آزادی مارچ اور حکومتی رد عمل
23 اکتوبر 2019 2019-10-23

مولانا فضل الرحمن کے اعلان کردہ آزادی مارچ کے حوالے سے اب تک سامنے آنے والا حکومتی رد عمل نہ تو حیران کن ہے اور نہ ہی غیر متوقع۔ ایک طرف تو حکومت نے اپوزیشن جماعتوں سے مذاکرات کے لیے کمیٹی قائم کر دی ہے جبکہ دوسری طرف سینکڑوں کنٹینرز کی مدد سے سڑکیں اور شاہراہیں بند کرنے کی تیاریاں بھی زور و شور سے جاری ہیں۔لگتا تو یوں ہے کہ جیسے حکومت نے آزادی مارچ سے نمٹنے کے لیے روایتی افسر شاہانہ حکمت عملی پر عمل در آمد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ہماری روایتی ریاستی افسو شاہی کا اپوزیشن کے سیاسی احتجاج اور مارچ کو روکنے کا آزمودہ قدیمی نسخہ ایک ہی ہے ۔ گرفتاریاں ، نظر بندیاں، دفعہ 144 کا نفاذ ، سڑکوں اور بڑی شاہراہوں پر رکاوٹیں، راستے بند، پکڑ دھکڑ، خوف و ہراس کی فضاء، لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال، مقدمات کی بھر مار۔

دفعہ 144 بھی عجیب قانون ہے۔ اس ایک قانون کے نفاذ سے شہریوں کے زیادہ تر جمہوری اور سیاسی حقوق غصب ہو جاتے ہیں۔ یہ قانون شہریوں سے وہ آئینی حقوق بھی چھین لیتا ہے جن کی آئین میں ضمانت دی گئی ہے۔ یہ اتنا جامع قانون ہے کہ اس کے تحت سانس لینے کے علاوہ ہر قسم کی سرگرمی پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے ۔ اس قانون کا کمال یہ ہے کہ آئین کی موجودگی میں آئینی حقوق معطل ہو جاتے ہیں۔ تبدیلی اور نیا پاکستان بنانے کی دعویدار حکومت وہی کچھ کر رہی ہے جو ماضی کی حکومتیں حزب مخالف کے خلاف کرتی رہی ہیں۔ یعنی سیاست کا جواب ریاستی طاقت کا استعمال۔

ہم بحیثیت قوم نہ تو انگریزوں کے بنائے ہوئے سامراجی ریاستی ڈھانچے کو تبدیل کر سکے ہیں اور نہ ہی نو آبادیاتی سوچ اور افسر شاہانہ کلچر کا کچھ بگاڑ سکے ہیں۔

برطانوی راج کا قائم کردہ سامراجی ڈھانچہ ان کے سامراجی مقاصد کی تکمیل کے لیے تو بہترین تھا کیونکہ ان کا مقصد تو مقامی وسائل اور انسانی محنت کا زیادہ سے زیادہ استعمال تھا ۔ ان کا ریاستی ڈھانچہ اس استحصال کے لیے موزوں تھا اور اس کے خلاف اٹھنے والی ہر تحریک اور آواز کو جبر، تشدد اور ریاستی طاقت سے دبانے کے لیے نہایت مؤثر اور موزوں تھا۔ پاکستان کا حکمران طبقہ موجودہ ڈھانچے اور نظام کی اس افادیت کے قائل ہیں۔ لہٰذا اس ڈھانچے اور نظام کو جوں کا توں بر قرار رکھا ہوا ہے۔

تحریک انصاف کی پنجاب حکومت کو تو اس نظام سے اتنی محبت اور لگائو ہے کہ اس نے نہ صرف نئے بلدیاتی نظام میں افسر شاہی کے کردار کو بڑھا دیا ہے بلکہ نئے حکم نامے کے ذریعے پنجاب حکومت نے ڈپٹی کمشنروں کے اختیارات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ نئے حکم نامے کے تحت پنجاب کے تمام ڈپٹی کمشنروں کو یہ اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ خود ہی یہ طے کر لیں کہ کونسی سیاسی سرگرمی ریاست مخالف ہے اور پھر اس کے خلاف خود ہی مقدمہ درج کروا دیں۔

ریاست مخالف سرگرمی کی اصطلاح بھی بہت دلچسپ ہے۔ کیونکہ جب بھی ملک میں مارشل لاء لگتا ہے اور فوجی حکومت قائم ہوتی ہے تو وہ حکومت خود کو ریاست سمجھتی ہے لہٰذا اس کے خلاف اور جمہوریت کی بحالی کی ہر سرگرمی ریاست مخالف سرگرمی بن جاتی ہے۔ ریاست اور حکومت میں فرق ہوتا ہے مگر آہستہ آہستہ یہ فرق مٹا دیا گیا ہے۔ لہٰذا ہر حکومت مخالف سرگرمی ریاست مخالف قرار دے کر قابل دست اندازی جرم بن جاتی ہے۔

