ایس 400 سسٹم۔۔غریب بھارت کا مہنگا دفاعی پراجیکٹ
23 اکتوبر 2018 (23:02) 2018-10-23

امتیاز کاظم:

ولادی میر پیوٹن بھی آخر کار ”جپھی بادشاہ“ کے قابو میں آگئے اور پُرانے تعلقات کی تجدید کر ڈالی جوکہ 47ئ، 65ئ، 71ءسے ہوتے ہوئے 2018ءمیں داخل ہوگئے اور بھارت نے 5 ارب ڈالرز کی خطیر رقم سے جدید ترین دفاعی فضائی نظام ایس 400 کی خریداری کے لیے روس سے معاہدے کو آخری شکل دے دی ہے، معاہدے پر دستخط ہونے کی قوی یقین دہانی ہے بلکہ معاہدہ ہوگیا ہے۔ بھارت کی طرف سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس ڈیفنس میزائل سسٹم کے مل جانے سے بھارت کا دفاعی نظام کافی مستحکم اور تقریباً ناقابلِ تسخیر ہو جائے گا۔ اس معاہدے سے جہاں پاکستان میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے وہاں ٹرمپ کے دوست ”جپھی سٹار“ مودی، ٹرمپ اور امریکہ کے لیے پریشانی کا باعث بن گئے ہیں۔ پانچ ارب ڈالرز کا یہ ہی معاہدہ اگر امریکہ کے ساتھ ہوتا تو باعث تشویش نہ ہوتا۔ امریکہ شدت سے محسوس کر رہا ہے کہ روس پھر سے سر اُٹھا رہا ہے اور اس سے امریکہ کی سپرپاور کا تاثر دُھندلا رہا ہے جب کہ امریکہ پہلے ہی چین کی تیزترین معاشی ترقی کی رفتار سے پریشان ہے۔ امریکہ نے بھارت پر پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ ظاہر کیا ہے لیکن وہ یہ پابندیاں لگا نہیں سکے گا کیونکہ ایشیا میں اُس کا واحد سہارا بھی اُس سے چھن جائے گا اور یہ بات بھارت بھی اچھی طرح سمجھ رہا ہے لہٰذا بھارت نے ٹرمپ کے بیان کو درخوراعتناء نہیں سمجھا۔


یہ جدید ترین میزائل سسٹم روس کے علاوہ صرف چین اور ترکی کے پاس ہے اور اب بھارت بھی اس میں شامل ہونے جا رہا ہے۔ اس ڈیفنس میزائل سسٹم کے مل جانے کے بعد بھارتی فوج کے سرکردہ افراد کی طرف سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بھارتی فوج حریف ممالک کی تمام سرگرمیوں پر گہری نگاہ رکھ سکے گی بالخصوص پاکستان کے چپے چپے پر نظر رکھنے کا دعویٰ بھی کیا جارہا ہے۔ دفاعی امور کے ماہر راہول بیدی نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ”یہ پاکستان کے لیے بہت تشویش کی بات ہوگی، ایس 400 آنے کے بعد بھارت پاکستان پر اور بھی بھاری پڑے گا، دراصل بھارت نے امریکہ سے ہتھیاروں کی خریداری شروع کی تھی تو پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات بڑھنے لگے تھے۔ ایسے میں بھارت کو ڈر تھا کہ روس پاکستان کو ایس 400 میزائل نہ دے دے تو بھارت نے روس کے ساتھ اس سودے میں یہ شرط بھی رکھی ہے کہ وہ پاکستان کو ایس 400 میزائل سسٹم نہیں دے گا“۔


