”ایم اے او کالج کو معاف کر دیں“
23 اکتوبر 2019 2019-10-23

ایم اے او کالج میری مادر علمی ہے، یہ درست ہے کہ میں نے یہاں سے نصابی سے زیادہ غیر نصابی تعلیم حاصل کی کہ ایک طویل عرصے تک ایم اے او کالج لاہور میں اپنی تعلیم کے بجائے بہت سارے دوسرے معاملات کی وجہ سے جانا اور پہچانا جاتا رہا ہے مگر اب ایک برس سے اس کی پہچان تبدیل ہو رہی ہے، یہاں علمی اور ادبی سرگرمیوں کو فروغ مل رہا ہے، کالج کے ڈسپلن اور میرٹ میں اضافہ ہو رہا ہے، ایوننگ شفٹ شروع ہو چکی ہے اور یہ سب تبدیلی پروفیسر فرحان عبادت کی وجہ سے آ رہی ہے جنہیں اس چیلنجنگ تعلیمی ادارے کا پرنسپل بنایا گیا ہے۔ میں سرکاری تعلیمی اداروں کے حوالے سے پورے یقین سے کہتا ہوں کہ جس ادارے کا سربراہ میرٹ اور محنت کے اصولوں پر عمل کرتا ہے وہ سرکاری ادارہ، پرائیویٹ اداروں کے لئے بھی مثال بن جاتا ہے، پروفیسر فرحان عبادت، معروف ماہر تعلیم اور دانشور پروفیسر عبادت یار خان کے صاحبزادے ہیں۔

مجھے سخت دُکھ اور تکلیف کا سامنا ہے کہ تیزی سے اپنی ساکھ بناتے ہوئے اس ادارے کو ایک گھٹیا سازش کا سامنا ہے جس کے تانے بانے انہی لوگوں سے جاملتے ہیں جو اس سے پہلے پنجاب یونیورسٹی میں اپنے سیاسی اور ذاتی مفادات کی وجہ سے گھناو¿نا کھیل، کھیل چکے ہیں، جی ہاں، میں ایم اے او کالج میںانگریزی کے لیکچررافضل محمود کی مبینہ خود کُشی کے بارے میں بات کر رہا ہوں جس میں ان کی موت کی ذمہ داری پرنسپل ایم اے او کالج پر عائد کی جارہی ہے کیونکہ سازشی اور شرپسند عناصر کے مطابق انہوں نے جنسی ہراسگی کے ایک کیس میں افضل محمود کی بریت کا آفیشئل لیٹر جاری نہیں کیا، سوشل میڈیا اور ڈرائنگ روم کے اینکروں کے مطابق اس خط کو جاری کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا گیا۔ یہ ایک جان کا معاملہ تھا اور بغیر کسی تحقیق کے میری ابتدائی رائے تھی کہ ہم اس معاشرے میں رہتے ہیں جہاں کسی کو بھی اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے جان سے جانا پڑتا ہے مگر مجھے بعدمیں اندازہ ہوا کہ میری یہ رائے اس پروپیگنڈے کے زیر اثر تھی جو ایک گروہ یک طرفہ طور پر سوشل میڈیا پر کر رہا تھا اور ریٹنگ کے لئے بے قابو الیکٹرانک میڈیا بھی اس کی زد میں آ رہا تھا۔ کیا یہ امر افسوسناک نہیں ہے کہ ہم میں سے بہت سارے بغیر تحقیق کے پروگرام کرتے ہیں، کالم لکھتے ہیں، الزام لگاتے ہیں ، گالیاں دیتے ہیں؟