ریاست محض چند حساس یا غیر حساس اداروں اور اسلام آباد میں قائم چند عمارتوں کا نام نہیں ہوتی بلکہ 22 کروڑ انسان بھی ریاست کا حصہ ہیں۔ ریاستی ادارے تو در اصل حکمران ریاست کا بالائی ڈھانچہ ہوتا ہے جسے حکمران طبقہ اپنے مفادات کے تحت تقدس کی چادر اوڑھا دیتا ہے ۔ ریاستی اداروں کی غلط پالیسیوں پر تنقید یا ان کو تبدیل کرنے کا مطالبہ بھی غداری کے زمرے میں آتا ہے ۔

حکومتی پالیسیوں پر تنقید اور ان کے خلاف احتجاج ہر مہذب جمہوری معاشرے میں جمہوری حق کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے ۔ پر امن احتجاج جمہوری نظام اور کلچر کا حصہ ہے۔ اگر کوئی حکومت عوام سے وعدے کر کے اقتدار میں آتی ہے اور اقتدار میں آنے کے بعد اپنے وعدوں اور منشور پر عمل نہیں کرتی تو عوام اور عوامی تنظیموں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس کے خلاف آواز بلند کریں۔ احتجاج کریں اور حکومت کے خلاف متحرک ہوں۔

اسی طرح حزب مخالف کی جماعتوں کو بھی یہ جمہوری حق حاصل ہے کہ وہ عوام کو حکومتی پالیسیوں کے خلاف متحرک کریں۔ مگر یہ وہاں ہوتا ہے جہاں جمہوری نظام مستحکم ہو۔ آئینی حکمرانی اور جمہوری حقوق کا تصور مضبوط اور راسخ ہو۔ جمہوری قدریں اور ثقافت عوامی شعور کا حصہ بن چکی ہیں۔

بد قسمتی سے ہم جمہوریت اور آمریت کے درمیان معلق ایک ایسی ریاست اور سماج بن چکے ہیں کہ جہاں ابھی تک جمہوری قدریں اور ثقافت پنپ نہیں سکی ہیں۔ جمہوریت ایک طرز فکر اور عمل کے طور پر موجود نہیں ہے۔ سماج میں برداشت اور رواداری پر مبنی رویے ندارد ہیں۔ متشدد اور حاکمانہ رویے اور آمرانہ طرز عمل کا کلچر اور رویے عام ہیں۔ ہمارا جمہوریت سے آمریت اور پھر آمریت سے جمہوریت کا سفر طے ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔

غیر جمہوری قوتوں سے کیا شکوہ کرنا اور کیسا گلہ کرنا۔ ہمارے ہاں تو جمہوری قوتیں بھی جمہوریت کے پودے کو توانا درخت بنانے میں بہت زیادہ سنجیدہ دکھائی نہیں دیتیں۔ جمہوریت کو مضبوط کرنے اور ملک میں جمہوری قدروں، رویوں اور کلچر کو فروغ دینے کے لیے چند بنیادی فیصلے کرنے ہوں گے۔

جس میں سب سے اہم فیصلہ عوامی مسائل اور مشکلات کا حل ہے۔ غربت، بے روز گاری ، مہنگائی، تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات اور خدمات کی فراہمی جیسے مسائل پر عوام سے ایک نیا عمرانی معاہدہ کرنے کی ضرورت ہے۔ میثاق جمہوریت کی طرز پر میثاق معیشت کی ضرورت ہے جس کے تحت محنت کش عوام کو درپیش مسائل کا حل پیش کیا جائے۔

سیاسی قیادت کو یہ فیصلہ بھی کرنا ہو گا کہ انہوں نے جاگیرداروں، سرمایہ داروں، بڑے تاجروں اور طبقہ امراء کی جمہوریت کو ہی بر قرار رکھنا ہے یا پھر عوامی جمہوریت یعنی شراکتی جمہوریت کی طرف عملی طور پر قدم بڑھانے ہیں۔ جب تک عوام کی غالب اکثریت عملی طور پر جمہوریت کا حصہ اور جمہوری نظام کی محافظ نہیں بنتی اس وقت تک جمہوری نظام ہوا کے معمولی جھونکوں اور تھپڑوں سے بھی لرزتا رہے گا۔

کمزور بنیادوں پر قائم جمہوری نظام جو ہوا کے معمولی جھونکوں کو بھی طوفان سمجھ بیٹھا ہے اور رد عمل کے طور پر اسے اقدامات اٹھانا ہے جس سے یہ نظام مزید کمزور ہوتا ہے اور غیر جمہوری قوتیں مزید طاقتور ہوتی ہیں۔ آزادی مارچ ایک سیاسی عمل ہے اسے اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ ریاستی طاقت کا بے جا استعمال معاملات کو مزید الجھانے کا سبب بنتا ہے نہ سلجھانے کا۔


ای پیپر