خودکو دیکھنے کازاویہ بدلیں، زندگی بدل جائے گی
23 اکتوبر 2018 (23:08) 2018-10-23

 نعیم سلہری:

دوسرے لوگوں، مختلف اشیاءکی قیمتوں، موسم کی شدت، گرمی سردی، ملک کے سیاسی و معاشی حالات اور سٹاک مارکیٹ وغیرہ میں ہونے والی تبدیلیوں سمیت کئی ایسی چیزیں ہیں جن میں آپ کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا اور نہ ہی آپ ان کو تبدیل کر سکتے ہیں لیکن خوشی اور خوش قسمتی والی بات یہ ہے کہ آپ اپنے آپ کوکنٹرول کرسکتے ہیں۔ اگر آپ اپنی اندرونی دُنیا میں تبدیلی لا سکتے ہیں تو آپ ہر اس چیز کو بدل سکتے ہیں جسے بدلنے کی آپ کے اندر خواہش موجود ہو۔


اگرچہ اس بات پر یقین کرنا مشکل لگتا ہے کہ اپنے رویے اور خیالات کو بدل کر آپ صحت مند، عقل مند اور دولت مند بن سکتے ہیں ، لیکن یہ حقیقت ہے کہاپنی ذات میں تبدیلی آ پ کی زندگی کے ہر پہلو کو ڈرامائی طور پر متاثر کرتی ہے۔ اگر آپ اپنی زندگی کو بہتر سے بہترین بنانا چاہتے ہیں تو مندرجہ ذیل امور سرانجام دینے کی کوشش کوشش کریں۔


آپ ناکامی کوکیسے دیکھتے ہیں؟
مختلف چیزوں کو دیکھنے اور پرکھنے کا اندازآپ کی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے۔مثال کے طور پر اگر آپ ناکامی کو خجالت یا پریشانی کے رُوپ میں دیکھتے ہیں تو آپ خودبخود ناکامی کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں۔آپ کو ہر حال میں یہ رویہ بدلنے کی ضرورت ہے۔ ناکامی کو منفی انداز میں لینے کے بجائے اگر آپ اسے کامیابی کی شاہراہ پر اٹھایا جانے ایک اگلا قدم تصور کریں تو اس کے حیران کُن مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ناکامی کا مطلب صرف یہ ہے کہ وہ طریقہ جس پر عمل پیرا ہو کر آپ نے کام کیا وہ ناکام ہوا، آپ نہیں۔ حقیقت میں اس عارضی ناکامی نے آپ کو ایک اور موقع دیا کہ آپ اپنا طریقہ کار بدل کر دوبارہ کوشش کریں۔ اگر آپ سیکھنا اور وقت کے ساتھ ساتھ خود کو بہتر بنانا جاری رکھتے ہیں تو آخرکار یہ عمل آپ کے لیے بہت مفید ثابت ہوتاہے۔آپ مستقبل میں ناکام یا کامیاب انسان کی صورت میں سامنے آئیں گے، اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ آپ ناکامی کو کس زاویے سے دیکھتے ہیں، اسے آگے بڑھنے کے لئے ایک اچھا موقع سمجھتے ہیں یا سب کچھ چھین لینے والی بلا؟


اقدار
آپ کی اقدار کی جھلک آپ کی زندگی میں کامیابی یا ناکامی کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ آپ جیسی اقدار پالتے ہیں، ویسا ہی آپ کا کردار بن جاتا ہے۔ فرض کریں ایک انسان آزادی، مہم جوئی اور ہمت والی اقدار پر عمل پیرا رہتا ہے تو وہ ان ہی شعبہ ہائے زندگی میں نام بنائے گا اور اگر کوئی سخاوت، رحم دلی یا پرہیزگاری والی اقدار پر عمل کرتا ہے تو وہ انہی خصوصیات کی بنا پر جانا جائے گا۔ اب فرض کریں ایک انسان دولت، طاقت اور لالچ جیسی اقدار ....جو مثبت اور منفی دونوں ہیں.... پر عمل پیرا رہتا ہے تو اس کی زندگی انہی کا آئینہ ہو گی ۔ یہاں بیان کی گئی اقدارکی مختلف اقسام پر عمل کرنے والے، تین قسم کے، لوگوں کی زندگی کبھی ایک جیسی نہیں ہو سکتیں۔ اب آپ غور کریں کہ آپ کی اقدار کیا ہیں، آپ کس قسم کی اقدار پر عمل کرتے ہیں۔ اُوپر بیان کردہ تینوں قسم کی اقدار میں سے جس پر آپ عمل کریں گے آپ کی زندگی ویسی بن جائے گی ۔ اگر آپ کامیابی اور دوسروں کے لیے خیرخواہی والی اقدار پر عمل کرتے ہیں تو آپ یقینا ایک کامیاب اور دوسروں کے ہمدرد انسان کے طور پر سامنے آئیں گے۔