بھارتی وزیراعظم مودی کی پھُرتیاں ملاحظہ فرمائیں کہ ایک ایسا ملک جس کی 27 کروڑ آبادی (یہ کُل آبادی نہیں ہے) انتہائی غربت کا شکار ہے، جسے دو وقت کی روٹی میسر نہیں، وہ بھوک سے مر رہے ہیں، یہ 5 ارب سے اسلحہ/ میزائل سسٹم خرید رہا ہے، یہ کن لوگوں کے لیے خرید رہا ہے جو بھوک سے مر رہے ہیں، یہ مرے ہوئے لوگوں کے لیے اسلحہ خرید رہا ہے، ان کو اسلحہ کی نہیں، ان کو تو روٹی کی ضرورت ہے، بیماریوں کے خلاف لڑنے کے لیے دوائی کی ضرورت ہے۔ ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس کی درجہ بندی کے مطابق بھارت کی آبادی غربت میں 131ویں نمبر پر ہے۔ بھارت کی نوبیل انعام یافتہ شخصیت ”امریتاسین“ نے عوام کی خدمت کے حوالے سے بھارتی حکومت کی ناکامی کے اعدادوشمار پیش کیے جس کے مطابق ہر ایک ہزار بچوں میں سے50 بچے نوزائیدگی ہی میں مر جاتے ہیں اور ہر لاکھ خواتین میں سے 230 دوران زچگی کے عمل کے دوران موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں اور صرف 65 فیصد بچوں کو بیماریوں کے خلاف ویکسین لگتی ہے۔

بچوں کی کُل آبادی کا نصف غذائی کمی کا شکار ہے۔ ایسے ملک کے لیے ایسی بڑی فضول خرچی یقینا پاگل پن کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ صرف ہی نہیں بلکہ ایسی حرکت بھارت جیسے غریب ملک کی معیشت کے لیے سمِ قاتل ہے۔ 17ستمبر 1950ءمیں پیدا ہونے والے موجودہ پندرھویں وزیراعظم کو ”سٹھیائے“ ہوئے بھی 8 سال گزر چکے ہیں یقینا یہ شخص اپنے عوام کو اناج دینے کے بجائے مہنگا ترین اسلحہ خرید کر اپنے جنگی جنون کو رام کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ”رام رام جپنا پرایا مال اپنا“ کا قائل وزیراعظم دراصل انتہاپسندی، قتل وغارت گری اور لڑائی جھگڑے میں اس وقت سے ہی پڑا ہوا ہے جب یہ 8 سال کی عمر میں لکشمن راﺅ انعامدارکے ہتھے چڑھ گیا تھا جس نے اسے کٹرا نتہاپسند تنظیم آرایس ایس (راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ) میں بطور جونیئر کیڈٹ متعارف کرایا۔ چھوٹی عمر سے 68 سال کی پکی عمر تک یہ آرایس ایس کا ”بالکا“ اب بھی انتہاپسندی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ آر ایس ایس سے بھاجپا (بھارتیہ جنتاپارٹی BJP) کا بھیس بدلنے والا دراصل نئی کھال میں پُرانا بھیڑیا ہے جس کا دست راست بھی امیت شاہ جیسا سفاک انسان ہے۔ تھیٹر میں دلچسپی رکھنے والے مودی نے پورے ہندوستان کو ’تھیٹر‘ بنا رکھا ہے جہاں وہ ہندوازم، بھارت ماتاکی جے اور گﺅرکھشا کے ڈرامے اپنی ہدایت کاری میں کراتا کر اُن کا ”اینڈ“ بھی اپنی مرضی سے کا کراتا ہے کیونکہ یہ جاناسنگھ برانڈ (BJP کے بانی لیڈران گجرات یونٹ) کی نظریاتی سوچ کا پروردہ ہے، بہرحال S400 میزائل سسٹم خریدنے کے بعد یقینی طور پر بھارتی ڈیفنس سسٹم میں بہتری آئے گی اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے شاید پاکستان ابابیل میزائل کی اپ گریڈیشن کرے۔


