حضرت عبداللہ بن ام مکتومؓ۔۔۔جلیل القدر صحابی
23 اکتوبر 2018 (22:46) 2018-10-23

حافظ محمد عمر:
سیدناعبداللہ بن ام مکتومؓ مکہ مکرمہ کے باسی تھے اور خاندانِ قریش سے تعلق رکھتے تھے۔آپؓ اللہ کے رسو ل حضرت محمد کی پہلی اور غمگسار زوجہ محترمہ اُم المومنین سیدہ خدیجہؓکے ماموں زاد بھائی تھے۔ والد کا نام قیس بن زائدہ تھا۔ والدین نے ان کا نام الحصین رکھا تھا مگر اللہ کے نبی حضرت محمد نے آپؓ کا نام بدل کر عبد اللہ رکھ دیا۔ آپؓکی والدہ ام مکتوم کا نام عاتکہ بنت عبد اللہ تھا۔


سیدنا عبد اللہؓ قدیم الاسلام تھے، سابقون اوّلون میں شامل تھے۔ اُمیدوں کے چراغ جلانے والے، پیدائشی نابینا ہونے کے باوجود بڑے پر عزم اور با ہمت تھے۔ اگرچہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے نبی کریم کا دیدار نہیں کیا مگر آپکے فرمودات وارشادات دل کی گہرائی سے سنے اور آپ کے پیغام کو اچھی طرح سمجھ لیا۔ مکہ مکرمہ سے سب سے پہلے مدینہ طیبہ ہجرت کر کے جانے والے سیدنا مصعب بن عمیر ؓ تھے۔ سیدنا عبد اللہ بن ام مکتومؓ کو جب علم ہوا کہ نبی کریم نے اپنے صحابہ کرامؓ کو مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دے دی ہے تو آپؓ بلا تاخیر اپنا وطن، برادری اور گھر بار چھوڑ کر مدینہ طیبہ جانے کے لئے تیار ہوگئے۔


آپؓ نے اپنا دین بچایا اور باقی سب کچھ اللہ کی خاطر چھوڑ چھاڑ کر مدینہ کے لئے روانہ ہو گئے۔ سیدنا مصعب بن عمیرؓ کے بعد دوسری شخصیت جسے ہجرت مدینہ کا شرف حاصل ہوا، سیدنا عبداللہ بن اُم مکتوم ؓتھے۔ نبی کریم نے ان کو مسجد نبویکا موذن بھی مقرر فرمایا۔ مسجد نبوی کے سب سے پہلے موذن سیدنا بلال بن رباح تھے۔ یہ دونوں حضرات باری باری اذان اوراقامت کہتے۔ اگر اذان سیدنا عبد اللہؓ دیتے توا قامت سیدنا بلالؓ کہتے۔ اسی طرح اگر اذان سیدنا بلالؓ دیتے تو اقامت سیدنا عبد اللہؓؓ کہتے۔ بعد میں اللہ کے نبی حضرت محمد نے ارشاد فرمایا: جو شخص اذان کہے، وہی اقامت کہنے کا زیادہ حق دار ہے۔


رمضان المبارک کے دوران سحری کی پہلی اذان سیدنا بلال بن رباحؓ دیا کرتے تھے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: جب بلال ؓاذان دیں تو سحری کھانا شروع کر دیا کرو، جب سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم ؓاذان دیں تو کھانا پینا چھوڑ دو کیونکہ سحری کا وقت ختم ہو گیا۔ سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم ؓاسلام کے شیدائی اور نبی کریم سے شدید محبت کرنے والے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مختلف اوقات میں آپ سے ملنے کے لئے حاضر ہو جاتے تھے۔


نبی کریم نے ان کو بعض ایسے اعزازات سے نوازا جو بہت کم صحابہ کرامؓ کو حاصل ہوئے ہیں۔ آپ غزوات یا دوسرے اُمور کے لئے مدینہ منورہ سے باہر تشریف لے جاتے تو مدینہ شریف میں انہیں اپنا قائم مقام مقرر کر کے جاتے۔ جب جنگ ہوتی ہے تو سارے لوگ تو جنگ پر نہیں جا سکتے۔ ان میں بیمار ضعیف، بوڑھے، بچے عورتیں سبھی شامل تھے۔ مدینہ منورہ کی حفاظت کے لئے بھی بعض صحابہ کرام ؓ کو چھوڑا جاتا تھا۔ ان کو نمازیں پڑھانے کے لئے سیدنا عبداللہ بن ام مکتومؓ کو مقرر کیا جاتا تھا۔ مدینہ طیبہ میں بطور امام ان کی تقرری سے جہاں یہ معلوم ہوتا ہے کہ نابینا امام کی امامت درست ہے، وہاں یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ مدینہ ایک ریاست تھی جس کے سربراہ اللہ کے نبی حضرت محمد تھے۔