یاد رکھیں کہ اقدار وہ عناصر ہیں جن کو آپ بدل سکتے ہیں۔ اگر خدانخواستہ آپ بُری اقدار کے پیروکار ہیں تو آپ اپنی سوچ میں تبدیلی لا کر انہیں بدل سکتے اور اچھی اقدار پر عمل کر کے مثبت کردار کے حامل انسان بن سکتے ہیں۔


عقائد
آپ کے عقائد اور اعتقادات بھی اس بات کے غماز ہوتے ہیں کہ آپ دُنیا کو کس نظر سے دیکھتے اور پرکھتے ہیں۔ اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ دولت تمام بُرائیوں کی جڑ ہے تو اسے اکٹھا کرنے کے لیے آپ کی جانب سے کی گئی تمام کوششیں غارت جائیں گی کیونکہ آپ جس چیز کو حاصل کرنا چاہتے ہیں آپ کے نزدیک وہ نہ صرف بُری ہے بلکہ تمام بُرائیوں کی جڑ ہے۔ اس سوچ کے تحت بالفرض اگر آپ دولت حاصل کر بھی لیتے ہیں تو آپ اسے اپنے، عقیدے اور یقین کے مطابق عمل کرتے ہوئے، بُرے کاموں پر خرچ کریں گے۔ ایسا کرنا یقیناً بُرے نتائج کا سبب بنے گا۔ اس کے علاوہ اگر آپ یہ سوچتے رہتے ہیں کہ آپ دوسروں کے ساتھ اچھا برتاﺅ کر ہی نہیں سکتے تو اس سے آپ کی ”معاشرتی زندگی عذاب بنتے دیر نہیں لگے گی “۔ ایسے اعتقادات کا تجزیہ کرنے کے لیے کچھ کی فہرست بنائیں اور اس بات پر غور کریں کہ ان پر عمل کرنے سے آپ کی زندگی میں کیا تبدیلی آئی ہے۔ اگر مثبت ہے تو ان کو اپنے مستقبل کا لائحہ عمل بنالیں اور اگر تبدیلی منفی ہے تو اپنے Belief System کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتے رہیں کیونکہ جدید نفسیات اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ آپ Belief System کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ لہٰذا ان اعتقادات پر عمل کرنے کی کوشش کریں جن سے آپ کی زندگی اچھے اور مثبت نتائج کا گہوارہ بن جائے ۔


رویہ
سب سے پہلے اس بات کا تعین کریں کہ آپ قنوطیت پسند ہیں یا یہ یقین رکھتے ہیں کہ آپ معاملات کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی سکت رکھتے ہیں۔ اگر آپ رجائیت پسند یعنی Optimistic ہیں تو آپ ہر وہ کام کرسکتے ہیں جس کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر آپ کا رویہ قنوطیت پسند یعنی Pessimistic ہے تو نتائج حاصل کرنا تو درکنار، کسی کام کے لیے کوشش کرنا بھی آپ کے بس میں نہیں ہوتا۔ اس سے آپ جلد مایوس ہو کر ہمت ہار دیتے اور آگے بڑھنے کی خواہش ترک کر دیتے ہیں۔ لیکن اگر آپ رجائیت پسند ہیں تو آپ مشکل سے مشکل حالات میں صبر کا مظاہرہ کرکے، اچھے کی اُمید رکھتے ہوئے بہترین نتائج دے سکتے ہیں۔ آپ کی یہ عادت آپ کو اس وقت بھی پُرامید، پُرجوش اور باہمت رکھتی ہے جب حالات بالکل آپ کے خلاف دکھائی دے رہے ہوں۔


