دنیا کی بڑی طاقتوں میں خطرناک سائبر جنگ
23 اکتوبر 2018 (23:12) 2018-10-23

عثمان یوسف قصوری:
دنیا کی بڑی طاقتوں میں اس وقت سائبر جنگ پورے عروج پر پہنچی ہوئی ہے،ہر طاقتور ملک کی یہ کوشش ہے کہ وہ اپنے حریف ملک کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے میں کامیاب ہو جائے یااس کے خفیہ راز چرا کر اپنے دشمن کی حکمت عملی کا توڑ کرکے اس کے عزائم کو خاک میں ملادے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ جو ہر وقت دنیا کی سپر پاور ہونے کے غرور اور تکبر میں مبتلا رہتا ہے،اسے دفاعی لحاظ سے چومکھی لڑائی لڑنا پڑ رہی ہے۔ کیونکہ اس کے مخالف ممالک کی یہ کوشش ہے کہ اقوام عالم کے امن سب سے بڑے دشمن امریکہ کی شر پسندی کا مقابلہ کرنے کے لئے اس کے راز چرا لیے جائیں،کس قدر حیران کن بات ہے کہ امریکہ جوہر وقت اس کوشش میں رہتا ہے کہ کسی طرح پاکستان کو دہشت گردوں کا سرپرست ملک اور ایک ناکام ریاست ثابت کرکے اس کے ایٹمی ہتھیاروں پر قبضہ کر لے،اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ امریکہ پاکستان کے لئے کھودے جانے والے اپنے گڑھے میں خود گر جائے۔ دراصل امریکہ نے پاکستان کے ایٹمی ہتھیار قبضے میں لینے یا انہیں تباہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے، اور وہ اپنی ناپاک سازش پر اس وقت عمل کرنا چاہتا ہے ، جب پاکستان کسی اندرونی بحران سے دوچار ہو ۔

کیونکہ امریکہ اور بیشترمغربی ممالک کو کسی بھی طور پر اسلامی ملک کا ایٹمی طاقت ہونا قبول نہیں اور وہ شروع سے ہی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے کے منصوبے بناتے آرہے ہیں۔ وہ پاکستان کے ایٹمی طاقت ہونے کی وجہ سے اس پرعراق کی طرح براہ راست حملہ نہیں کر سکتے یا ایران کی طرح پابندیاں عائد نہیں کر سکتے۔ تاہم وہ ہر صورت میں پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں اور ایٹمی میزائلوں کی تباہی چاہتے ہیں۔امریکی تھنک ٹینکس اسی مقصد کے تحت شوشے چھوڑ رہے ہیں کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔ سب سے احمقانہ انہوں نے یہ کہانی گھڑ رکھی ہے کہ ممکنہ طور پر پاکستان کے ہتھیا ر شدت پسندوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔ دوسری جانب امریکہ بھارتی ایٹمی پروگرام اور میزائل ٹیکنالوجی کو جدیدترین بنانے کے لیے اس کی ہر طرح سے معاونت کر رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بھارت کو چین کے مقابلے میںکھڑا کرنا چاہتا ہے، جسے وہ اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔ چنانچہ اس مقصد کے تحت بھی وہ ہرصورت میں پاکستان کو کمزوراور اس کی ایٹمی طاقت سلب کرنا چاہتا ہے تاکہ بھارت کو پاکستان کی طرف سے کوئی خطرہ درپیش نہ ہو اور وہ یکسوئی سے چین کو ٹکر دینے کی تیاری کرے۔ایک طرف امریکہ دوسرے ممالک کے خلاف اپنی ایسی شر پسندانہ کارروائیوں میں مصروف رہتا ہے لیکن یہ بھی چاہتا ہے کہ کوئی اس کے خلاف جوابی کارروائی بھی نہ کرے ،جب کوئی ایسا کرنے لگتا ہے تو وہ شور مچانے لگتا ہے۔


