تھر بدلے گا پاکستان،،، کتنی حقیقت کتنا فسانہ؟
23 اکتوبر 2018 (22:58) 2018-10-23

سدرہ ڈار:

تھر اپنی پسماندگی، قحط سالی اور غربت سے پہنچانا جاتا ہے یہی وجہ تھی کہ اس جگہ جانے کا سوچ کر ہی گھبراہٹ طاری ہوجاتی تھی لیکن اس بارہمت کی اورکچھ صحافی ساتھیوں کے ساتھ تھرکے دو روزہ دورے پرجانے کا ارادہ بنا لیا۔ پہلی خوشگوار حیرت یہ ہوئی کہ نیشنل ہائی وے سے مٹھی اور اسلام کوٹ جانے والی سڑک اتنی اچھی اور ہموار تھی کہ کہیں بھی سفرکٹھن محسوس نہ ہوا۔ راستے بھر ریت کے ٹیلے توکہیں دور درخت بھی دکھائی دیے۔ ہماری منزل اسلام کوٹ کا وہ تھرکول منصوبہ تھا جہاں پاکستان کے سب سے بڑے کوئلے کے ذخائرکی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے اور اس وقت وہاں دن رات کوئلہ نکالنے کا کام جاری ہے۔


تھرکا اسلام کوٹ چونکہ بھارت کے ساتھ سرحدی علاقہ ہے تو اس وجہ سے یہاں غیر معمولی سکیورٹی تعینات ہے۔ ہر چند میٹرکے فاصلے پر قائم چوکیوں پر باربار شناخت کروانا پڑتی ہے اور جب اسلام کوٹ کے بلاک ٹو میں داخل ہونے کے لئے مرکزی چوکی پرگاڑی رکے تو وہاں شناختی کارڈ رکھ لئے جاتے ہیں۔ رات کے آٹھ بجے جنگل بیاباں، سنسان راستوں سے ہوتے ہوئے جب ہم اسلام کوٹ کے بلاک ٹو میں ہم داخل ہوئے تو میں اس سوچ میں پڑگئی کہ اس جنگل میں، میں اس وقت کیوں آگئی لیکن معمول کی چیکنگ کے بعد جب تھرکول مائننگ پراجیکٹ کے دفتر میں داخل ہوئی تو ایسا محسوس ہوا کہ یہاں تو دن سا سماں ہے۔ دفتر میں کام جاری تھا۔ پراجیکٹ کے ڈائریکڑ آپریشن مرتضیٰ اظہر رضوی نے بریفنگ دیتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ اسلام کوٹ میں 2016ءسے جاری منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے بلکہ اپنے مقررہ وقت سے پانچ ماہ قبل ہی کوئلے کو نیشنل گرڈ میں شامل کر کے بجلی پیدا کرنے کا کام شروع کردیا جائے گا۔ مرتضیٰ رضوی نے بتایا کہ اس وقت اس منصوبے پر لگ بھگ ساڑھے سات ہزار افرادی قوت دن رات کام کر رہی ہے جس میں سے 2473 کا تعلق تھر سے ہے جو پچھتر فیصد بنتا ہے۔ ان میں سے 900 ملازمین تربیت یافتہ ہیں جب کہ باقی چائینز کمپنی سے ہیں جو اس منصوبے کا حصہ ہیں۔ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے اور مہنگے منصوبے میں سب سے بڑی افرادی قوت اسی علاقے سے تعلق رکھنے والوں کی ہے۔ اس کی وجہ اس علاقے کے لوگوں کو روزگار مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ ان میں موجود احساس محرومی دور کرنا ہے۔


