوں میں جیت کا مارجن پانچ فیصد سے کم تھا۔ رات کے آخری پہر فارم 45 کے ساتھ کیا بیتی اس کا نتارا ہوناچاہیے۔


ای پیپر