امریکی ”ہتھیاروں کانظام “خود خطرے میں ؟
اب خبر یہ سامنے آئی ہے کہ امریکی” ہتھیاروں کا سسٹم “ باآسانی ہیک کیا جا سکتا ہے، اس لئے امریکہ کو اس حوالے سے فکر لاحق ہوگئی ہے، امریکی حکومت کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کے جدید ترین ہتھیاروں میں سے چند کو محض ”بنیادی ٹولز“ استعمال کر کے آسانی سے ہیک کیا جا سکتا ہے۔ امریکی حکومت کے محکمہ”جی اے او“ نے جب 2012ءسے 2017ءکے درمیان تقریباً تمام ہتھیاروں کا معائنہ کیا جس کے بعد اسے معلوم ہوا کہ یہ ہتھیار سائبر حملوں کی زد میں ہیں۔ جی اے او کے مطابق ان میں جدید ترین ایف35 جیٹ کے علاوہ میزائل سسٹم بھی شامل ہیں۔ سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو پیش کی جانے والی 50 صفحات پر مشتمل رپورٹ کے حوالے سے امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے حکام نے فی الحال فوری طور پرکوئی جواب نہیں دیا ہے۔کمیٹی کے ارکان نے یہ سوال اُٹھایا ہے کہ ہتھیاروں کے نظام کو سائبر حملوں کے خلاف کیسے محفوظ کیا گیا تھا؟


رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پینٹاگون نے ایک سے زیادہ ہتھیاروں کے نظام پر ڈیفالٹ پاس ورڈز تبدیل نہیں کیے جبکہ ایک تبدیل شدہ پاس ورڈ کا اندازہ صرف نو سکینڈ میں لگایا گیا تھا۔جی اے او کی جانب سے مقرر کی جانے والی ایک ٹیم نے ہتھیاروں کے ایک نظام کا کنٹرول آسانی سے حاصل کر لیا اور آپریٹروں کو ہیکروں کا جواب دیتے ہوئے دیکھا۔دو افراد پر مشتمل ایک دوسری ٹیم کو ہتھیاروں کے نظام تک ابتدائی رسائی حاصل کرنے میں صرف ایک گھنٹہ لگا جبکہ مکمل رسائی تک پورا دن لگا۔ متعدد ٹیسٹ ٹیمیں ڈیٹا کو کاپی، تبدیل یا حذف کرنے کے قابل تھیں جبکہ ایک ٹیم 100گیگا بائٹس کی معلومات کو ڈاون لوڈ کرلیتی ہے۔ جی اے او کا مزید کہنا ہے کہ پینٹاگون کو اپنے ہتھیاروں کے سسٹم کی کمزوری کا ٹھیک طرح سے ادراک نہیں تھا۔ سکیورٹی کمپنی پین ٹیسٹ پارٹنر کے ایک ماہر کین منرو کا کہنا ہے کہ انھیں اس تحقیق کے نتائج سے ذرا بھی حیرانی نہیں ہوئی ۔ان کے مطابق ہتھیاروں کا ایک نظام تیارکرنے میں طویل وقت لگتا ہے ان میں اکثر کی بنیاد زیادہ پرانے سسٹمز پر ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں اس کا ڈیٹا اور سافٹ ویئر بہت پرانے اور غیر محفوظ کوڈ پر مبنی ہو سکتے ہیں۔ بہرکیف سکیورٹی کمپنی پین ٹیسٹ پارٹنر نے پینٹاگون کی ہتھیاروں اور میزائل سسٹم کی حفاظت کے حوالے سے ناقص سکیورٹی کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔

شمالی کوریا کے ہیکرز اور امریکہ و جنوبی کوریا کے جنگی منصوبے
دنیا کے مختلف ممالک میں سائنر جنگ کس قدر شدت اختیار کر چکی ہے ؟ اس حوالے سے شمالی کوریا کی مثال پیش کی جا سکتی ہے جو کہنے کو تو بہت چھوٹا سا ملک ہے لیکن اس کے ہیکرز نے گزشتہ برس امریکہ اور جنوبی کوریا کے جنگی منصوبے چوری کر لیے تھے۔ شمالی کوریا سے تعلق رکھنے والے ہیکرز نے جنوبی کوریا کی فوجی دستاویزات کی بڑی تعداد چوری کی تھی، جس میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ کو قتل کرنے کا منصوبہ بھی شامل تھا۔ جس کے بارے میںجنوبی کوریا کے ایک قانون ساز ری چول کا کہنا تھاکہ چوری کی جانے والی معلومات وزارتِ دفاع سے متعلق ہیں۔چوری کی جانے والی دستاویزات میں امریکہ اور جنوبی کوریا کی جانب سے جنگ سے متعلق تیارکیے جانے والے منصوبے بھی شامل تھے۔ جنوبی کوریا کی وزارتِ دفاع نے ان الزامات پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکارکر دیا تھا۔ان دستاویزات میں جنوبی کوریا کی خصوصی افواج کے منصوبوں تک رسائی حاصل کی گئی، جن میں اہم پاور پلانٹس اور فوجی تنصیبات کے بارے میں معلومات بھی شامل تھیں۔ ری چول کا کہنا تھا کہ جنوبی کوریا کے دفاعی ڈیٹا سنٹر سے 235 گیگابائٹس فوجی دستاویزات چوری کی گئیں ۔ یہ دستاویزات گزشہ سال ستمبر میں ہیک کی گئیں تھیں۔ جس پرجنوبی کوریا نے کہا تھا کہ ان کا بڑی مقدار میں ڈیٹا چرایا گیا تھا اور شاید شمالی کوریا نے اس سائبر حملے کی ترغیب دی ہو تاہم اس نے اس کی زیادہ تفصیل نہیں بتائی تھی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ دوسری جانب شمالی کوریا نے اس دعوی کی تردیدکی تھی۔ جنوبی کوریا کے ریاستی خبر رساں ادارے ’ہونہاپ‘ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیﺅل حالیہ برسوں میں اپنے کیمونسٹ ہمسائے کی جانب سے سائبر حملوں کا شکار رہا ہے جس میں سرکاری ویب سائٹس اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ جس کے بعدشمالی کوریا نے جنوبی کوریا پر من گھڑت الزام عائد کرنے کا دعوی کیا۔شمالی کوریا نے بعد ازاںہائیڈروجن بم کے کامیاب تجربے کا دعویٰ بھی کیا تھا جسے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل پر رکھ کر لانچ کیا جا سکتا ہے۔ جس پرامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوامِ متحدہ میں تقریر کرتے ہوئے شمالی کوریا کو تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی اور ملک کے سربراہ کم جونگ ان کو ”راکٹ مین“ کہہ کر پکارا تھا اور کہا تھا کہ وہ خودکش مشن پر ہیں۔اس کے جواب میں کم جونگ ان نے کہا تھا کہ وہ ”سٹھیائے ہوئے دماغی مریض امریکی صدر“کو آگ سے سدھائیں گے۔