تھرکول منصوبہ ہے کیا؟
پاکستان میں اس وقت کوئلے کے 186 بلین ٹن کے ذخائر موجود ہیں جس میں سے 175 بلین ٹن کوئلہ صرف تھر پارکر میں ہے۔ یہ ذخائر سعودی عرب اور ایران کے تیل اور 2000 ٹریلین کیوبک فٹ گیس کے برابر ہیں۔ 1947 میں تھر پاکستان کا حصہ بنا جب کہ راجھستان بھارت کے حصے میں آگیا جہاں اس ذخائر کا 10 فیصد حصہ چلا گیا۔ بھارت نے اس معدنی ذخائرکو اپنے استعمال میں لانے کے لئے 1948 میں ہی اسے نکالنا شروع کردیا تھا جس سے 8 ہزار میگا واٹ کے پاور پلانٹ لگائے گئے جو کوئلے سے چلائے گئے۔ چالیس برس تک مسلسل کام لینے کے بعد یہ معدنی وسائل اب پڑوسی ملک میں ختم ہو چکے ہیں لیکن پاکستان اتنے بڑے خزانے کو اپنے کام نہ لاسکا۔ 1992 میں پانی کے لئے کی جانے والی ڈرلنگ کے دوران ایک امریکی کمپنی کو یہ انکشاف ہوا کہ اس خطے میں کوئلہ موجود ہے۔ اس کے بعد 2005 میں ایک چائینز کمپنی کو یہاں سے کوئلہ نکالنے پر آمادہ کیا گیا لیکن صرف ریٹ کے دو سینٹ پر پاکستان اور چین کی کمپنی کے درمیان تنازعہ شروع ہو گیا جس پر چین کی یہ کمپنی واپس لوٹ گئی اور پھر پاکستان نے سات سینٹ میں آگے سودا کر لیا۔ جون 2016 میںبالٓاخر اسلام کوٹ میں کمرشل آپریشن کا آغاز ہوا اور سندھ حکومت نے 54 فیصد شئیر کے ساتھ اس پراجیکٹ سے نجی کمپنی اور ایک چائینز کمپنی کے ساتھ کوئلہ نکالنے کا کام شروع کیا چونکہ پاکستان میں مائننگ کے ایکسپرٹس موجود نہیں اس لئے اس سلسلے میں چین سے مدد لی گئی۔ 19 ہزار اسکوئر کلومیٹر پر مشتمل تھر کے رقبے میں سے 9 ہزار اسکوئر کلومیٹر میں کوئلہ موجود ہے۔ جس کو سندھ حکومت نے 13 بلاکس میں تقسیم کیا ہے۔


کوئلہ اور اس سے متعلق شبہات
تھر میں ملنے والا کوئلہ lignite coal ہے۔ اس کی تصدیق ڈائریکٹر آپریشن مرتضیٰ اظہر رضوی نے کی اور بتایا کہ یہ کہنا کہ اس کوئلے کا معیار ناقص ہے اس میں کوئی صداقت نہیں۔ اس کوئلے میں 48 فیصد پانی ہے لیکن اس کے باوجود یہ ایسا کوئلہ ہے جس سے ہم اپنا کام کرسکتے ہیں اور اس سے ہی ہم توانائی پیدا کر کے رواں سال دسمبر میں بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کر دیں گے۔ اس منصوبے سے ماحولیات کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اس حوالے سے مرتضیٰ رضوی کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں39 فیصد ممالک کوئلے سے ہی بجلی بنا رہے ہیں۔ پاکستان یہ معدنی وسائل رکھنے کے باوجود تیل سے توانائی پیدا کر رہا ہے۔ یہ تیل باہر سے درآمد کیا جاتا ہے جو عوام پر اضافی بوجھ ہے جس کے سبب اس وقت عوام کو گیارہ سے چودہ روپے کی لاگت پر بجلی بیچی جارہی ہے۔ گرمیوں میں ہمیں سات سے آٹھ ہزار میگا واٹ کی کمی کا سامنا ہے جس سے صنعتیں بھی بری طرح متاثر ہو جاتی ہیں۔ مرتضی رضوی نے پیرس کنونشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کوئلے کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کی قرارداد کو امریکہ نے یکسر مسترد کردیا جب کہ جرمنی جو اس کے ذریعے 50,000 میگا واٹ بجلی بنا رہا ہے اس نے اس میں سے صرف دو فیصد کو کم کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ پاکستان میں اتنے بڑے ذخائر کو استعمال میں لانے میں ویسے ہی بہت تاخیر ہو چکی ہے، اب اسے مزید کسی شک و شبہے کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔


