بدعنوان عناصر سے خلاصی کیلئے کیسا نظام چاہئے؟
23 اکتوبر 2018 (22:50) 2018-10-23

حافظ طارق عزیز:
تبدیلی سے ڈرنا ذہنی طور پر مفلوج قوموں کی عادت بن جاتی ہے، جس کی وجہ سے وہ حالات کے جبر سے نکلنے کی کوشش نہیں کرتیں۔ اور اگر کوئی انہیں نئی راہ دکھانے کی کوشش کرے تو اس کی مخالفت میں تمام توانائیاں صرف کر دیتی ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ نئی حکومت اپنے تئیں ملکی حالات کو پرانی ڈگر سے نکالنے کی جستجو میں مصروف ہے جبکہ مخالفین اس ضمن ملک و قوم کے مفاد کی خاطر اس کا ساتھ دینے کے بجائے ان کوششوں کو مخالفت ، ہنسی مذاق اور طعنوں کی نذر کر رہے ہیں۔ حکومت چاہتی ہے کہ کرپشن میں ملوث تمام عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لا کر کھڑا کیا جائے مگر اس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی مجبوری عیاں ہو رہی ہے، جس کی بڑی وجہ شائد موجودہ نظام ہے، جو بدعنوان عناصر کے لئے ڈھال کا کام دیتا ہے۔ ملکی حالات اور موجودہ صورتحال کو بدلنے کے کیا کیا جانا چاہئے، اس پر بات کرنے سے پہلے ایک واقع آپ کے گوش گزارکرنا چاہتا ہوں۔


سلطان محمود غزنوی کے دربار میں سائلوں اور درخواست گزاروں کی بھیڑ لگی ہوئی تھی کہ ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا ”حضور! میری شکایت نہایت سنگین نوعیت کی ہے اور کچھ اس قسم کی ہے کہ میں اسے برسرِ دربار سب کے سامنے پیش نہیں کر سکتا۔ سلطان یہ سن کر فوراً اٹھ کھڑے ہوئے اور سائل کو خلوت خانے میں لے جا کر پوچھا کہ تمہیں کیا شکایت ہے؟ اُس نے عرض کیا ”حضور! ایک عرصے سے آپ کے بھانجے نے یہ طریقہ اختیار کر رکھا ہے کہ وہ مسلح ہو کر میرے مکان پر آتا ہے، مجھے مار پیٹ کر باہر نکال دیتا ہے اور خود جبراً میرے گھر میں گھس کر میری گھر والی کے ساتھ بدتمیزی کرتا ہے۔ غزنی کی کوئی عدالت ایسی نہیں، جس میں میں نے اس ظلم کی فریاد نہ کی ہو لیکن کسی جگہ مجھے انصاف نہ ملا۔ ہر کوئی آپ کے بھانجے کا سن کر چپ ہو جاتا ہے۔

