خان کو خان کی زبان میں جواب
23 اکتوبر 2019 2019-10-23

موجودہ وزیر اعظم اور2013 کے اپوزیشن لیڈر عمران خان نے اگست 2014میں ڈی چوک پر126 روزہ دھرنا دیا تو وفاقی دارلحکومت کا پہیہ کئی روز تک جام رہا۔اس وقت کی حکومت اور ریاستی ادارے عمران خان کی ہٹ دھرمی کے سامنے مکمل طور پر ناکام نظر آئے۔ ہر طرح کی حکمت و مفاہمت کے ذریعے عمران خان کو دھرنا ختم کرنے کے لئے مجبور کیا گیا مگر عمران خان مارنے یا مرنے کی حکمت عملی پر گامزن رہتے ہوئے حکومت کا سر لئے بغیر اٹھنے سے انکاری رہے۔ وہ تو سانحہ آرمی پبلک سکول کے معصوم بچوں پر ہونے والی بربریت نے عمران خان کے دل کو موم کر دیا ورنہ پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کا بجٹ اور ہمت ختم ہونے کے باوجود خان صاحب نے میں نہ مانوں کی ضد لگائے رکھی تھی۔سانحہ اے پی ایس نے اس وقت تو شہر اقتدار کی جان چھڑا دی مگر 3اپریل 2016 کو پانامہ کی لاء فرم '' موزیک فونسیکا'' کی جانب سے پانامہ پیپر ز کی پہلی قسط جاری کی گئی (جس میں میاں نواز شریف کے بچوں کی آف شور کمپنیوں سے متعلق دستاویزات بھی شامل تھیں)تو تحریک انصاف کی دم توڑتی تحریک کو ایک نئی زندگی مل گئی۔ عمران خان جو محض دھاندلی کی بنیاد پر تحریک چلا رہے تھے انھوں نے پانامہ پیپرز کو قدرت کی جانب سے مدد قرار دیا۔ پانامہ دستاویزات کی بنیاد پر عمران خان نے ایک مرتبہ پھر نومبر 2016کو اسلام آباد لاک ڈاؤن کی کال دے دی۔شہر ایک مرتبہ پھر مفلوج ہواچاہتا تھا، حکومت خاموشی سے تماشہ دیکھنے کو تھی کہ سپریم کورٹ نے نواز شریف کے خلاف نااہلی کے دائر کردہ درخواستوں کو قابل سماعت قرار دے کے شہر اقتدار کے لوگوں کی لاک ڈاؤن سے جان چھڑائی۔ گزشتہ دور حکومت میں ہی نومبر 2017 کوتحریک لبیک کے فیض آباد دھرنے نے پھر اسلام آباد کو جکڑا تو حکومتی رٹ اور انتظامی مشینری سب ناکام ہوگئے۔عدالت اور فوج کو مداخلت کرکے معاملات سنبھالنا پڑے۔خیر عمران خان کی ہٹ دھرمی اور ضد کی بہت سی دیگر مثالیں بھی موجود ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ مفاہمت اور مذاکرات جیسے الفاظ نہ عمران خان کی ڈکشنری میں ہیں اور نہ ہی انکے قریبی ساتھیوں کی ۔۔۔۔ آج کل وفاق اور صوبے میں مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کا چرچہ ہے۔ حکومت کی جانب سے بہت دیر سے مگر آخر کار مزاکراتی کمیٹی بنائی گئی ہے۔ پرویز خٹک کی زیر صدارت بنائی جانے والی مذاکراتی کمیٹی نے اپوزیشن سے رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے مگر اب ایسا لگ رہا ہے کہ اپوزیشن خان صاحب کو انکی ہی زبان میں جواب دینے پر بضد ہے۔ ذرائع سے پتہ لگا ہے کہ پرویز خٹک کی موجودگی میں سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے شہباز شریف کو فون کیا گیا تو انھوں نے رانا ثناء اللہ، شاہد خاقان عباسی اور خواجہ سعد رفیق سمیت اپنے پارلیمانی رہنماؤں کے پروڈکشن آرڈرز کا سوال اٹھا دیا۔شہباز شریف نے انھیں میثاق معشیت کی آفر پر عمران خان کا ردعمل بھی یاد دلایا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایک طرف آپ مذاکرات کی بات کر رہے ہیں تو دوسری طرف آپ کی جماعت کے وزراء روزانہ پریس کانفرنس کے ذریعے اپوزیشن پر کیچڑ اچھالتے نظر آتے ہیں۔ ایسے ماحول میں مذاکرات کیونکر ممکن ہونگے؟ اس کے ساتھ ہی شکریہ ادا کرتے ہوئے شہباز شریف نے فون بند کر دیا۔اسی طرح احسن اقبال کو فون ملایا گیا تو انھوں نے بھی ہری جھنڈی دکھاتے ہوئے یاد دلایا کہ قومی اسمبلی میں ماحول درست کرنے کی کئی کوششیں کی گئیں لیکن حکومتی ارکان کا رویہ تضحیک آمیز ہی رہا اب ہماری طرف سے بھی معذرت قبول کریں۔ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے مولانا فضل الرحمن کے بھائی اور چئیرمین سینیٹ کے ذریعے بھی بیک ڈور مذاکرات کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔یہاں تک کہ حکومت کے اپنے اتحادی سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی کی جانب سے بھی مذاکرات کی ذمہ داری لینے کے لیے کوئی حامی نہیں بھری گئی۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر عمران خان کی جماعت اس صورتحال تک کیونکر پہنچی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے تو سب کو ساتھ لے کر چلنے کا اعلان کیا تھا لیکن پارلیمنٹ کے اندر اور باہر وزیراعظم کا رویہ اپوزیشن کے ساتھ ساتھ اپنی اتحادی جماعتوں کے ساتھ بھی اس قدر سرد رہا کہ اب ضرورت پڑنے پر جمہوریت کی علمبردار سیاسی قوتوں اور ریاستی اداروں نے بھی عمران خان کو تمام تر مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لیے تنہا چھوڑ دیا ہے۔مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ اب عمران خان کے لیے بڑا امتحان ہے جس میں پاس ہونے کے لیے انھیں اپنا ذاتی جائزہ لینا ہو گا کہ بین الاقوامی سفارتی تعلقات کے امتحان میں شاندار نمبر حاصل کرنے والے وزیراعظم آسان مگر انا کے خلاف اندرون ملک سفارتی تعلقات میں کتنے نمبر حاصل کر سکتے ہیں؟ انھیں یہ بھی سوچنا ہو گا کہ اس امتحان میں پاس ہونے کے لیے انھیں کتنی تیاری کی ضرورت ہے؟مولانا فضل الرحمن اس وقت 2013 کے عمران خان بنے بیٹھے ہیں جو مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے بھی اپنی شرائط منوانے کے لیے بضد ہیں۔ مولانا کی جماعت کا کہنا ہے کہ حکومت نے ایک تو مذاکراتی کمیٹی بنانے میں بہت دیر لگا دی ہے اور دوسرا کمیٹی بننے کے باوجود حکومتی وزراء انکا مذاق بھی اڑاتے ہیں، دھرنا دینے کی اہلیت نہ رکھنے کا طعنہ بھی دیتے ہیں اور اپوزیشن رہنماؤں پر کیچڑ بھی اچھالتے ہیں۔ اس لحاظ سے تو مولانا کی جماعت کا مؤقف بالکل درست ہے کہ ایک طرف معافیاں مانگیں اور دوسری طرف تھپڑ بھی رسید کرتے جائیں۔ بدقسمتی سے عمران خان اس وقت انتقامی سیاست کے طالب علم بنے ہوئے ہیں اور انکے ساتھی بھی انھیں درست مشورہ دینا نہیں چاہتے یا دینے سے قاصر ہیں۔ عمران خان کا نعرہ آج بھی وہی ہے سب کا احتساب ہو گا، وہ آج بھی اپوزیشن کے تمام رہنماؤں کو جیل میں دیکھنا چاہتے ہیں، وہ ملکی معیشت کی بدترین صورتحال کے باوجود عوام سے کرپشن کے خلاف اقدامات پر شاباش چاہتے ہیں۔ مختصر یہ کہ عمران خان موجود حالات میں بھی کنٹینر والے ایجنڈے پر گامزن ہیں حالانکہ سامنے سے آنے والا کنٹینر بھی انھیں واضح نظر آ رہا ہے۔ وہ سائیڈ تبدیل کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور سامنے والا کنٹینر بھی ٹکراؤ چاہتا ہے۔ اب یہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کو دیکھنا ہو گا کہ ٹکراؤ کے نتیجے میں زیادہ نقصان کس کا ہو سکتا ہے۔


ای پیپر