اپنی زندگی کا جائزہ لیں۔ ناکامیوں اور کامیابیوں پر غور کریں اور اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کریں کہ اب تک حاصل ہونے والے نتائج .... مثبت یا منفی .... کا سبب آپ کا کون سا رویہ ہے، آیا کہ یہ رویہ قنوطیت پر مبنی ہے یا رجائیت پر۔ اگر رجائیت پر مبنی رویے نے زیادہ مثبت نتائج دیئے ہیں تو قنوطیت پسندی کو اپنی زندگی سے نکال کر سراپا اُمید بن جائیں۔ آپ کامیاب ہو جائیں گے۔


اظہارِتشکر
اگر آپ اس بات پر غور کریں کہ آپ کے پاس کیا کیا موجود ہے تو آپ یقینا اپنی زندگی میں پیش آنے والے مثبت واقعات یا خود کو حاصل نعمتوں پر خوش ہوتے ہیں ۔ یہ رویہ آپ کی خوشیوں اور نعمتوں میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ اس رویے سے نہ صرف آپ کی پریشانیاں کم ہوتی ہیں بلکہ زندگی کے بارے میں نقطہ¿ نظر بھی بدل جاتا ہے۔ اس کا جائزہ لینے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہر صبح یا رات کو کچھ دیر کے لیے ان چیزوں پر غور کریں جو آپ کو حاصل ہیں، یہ عمل آپ کے اندر تشکر کا جذبہ پیدا کر دے گا جو آخرکار مزید مثبت تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔ اگر ایمانداری سے اس پہلو پر غور کریں گے تو ایسی چیزوں کی ایک طویل فہرست آپ کے سامنے آجائے گی جن پر اظہار تشکر فرض ہو جاتا ہے۔ یاد رکھیں جس انسان کے پاس اپنی زندگی میں موجود نعمتوں اور مثبت پہلوﺅں پر شکر ادا کرنے کی وجہ ہو وہ کبھی ناکام نہیں ہو سکتا کیونکہ فطرت کا اصول ہے کہ جس نعمت پر شکر ادا کیا جائے ، قدرت اس میں اضافہ کر دیتی ہے۔ شکر ادا کرنے کی عادت کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کبھی بھی مایوس نہیں ہوتا اور جو مایوس نہ ہو، وہ کبھی ناکام نہیں ہوسکتا۔ اُمید اس کے لیے آگے بڑھنے کی ایسی راہیں کھول دیتی ہے جو اسے منزل تک لے جاتی ہیں۔


خیالات
ہمیں محسوس نہیں ہوتا اور نہ ہی ہم دیکھ سکتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ہمارے خیالات مکمل طور پر ہمارے کنٹرول میں ہوتے ہیں۔ اس کی واضح مثال یہ ہے کہ آپ چاہیں تو دولت اور کامیابی کے بارے میں سوچتے رہیں، چاہیں تو ناکامی اور محرومیوں کے بارے میں۔ جس قسم کی سوچ آپ کے دل ودماغ میں گھر کر لیتی ہے، ویسی ہی سوچیں بار بار آتی ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے ”خیالات اشیاءہیں“۔ آپ جیسا سوچتے ہیں ویسے بن جاتے ہیں۔ اس لیے ہمیشہ مثبت سوچیں۔ اگر آپ منفی خیالات میں محو رہتے ہیں تو آپ کو نتائج بھی ویسے ہی ملیں گے، اس لیے اگر سوچنا ہی ہے تو مثبت سوچیں کیونکہ مثبت سوچ ہی کامیابی کی ضامن ہوتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ آپ اپنی سوچوں کا جائزہ لیں اور ہر حال میں مثبت سوچ کی عادت اپنائیں۔


یاد رکھیں! اندرونی تبدیلی کے بغیر رویے کو تبدیل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ آپ کو ہر وقت خود سے لڑنا پڑتا ہے اور واضح رہے کہ قوت ارادی زیادہ دیر تک ساتھ نہیں دیتی، اس کو مستقل رکھنے کے لیے اندرونی تبدیلی ضروری ہے کیونکہ اندرونی تبدیلی قوت ارادی کے لیے مہمیز کا کام کرتی ہے۔ جب آپ خود کو اندر سے تبدیل کر لیتے ہیں تو قوت ارادی کی زیادہ ضرورت نہیں رہتی، ہر روز خود سے جنگ کرنے سے بہتر ہے کہ خود کو اندر سے بدل لیں کیونکہ اندرونی تبدیلی ہی بیرونی تبدیلی کا باعث بنتی ہے۔
٭٭٭


ای پیپر