ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس میں شعیب شیخ کی سزا معطل‘ رہائی کا حکم
23 اکتوبر 2018 (18:03) 2018-10-23

اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس میں قید ایگزیکٹ کے سی ای او شعیب شیخ کی سزا کو معطل کرکے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دےدیا اور شعیب شیخ کو 5لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کر دی ہے ۔

منگل کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے شعیب شیخ کی جانب سے ڈسڑکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد کے فیصلے کےخلاف دائر اپیل پر سماعت کی۔درخواست گزار کے وکیل راجا رضوان عباسی نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ سے دی جانے والی سزا کےخلاف اپیل کا فیصلہ ہونے تک میرے موکل کی سزا معطل کی جائے۔راجا رضوان عباسی کا کہنا تھا کہ ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں سنگین قانونی سقم موجود ہیں جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ اس مقدمے میں کوئی شکایت کنندہ نہیں ہے‘فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)کے مطابق لاکھوں لوگوں سے فراڈ ہوا مگر کسی ایک نے بھی اس حوالے سے شکایت نہیں کی، ایف آئی اے نے جو 2 گواہ پیش کیے وہ بھی شکایت کنندہ نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈگری کا جعلی ہونا کسی طرح ثابت نہیں ہوتا۔بعد ازاں عدالت نے ایگزیکٹ کے سی ای او شعیب احمد شیخ کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے 5 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی۔واضح رہے کہ رواں سال 5 جولائی کو ڈسڑکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد چوہدری ممتاز حسین نے شعیب شیخ اور دیگر ملزمان کو جعلی ڈگری کیس میں مجرم قرار دیتے ہوئے شعیب شیخ سمیت 23 ملزمان کو 7 سال قید اور 13 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی تھی۔عدالت نے کیس میں شعیب احمد شیخ کی اہلیہ عائشہ شعیب شیخ سمیت 3 ملزمان کو بری کر دیا تھا۔سزا پانے والے ملزمان کو دفعہ 419 کے تحت 3 سال قید ایک لاکھ روپے جرمانہ، دفعہ 420 کے تحت 3 سال قید 2 لاکھ روپے جرمانہ، دفعہ 468 کے تحت 7 سال قید 5 لاکھ جرمانہ، دفعہ 471 کے تحت 7 سال قید 5 لاکھ جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔ایف آئی اے کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایگزیکٹ نے 13 ہزار سے زائد ویب سائٹس کی ڈومین خریدی، ویب سائیٹ ڈومین اور ہوسٹنگ کے شواہد ناقابل تردید ہیں اور فرانزک شواہد تبدیل کرنے کا الزام غلط ہے۔ایف آئی اے نے 25 ستمبر کو شعیب شیخ کو گرفتار کرکے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل منتقل کردیا تھا جس کے دوسرے روز ان کے ایک قریبی ساتھی نائیجل برائن کو ڈنمارک جاتے ہوئے نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

ایگزیکٹ اسکینڈل مئی 2015 میں سامنے آیا تھا جب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں دعوی کیا تھا کہ مذکورہ کمپنی آن لائن جعلی ڈگریاں فروخت کرکے سالانہ لاکھوں ڈالرز کماتی ہے۔یہ رپورٹ منظر عام پر آتے ہی ایگزیکٹ کے دفاتر پر چھاپے مارے گئے تھے اور ریکارڈ ضبط کرکے انہیں سیل کردیا گیا تھا جبکہ سی ای او شعیب شیخ اور دیگر اہم عہدیداروں کو حراست میں لے کر الزامات کی تحقیقات شروع کردی گئی تھیں۔شعیب شیخ پر الزام تھا کہ انہوں نے غیر قانونی طریقے سے اپریل 2014 میں، دبئی کی ایک فرم چندا ایکسچینج کمپنی میں 17 کروڑ سے زائد رقم منتقل کی تھی، کیس کی ایف آئی آر فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ 1947 کے تحت درج کی گئی تھی۔


ای پیپر