جب میں ہر طرف سے مایوس ہو گیا تو آج مجبوراً جہاں پناہ کی بارگاہِ عالیہ میں انصاف کے لیے حاضر ہوا ہوں۔آپ کی بے لاگ انصاف پروری، فریاد رسی، اور رعایا سے بے پناہ شفقت پر بھروسہ کر کے میں نے اپنا حال عرض کر دیا ہے۔ خالقِ حقیقی نے آپ کو اپنی مخلوق کا محافظ و نگہبان بنایا ہے۔ قیامت میں رعایا اور کمزوروں پر مظالم کے نتیجے میں آپ خدائے قہار کے رو برو جوابدہ ہوںگے۔ اگر آپ نے میرے حال پر رحم فرما کر انصاف کیا تو بہتر ہے ورنہ میں اس معاملے کو منتقم حقیقی کے سپرد کر کے انصاف کا انتظار کروںگا، سلطان پر اس واقعہ کا اتنا گہرا اثر ہوا کہ وہ بے اختیار آبدیدہ ہو گئے اور سائل سے کہا ” تم سب سے پہلے میرے پاس کیوں نہ آئے؟ تم نے ناحق اب تک یہ ظلم کیوں برداشت کیا؟“ سائل نے عرض کیا ”حضور! میں کافی عرصے سے اس کوشش میں تھا کہ کسی طرح بارگاہِ سلطانی تک پہنچ پاﺅں مگر دربانوں اور چوبداروں کی رکاوٹوں نے کامیاب نہ ہونے دیا۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ آج بھی کس تدبیر سے یہاں تک پہنچا ہوں“۔ سلطان نے سائل کو اطمینان اور دلاسہ دے کر تاکید کی کہ ” اس ملاقات اور گفتگو کا کسی سے ذکر نہ کرنا اور اب جس وقت بھی وہ شخص دوبارہ تمہارے گھر آئے اُسی وقت مجھے اس کی اطلاع کر دینا، میں اس کو ایسی عبرت ناک سزا دوںگا کہ آئندہ دوسروں کو ایسے مظالم کرنے کی جرات نہ ہو سکے گی“ بادشاہ نے دربانوں کو بھی اُس شخص سے شناسا کروا دیا تاکہ وہ اسے دربار میں آنے دیں۔ اِس ملاقات کے بعد دو راتیں گزر گئیں مگر سائل نہ آیا۔ سلطان کو تشویش ہوئی کہ نہ معلوم اُس غریب کو کیا حادثہ پیش آیا ہوگا، وہ اسی فکر میں پریشان تھے کہ تیسری رات کو سائل دوڑتا ہوا آستانہ شاہی پر آ پہنچا۔ اطلاع ملتے ہی سلطان نے فی الفور سواری نکالی اور سائل کے ہمراہ اس کے گھر پہنچ کر اپنی آنکھوں سے وہ سب کچھ دیکھ لیا جو سائل نے انہیں بتلایا تھا۔ اُس کے بعد سلطان نے تین کام کیے۔ 1۔ کمرے میں شمع جل رہی تھی۔ سلطان نے شمع گل کر دی اور خود خنجر نکال کر اُس بدکردار کا سر اڑا دیا۔2۔ اس کے بعد شمع روشن کرائی مقتول کا چہرہ دیکھ کر بے ساختہ سلطان کی زبان سے نکلا، الحمداللہ 3۔ پھر سائل سے کہا کہ پانی لاﺅ۔ سائل جلدی سے پانی لایا تو سلطان نے پانی پی کر سائل سے کہا کہ ” اب تم اطمینان سے اپنے گھر میں آرام کرو، ان شاءاللہ اب کبھی بھی تمہیں کوئی تکلیف نہ پہنچے گی، میری وجہ سے اب تک تم پر جو ظلم ہوا خدا کے لیے اُس کے لیے مجھے معاف کر دینا۔


شمع بجھانے کے حوالے سے پر زور اصرارکرنے کے بعد شاہ محمود غزنوی نے جو تاریخی جملے بولے آپ بھی پڑھیے اور سوچئیے کہ عدل و انصاف کے ترازو پر فیصلے کرنے والے جج اور حکمران اب کہاں چلے گئے؟ ”شمع گل کرنے کا مقصد یہ تھا کہ مبادا روشنی میں اس کا چہرہ دیکھ کر بہن کے خون کی محبت مجھے سزا دینے سے باز رکھے۔“ اور” الحمداللہ“ کہنے کا سبب یہ تھا کہ مقتول اپنے آپ کو میرا بھانجا بتا کر تمہیں شاہی تعلق سے مرعوب کر کے اپنی خواشاتِ نفسانی کو پورا کرنے کے لیے راستہ صاف کرتا رہا۔ خداوندِکریم کا ہزارہا شکر ہے کہ محمود غزنوی کے رشتے داروں کا اس شرم ناک بے ہودگی سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ شخص میرا بھانجا تو درکنار، میرا رشتہ دار بھی نہیں ہے۔ اور پانی مانگنے کی وجہ یہ تھی کہ جب سے تم نے اپنا واقعہ سنایا تھا میں نے عہد کر لیا تھا کہ جب تک تمہارا انصاف نہ کر لوںگا آب و دانہ مجھ پر حرام ہے۔ اب چونکہ میں اپنے فرض سے سبکدوش ہو چکا تھا اور مجھ پر پیاس کا شدید غلبہ تھا اس لیے میں پانی مانگنے پر مجبور ہو گیا تھا! یہ کہہ کر سلطان محمود غزنوی اس کے گھر سے نکل آئے اور اپنے اِس انصاف کی بدولت تاریخ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امر ہوگئے۔


آپ سلطان محمود غزنوی کے انصاف کو ذہن میں رکھ کر دنیا بھر کے معاشروں پر نظر دوڑائیں، یقینا دور دور تک آپ کو ایسی کوئی مثال نظر نہیں آئے گی۔ آپ اسے پاکستان کے حوالے سے دیکھیں تو پاکستان کا ”سسٹم“ ایسی مثالوں کے قریب سے بھی نہیں گزرا۔ اب اس انصاف کی مثال کو موجودہ حکومت کے پیرائے میں دیکھتے ہیں، اس حکومت کو اقتدار میں آئے ہوئے بمشکل 2 ماہ ہوئے ہیں۔ اس حکومت کے وزیر اعظم عمران خان اس نظام کو ٹھیک کرنے کے لیے خاصے ہاتھ پاﺅں مار رہے ہیں، وہ عوام پر سختی کرتے ہیں، عوام آنکھیں دکھاتے ہیں۔