تھر کول منصوبے کی لاگت
اسلام کوٹ کے بلاک ٹو کا منصوبہ یوں تو دو ارب ڈالر کی لاگت کا ہے جس میں سے 845 ملین ڈالر مائننگ پر خرچ ہو رہا ہے جب کہ 1.1 ملین ڈالر پاور پلانٹ پر خرچ کیا گیا ہے۔ اس میں سے 54 فیصد شیئرز سندھ حکومت کے ہیں۔ مرتضی رضوی کے مطابق 275 ملین ڈالر وفاق نے بھی خرچ کئے ہیں۔ یہ پاکستان کا سب سے مہنگا اور بڑا منصوبہ ہے۔ تین ارب ڈالر کے اس منصوبے میں دو ارب پراجیکٹ پر اور ایک ارب اس کے انفرااسٹکچر پر خرچ ہوئے ہیں جب کہ تھر سے 270 کلومیٹر ریلوے لائن کیٹی بندر تک بچھائی جائے گی تاکہ درآمدات کے ساتھ وہاں کی انڈسٹری کو بھی فائدہ حاصل ہو سکے۔


منصوبے کی تکمیل اور بجلی کی فراہمی
یہ منصوبہ اپنے مقررہ وقت سے پانچ ماہ قبل ہی مکمل ہوکر کام شروع کردے گا جس سے 20 فیصد مقرر کردہ بجٹ میں بچت بھی ہوگی۔ اس وقت تھرکول منصوبہ نوے فیصد مکمل ہو چکا ہے اور کوئلہ اس وقت 160میٹر گہرائی میں موجود ہے ، مائننگ 148 میٹر تک ہو چکی ہے جبکہ ہدف 190 میٹر گہرائی تک ہے۔ مرتضی رضوی کے مطابق 38 لاکھ ٹن کوئلہ ایک سال میں نکالا جائے گا جس سے 660 میگا واٹ بجلی بنائی جائے گی۔ مقرر کردہ اہداف کے مطابق مئی 2019 میں 660 میگا واٹ بجلی پیدا کی جائے گی، جون 2021 میں 1320 میگا واٹ جب کہ جون 2022 میں اس کی پیداوار 3960 میگا واٹ تک پہنچ جائے گی۔ جو بجلی اس وقت صارفین چودہ روپے فی یونٹ خرید رہے ہیں وہ مستقبل میں اپنے ہی ملک میں بننے والی بجلی سے پانچ سے چھ روپے پر آجائے گی۔


تھر میں پانی کے ذخائر کا انکشاف
اس منصوبے میں کام کے دوران یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ یہاں پانی کے بھی ذخائر موجود ہیں جو انتہائی پسماندہ اور قحط و خشک سال تھر کو سیراب کرنے کئے کافی ہیں۔ تھرکول رپورٹ کے مطابق تھر میں 90 ارب مکعب میٹر پانی موجود ہے جو سمندر کے پانی کے مقابلے میں کم کھارا ہے۔ یہ سیلائن واٹر کہلاتا ہے اور اس سے اس وقت تھرکول منصوبے آزمائشی بنیادوں پر ''بائیو سیلائن ایگریکلچر اینڈ فیشنگ'' کا پراجیکٹ شروع کیا جس کے ذریعے اس پانی کو ٹریٹ کرنے کے بعد اس سے مقامی فصلیں اگانے اور شجرکاری کا تجربہ کیا گیا جو کامیاب رہا۔ مچھلیوں کی افزائش سے بھی یہ بات سامنے آگئی کہ یہ پانی قابل استعمال بھی ہے اور اس کے ذریعے مقامی کسانوں کو ایک بار پھر سے تھر کو سیراب کرنے کے ساتھ ساتھ اسے سرسبز بنانے میں بھی مدد ملے گی۔