S400 زمین سے فضا میں مارکرنے والا میزائل سسٹم ہے جو 400 کلومیٹر تک آپریشنل ہے۔ اسے بنانے کا آغاز 28 اپریل2007ءکوکیاگیا۔ یہ روسی ساختہ ہے۔ اس کا پُرانا نام S-300 Pmu3 ہے۔ اس کی رینج 40N6 میزائلوں کے لیے400کلومیٹر، 48N-6 میزائلوں کے لیے 250کلومیٹر، 9M96E2 میزائلوں کے لیے 120کلویٹر جبکہ 9M96E میزائلوں کے لیے 40کلومیٹر ہے۔ اس پروجیکٹ پرکام تو 1980ءمیں ہی شروع ہوگیا تھا لیکن روسی ایئرفورس نے اس کا اعلان جنوری 1993ءمیں کیا جب کہ 12فروری 1999ءمیں اس کا کامیاب ٹیسٹ کرلیا گیا اور2007ءمیں اسے سروس کے لیے منظوری دے دی گئی۔ دراصل یہ پراجیکٹ S300 فیملی سے تعلق رکھتا ہے جو بعد میں تین برانچوں میں تقسیم کردیا گیا یعنیS300-V، S300P اور S300F۔ پھرS300P کو پروموٹ کیا گیا یعنی S300PT اور S300PS۔ یہی S300PS پھر S300PM سے S300PM1 اور S300PM2 کے مدارج گزرتا ہوا اپنی آخری شکل S400 کی صورت میں سامنے آیا۔ روس میں یہ سسٹم ”الیکٹروسٹال“ کے نزدیک لگایا گیا ہے جب کہ یہ سسٹم روس میں بعض دیگر مقامات پر بھی کام کر رہا ہے۔ امریکہ کی شام میں مداخلت کے بعد جب ایران اور روس شام کی مدد کو آئے تو نومبر 2015ءمیں ایک بیان بھی آیا کہ روس نے شام میںS400 سسٹم نصب کردیا ہے جب کہ مارچ 2014ءمیں ولادی میر پیوٹن کا یہ بیان بھی سامنے آیا کہ اس سسٹم کو بیچنے کے اختیارات چین کو تفویض کیے جا رہے ہیں تاہم چین نے بھی 13اپریل 2015ءکو یہ سسٹم خرید لیا جب کہ ترکی نے بھی یہ سسٹم خرید رکھا ہے۔ اب بھارت دُنیا میں چوتھا ملک ہے جس کے پاس S400 سسٹم ہو گا۔ بھارت ایٹمی قوت ہے، اسے اتنے مہنگے جنگی سسٹم خریدنے کی ضرورت نہیں، یہ غریب ترین ملک ہے جہاں غربت کی شرح سب سے زیادہ ہے، اسے دوسرے ملکوں سے برابری کرنے اور لڑنے کی ضرورت نہیں بلکہ اسے اپنے ملک کی غربت سے لڑنے کی زیادہ ضرورت اور یہ اپنے داخلی مسائل پر توجہ دے تو بہتر ہوگا۔


بھارت کے اس طرح کے اقدامات اس بات کے غماز ہیں کہ وہ یہ نہیں چاہتا کہ جنوبی ایشائی خطے میں امن قائم ہو سکے۔ اس جدید میزائل سسٹم کی خریداری کا واضح مقصد کشمیر میں جاری مظالم میں اضافہ اور پاکستان کو ڈرانا ہے۔ اس طرح کے بھارتی جارحانہ اقدامات اور جدید اسلحہ کی خریداری پاکستان کو بھی اس بات پر مجبور کر سکتی ہے کہ وہ بھی اپنے دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے ایسے updated ہتھیاروں کے حصول میں لگ جائے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر جنوب ایشیائی خطے میں ہتھیاروں کے حصول کی ایک نئی دوڑ کا آغاز ہوجائے گا جو کسی بھی طرح دونوں ممالک کے لئے بالخصوص اور پورے خطے کے لئے بالعموم اچھائی کا سبب نہیں بن سکتا۔
٭٭٭


ای پیپر