وہ بیوروکریسی کو ٹھیک کرنے کی بات کرتے ہیں، بیوروکریسی اعداد و شمار میں پھنسا دیتی ہے۔ وہ ملکی قرضہ دیکھتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ ملک کا قرضہ 10سالوں میں 6 ہزار سے 30 ہزار ارب روپے تک کیسے پہنچا۔ وہ اس سلسلے میں سیاست دانوں سے پوچھتے ہیں سیاست دان انہیں ”ایوان“ میں رولنے پر تل جاتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں دس سال تک رہنے والے پنجاب کے وزیر اعلیٰ کو نیب نے گرفتار کیا، ایک طوفان بدتمیزی نے اُن کا گھیراﺅ کر لیا۔ پھر جب انہیں دو ہفتوں بعد جز وقتی رہائی ملی۔ قومی اسمبلی کے سپیکر نے جب میاں شہباز شریف کو تقریر کرنے کا موقع دیا تو اُنھوں نے اپنے الزامات کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی کہ قومی احتساب بیورو اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے درمیان ’ناپاک اتحاد‘ ہے اور اُن کی گرفتاری وزیر اعظم عمران خان کی ایما پر کی گئی ہے۔ قائد حزب اختلاف نے ان سوالوں کو دھرایا جو نیب کی تفتیشی ٹیم نے اُن سے پوچھے تھے اور ان کے بقول یہ وہی سوالات تھے جو عمران خان نے انتخابی جلسوں میں کیے تھے۔ اس حوالے سے انہوں نے پارلیمانی کمیٹی بنانے کی پیشکش بھی کی ہے۔


یہ کس قدر حیران کُن بات ہے کہ ہمارے ہاں یہ روایت نہیں ہے کہ ہم جرم کو قبول کریں، ہمارے ہاں چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا مجرم بھی اپنے آپ کو ولی اللہ سمجھتا ہے۔ وہ بے شک منشاءبم ہی کیوں نہ ہو۔ ہر کوئی مظلوم بننے کی کوشش کرتا ہے۔ آپ ملک کے ہر سیاست دان سے بات کر کے دیکھ لیں، ذاتی طور پر ہی کر کے دیکھ لیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک دکھیارہ ملے گا اور کہے گا کہ اُس نے آج تک چوری نہیں کی۔ اور افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہمارے ادارے بھی یہ دعویٰ کرنے سے قاصر ہیں کہ انہوں نے آج تک کسی بڑے چور کو سزا دی ہو۔


لہٰذا اگر سیاست دان یہ کہتے ہیں کہ وہ چور نہیں، اور اُن کے لیے اگر کوئی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے تو اگر اب پارلیمنٹرین یہ سمجھتے ہیں کہ اس ملک میں انصاف ہونا چاہیے، احتساب میرٹ پر ہونا چاہیے۔ تو انہیںاس اقدام کو بھی آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ میں اس حوالے سے یہ ہر گز نہیں کہتا کہ شہباز شریف پر ہاتھ نرم رکھا جائے ، اگر انہوں نے غلطی کی ہے تو انہیں حقیقت میں سزا ملنی چاہیے ۔ لیکن خدارا اس غلطی کو ثابت بھی کیا جائے۔ خواہ اس کے لیے نیب ہی متحرک ہو۔ یا پارلیمان کے لوگ اپنی صفوں میں بیٹھے گند کو خود صاف کر لیں۔ اور حقیقت میں سزا کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے کہ اگلے کو احساس دلا دیا جائے کہ یہ اُس نے غلطی کی ہے ، اور اس کلچر کو فروغ دینے کی ضرورت ہے ۔ پارلیمنٹرین کے لیے تجویز ہے کہ ایسی قانون سازی کی جائے کہ جس سیاست دان پر بھی کرپشن کا الزام لگے یہ سیاست دان خود اُس کا احتساب کریں۔ اور انصاف کا ایک ایسا نظام بھی قائم کیا ہو جائے جو غیر جانب دار ہو۔ اس حوالے سے وزیر اعظم عمران خان کے لیے میری رائے ہے کہ چوروں کو پکڑنے کے ساتھ ساتھ وہ اپنی زیادہ انرجی ایسے ”سسٹم“ کو مرتب کر نے کے لیے خرچ کریں کہ آئندہ کوئی ایک روپے کی کرپشن کا بھی نہ سوچ سکے۔ یہ سسٹم خواہ انہی پارلیمنٹرین کے ذریعے بنوائیں تاکہ ان لوگوں کو احساس ہو کہ اُن کے درمیان گند بھی صاف ہونا چاہیے۔ اگر ایسا ہو جائے تو سلطان محمود غزنوی جیسا سسٹم خود بخود نافذ ہو جائے گا۔


ای پیپر