تھر میں شجر کاری کا منصوبہ
تھر کول منصوبے کا ایک حصہ'' تھر ملین ٹری ''بھی ہے جس میں دس لاکھ درخت لگانے کا کام کیا جا رہا ہے۔ اب تک تھر کے مختلف علاقوں مٹھی، ننگر پارکر، گورانو میں تین لاکھ سے زائد درخت لگائے جا چکے ہیں۔ اس پراجیکٹ پر کام کرنے والی اسلام آباد کی فاطمہ تین سال سے تھر کے پانی سے مقامی پودوں کو اگانے کے مشن پر کام کر رہی ہیں۔ پانی کی قلت کو مدنظر رکھتے ہوئے انھوں نے ڈرپ اریگیشن کو استعمال کیا ہے تاکہ ضرورت کے تحت ہی پانی کو استعمال میں لایا جا سکے۔ فاطمہ کا کہنا ہے کہ تھر کے خطے کے موافق نیم، مورنگا، سہانجنا، ببر، کنڈی، جاڑ کو شجر کاری مہم کا حصہ بنایا گیا ہے۔ تقریباً دس ایسی اقسام ہیں جو اس علاقے کے موافق ہیں لیکن بہت عرصے سے نظر انداز ہو رہی تھیں۔ لاکھوں درختوں کو پانی دینے کا عمل دشوار تو ہے لیکن جب یہ معلوم ہوا کہ پانی کے ذخائر یہاں موجود ہیں تو ہم نے اسی کو استعمال کرتے ہوئے ان پودوں اور درختوں کو اگانے کا کام کیا جس میں کامیابی ملی ہے۔ یہاں پر جو نرسری بنائی گئی ہے وہ کسی بھی نجی ادارے کی جانب سے بنائی جانے والی اب تک کی سب سے بڑی نرسری ہے۔ جس کے ذریعے مقامی مالیوں اور کسانوں کو بھی روزگار ملا ہے۔


مقامی خواتین تھرکول منصوبے کا حصہ
تھر کے حوالے سے ایک تاثر یہ بھی ہے کہ یہاں کی عورت ایک مظلوم اور چار دیواری میں رہنے والی عورت ہے لیکن ایسا نہیں۔ تھر منصوبے میں بطور آئی ٹی انجیئنر کام کرنے والی کرن سدھوانی کا تعلق مٹھی سے ہے جو تھر پارکر کی پہلی آئی ٹی انجینئر ہونے کا اعزاز رکھتی ہیں۔ کرن یہاں ڈیڑھ برس سے ہیں۔ ان کے مطابق مہران یونیورسٹی سے انجینئرنگ مکمل کرنے کے بعد ان کے ذہن میں بھی یہی بات تھی کہ وہ کراچی جاکر کام کریں گی کیوںکہ اس علاقے میں اعلی تعلیم کی سہولیات میسر نہیں تو روز گار کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تاہم انھیں جب معلوم ہوا کہ تھرکول منصوبے میں ان کی ضرورت ہے تو وہ یہاں آئیں لیکن ان کے والد کو یہ تحفظات تھے کہ ان کی بیٹی روزانہ صبح سے شام اپنی ذمہ داریاں ادا کرے اور گھر کو لاٹ آئے لیکن پھر انھیں یہ احساس ہوا کہ ان کی بیٹی کی ملک کے سب سے بڑے منصوبے کو، جس سے پورا پاکستان بدل سکتا ہے، اشد ضرورت ہے۔ کرن اب یہاں آٹھ گھنٹے نہیں بلکہ اضافی کام بھی کرتی ہیں۔ ایک اچھے ماحول اور منصوبے پر کام کرنے پر وہ فخر بھی کرتی ہیں اور یہ سمجھتی بھی ہیں کہ تھر کی مزید خواتین کو آگے بڑھ کر اپنا آپ منوانے کی ضرورت ہے، بے جا تنقید اور فرسودہ روایات کی رکاوٹوں کو عبور کر کے آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔


مہوش کا تعلق میر پورخاص سے ہے جو یہاں خواتین کو ڈمپر چلانے کی ٹریننگ دے رہی ہیں۔ مہوش کا کہنا ہے کہ تھر کی عورت کوئی عام عورت نہیں جس گرمی اور دھوپ میں نکل کر یہ عورت میلوں کا سفر طے کر کے پانی کی تلاش اور ہانڈی پکانے کے لئے لکڑی چننے نکلتی ہے یہ کام تو کوئی شہر کی عورت کبھی نہ کر پائے۔ یہاں کی عورت نہ صرف اپنا گھر چلا رہی ہے بلکہ دستکاری سے لے کر دنیا داری اور اپنے گھر کے سربراہ کا ہاتھ بٹانے میں بھی کسی طرح کم نہیں۔ مہوش کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس منصوبے کے لئے اب تک اٹھائیس خواتین ڈرائیورز کو تیار کیا ہے۔ ان کی تربیت کرتے ہوئے انھیں اندازہ ہوا کہ یہ تو مردوں سے بھی اچھی اور پُراعتماد ڈرائیور ہیں۔


رمیلہ بائی جو ان اٹھائیس خواتین ڈمپر ڈرائیور میں سب سے کم عمر ہیں، ہندو برادری سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کی شادی اٹھارہ برس میں ہوئی، دو بچوں کی ماں ہیں لیکن ڈمپر چلانا ان کا شوق تھا جس میں ان کے سسرال والے رکاوٹ نہیں بنے۔ رمیلہ نے بتایا کہ انھیں لوگوں کی تنقید سہنا پڑی۔ کچھ نے یہ تک کہا کہ یہ بھی کوئی کام ہے جو تم کرنے جارہی ہو، یہ تو مردوں کا کام ہے۔ لیکن رمیلہ نے اس کا جواب دیا کہ جب مرد کام کر سکتے ہیں تو عورتیں کیوں نہیں؟ وہ ان تمام خواتین کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ وہ بھی نکلیں، یہاں آئیں، یہ کام سیکھیں کیونکہ کسی سے ڈرنے سے نہ تو قسمت بدلتی ہے اور نہ ہی حالات۔ اس لئے جب تک خواتین کام نہیں کریں گی تو اپنا مستقبل کیسے بدل پائیں گی۔ رمیلہ کو یقین ہے کہ اگر ان کی اور با قی خواتین ڈرائیور کی طرح مزید عورتوں نے ہمت کی تو '' تھر بدلے گا پاکستان ''۔


نادیہ تھر پراجیکٹ میں بننے والے منصوبے کے تحت جیون داس کیمپس میں اسکول ٹیچر ہیں۔ وہ اپنی آٹھ ماہ کی بچی کو روز اپنے ساتھ اسکول میں لاتی ہیں اور یہاں کے بچوں میں علم کی روشنی بانٹتی ہیں۔ نادیہ کی طرح دیگر خواتین بھی اسکول میں پڑھانے آتی ہیں۔ نادیہ کا کہنا ہے کہ ہر گزرتے دن کی طرح اب یہاں کے رہنے والوں میں بھی اس بات کا شعور آ رہا ہے کہ تعلیم ان کے بچوں کے لئے کتنی ضروری ہے۔ اسی لئے اب بچوں کے داخلے نہ صرف بڑھ گئے ہیں بلکہ ان میں پڑھنے اور کچھ بننے کی لگن میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ذرا سی توجہ اور محنت سے یہ بچے بہت آگے جا سکتے ہیں۔ وہ اس بات سے خوش ہیں کہ وہ ایک معلمہ ہیں اور جو تعلیم انھوں نے حاصل کی، اب اسے دوسروں میں منتقل کرنے کا ذریعہ بنی ہیں۔ ان کے اس عمل سے یہاں کے بچوں کو نہ صرف تعلیم ملے گی بلکہ اس علاقے میں آنے والی خوش حالی میں ان کا بھی کچھ حصہ ہوگا۔


