موجودہ حکومت میں نہ شرم ہے اور نہ حیا ،شاہد خاقان عباسی
23 اکتوبر 2018 (19:01) 2018-10-23

اسلام آباد:پاکستان مسلم لیگ (ن )کے مرکزی رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ جھوٹ کی بھی حد ہوتی ہے ‘ موجودہ حکومت میں نہ شرم ہے اور نہ حیا ‘وفاقی کابینہ کے وزیرکوبجلی ریٹ کی الف ب کا بھی نہیں پتا‘سی پیک پر قرض کی شرح 8 نہیں2.4فیصد ہے‘اقتدارچھوڑا توخزانے میں 16ارب تھے‘ایک پیسا کم ہوتوسزاکیلئے تیار ہوں‘ چیلنج کرتا ہوں کہ الزام تراشی پر ایک گھنٹے کے نوٹس پر مناظر ہ کرلیں‘ مسائل کاحل (ن )لیگی قیادت کو جیلوں میں ڈالنے میں ہے توضرور ڈالیں۔

منگل کے روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جھوٹ اور الزام لگانے کی بھی ایک حد ہوتی ہے‘سب سے زیادہ الزام چور خود لگاتا ہے‘جس نے الزام لگانا ہے لگائے میں جواب دینے کو تیار ہوں‘ہمارے دور میں پاکستان میں سستی ترین بجلی پیدا کی گئی۔انہوں نے کہا کہ کابینہ کے وزیر کویہ نہیں پتہ کہ بجلی کے ریٹ کیا ہیں؟‘بجلی کی قیمت حکومت نہیں نیپرا طے کرتی ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی وزیر اطلاعات نے مجھ پر الزام عائد کیا کہ ہم نے اپنے دور حکومت میں مہنگی بجلی خریدی ‘فواد چوہدری ثابت کریں‘ان پلانٹس میں موجودہ حکومت وزراءکے پلانٹ بھی شامل ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ 3600میگاواٹ کے ایل این جی بجلی کے پلانٹ لگے ہیں‘بجلی پیدا کرنے کیلئے ایل این جی نہ ہوتی توتیل سے 2ارب ڈالر سے زیادہ ہوتا‘بھاشا ڈیم کا مسئلہ فنڈز کا نہیں بلکہ سیاسی ہم آہنگی کا مسئلہ ہے ‘بھاشا ڈیم کیلئے سیاسی اختلافات ختم اور ہم آہنگی پیدا کرنی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں پلانٹس کی کاسٹ کو کم کرکے بجلی کے ریٹس کو نیچے لایا گیا۔ایک ہزار میگاواٹ کے پلانٹس کو ایل این جی پر منتقل کیا گیا۔اپنے وزارت عظمی کے دور کی ہر ذمہ دار ی قبول کرتا ہوں۔ مجھ پر الزام لگانے والے ایک گھنٹے کے نوٹس پر جہاں چاہیں مناظرہ کرلیں ۔انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری(سی پیک )پر بات کریں تو پاکستان کےساتھ کوئی چلنے کوتیار نہیں تھا لیکن جوآج حکومت میں بیٹھے ہیں انہوں نے سی پیک کو متنازع بنانے کی پوری کوشش کی۔سی پیک منصوبوں میں توانائی، موٹرویز، ہائی ویز، ریل کے کئی منصوبے شامل ہیں۔

سی پیک کے تحت کراچی میں لگے پاور پلانٹ میں قطر کی سرمایہ کاری شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک پر قرض کی شرح 8نہیں بلکہ صرف 2.4فیصد ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے فرنس آئل تیل کی امپورٹ صفر کردی تھی۔ حکومت کو چاہیے کہ حالات کی بہتری کیلئے فرنس آئل کی امپورٹ کو بند کردینا چاہیے۔سی پیک معاہدے میں پاکستان اور چین فریق ہیں دونوں نظر ثانی کرسکتے ہیں توکرلیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مسائل کاحل (ن )لیگی قیادت کو جیلوں میں ڈالنا ہے توضرور ڈالیں لیکن ان نالائقوں کوبھی جیل میں ڈالیں جنہوں نے ایل این جی پر دواجلاس کیے لیکن پریس کانفرنس میں ان کو الف ب کا بھی نہیں پتا تھا۔انہوں نے کہا کہ 31مئی کو اسٹیٹ بینک سے پوچھ ملک کے زورمبادلہ کے ذخائر کیا تھے؟ 16ارب سے ایک پیسا بھی کم ہوتو میں سزا کیلئے حاضر ہوں۔بھئی خزانے کا سوال اسٹیٹ بینک سے پوچھیں ، اگر ملک گاڑی یا بھینس بیچنے سے چل سکتا ہے توپھر یہ حکومت کامیاب جارہی ہے۔


ای پیپر