جب آپ مدینہ کو چھوڑتے تو سیدناعبداللہ بن ام مکتومؓ کو بھی کئی مرتبہ یہ اعزاز ملتا کہ مدینہ کے قائم مقام والی بنتے۔ وہ لوگوں کو نمازیں پڑھانے کے علاوہ ریاستِ مدینہ کے انتظامی اُمور کی سر پرستی اور قیادت کے فرائض بھی سر انجام دیتے تھے۔ انہیں 13 مرتبہ یہ اعزاز ملا کہ وہ مدینہ کے قائم مقام والی بنے۔ اللہ تعالیٰ نے جہاد فرض کیا تو عبداللہ بن ام مکتوم ؓ کی بڑی خواہش تھی کہ کاش وہ بینا ہوتے تو وہ بھی جہاد میں حصہ لیتے۔ اللہ کی راہ میں قتال کرتے اور شہید کا رتبہ پاتے۔اللہ کے رسول کے وصال کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کا دور شروع ہوا جو محض2 سال،2 ماہ اور 10 دن کے بعد ختم ہو گیا۔ سیدنا عمر فاروقؓ کا دور آیا تو فارس اور روم کے خلاف جہاد میں اور تیزی آ گئی۔سیدنا ابوبکر صدیقؓاس حال میں دنیا سے رخصت ہوئے کہ اسلامی حکومت بڑی مستحکم ہو چکی تھی۔


مسلمان دنیا پر چھا رہے تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے آخری دور میں معرکہ یرموک ہوا۔ شام کی سرحد کے قریب اردن میں یرموک چھوٹا سا دریا ہے۔ اس کے کنارے یہ تاریخی جنگ ہوئی تھی۔ مسلمانوں کی تعداد 36 ہزار اور رومیوں کی تعداد 2 لاکھ 40 ہزار تھی۔ دشمن 4گنا زیادہ تھا مگر اس کے باوجود اس نے بری طرح شکست کھائی۔ اس کے 70ہزار فوجی ہلاک ہوئے۔


مسلمانوں کے شہداءکی تعداد صرف4 ہزار تھی۔ سیدنا عبداللہ بن ام مکتومؓ سوچتے اور غور کرتے ہیں۔ اللہ اللہ! اس کی راہ میں نکلنا اور جہاد کرنا، پھر غازی بن کر لوٹنا یا شہادت کے بلندمرتبے پر فائز ہو جانا، سبحان اللہ! کیااس سے بڑھ کر بھی کوئی سعادت ہو سکتی ہے؟ انہیں نبی کریم کا فرمان یاد آجاتا ہے۔ شہید کو قیامت کے روز بہت سے اعزازات سے نوازا جائے گا۔ خون کا پہلا قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے اس کے سارے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ سیدناعبداللہ بن ام مکتومؓ نے دنیا میں کسی عورت کو تو دیکھا نہیں کہ وہ دنیا میں آنکھوں کی بینائی سے محروم تھے مگر تمنا اور خواہش تھی کہ جنت میں حوروں کو دیکھ سکیں گے۔ حور کے بارے میں انہیں معلوم تھا کہ اس کے سر کی چادر دنیا جہان کے قیمتی خزانوں سے بہتر ہو گی۔ شہید کو قیامت کے روز وقار کا تاج پہنایا جائے گا۔

جنت کی تمنااور اس کا حوصلہ دل میں لئے عبداللہ ابن ام مکتوم سیدنا عمر بن خطابؓ کی طرف چل دیے۔ وہ سیدناعمر فاروقؓ کی مجلس میں پہنچے، اذن باریابی طلب کیا جو فوراً دے دیا گیا۔ یہ کون ہیں؟ یہ کوئی عام شخصیت تو نہیں۔ یہ وہ عظیم شخصیت ہیں جن کے لئے قرآن پاک میں سور عبس کی ابتدائی آیات نازل کی گئی تھیں۔ سیدنا عمر فاروقؓنے انہیں مرحبا کہا۔ ان کا شایان شان استقبال کیا جا رہا ہے۔ مرحباو اھلًا و سھلًا عبداللہ بن ام مکتومؓ! فرمائیے، آپؓ کا میرے پاس کیسے آنا ہوا؟ خیرسگالی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