تھرکول متاثرین کے لئے بننے والا ماڈل ویلیج اور اسکول
اسلام کوٹ سے نکلنے والے کوئلے پر جب کام شروع کیا گیا تو اس علاقے میں جو گاوں متاثر ہوئے ان کی منتقلی کا مرحلہ بھی شروع کیا گیا۔ اس علاقے میں سہنی داس اور تھارہ ہالیپوٹو گاوں متاثر ہوئے۔ تھرکول منصوبہ اس مشن پر کام کر رہا ہے کہ 2024 تک اسلام کوٹ کو پہلا ماڈل تعلقہ بنادیا جائے، تھر فاونڈیشن کے تحت یہ تعلقہ نہ صرف خود کفیل ہو چکا ہو گا بلکہ اگلے ساٹھ برس تک یہاں کے سات سے ساڑھے سات سو خاندان اس منصوبے کے شئیر ہولڈر بھی ہوں گے جنھیں سالانہ ایک لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔ تھر فاونڈیشن نے منصوبے سے چھ کلومیٹر دور ایک ماڈل ویلیج بنانا شروع کیا جس میں 172 گھروں کی تعمیر کی گئی ہے جو اپنے آخری مراحل میں ہے۔ ایک گھر کی تعمیر کی لاگت چالیس لاکھ جب کہ رقبہ گیارہ سو گز ہے۔ اس گھر میں روایتی جھونپڑا جو تھر کی پہچان بھی ہے اور شان بھی، اسے بھی صحن میں اوطاق کے لئے بناگیا ہے۔ یہ پکا مکان ہر سہولت سے آراستہ ہے جو تعمیر کے ساتھ ہی متاثرین کو مالکانہ حقوق کے ساتھ جلد دے دیا جائے گا۔ اس ماڈل ویلیج میں صاف پانی کی فراہمی کے لئے آر او پلانٹس بھی لگائے جائیں گے جب کہ مسجد، مندر بھی تعمیر کیا جا رہا ہے۔ ایک ہزار طلباءکی گنجائش رکھنے والا وسیع وعریض اسکول تعمیر ہو چکا ہے جس میں ا س وقت تین سو سے زائد بچے تعلیم کے زیور سے آراستہ ہ ورہے ہیں۔ یہاں پر بسنے والوں کو صحت کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لئے ڈھائی سو بستروں پر مشتمل ایک ہسپتال بھی زیر تعمیر ہے جس کو تعمیر کے مکمل ہوتے ہی انڈس ہسپتال کے زیر نگرانی دے دیا جائے گا۔ تھرکول منصوبے کے مطابق 2020 تک اس ہسپتال کی تعمیر کا کام مکمل ہو جائے گا جس کے بعد تھر پارکر کے شہریوں کو علاج معالجے کے لئے کہیں دور نہیں جانا پڑے گا بلکہ انہیں اپنے ہی ضلع میں علاج کی بہترین سہولیات میسر آجائیں گی۔


سہولیات جو میسر کی گئیں
تھر فاونڈیشن کے توسط سے علاقے میں ماروی زچہ بچہ کلینک کھولا گیا ہے جو اس وقت انڈس ہسپتال کے زیر نگرانی کام کر رہا ہے۔ یہاں پر موجود قابل معالجین نے اسلام کوٹ کے علاوہ تھر کے دیگر علاقوں میں مختلف ہیلتھ کیمپس، آنکھوں کی بیماریوں اور بچوں کو حفاظتی ٹیکو ں اورکورسز کے لئے بھی کیمپ لگائے جس سے تھر کے شہری مستفید ہوئے۔ چونکہ یہ اسلام کوٹ میں ہے اس لئے گردو نواح کے تھری باشندے بھی یہاں آتے ہیں۔ کیونکہ وہ یہاں کے مفت علاج اور دوا سے مطمئن بھی ہیں اور خوش بھی۔ لیکن وہ خواہش مند ہیں کہ مزید ایسی ڈسپینسریاں اور چھوٹے چھوٹے کلینکس بنائے جائیں تا کہ دور سے نہ آنا پڑے۔