امریکہ اور یورپ، روس دشمن کو مفلوج کر دینے والی منصوبہ بندی سے خوفزدہ
اسی طرح گزشتہ برس روس نے سائبر جنگ کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ روس کے انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ سے تعلق رکھنے والے فوجی ذہین اور مو¿ثر پروپیگنڈہ میں مصروف ہیں۔ روسی فوج نے پہلی بار معلومات کی جنگ کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں کے حوالے سے اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ سرد جنگ کے بعد سے اس کا دائرہ کافی وسیع کیا گیا ہے۔روس کے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ روس کے انفارمیشن ٹیکنالوجی سے آراستہ فوجی بہت ذہین ہیں جو موثر انداز میں پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ تاہم انھوں نے اس حوالے سے ٹیم یا ہدف کی تفصیلات نہیں بتائی تھیں۔ یاد رہے کہ مغربی ممالک کئی بار روس پر سائبر حملوں کا الزام عائد کر چکے ہیں۔ اور اطلاعات کے مطابق ایسے حملوں کا اولین ہدف نیٹو ہے۔ سرد جنگ کے دوران سوویت یونین اور امریکہ دونوں ہی نے پروپیگنڈا کیا تھا تاکہ اپنے موقف سے عالمی عوامی رائے عامہ اور پر اثر انداز ہوں سکیں اور اپنے نظریات کو بڑھا سکیں۔روسی ممبران اسمبلی سے بات کرتے ہوئے روسی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس انفارمیشن فوجی ہیں جو سابق کاو¿نٹر پروپیگنڈا سیکشن سے کہیں زیادہ موثر اور مضبوط ہے۔ تھنک ٹینک ’چیتھم ہاو¿س‘ میں روسی فوج کے ماہرکیر گائلز نے متنبہ کیا کہ مغربی ممالک کی جانب سے سائبر جنگجوو¿ںاور ہیکرز کے حوالے سے موجودہ توجہ کے مقابلے میں روسی انفارمیشن جنگ کہیں زیادہ وسیع ہے۔گائلز نے نیٹو کے لئے مرتب کی جانے والی رپورٹ میں کہا ہے کہ روس کا مقصد ہے کہ انفارمیشن کسی بھی صورت میں ہو اکٹھی کی جائے۔ سوویت یونین کے وقت میں ماسکو کا اصل مقصد روس برائے خیال کو بڑھانا تھا یا پھر روسی ماڈل کو اپنانے کے لیے پروپیگنڈاکرنا تھا۔ لیکن اب اس کا صرف ایک مقصد ہے اور وہ یہ ہے کہ سچ اور صحیح رپورٹنگ کو ممکن بنانے سے روکا جائے۔گائلز نے بی بی سی کو بتایا کہ روس نیٹو کا امتحان مختلف طریقوں سے لے رہا ہے جس میں فوجیوں کے سوشل میڈیا پروفائلز کو ٹارگٹ کرنا شامل ہے۔وہ انفرادی سطح پر لوگوں سے رابطہ کرتے ہیں اور ان کو ٹارگٹ کرتے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ روس نے بالٹک ریاستوں میں نیٹو فوجیوں کو ٹارگٹ کیا، پولینڈ کی ملٹری اور یوکرین کی فوج کو ٹارگٹ کیا جو روسی حمایت یافتہ فوجیوں کے خلاف لڑ رہی ہے۔ خون بہائے بغیر دشمن کو مفلوج کرناروس مغرب کی جانب سے غلط انفارمیشن پھیلانے کے بیانیہ کو رد کرتا ہے اور نیٹو پر الزام لگاتا ہے کہ وہ جارحانہ طریقے سے اپنے مشن میں توسیع کر رہا ہے۔ روس کی سائبر سپیس میں کارروائیوں پر مغرب نے سخت نظر رکھی ہوئی ہے۔گائلز کے مطابق روس نے انفارمیشن کی جنگ کو ترجیح دینے کا فیصلہ 2008 ءمیں روس اور جارجیا کے تصادم کے بعد کیا تھا۔ روس کی سکیورٹی ایجنسیوں کو معلوم ہوا کہ وہ جنگ میں صحیح اور غلط ہونے کے حوالے سے عوامی رائے عامہ کو اپنے حق میں کرنے میں ناکام رہے تھے۔روسی وزیر دفاع کے بیان پر روس کے سابق کمانڈر ان چیف جنرل یوری بلوسکی نے کہا کہ انفارمیشن کی جنگ میں جیت فوجی تصادم میں جیت سے کہیں زیادہ اہم ہے کیونکہ انفارمیشن کی جنگ میں جیت خون بہائے بغیر حاصل کی جاتی ہے لیکن یہ نہایت پر اثر ہے اور دشمن ریاست کے طاقت کے ڈھانچے کو مفلوج کر دیتی ہے۔واضح رہے کہ یورپی یونین کی ایسٹ سٹریٹکوم ٹاسک فورس نامی ایک خاص ٹیم ہے جو سوشل میڈیا پر روسی پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔


روس مغربی کی جمہوریت اور انفراسٹرکچرکو نشانہ بنا رہا ہے؟
کچھ عرصہ قبل روس کے انفارمیشن فوجیوں کی کارروائیوں سے نالاں برطانیہ نے کہا تھا کہ وہ غیر مصدقہ معلومات کو ہتھیار بنا رہا ہے۔ برطانوی وزیرِ دفاع کا کہنا تھاکہ ولادمیر پوتن مغربی ممالک کا امتحان لے رہے ہیں۔برطانوی وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ روس سائبر حملوں کے ذریعے مغربی ممالک میں جمہوریت اور اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہا ہے۔وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ماسکوغیر مصدقہ معلومات کو بطور ہتھیار اپنا اثر و رسوخ بڑھانے، مغربی ممالک میں حکومتوں کو غیر مستحکم اور نیٹو کو کمزور کرنے کےلئے استعمال کر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی اہم ہو گیا ہے کہ اتحادی ممالک اپنے سائبر دفاع کو مضبوط کریں۔واضح رہے کہ برطانوی وزیر دفاع کی یونیورسٹی آف سینٹ ایڈروز میں یہ تقریر ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب تھوڑی ہی دیر میں وزیراعظم تھریسا مے مالٹا میں ایک غیر رسمی سربراہی اجلاس میں نیٹو کے یورپی ممبران کو اپنے دفاعی اخراجات میں اضافے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرنے والی تھیں۔برطانوی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ نیٹو کو روس کی جانب پھیلائی جانے والی جھوٹی انفارمیشن کا بہتر انداز میں مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔نیٹو کو سائبر سپیس میں اپنا دفاع اتنے ہی موثر انداز میں کرنا چاہیے جتنا وہ فضا، زمین، اور سمندروں پر کرتا ہے تاکہ دشمن کو پتا ہو کے اگر وہ سائبر حملے کرے گا تو اسے اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ان کا کہنا تھا کہ روس کی جانب سے کیے گئے ممکنہ سائبر حملوں میں فرانس میں نشریاتی ادارہ ٹی وی 5 منوڈے کا اپریل 2015 میں نشریات بند کرنا، اور جرمنی میں ایوانِ زیریں کو نشانہ بنانا شامل ہیں۔ان کے علاوہ اکتوبر 2016 میں بلگیریا میں ایک سائبر حملے کو ملک کے صدر نے جنوب مشرقی یورپ کا بھاری اور شدید ترین حملہ قرار دیا تھا۔اس کے علاوہ وزیر دفاع نے روس کی جانب سے ممکنہ طور پر دونوں مرکزی امریکی سیاسی جماعتوں کی ہیکنگ کا ذکر بھی کیا۔


”یاہو“ نے اپنے سسٹم پر سائبر حملے کا ذمہ دار روس کو ٹھہرایا
اسی طرح چند برس قبل امریکی کمپنی ’یاہو‘ پر بھی انتہائی شدید سائبر حملہ کیا گیا تھا، ہیکنگ کے اس حملہ کے نتیجے میں یاہو کے ایک ارب اکاو¿نٹس متاثر ہوئے تھے۔اس حملے کے متعلق یاہو کا کہنا تھا کہ 2013ءمیں ہونے والی ایک ہیکنگ سے کم سے کم ایک ارب صارفین کے اکاو¿نٹس متاثر ہوئے تھے۔ یاہو کا کہنا مزید کہنا تھا کہ ہیکنگ کا یہ واقعہ 2014ءمیں ہونے والی ا±س ہیکنگ سے الگ ہے جس کے دوران ہیکرز کو 50 کروڑ اکاو¿نٹس تک رسائی حاصل ہوئی تھی۔یاہو کا کہنا تھا کہ اس ہیکنگ کے دوران صارفین کے نام، فون نمبرز، پاسورڈز اور ای میل ایڈریسز لیے گئے تاہم بینک اور ادائیگیوں سے متعلق معلومات نہیں چرائی گئیں۔یاہو نے انکشاف کیا تھا کہ 2014ءمیں اس کے نظام میں دخل اندازی کر کے صارفین کی معلوما چرائی گئی تھیں۔ بعدازاںسائبر حملہ کے حوالے سے یاہو کا کہنا تھا کہ یہ حملہ ریاستی معاونت سے کیا گیا تھا ۔یاہو کا کہنا تھا کہ جس سائبر حملے میں ہیکرز نے اس کے 50 کروڑ صارفین کے اکاو¿نٹس کی معلومات چوری کی و ہ ریاستی معاونت سے کیا گیا۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے تین امریکی انٹیلیجنس اہلکاروں کے حوالے سے کہا تھا کہ ان کے خیال میں یہ حملہ ریاست کی مدد سے کیا گیا ہے کیونکہ ایسا ہی حملہ روسی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے کیا تھا۔بتایا گیا ہے کہ ڈیٹا کی چوری 2014ءکے اواخر میں ہوئی تھی اور اس میں ذاتی معلومات کے علاوہ سکیورٹی سوالات و جوابات بھی چوری ہوئے۔ تاہم اس میں صارفین کے کریڈٹ کارڈز کا ڈیٹا چوری نہیں ہوا۔ یاہو کی جانب سے تصدیق کی گئی تھی کہ یہ حملہ اور چوری ہونے والا مواد ابتدائی اندازے سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔ جس کے بعدکمپنی نے صارفین کو تجویز دی تھی کہ اگر انھوں نے 2014ءسے اپنے اکاو¿نٹس کے پاس ورڈ تبدیل نہیں کیے تو وہ انھیں تبدیل کر لیں۔