میں نے ایم اے او کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر فرحان عبادت سے ان کا موقف جاننے کی کوشش کی تو ان کا جواب تھا کہ حکومت پنجاب نے اس معاملے ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی ہے اور اس کمیٹی کے قیام کے بعد انہیں کسی قسم کا بیان نہیں دینا چاہئے۔ میںنے ایم اے او کالج کے متعدد اساتذہ کرام سے رابطہ کیا جن میں انگریزی ڈپیارٹمنٹ کے لوگ بھی شامل تھے تو بہت ہی مختلف قسم کے حقائق میرے سامنے آئے۔ مجھے بتایا گیا کہ ایک طالبہ نے واقعی ایک درخواست دی تھی جس میں افضل محمود مرحوم پر ہراسگی کا الزام عائد کیا گیا تھا اور پرنسپل آفس سے یہ درخواست ( اینٹی) ہراسمنٹ کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر عالیہ رحمان کو مارک کر دی گئی تھی۔ عالیہ رحمان کی اپنی رپورٹ بتاتی ہے کہ انہوں نے ’ اِن فارمل پروسیڈنگز‘ کیں۔ فارمل کے بجائے ان فارمل پروسیڈنگز کا کیا جواز تھا یہ ڈاکٹر عالیہ رحمان ہی بتا سکتی ہیں تاہم انہوں نے اپنی جمع کرائی گئی رپورٹ میں افضل محمود کو بے گناہ قرا ر دیا۔اب یہ امر بھی ڈاکٹر عالیہ رحمان ہی واضح کر سکتی ہیں کہ انہوں نے درخواست دینے والی طالبہ کا موقف کیوں نہیں سنا اور وہ تمام واٹس ایپ میسیجز جو اس وقت انگریزی ڈپیارٹمنٹ کے تقریباتمام اساتذہ اور طالب علموں کے پاس موجود ہیں، وہ اپنی تفتیش کا حصہ کیوں نہیں بنائے ، اس رپورٹ پر کمیٹی کے باقی تمام ارکان کے دستخط کیوں نہیں کروائے مگر ان تمام سوالوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ہم تسلیم کر لیتے ہیںکہ ان کی فائنڈنگز درست تھیں تو بھی کسی ان فارمل پروسیڈنگ کا فارمل لیٹر جاری نہیں کیا جاتا۔