سورہ عبس کی وجہ نزول کچھ اس طرح سے ہے کہ ایک مرتبہ حضور روسائے قریش کو تبلیغ فرما رہے تھے کہ عبداللہ ابن ام مکتومؓ آ گئے۔ وہ حضور سے کچھ عرض کرنا چاہتے تھے لیکن حضور قریش کو سمجھانے میں اتنا منہمک تھے کہ توجہ نہ دے سکے۔ اس پر سورہ عبس کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں۔ ان آیات کے نزول کے بعد حضور خاص طور پر ابنِ ام مکتومؓ کا خیال فرماتے تھے۔ ہجرت کے بعد آپؓ بھی مدینہ منورہ چلے گئے۔ اور مو¿ذن کا عہدہ عطا ہوا۔ حضور جب کبھی باہر تشریف لے جاتے تو اکثر امامت کا شرف ابنِ ام مکتوم کو حاصل ہوتا۔ آپؓ قرآن مجید کے حافظ اور مدینہ منورہ میں لوگوں کو قرات سکھاتے تھے۔ آپ سے کئی احادیث بھی منقول ہیں۔


سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم ؓ کہہ رہے ہیں: امیرالمومنین! میں نے سنا ہے کہ آپؓ مجوسیوں سے ٹکر لینے کے لئے قادسیہ کے میدان میں مجاہدین کو ارسال کر رہے ہیں۔ سیدنا عمر فاروقؓ نے جواب میں فرمایا: ہاں عبد اللہ! آپؓ نے درست سنا ہے۔ میں بھی اس لشکر کے ساتھ قادسیہ کے میدان میں جانا چاہتا ہوں۔ انہیں کون انکار کر سکتا تھا؟ امیر المومنین ؓ بھی ان کی دل سے عزت کرتے تھے۔ عبداللہ بن اُم مکتومؓ تو اندھیروں میں روشنی کے چراغ جلانے والے تھے۔ عزم و اِرادے کے پہاڑ،سیدنا عبداللہ بن ام مکتومؓ، امیر المومنین عمر بن خطابؓکو اپنی پلاننگ بتا رہے ہیں۔

فرماتے ہیں: مجھے اسلامی لشکرکے ہمراہ بھجوا دیں۔ زرہ پہنا کر صفوں کے درمیان کھڑا کر دیں۔ اسلام کا جھنڈا، محمد عربی کا جھنڈا، لا الہ الا اللہ کا جھنڈا، میرے ہاتھ میں پکڑ ا دیں۔ کہنے لگے: میں تو نابینا آدمی ہوں، وہ اپنی خوبی امیر المومنینؓ کو بتا رہے ہیں۔ کبھی نابینا نے بھی جنگ لڑی ہے؟ کبھی کسی نے دیکھا کہ ایک نابینا کے ہاتھ میں لشکر کا جھنڈا ہو مگر شہادت کا مشتاق دینِ اسلام کا یہ سپاہی سیدنا عمر فاروقؓ کو قائل کر رہا ہے۔ اپنی خوبی بیان کر رہا ہے کہ نابینا تو میدان جنگ سے نہیں بھاگتا۔ مجھے تو معلوم ہی نہیں ہو گا کہ جنگ میں فتح کسے ہو رہی ہے؟ کون مرد میدان ہے، میں کیسے بھاگ سکتا ہوں؟ امیر المومنینؓ! جس کے ہاتھ میں جھنڈا ہے اگر وہ قائم رہے اپنی جگہ پر ڈٹا ہوا ہے تو اس سے مجاہدین کو حوصلہ ملے گا۔ ہاں! اگر میں جھنڈے کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہو جاتا ہوں یا مسلمانوں کو فتح نصیب ہوتی ہے،ہر حال میں صف اوّل میں کھڑا رہوں گا۔ امیر المومنین عمر بن خطابؓ ان کے دلائل کے سامنے خاموش ہیں۔ یوں بھی یہ کوئی عام صحابی تونہیں ، یہ سابقون اولون میں سے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو نور بصیرت عطا فرمایا تھا ۔


ای پیپر