امریکی بحریہ کا کنٹریکٹر ، سائبر حملہ اورخفیہ معلومات کی چوری
2018ءمیں امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا کہ چینی فوج امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر بحر الکاہل کے علاقے میںحملہ کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔کانگریس کو پیش کی جانے والی پینٹاگون کی یہ سالانہ رپورٹ کہتی ہے کہ چین مسلسل اپنی عسکری صلاحیت میں اضافہ کر رہا ہے اور اب اس کا دفاعی بجٹ 190 ارب ڈالر ہو گیا ہے جو کہ امریکی دفاعی بجٹ کا ایک تہائی حصہ ہے۔واضح رہے کہ چین کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی رد عمل نہیں دیا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ تین سالوں میں پیپلز لبریشن آرمی نے تیزی سے اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے اور میری ٹائم علاقوں میں مشقیں کیں۔جس سے لگتا ہے کہ وہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف حملوں کی تیاریوں کا حصہ ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ چین ان تیاریوں سے کیا ثابت کرنا چاہتاہے۔اس رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیاکہ ’چین تائیوان پر زبردستی قبضہ کرنے کے بھی انتظامات کر رہا ہے۔چین اپنی زمینی افواج تیار کر رہا ہے کہ وہ جنگ کریں اور جیت حاصل کریں۔ اور اگر امریکہ نے دخل اندازی کی تو چین اس کو روکنے کی کوشش کرے گا اور چاہے گا کہ مختصر دورانیے کی مگر تیز شدت کی جنگ ہو جس میں وہ کامیابی حاصل کر سکے۔ چین ساو¿تھ چائنا سی کے علاقے میں اپنی فوجی تنصیبات میں اضافہ کرتا چلا آرہا ہے۔


چین تائیوان کو اپنے حصہ تسلیم کرتا ہے لیکن امریکہ اس کی آزادی کا حامی ہے۔امریکی اور چینی عسکری حکام کی آپس میں گفتگو ہوتی رہی ہے تاکہ آپس کے تناو¿ کو کم کیا جائے لیکن یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات ایک بار پھر کشیدہ ہیں۔چین جنوبی بحیرہ چین کے علاقے میں اپنی فوجی تنصیبات میں اضافہ کرتا چلا آرہا ہے اور کئی مقامات پر اپنے بمبار طیارے اُتار چکا ہے جبکہ دوسری جانب امریکہ نے جاپان میں اپنی فوجیں تیار رکھی ہوئی ہیں۔ دوسری جانب یہ خبر بھی سامنے آئی ہے کہ دنیا کی اُبھرتی ہوئی سپر پاور چین سے خوفزدہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سائبر حملوں کے قواعد میں نرمی کر دی گئی ہے۔ امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے مطابق صدر ٹرمپ نے سائبر حملوں کے قواعد میں نرمی کی اجازت دی دے ہے ،جنھیں سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں تیار کیا گیا تھا۔ ان قواعد و ضوابط کی روشنی میں سائبر حملے کرنے سے پہلے کئی سرکاری محکموں کو شامل کرنا ضروری تھا۔واضح رہے کہ امریکی انتظامیہ سائبر حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سخت دباو¿ میں ہے۔ گزشتہ مہینے ہی فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن نے ایک مبینہ چینی سائبر حملے کی تفتیش کرنا شروع کی تھی جو امریکی بحریہ کے ایک کنٹریکٹر پر کیا گیا تھا اور جس کی وجہ سے خفیہ معلومات چرا لی گئی تھیں۔


دنیا کا امن ایک مرتبہ پھر خطرے میں ہے کیونکہ اس پر پھر جنگ کے سائے منڈلانے لگے ہیں،کیونکہ دنیا پہلے جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوئم کی مصیبت سے دوچار ہوئی،اس کے بعد دنیا نے سرد جنگ کا تکلیف دہ دور دیکھا ،جس کا نتیجہ افغان جنگ کی صورت میں برآمد ہوا اور اب پھر ایک مرتبہ دنیا سائبر وار کے دھانے پر آن کھڑی ہوئی ہے،اب اس کا نتیجہ کسی نئی جنگ کی صورت میں نہ نکلے کیونکہ دنیا اس کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
٭٭٭


ای پیپر