سب سے پہلے۔۔۔ تھر کے قابل نوجوان
تھر کول منصوبے کے ڈائریکٹر آپریشنز مرتضی اظہر رضوی نے بتایا کہ 2473 تھری ملازمین میں سے 900 تربیت یافتہ ہیں جن میںسول، الیکٹریکل انجینئر، آئی ٹی ایکسپرٹ، ایسوسی ایٹ انجینئر، ڈپلومہ پولڈرز شامل ہیں جب کہ مزید تربیت کے لئے ان نوجوانوں کو چین کے ساتھ ساتھ کراچی کی مانی جانی جامعات میں بھی جدید تربیت کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ اسلام کوٹ میں اسکول سے فارغ التحصیل طلباءکو مزید تعلیم حاصل کر نے لئے کالج اور یونیورسٹی کے درجے تک اسکالر شپ دینے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ یہی کا نوجوان قابل بن کر اپنے علاقے کی مستقبل میں خدمت کر سکے۔


کیا سارا تھر بدل چکا؟
تھر کول منصوبہ بلاک ٹو میں کامیابی سے جاری ہے یہ پراجیکٹ یہاں بسنے والوں کی زندگی بدلنے اور انھیں بہتر زندگی مہیا کر نے کے لئے جو کاوشیں کر رہا ہے وہ قابل ستائش ہیں۔ تاہم بلاک 5 جو ڈاکٹر ثمر مبارک مند کے پاس ہے اور یو سی جی کا ادارہ یہاں کام کر رہا ہے 2015 کے بعد سے اب جاکر یہ انکشاف کر رہا ہے کہ منصوبہ فزیبل نہیں۔ یہ کیس اس وقت سپریم کورٹ مین زیر التواءہے اور عدالت کو بتایا گیا ہے منصوبے پر اربوں روپے خرچ ہو چکے۔ لیکن اب یہ بات سامنے لائی جا رہی ہے جو کہ تشویش ناک ہے جب کہ دوسری جانب اس منصوبے پر کام کرنے والے ملازمیں کو گزشتہ پانچ برس سے تنخواہیں بھی نہیں دی جا رہیں۔ تھر پاکستان کا سب سے غریب، شرح اموات میں پہلے، اور قحط سالی کا شکار ہونے والا سب سے بڑا خطہ ہے۔ کوئلے کی دولت سے مالا مال یہ ریگستان ایک جانب پاکستان کی قسمت بدلنے پر کام کر رہا ہے اور وہیں کچھ کچھ فاصلوں پر بنے گاوں قحط سالی کے سبب نقل مکانی کر نے پر مجبور ہیں تو ہسپتال میں سہولیات کم ہونے کے سبب اپنے بچوں کو مرتا دیکھنے پر مجبور بھی۔


بلاک ٹو نے وہاں کے مقامی شہریوں کی سہولت کے لئے علاج مہیا کیا تو وہاں دور دور سے آنے والوں کا تانتا بندھنا یہ بتاتا ہے کہ اب بھی ہنگامی بنیادوں پر اس علاقے میں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک مخصوص علاقہ تو آنے والے وقت میں خود کفیل تعلقہ اور ماڈل ویلیج بن جائے لیکن اس کے قریب ہی بسنے والے بھوک پیاس اور بہتر علاج کی عدم دستیابی کے سبب مزید احساس محرومی کا شکار ہو جائیں۔ یہ سونے جیسے لوگ جن کا حوصلہ چٹان جیسا اور ان کا تن من کسی کندن کی مانند ہے کسی بھی طور دوسروں سے کم نہیں۔ انھیں بھی وہ سب بلاتفریق اور بلا امتیاز ملنا چاہیے جو اور لوگوں کا حق ہے۔ اسلام کوٹ میں ہونے والا ترقیاتی کام ایک خوش آئند عمل ہے لیکن منزل ابھی دور ہے ابھی پورے تھر کو ایسے منصوبوں اور بنیادی سہولیات کی اشد ضرورت ہے جس کو پاکر وہ خود کو زندہ رکھ سکیں، مستقبل میں آگے بڑھ کر اپنا آپ منوا سکیں۔ یہ ضروری نہیں کہ جہاں سے زمین کوئلہ اگلے وہیں علاقہ سیراب یا خوش حال ہو یہ دولت تھر کی ہے اس پر تھر کے ہر شہری کا برابر کا حق ہے اور اس پر حکومت کو سب سے پہلے کام کرنے کی ضرورت ہے۔
٭٭٭


ای پیپر