مجھے اس بیان پر بھی حیرت ہوئی کہ پروفیسر ڈاکٹر عالیہ رحمان نے مبینہ طور پر آٹھ اکتوبر کی دوپہر کو گھر جاتے ہوئے لیکچرر افضل محمود کا وہ خط موصول کیا وہ اس وقت سوشل میڈیا پر وائرل ہے اور اسے پڑھنے کی بھی زحمت نہیں کی بلکہ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ خط سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دنیا تک پہنچ چکا ہے مگر ابھی تک پرنسپل آفس نہیںپہنچا جہاں اسے آخر میں درج کئے گئے الفاظ کی سنگینی کے پیش نظر سب سے پہلے پہنچنا چاہئے تھا۔ پروپیگنڈہ کرنے والا گروپ اس امر کو بھی نظرانداز کر گیا کہ آٹھ اکتوبر کی دوپہر اگر افضل محمود کی طرف سے اپنے حق میں لیٹر کا مطالبہ کیا گیا تو اس پر کسی طور بھی نو اکتوبر سے پہلے عمل نہیں ہوسکتا تھا جبکہ افضل محمود نواکتوبر کی صبح نو بجے تشویشناک حالت میں ہسپتال پہنچائے جا چکے تھے۔ ان کے کولیگز کے مطابق افضل محمود کی ازدواجی زندگی قابل رحم تھی، انہوں نے پہلی شادی اپنے ایک دوست کی مطلقہ بہن سے کی جو نبھائی نہ جا سکی اور دوسری شادی اپنے سے بہت برس بڑی خاتون سے کر لی جس کے پہلے سے تین بچے تھے اور اس پر مزید برا یہ ہوا کہ خود باپ نہیں بن سکے۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ عالیہ رحمان یہ خط فوری طور پر پرنسپل کے نوٹس میں لاتیں مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا اور دوسری طرف اگر بہت ہی پازیٹو اپروچ رکھ کر سوچا جائے تو لگتا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر یہ معاملہ آنے کے بعد خوفزدہ ہو گئیں کہ کہیں ذمہ داری ان پر ہی نہ آجائے لہٰذا وہ پروپیگنڈہ کرنے والے اس گروپ کی آلہ کار بن گئیں جن کی اکثریت وہ ہے جو ایم اے او کالج کو پرانا بدنام زمانہ ادارہ ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو اس ایک برس کے عرصے میں وارننگز ملیں، شوکاز نوٹسز ملے اور مختلف غیر ذمہ دارانہ حرکتوں پر سزائیں ملیں۔ اس پروپیگنڈے کے پیچھے وہ لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ہر تعلیمی ادارے کا سربراہ ایک مخصوص سیاسی جماعت اور اس کی معروف طلبہ تنظیم کا پروردہ یا آلہ کار ہی ہونا چاہئے تاکہ اس کا پنجاب یونیورسٹی کی طرح تمام اداروں پر قبضہ رہے۔ وہ اپنی سوچ سے اختلا ف کرنے والے ہر شخص کو کافر، غدار اور کرپٹ سمجھتے ہیں۔کیا ان عناصر سے درخواست کی جا سکتی ہے کہ وہ ایک ایسے تعلیمی ادارے کو معاف کر دیں جو طلبا تنظیموں کے درمیان اکھاڑا بنا رہا، جہاں مائیں اپنے بچوں کو بھیجنے سے پہلے امام ضامن باندھا کر تی تھیں، جہاں سے افسر، جج، جرنیل ، صحافی اور دانشور کم اور بدمعاش زیادہ جنم لیتے رہے اور اب اگر وہ لاہورشہر کے وسط میں ہزاروں طالب علموں کی علمی ضروریات پوری کر رہا ہے تو اسے اس راہ پر چلنے دیا جائے اور اس شخص کو بھی محض اس لئے نشانہ نہ بنایا جائے کہ وہ آپ کا نظریاتی حلیف نہیں ہے۔ افضل محمود نے خود کشی کی یا انہیں قتل کیا گیا اس بارے تحقیق اور تفتیش کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے کیونکہ ان کی موت ایک پراسرار معاملہ ہے۔ وہ اگر اپنی بریت کے آفیشل لیٹر کے لئے اتنے ہی بے چین تھے تو انہیں عالیہ رحمان کو لکھے ہوئے خط کے بعد بہت نہ سہی دو تین روز تو انتظار کرنا چاہئے تھا مگر وہ چوبیس گھنٹوں سے پہلے ہی ہسپتال پہنچ گئے۔ اس معاملے کو می ٹو کے ہیش ٹیگ کے ساتھ جوڑنے والوں کو بھی دیکھنا چاہئے کہ اس کے ساتھ ایک طالبہ کی عزت اور زندگی جڑی ہوئی ہے اوران کی مہم جوئی سے کل کلاں کوئی دوسرا ناخوشگوار واقعہ ہو گیا تو کیا وہ خود کو اس کا ذمہ دار قرار دے پائیں گے؟ میں اس سیاسی و مفاداتی پروپیگنڈہ گروپ ، لائیکس کمنٹس اور شئیرنگ کے لئے پاگل سوشل میڈیا ایکٹی ویسٹس اور ریٹنگ کے لئے کچھ بھی کہہ جانے والے اینکرز سے یہی درخواست کر سکتا ہوں کہ وہ اپنی عارضی مقبولیت کی بھوک میں افضل محمود کی لاش کو مت نوچیں، ان کی موت ایک سانحہ ہے، ایک حادثہ ہے، وہ اس لڑکی کو بھی معاف کر دیں جسے وہ بغیر حقائق جانے مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں، وہ میری مادر علمی ایم اے او کالج کو بھی معاف کر دیں جس نے ایک افسوسناک ماضی دیکھا ہے اور ایک اچھے مستقبل کی طرف گامزن ہے۔


ای پیپر